سورۃ الفاتحہ، آیت 7

سُورَةُ ٱلْفَاتِحَةِ · مکی · آیت 7 / 7

صِرَٰطَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ ٱلْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا ٱلضَّآلِّينَ

اردو ترجمہ

ان لوگوں کے رستے جن پر تو اپنا فضل وکرم کرتا رہا نہ ان کے جن پر غصے ہوتا رہا اور نہ گمراہوں کے

اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔

معنی اور غور و فکر

الفاظ کا انتخاب

سورة الفاتحہ کی ساتویں آیت، ہماری روزمرہ کی نمازوں اور دعاؤں کا ایک اہم حصہ ہے، اور اس کا ہر لفظ گہری معنویت رکھتا ہے۔ آئیے، اس آیت کے الفاظ پر غور کریں کہ یہ کلام الٰہی ہمارے دلوں میں کیا اتارتا ہے۔

ہدایت کی وضاحت

آیت کا آغاز ہوتا ہے: "صِرَٰطَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ" (ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا)۔ یہ اس دعا کی وضاحت ہے جو ہم نے پچھلی آیت میں مانگی تھی: "اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ" (ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت دے)۔ مفسرین، جیسے ابن عاشور، بیان کرتے ہیں کہ یہ "بدل" (وضاحت) یا "عطف بیان" (مزید تشریح) کے انداز میں آیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ قرآن پہلے ہمیں ایک سیدھے، سچے راستے کا تصور دیتا ہے، پھر فوراً اس کی وضاحت کرتا ہے کہ وہ راستہ کن لوگوں کا ہے۔ یہ انداز کلام (بلاغت `balagha`) میں تاکید `tawkīd` اور وضاحت `wadaahat` پیدا کرتا ہے، تاکہ ہمارے ذہنوں میں یہ بات پختہ ہو جائے کہ سیدھا راستہ کون سا ہے۔

جن پر انعام کیا گیا، وہ صرف دنیاوی فائدے پانے والے نہیں، بلکہ وہ ہیں جنہیں ایمان، تقویٰ، اور سچی ہدایت کی نعمت ملی۔ یہ نعمت تمام نیک اعمال، روحانی اور جسمانی برکتوں پر محیط ہے جو نیکی کے راستے پر چلنے والوں کو ملتی ہے۔

گمراہی سے بچاؤ

اس کے بعد آیت ہمیں ان راستوں سے بچنے کی دعا سکھاتی ہے جو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں: "غَيْرِ ٱلْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا ٱلضَّآلِّينَ" (ان کا نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کا)۔
یہاں "غَيْرِ" (غیر) اور "وَلَا" (اور نہ) کا استعمال بہت اہم ہے۔ لفظ "غَيْرِ" سے ہی نفی کا مفہوم مل جاتا ہے، لیکن "وَلَا" کا اضافہ کر کے تاکید `tawkīd` پیدا کی گئی ہے۔ ابن عاشور اور زمخشری جیسے مفسرین بتاتے ہیں کہ یہ "لا" اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ہم مکمل طور پر دونوں گروہوں سے بچنے کی دعا مانگ رہے ہیں، ایسا نہ ہو کہ کوئی یہ سمجھے کہ صرف دونوں کا مجموعہ ناپسندیدہ ہے، لیکن ان میں سے کسی ایک کا راستہ اختیار کرنا جائز ہو۔ یہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہمیں نہ تو غضب الٰہی کے مستحقین کا راستہ چاہیے اور نہ ہی گمراہوں کا۔

"المَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ" وہ لوگ ہیں جنہوں نے سچ کو پہچاننے کے باوجود سرکشی اور نافرمانی کی، جیسے کہ بنی اسرائیل (یہود)۔ ان کا جرم علم کے باوجود انکار اور نافرمانی تھا۔ "الضَّآلِّينَ" وہ ہیں جو لاعلمی یا غلط فہمی کی وجہ سے راستے سے بھٹک گئے، جیسے کہ عیسائی۔ ان کا جرم علم کی کمی اور گمراہی میں پڑنا تھا۔ قرآن کریم یہاں ان دونوں گروہوں کے نام نہیں لیتا، بلکہ ان کی صفات بیان کرتا ہے تاکہ یہ عمومی تعلیم بن جائے کہ ہر وہ شخص جو ان صفات کا حامل ہو، وہ اس زمرے میں آتا ہے۔ "المَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ" کو پہلے ذکر کرنا، ابن عاشور کے مطابق، اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جان بوجھ کر حق سے منہ موڑنا، لاعلمی میں گمراہ ہونے سے زیادہ بڑا گناہ ہے۔

کلام کی نفاست: اللہ کا غضب

اس آیت کے الفاظ میں ایک اور لطیف پہلو، جسے بلاغت میں "آداب تنزیلیہ" کہا جاتا ہے، یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انعام کا ذکر کیا تو "أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ" (تو نے ان پر انعام کیا) کہہ کر فعل کو اپنی ذات سے براہ راست منسوب کیا۔ لیکن جب غضب کا ذکر ہوا تو "الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ" (جن پر غضب کیا گیا) کہہ کر فعل کو مجہول `passive voice` میں بیان کیا۔ محمود صافی جیسے اہل علم اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ادب کا تقاضا ہے کہ تمام خیر و بھلائی کو براہ راست اس کی ذات سے منسوب کیا جائے، اور جب کوئی ناگوار چیز ہو تو اسے بالواسطہ انداز میں بیان کیا جائے۔ یہ اس بات کی عکاسی ہے کہ اللہ کی ذات ہر عیب اور نقص سے پاک ہے۔

اس طرح، سورہ فاتحہ کی یہ آیت نہ صرف ہمیں زندگی کے سیدھے راستے کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ ہمیں ان خطرناک راستوں سے بھی آگاہ کرتی ہے جن سے بچنا لازمی ہے۔

مآخذ: Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir), al-Zamakhshari (al-Kashshaf), al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi), al-Jalalayn, al-Razi (Mafatih al-Ghayb)

قرآنی دنیا

یہ آیت سورہ فاتحہ کا حصہ ہے، جو ایک دعا ہے جو ہم اپنے رب سے مانگتے ہیں۔ اس سے پچھلی آیت میں ہم اللہ سے سیدھا راستہ دکھانے کی التجا کرتے ہیں، اور یہ آیت اس سیدھے راستے کی مزید وضاحت کرتی ہے کہ یہ راستہ کن لوگوں کا ہے اور کن لوگوں کا نہیں۔

انعام یافتہ لوگوں کا راستہ

جب ہم کہتے ہیں `صِرَٰطَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ` (ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا)، تو ہم دراصل ان لوگوں کے نقشِ قدم پر چلنے کی دعا کر رہے ہیں جنہیں اللہ نے اپنی خاص نعمتوں سے نوازا۔ امام طبری، ابن کثیر اور مفتی محمد شفیع کے مطابق، یہ وہ ہستیاں ہیں جن کا ذکر سورہ نساء (4:69) میں بھی کیا گیا ہے: انبیاء (پیغمبروں)، صدیقین (سچے اور راست باز لوگ)، شہداء (اللہ کی راہ میں جان دینے والے)، اور صالحین (نیک اعمال کرنے والے)۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی اطاعت اور عبادت میں استقامت اختیار کی اور اللہ کی ہدایت پر ثابت قدم رہے۔ مفتی محمد شفیع کے مطابق، یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ کتاب اللہ کے ساتھ ساتھ ہمیں اللہ کے نیک بندوں سے بھی رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے جو اس راستے پر چل چکے ہوں۔

کن لوگوں کا راستہ نہیں؟

یہ آیت پھر ہمیں دو ایسے راستوں سے بچنے کی تاکید کرتی ہے جو سیدھے راستے سے ہٹے ہوئے ہیں۔ پہلی قسم کے لوگ `غَيْرِ ٱلْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ` (ان لوگوں کا نہیں جن پر غضب کیا گیا) ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مراد یہود کو قرار دیا، جیسا کہ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث میں موجود ہے جس کا ذکر امام طبری، امام بغوی اور ابن کثیر نے کیا ہے۔ ان پر غضب اس لیے نازل ہوا کہ انہوں نے اللہ کے احکامات کو جاننے کے باوجود جان بوجھ کر ان کی خلاف ورزی کی اور حق سے منہ موڑا۔ مفتی محمد شفیع اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہود کے راستے میں "عمل کی کمی" نمایاں تھی۔

دوسری قسم کے لوگ `وَلَا ٱٱلضَّآلِّينَ` (اور نہ گمراہوں کا) ہیں۔ ان سے مراد نصاریٰ (عیسائی) ہیں، یہ بھی عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہے اور تمام مفسرین نے اس کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے جہالت یا دین میں حد سے تجاوز کرنے کی وجہ سے گمراہی اختیار کی، جیسا کہ اپنے انبیاء (علیہم السلام) کو الوہیت کا درجہ دینا۔ مفتی محمد شفیع کے مطابق، نصاریٰ کے راستے میں "علم کی کمی اور غلو" (حد سے بڑھنا) پایا جاتا تھا۔ امام ابن کثیر `غیر` اور `لا` کے استعمال سے یہ نکتہ واضح کرتے ہیں کہ یہ دو الگ اور ناقابل قبول راستے ہیں جن سے بچنا ضروری ہے۔

یوں، یہ دعا اللہ سے یہ التجا ہے کہ وہ ہمیں ایک ایسا سیدھا راستہ دکھائے جو نہ تو دانستہ نافرمانی اور حق سے روگردانی والا ہو اور نہ ہی جہالت یا غلو پر مبنی ہو۔ یہ راستہ علم، عمل، اعتدال اور اللہ کی رضا کا راستہ ہے، جو دنیا اور آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔

مآخذ: al-Tabari (Jami al-Bayan), al-Baghawi (Maalim al-Tanzil), Ibn Kathir, Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), al-Razi (Mafatih al-Ghayb)

ذاتی آئینہ

یہ آیت کس بارے میں ہے؟

سورة الفاتحہ کی یہ آخری آیت (7:1) دراصل ایک انتہائی مخلصانہ دعا ہے۔ اس میں ایک بندہ اللہ تعالیٰ سے سیدھے راستے کی رہنمائی کا سوال کرتا ہے، اس راستے پر چلنے کی توفیق مانگتا ہے جس پر اس کے انعام یافتہ بندے چلتے رہے، اور ان راستوں سے بچنے کی پناہ طلب کرتا ہے جن پر چلنے والوں پر اللہ کا غضب نازل ہوا یا جو بھٹک گئے (`AYAH CONTEXT`)۔ یہ دعا اس بات کا اقرار ہے کہ ہماری زندگی کے مختلف معاملات میں، جہاں بہت سے راستے یا فیصلے ہمارے سامنے ہوتے ہیں (`dorahe, seh raahe, chauraahe` جیسا کہ اسرار احمد نے بیان کیا)، ہمیں اللہ کی مدد اور ہدایت کی اشد ضرورت ہے۔

انعام یافتہ لوگوں کا راستہ

جب ہم `صِرَٰطَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ` (ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا) کہتے ہیں، تو ہم انبیاء، صدیقین (سچائی کی تصدیق کرنے والے)، شہداء (حق کی گواہی دینے والے)، اور صالحین (نیک لوگ) کے راستے کی پیروی کی تمنا کرتے ہیں (`AYAH CONTEXT`)۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت اور استقامت کی نعمت سے نوازا ہے۔ `Israr Ahmad` اس راستے کو مثبت انداز میں وضاحت کرتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی رفاقت بہترین ہے۔ اس دعا کے ذریعے ہم اپنے کردار، اپنی نیت اور اپنے اعمال کو ان برگزیدہ ہستیوں کے معیار پر ڈھالنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ دراصل اپنے باطن میں یہ امید پیدا کرنا ہے کہ ہم بھی اس راستے کو اپنا سکیں جو اللہ کے نزدیک سب سے سچا راستہ ہے۔

غضب یافتہ اور گمراہ لوگوں سے بچاؤ

دعا کا اگلا حصہ `غَيْرِ ٱلْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا ٱلضَّآلِّينَ` (نہ ان لوگوں کا راستہ جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ گمراہوں کا) ان دو اقسام کے انحراف سے بچنے کی التجا ہے۔ `AYAH CONTEXT` کے مطابق، `المغضوب علیہم` (جن پر غضب ہوا) وہ ہیں جو حق کو جاننے کے باوجود سرکشی اور تکبر کی وجہ سے اس پر عمل نہیں کرتے، جن کی سب سے بڑی مثال یہود ہیں۔ یہ ہمیں اپنے نفس کی شرارت (`shararat nafs`) اور تکبر سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔

جبکہ `الضالین` (گمراہ لوگ) وہ ہیں جو جہالت یا اپنے دین میں غلو (مبالغہ آرائی) کے سبب راستے سے بھٹک گئے، جیسے نصاریٰ جنہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی محبت میں مبالغہ آرائی کی (اسرار احمد)۔ یہ ہمیں اپنے اندر اعتدال پسندی پیدا کرنے اور محبت میں حد سے تجاوز کرنے سے گریز کرنے کا سبق دیتا ہے، کیونکہ نیکی کے ارادے سے بھی کی جانے والی مبالغہ آرائی گمراہی کا سبب بن سکتی ہے۔ Al-Munir نے `ghulu` کو ضلالت کی ایک اہم وجہ قرار دیا ہے۔

ہمارے لیے سبق

یہ آیت ہمارے لیے ایک `Worldly Mirror` (دنیاوی آئینہ) کا کام کرتی ہے۔
انفرادی سطح پر (Inner nafs): یہ ہمیں اپنی روحانی حالت کا گہرا جائزہ لینے کی دعوت دیتی ہے۔ کیا ہم حق کو جان کر اس سے منہ موڑتے ہیں (`Maghdubi alayhim` کی خصلت) یا نیکی میں مبالغہ آرائی کر کے اصل مقصد سے بھٹک جاتے ہیں (`Dallin` کی خصلت)؟ یہ دعا `juhood` (انکار)، `jahl` (جہالت) اور `dalal` (گمراہی) کے روحانی امراض سے شفا (`shifa`) کی امید ہے۔ یہ ہمیں مسلسل اللہ سے `hidayah` (ہدایت) اور `ma'unah wal tawfeeq` (غیبی مدد اور توفیق) مانگنے کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔

معاشرتی اور امت کی سطح پر (Ummah): یہ آیت ہمیں بطور ایک `ummah` (امت) اس بات سے خبردار کرتی ہے کہ اللہ کے غضب کا شکار ہونے یا گمراہ ہو جانے کے خطرات حقیقی ہیں۔ یہ خطرات محض ماضی کی اقوام تک محدود نہیں، بلکہ `شرارت نفس` اور `غلو` جیسی بیماریاں آج بھی کسی بھی گروہ کو سیدھے راستے سے بھٹکا سکتی ہیں۔ لہٰذا، یہ دعا ہمیں اپنے اجتماعی طرز عمل، فیصلوں اور عقائد میں اعتدال اور حکمت اپنانے کی یاد دہانی کراتی ہے، تاکہ ہم ہمیشہ اللہ کے انعام یافتہ بندوں کے راستے پر ثابت قدم رہیں۔

مآخذ: Israr Ahmad (Bayan ul Quran), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Tazkirul Quran, Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)

روابط

صِرَٰطَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ ٱلْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا ٱلضَّآلِّينَ

یہ آیت سورۃ الفاتحہ کی ساتویں اور آخری آیت ہے۔ پچھلی آیت (اہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - "ہمیں سیدھی راہ دکھا") میں ہم نے اللہ سے سیدھی راہ کی دعا کی، اور اب یہ آیت اس سیدھی راہ کی وضاحت کرتی ہے، کہ یہ کیسی راہ ہے اور کیسی نہیں ہے۔ یہ آیت پچھلی دعا کے جواب اور تشریح کے طور پر آتی ہے، جو قرآن کے "آپ ہی اپنا آپ بیان کرنے" (تفسیر القرآن بالقرآن) کے اصول کی ایک خوبصورت مثال ہے۔

انعام یافتہ لوگوں کا راستہ

جب ہم کہتے ہیں "صِرَٰطَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ" (ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا)، تو ہم دراصل اللہ سے ان نیک لوگوں کے راستے پر چلنے کی توفیق مانگ رہے ہوتے ہیں جن پر اللہ کا فضل ہوا۔ یہ محض دنیاوی نعمتیں نہیں، بلکہ دین کی گہری نعمتیں ہیں جو انسان کو اللہ کے قرب تک پہنچاتی ہیں۔ مفسرین، جیسے الشنقیطی، اس کی وضاحت سورۃ النساء کی آیت 69 سے کرتے ہیں، جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انعام یافتہ لوگ چار قسم کے ہیں: نبیین (انبیاء)، صدیقین (سچائی کو پوری طرح اپنانے والے)، شہداء (اللہ کی راہ میں گواہی دینے والے)، اور صالحین (نیک لوگ)۔ یہ آیت ہمیں ان عظیم ہستیوں کے نقش قدم پر چلنے کی تمنا سکھاتی ہے۔

گمراہ اور غضب الٰہی کے شکار لوگوں سے دوری

پھر ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ان لوگوں کے راستے سے بچائے جو "غَيْرِ ٱلْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا ٱلضَّآلِّينَ" یعنی ان لوگوں کا راستہ نہیں جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ گمراہوں کا۔ یہ ایک طاقتور نفی ہے، جو سیدھے راستے کی تعریف کو مکمل کرتی ہے۔

الشنقیطی اور دیگر مفسرین کی تشریح کے مطابق، "الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ" سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو پہچانا مگر پھر بھی اس سے روگردانی کی، جیسے کہ یہودی۔ قرآن کی کئی آیات (مثلاً سورۃ البقرہ: 90، سورۃ المائدہ: 60) ان پر اللہ کے غضب کا ذکر کرتی ہیں۔ دوسری طرف، "الضَّآلِّينَ" سے مراد وہ لوگ ہیں جو نادانی کی وجہ سے حق سے بھٹک گئے، جیسے کہ عیسائی، جن کا ذکر سورۃ المائدہ: 77 میں ان کے گمراہ کن خواہشات کی پیروی کے تناظر میں آتا ہے۔

الطنطاوی اس آیت میں ایک لطیف ادبی پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہیں: جب اللہ نعمت کا ذکر کرتا ہے تو براہ راست اپنے آپ کو فاعل بنا کر کہتا ہے "أنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ" (تو نے انعام کیا)، لیکن غضب کے لیے غیر شخصی صیغہ "الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ" (جن پر غضب کیا گیا) استعمال ہوتا ہے۔ یہ اللہ کے ساتھ آداب کی تعلیم ہے کہ تمام احسانات کو اللہ کی ذات سے منسوب کیا جائے، جبکہ سختیوں کو براہ راست اس سے منسوب کرنے سے گریز کیا جائے۔

سورۃ الفاتحہ کا خلاصہ

البیقاعی اور الصابونی جیسے علماء سورۃ الفاتحہ کو "ام الکتاب" (کتاب کی ماں) قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ پورے قرآن کے بنیادی مقاصد اور تعلیمات کا جامع خلاصہ ہے۔ یہ آیت، اس دعا کے ساتھ، ہمیں اللہ کے پسندیدہ راستے پر چلنے اور اس کے ناپسندیدہ راستوں سے بچنے کا درس دیتی ہے۔ امام مسلم کی روایت کردہ حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے نماز (یعنی الفاتحہ) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، اور جب بندہ "اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ... ولا الضَّآلِّينَ" کہتا ہے، تو اللہ فرماتا ہے: "یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے نے جو مانگا اسے ملے گا۔" یہ اس دعا اور اس کی گہرائی کے ساتھ اللہ کے براہ راست تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔

مآخذ: al-Wasit (Tantawi), al-Shinqiti (Adwa al-Bayan), al-Biqa'i (Nazm al-Durar), al-Sabuni (Safwat al-Tafasir)

حکمت

سورۃ فاتحہ کی ساتویں آیت، جس میں ہم سیدھے راستے کی دعا مانگتے ہیں، ہمیں ہدایت کے ایک ایسے جامع اصول کی طرف رہنمائی کرتی ہے جو ہماری زندگی کے ہر پہلو پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ صرف ایک زبانی دعا نہیں بلکہ ہماری زندگی کا مکمل لائحہ عمل ہے۔

سیدھا راستہ کیا ہے؟

اس آیت (1:7) میں ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ان لوگوں کے راستے پر چلائے جن پر اس نے انعام کیا ہے، اور ان لوگوں کے راستے سے بچائے جن پر اس کا غضب ہوا اور جو گمراہ ہو گئے۔ آیت کا یہ حصہ، "صِرَٰطَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ" (ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا)، ہمیں ان برگزیدہ ہستیوں کی پیروی کی طرف بلاتا ہے جنہیں اللہ نے اپنی خاص نعمتوں سے نوازا ہے۔ جیسا کہ مفسرین (مثلاً امام قرطبی، سعدی، اور المیسر) نے واضح کیا ہے، انعام یافتہ لوگ انبیاء، صدیقین (یعنی سچائی پر قائم رہنے والے)، شہداء اور صالحین (نیک لوگ) ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے زندگی میں صحیح توازن اور اعتدال کو اپنایا، نہ ضرورت سے زیادہ آگے بڑھے اور نہ پیچھے رہے (معارف القرآن، المنیر)۔ یہ راستہ اس بات کی علامت ہے کہ سچی کامیابی اور فلاح، دین اور دنیا دونوں میں، انہی برگزیدہ افراد کے نقش قدم پر چلنے میں ہے۔

دو گمراہ راہیں

دعا کے دوسرے حصے میں، "غَيْرِ ٱلْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا ٱلضَّآلِّينَ" (ان لوگوں کے راستے سے بچا جن پر تیرا غضب ہوا اور جو گمراہ ہوئے)، ہم اللہ سے ان دو قسم کے راستوں سے پناہ مانگتے ہیں جو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ المیسر اور دیگر مفسرین (جیسے امام قرطبی، سعدی) کے مطابق:
* المغضوب علیہم (`al-Maghdubi 'alayhim`): یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو جاننے کے باوجود اسے ترک کر دیا اور اس سے روگردانی کی، جیسے کہ یہودی۔ ان کا راستہ جان بوجھ کر سچائی کی مخالفت اور سرکشی کا راستہ ہے۔
* الضالین (`Ad-Daalleen`): یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی جہالت یا غلط فہمی کی وجہ سے سیدھے راستے سے بھٹک گئے، جیسے کہ عیسائی۔ ان کا راستہ حق سے لا علمی اور غلط معلومات پر مبنی انحراف کا راستہ ہے۔

اس طرح، یہ دعا ہمیں ہوش و حواس کے ساتھ سچائی کو جان کر جان بوجھ کر نافرمانی کرنے والوں اور لاعلمی میں بھٹکنے والوں دونوں کے راستوں سے بچنے کی تلقین کرتی ہے۔

ہمارے لیے سبق

یہ آیت ہمیں کئی گہرے عملی اور روحانی سبق سکھاتی ہے:

* ہر حال میں ہدایت کا طالب ہونا: جیسا کہ معارف القرآن میں مفتی شفیع عثمانی نے بیان کیا ہے، دنیا و آخرت میں کامیابی سیدھے راستے پر چلنے سے وابستہ ہے۔ اس لیے یہ دعا ہمیں مسلسل اپنی زندگی کے ہر شعبے میں اللہ سے ہدایت طلب کرنے کا درس دیتی ہے۔
* مثالی رول ماڈل کی تلاش: آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی میں ہمیں ان افراد کو اپنا رہنما بنانا چاہیے جن پر اللہ کا انعام ہوا ہے، یعنی وہ لوگ جو علم، عمل اور اخلاق میں بہترین مثال ہوں۔ ہمیں ان کی سیرتوں کا مطالعہ کرنا چاہیے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
* گمراہی کی اقسام سے آگاہی: یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ گمراہی صرف ایک قسم کی نہیں ہوتی۔ بعض لوگ جان بوجھ کر حق سے منہ موڑتے ہیں، جبکہ بعض جہالت کی وجہ سے بھٹک جاتے ہیں۔ ہمیں دونوں صورتوں سے آگاہ رہنا چاہیے اور خود کو بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
* اعتدال اور توازن: المنیر میں بیان کردہ تفسیر کے مطابق، یہ راستہ افراط و تفریط (یعنی حد سے تجاوز اور کمی) سے پاک ہے۔ یہ ہمیں ہر معاملے میں اعتدال اور توازن اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے۔
* روحانی جواب: اس دعا سے ہمارے دل میں انعام یافتہ لوگوں کے راستے پر چلنے کی امید پیدا ہوتی ہے، اور ساتھ ہی گمراہ ہونے کے انجام کا خوف بھی۔ یہ ہمیں عاجزی، اللہ پر مکمل توکل، اور خود احتسابی کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ کہیں ہم ان دو خطرناک راستوں میں سے کسی پر تو نہیں چل رہے۔

اس طرح، سورۃ فاتحہ کی یہ آیت ہر مسلمان کے لیے ایک جامع رہنما اصول فراہم کرتی ہے جو اسے زندگی کی پیچیدگیوں میں سیدھے راستے پر گامزن رہنے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔

Source: al-Muyassar plain meaning, Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), al-Qurtubi (al-Jami li-Ahkam), al-Saadi (Taysir al-Karim), Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)

مآخذ: Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), al-Qurtubi (al-Jami li-Ahkam), al-Saadi (Taysir al-Karim), Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)

وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے

یہ آیت Maani کے 14 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔

قرآن کے تمام موضوعات دیکھیں

اس آیت پر غور کریں

Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔

Maani کے ساتھ اس آیت پر غور کریں