سورۃ الفاتحہ، آیت 6

سُورَةُ ٱلْفَاتِحَةِ · مکی · آیت 6 / 7

ٱهْدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلْمُسْتَقِيمَ

اردو ترجمہ

ہم کو سیدھے رستے چلا

اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔

معنی اور غور و فکر

الفاظ کا انتخاب

ٱهْدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلْمُسْتَقِيمَ (ہمیں سیدھی راہ دکھا)۔ یہ مختصر مگر جامع آیت بندے کی طرف سے اپنے رب کے حضور ایک گہری اور دل سے نکلی ہوئی التجا ہے۔ پچھلی آیات میں اللہ کی حمد و ثنا اور اپنی بندگی کا اقرار کرنے کے بعد، بندہ اب اپنی سب سے بڑی ضرورت، یعنی ہدایت کا طلبگار ہوتا ہے۔ یہ دعا ایک مستقل رہنمائی، کامیابی اور اللہ کی رضا کے راستے پر ثابت قدمی کی درخواست ہے۔

ہدایت کی درخواست

لفظ "اهدنا" (`ihdina`) کا مطلب ہے "ہمیں ہدایت دے"۔ امام ابن عاشور رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہدایت کا لغوی معنی نرمی اور محبت کے ساتھ رہنمائی کرنا ہے۔ یہ صرف راستہ دکھا دینا نہیں، بلکہ منزل تک پہنچنے میں مدد کرنا بھی ہے۔ یہ ہدایت زندگی کے تمام پہلوؤں میں درکار ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں سے لے کر بڑے بڑے عقائد اور اعمال تک۔
اس آیت میں ہدایت کی درخواست ایک ایسی ذات سے کی جا رہی ہے جو خود ہر طرح کی ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ یہ دعا اس بات کا اقرار ہے کہ انسان اپنی کوششوں سے سیدھی راہ پر نہیں چل سکتا جب تک اللہ تعالیٰ کی رہنمائی شامل حال نہ ہو۔ مفسرین نے `اهدنا` کا ایک معنی "ثبتنا" (`thabbitna`) یعنی "ہمیں ثابت قدم رکھ" بھی بیان کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعا نہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو راستہ تلاش کر رہے ہیں، بلکہ ان لوگوں کے لیے بھی جو پہلے سے ہدایت پر ہیں، تاکہ وہ اس پر قائم رہیں اور ان کے علم و عمل میں مزید اضافہ ہو۔ یہ ہدایت کی مسلسل ترقی اور ثابت قدمی کی درخواست ہے، کیونکہ ہدایت کے درجات اور مراحل ہمیشہ بڑھتے رہتے ہیں۔

صراط مستقیم کیا ہے؟

"الصِّرَٰطَ الْمُسْتَقِيمَ" (`as-Sirat al-Mustaqim`) کا مطلب ہے "سیدھا راستہ"۔ امام ابن عاشور وضاحت کرتے ہیں کہ `صراط` ایک عربی لفظ ہے جس کا مطلب ہے راستہ۔ عربی زبان میں `ص` کے ساتھ `صراط` پڑھنا زیادہ فصیح ہے اور مصحف کے رسم الخط کے مطابق بھی ہے، کیونکہ `ص` اور `ط` کے مخرج میں ایک خاص مماثلت ہے۔ `مستقيم` اس راستے کو کہتے ہیں جس میں کوئی کجی، کوئی موڑ یا کوئی مشکل نہ ہو۔ یہ ایسا صاف اور سیدھا راستہ ہوتا ہے جو انسان کو سب سے کم وقت میں اور بغیر بھٹکے اپنی منزل تک پہنچا دیتا ہے۔
قرآن میں "الصراط المستقيم" دین اسلام کی ایک خوبصورت تشبیہ ہے۔ یہ وہ واضح اور روشن راستہ ہے جو اللہ کی رضا اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔ یہ اس حق کی پہچان ہے جو باطل کے کسی بھی شبہ سے پاک ہو۔ "ال" `الصراط` کے ساتھ یہ اشارہ کرتا ہے کہ یہ کوئی بھی راستہ نہیں، بلکہ "وہ" واحد سیدھا راستہ ہے۔ باطل کے راستے کئی ہو سکتے ہیں، لیکن حق کا راستہ صرف ایک ہے۔

ہم کیوں اجتماعی دعا کرتے ہیں؟

غور کریں تو پچھلی آیات میں "إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ" (`Iyyaka na'budu wa Iyyaka nasta'in`) میں "ہم" کا صیغہ استعمال ہوا، اور یہاں "اهدنا" (`ihdina`) میں بھی "نا" یعنی "ہمیں" کا صیغہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ انداز بیان (جسے `iltifat` کہتے ہیں) بلاغت کا ایک اعلیٰ درجہ ہے۔ امام محمود صافی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اسلوب کی تبدیلی اور خطاب کا انداز دلوں کو زیادہ متاثر کرتا ہے۔
یہ اجتماعی دعا اس عاجزی کا مظہر ہے کہ بندہ تنہا اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کی بجائے، تمام مسلمانوں کی جماعت کا ایک حصہ بن کر دعا کرتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہدایت کی درخواست ذاتی ہونے کے باوجود اجتماعی ہے؛ ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ مل کر، ایک ہی راستے پر گامزن ہونے کی دعا کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف ہماری عاجزی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اللہ کی بارگاہ میں اجتماعی دعا کی قوت اور برکت کو بھی نمایاں کرتا ہے۔

مآخذ: Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir), al-Zamakhshari (al-Kashshaf), al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi), al-Jalalayn, al-Razi (Mafatih al-Ghayb)

قرآنی دنیا

معزز قارئین، جب ہم سورہ فاتحہ کی چھٹی آیت `ٱهْدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلْمُسْتَقِيمَ` پر غور کرتے ہیں تو ایک دلی دعا ہمارے سامنے آتی ہے، جو اللہ تعالیٰ سے سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق اور استقامت مانگتی ہے۔ اس آیت میں مخاطب اللہ کے وہ بندے ہیں جو اپنے رب سے رہنمائی کے طلب گار ہیں، اور وہ خود اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہے ہیں۔ یہ ایک عاجزانہ درخواست ہے، جس کا لہجہ بھروسے اور گہرے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔

دعا کا مفہوم

لفظ `اِهْدِنَا` (`Ihdina`) کا مطلب ہے "ہمیں ہدایت دے" یا "ہماری رہنمائی فرما۔" امام طبری اور امام بغوی کے مطابق، اس کا ایک اہم مفہوم یہ بھی ہے کہ اللہ ہمیں اس راستے پر ثابت قدمی (تثبیت) عطا فرمائے، اور نیکی کے کاموں میں توفیق (الٰہی مدد) دے۔ یہ صرف شروع میں راستہ دکھانے کی دعا نہیں، بلکہ زندگی بھر اس پر قائم رہنے اور اس میں بڑھنے کی دعا ہے۔ `الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ` (`as-Sirat al-Mustaqim`) سے مراد وہ واضح اور سیدھا راستہ ہے جس میں کوئی کجی نہیں۔

وحی کی دنیا میں

یہ دعا اس قدر بنیادی اہمیت رکھتی ہے کہ روایات میں آتا ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ کہنے کا حکم دیا: "اے محمد! `اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ` کہہ دیجیے۔" (طبری) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہدایت کی یہ طلب تمام انسانوں کے لیے، بشمول خود انبیاء کرام کے لیے بھی، ہر وقت ضروری ہے۔ یہ آیت ہمیں اس نبوی دور میں لے جاتی ہے جب یہ پہلی بار نازل ہوئی، جہاں صحابہ کرام بھی اس دعا کے ذریعے اللہ سے ہدایت اور استقامت مانگنے کی ضرورت محسوس کرتے تھے۔

سیدھی راہ کیا ہے؟

`الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ` کے بارے میں علماء نے مختلف تعبیرات دی ہیں، جو سب ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت علی رضی اللہ عنہما نے اسے "اللہ کی کتاب" یعنی قرآن کریم قرار دیا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے "اسلام" کہا۔ امام ابن کثیر نے ان تمام اقوال کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب ایک ہی حقیقت کی طرف لوٹتے ہیں: اللہ اور اس کے رسول کی پیروی۔ جو شخص نبی ﷺ کے نقش قدم پر چلے، اور ان کے بعد حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے طریقے کو اپنائے، اس نے گویا حق کو، اسلام کو، اور قرآن کو اپنایا، اور وہی سیدھے راستے پر ہے۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے سیدھے راستے کی ایک خوبصورت مثال دی کہ یہ ایک سیدھا راستہ ہے جس کے دونوں طرف دیواریں ہیں، ان میں کھلے دروازے ہیں جن پر پردے لٹکائے گئے ہیں۔ راستہ "اسلام" ہے، دیواریں "حدود اللہ" ہیں، کھلے دروازے "اللہ کی حرام کردہ چیزیں" ہیں، اور راستے کے آغاز پر ایک پکارنے والا "کتاب اللہ" ہے، جبکہ راستے کے اوپر سے ایک پکارنے والا "ہر مسلمان کے دل میں اللہ کا واعظ" ہے (ابن کثیر، مسند احمد سے نقل کیا گیا)۔ یہ مثال اس راستے کی اہمیت اور خطرات کو نمایاں کرتی ہے۔

کائنات میں ہدایت

علامہ مفتی محمد شفیع (رحمہ اللہ) نے ہدایت (ہِدایَة) کے تین درجے بیان کیے ہیں، جو ہمیں اس دعا کی جامعیت سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ پہلا درجہ کائنات کی ہر مخلوق کے لیے عام ہے کہ اللہ نے ہر چیز کو اس کی فطرت اور مقصد کے مطابق راستہ دکھایا ہے۔ دوسرا درجہ انسانوں اور جنوں کے لیے ہے جو انبیاء اور آسمانی کتابوں کے ذریعے ہدایت پاتے ہیں۔ اور تیسرا درجہ خاص اہلِ ایمان کے لیے ہے جسے توفیق (الٰہی مدد) کہتے ہیں، جو انہیں ہدایت پر عمل کرنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی آسانی فراہم کرتی ہے۔ ہماری یہ دعا `الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ` درحقیقت اسی توفیق اور ہدایت کے اعلیٰ ترین درجوں کی مسلسل طلب ہے۔

مآخذ: al-Tabari (Jami al-Bayan), al-Baghawi (Maalim al-Tanzil), Ibn Kathir, Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), al-Razi (Mafatih al-Ghayb)

ذاتی آئینہ

قرآن کریم کے ہر لفظ میں گہری حکمت اور رہنمائی چھپی ہے، اور سورۃ الفاتحہ کی یہ عظیم دعا، `اهْدِنَا الصِّرَٰطَ الْمُسْتَقِيمَ` (ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت فرما)، ہمارے دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی ایک لازمی پکار ہے۔ یہ محض زبان سے ادا کیے جانے والے الفاظ نہیں، بلکہ ایک مومن کی اپنے رب سے سچی التجاء ہے، زندگی کے ہر موڑ پر ہدایت طلب کرنے کا ایک عاجزانہ اعتراف ہے۔

ہدایت کا مفہوم

`اهْدِنَا` یعنی ہمیں ہدایت دے۔ `ہدایت` کا مطلب صرف راستہ دکھانا نہیں، بلکہ اس راستے پر چلنے کی توفیق دینا اور اس پر ثابت قدم رکھنا بھی ہے۔ علامہ وہبہ الزحیلی `hidayah` (ہدایت) کی پانچ اقسام بیان کرتے ہیں جن میں فطری، حسی، عقلی، دینی اور توفیقِ الٰہی سے ملنے والی ہدایت شامل ہیں۔ اس آیت میں ہم اللہ سے خصوصی `hidayah` (ہدایت) مانگ رہے ہیں، یعنی وہ غیبی مدد جو ہمیں صحیح راستے پر چلنے اور اس پر قائم رہنے میں معاونت کرے۔ ڈاکٹر اسرار احمد فرماتے ہیں کہ زندگی میں جب بھی `دورا ہے، سہ را ہے اور چورا ہے` (دو، تین یا چار راستوں والے چوراہے) آئیں اور ہم یہ فیصلہ نہ کر پائیں کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے، تو یہی دعا ہماری سب سے بڑی ضرورت بن جاتی ہے۔ یہ ہدایت ہمارے دلوں کو ایمان سے روشن کرتی ہے اور ہمیں اسلام کے لیے سینہ کشادہ کرتی ہے، جیسا کہ ایک دعا میں آتا ہے: `اَللّٰھُمَّ نَوِّرْ قُلُوْبَنَا بالْاِیْمَانِ وَاشْرَحْ صُدُوْرَنَا لِلْاِسْلَامِ`۔

صراطِ مستقیم کیا ہے؟

`الصِّرَٰطَ الْمُسْتَقِيمَ` (سیدھا راستہ) سے مراد اسلام کا وہ معتدل راستہ ہے جو اللہ کے انبیاء اور رسولوں نے دکھایا۔ یہ وہ راستہ ہے جو دنیا و آخرت کی سعادت کی طرف لے جاتا ہے، جس میں صحیح عقائد، احکام اور آداب شامل ہیں۔ یہ دعا صرف ذاتی ہدایت کے لیے نہیں بلکہ `نَا` (ہمیں) کا لفظ اس کے اجتماعی پہلو کو بھی نمایاں کرتا ہے، یعنی پوری امت کو صحیح راستے پر قائم رہنے کی ضرورت ہے۔ علامہ طاہر القادری نے سورۃ الفاتحہ کی تفسیر میں لکھا ہے کہ یہ دعا اس بات کا اقرار ہے کہ بندہ اللہ کی بارگاہ میں تنہا نہیں بلکہ تمام مومنین کے ساتھ مل کر عاجزی سے اپنا تقصیر بیان کر رہا ہے۔ یہ دعا ان ہستیوں کے راستے پر چلنے کی تمنا ہے جن پر اللہ نے انعام کیا: `صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ` (ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا)، یعنی نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کا راستہ۔ یہ ایسے کردار اور `role models` (نمونہ عمل) ہیں جن کی پیروی سے ہماری `ummah` (امت) بھی ہدایت پر گامزن رہ سکتی ہے۔

انحراف سے بچاؤ

دعا کا اگلا حصہ `غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ` (نہ ان کا جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ ان کا جو گمراہ ہوئے) ہمیں ان راستوں سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو اللہ کی ناراضی یا گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ ابن الجوزی اور ڈاکٹر اسرار احمد دونوں نے وضاحت کی ہے کہ `مَغْضُوْب عَلَیْہِمْ` (غضب الٰہی کے مستحق) وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو جاننے کے بعد بھی سرکشی اور تکبر کی وجہ سے اسے ٹھکرایا، جیسے کہ بنی اسرائیل۔ اور `ضَآلِّیْن` (گمراہ) وہ ہیں جو حق سے غفلت، جہالت یا `غُلوّ` (مبالغہ آرائی) کی وجہ سے بھٹک گئے، جیسے کہ نصاریٰ (عیسائی) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی محبت میں `ghuluw` (غلو) کر کے گمراہ ہوئے۔ یہ دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہدایت کے لیے دل کا کھلا ہونا، ہٹ دھرمی سے بچنا اور کسی بھی چیز میں `ghuluw` (مبالغہ آرائی) سے پرہیز کرنا کتنا ضروری ہے، چاہے وہ نیکی کے نام پر ہی کیوں نہ ہو۔

یہ دعا ہر مسلمان کو ایک `worldly mirror` (دنیوی آئینہ) فراہم کرتی ہے تاکہ وہ اپنے اندرونی، اجتماعی اور معاشرتی رویوں کا جائزہ لے سکے، اور اللہ کی مسلسل مدد اور `hidayah` (ہدایت) کا طلبگار رہے تاکہ نہ صرف ذاتی زندگی بلکہ پوری `ummah` (امت) صحیح راستے پر قائم رہ سکے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بھٹکنے کے کئی طریقے ہیں، اور سچی خوشی اور کامیابی صرف سیدھے راستے پر چلنے میں ہے۔

مآخذ: Israr Ahmad (Bayan ul Quran), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Tazkirul Quran, Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)

روابط

سورة الفاتحہ کی چھٹی آیت، ﴿ٱهْدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلْمُسْتَقِيمَ﴾ (`Ihdina al-Sirat al-Mustaqim`)، ایک ایسی دعا ہے جو ہر مسلمان اپنی نماز میں بار بار دہراتا ہے۔ اس آیت میں ہم اللہ سے "سیدھا راستہ دکھانے" کی التجا کرتے ہیں۔ یہ دعا نہ صرف ہمارے لیے ذاتی طور پر اہم ہے بلکہ پوری سورہ الفاتحہ کے سیاق و سباق میں اس کے گہرے معنی پوشیدہ ہیں۔

الفاتحہ کا خوبصورت سفر

یہ آیت الفاتحہ کے پچھلے حصوں سے جڑی ہوئی ہے۔ امام طنطاوی اور امام صابونی دونوں وضاحت کرتے ہیں کہ اس دعا کو مانگنے سے پہلے، ہم اللہ کی تعریف کرتے ہیں (﴿ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ﴾) ، اس کی رحمت (﴿ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ﴾) اور آخرت کے مالک ہونے کا اقرار کرتے ہیں (﴿مَـٰلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ﴾)۔ پھر ہم صرف اسی کی عبادت اور مدد کا عہد کرتے ہیں (﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾)۔ یہ تمام اقرار کرنے کے بعد، ہم اپنی سب سے بڑی ضرورت، یعنی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کے لیے دعا کرتے ہیں۔ حسن البنا، جن کا حوالہ امام صابونی نے دیا ہے، اس ترتیب کو بندے کے دل کے سفر سے تشبیہ دیتے ہیں کہ جب وہ اللہ کی عظمت، رحمت اور عدل کو پہچان لیتا ہے، تب اسے اپنی رہنمائی کی اشد ضرورت کا احساس ہوتا ہے۔ یہ ایک اعلیٰ درجے کا ادب ہے کہ پہلے سائل اپنے رب کی تعریف کرے، پھر اپنی حاجت مانگے۔

ہدایت کی جامعیت

﴿ٱهْدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلْمُسْتَقِيمَ﴾ کا مطلب صرف ایک بار راستہ دکھانا نہیں ہے، بلکہ اس پر ثابت قدمی اور اس میں ترقی طلب کرنا ہے۔ طنطاوی کے مطابق، یہ راستہ اسلام ہے، جس میں عقائد، آداب اور احکام سب شامل ہیں جو دنیا اور آخرت کی سعادت تک پہنچاتے ہیں۔ سورہ الفاتحہ کا مرکزی مقصد ہی دین کے بنیادی اصولوں کو مختصراً بیان کرنا ہے۔ لہٰذا، یہ دعا پورے دین پر ثابت قدمی مانگنے کی جامع درخواست ہے۔ قرآن میں دیگر مقامات پر بھی ایمان کے بعد ہدایت پر ثابت قدمی کی دعا سکھائی گئی ہے، جیسے سورہ آل عمران میں ﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا﴾ (`Rabbana la tuzigh quloobana ba'da idh hadaytana`)، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ہدایت ایک مسلسل ضرورت ہے۔

سیدھا راستہ کیا ہے؟

صراطِ مستقیم سے مراد وہ واضح اور بے عیب راستہ ہے جس میں کوئی کجی نہ ہو اور جو رضائے الٰہی اور جنت تک پہنچا دے۔ طنطاوی ایک حدیث قدسی کا حوالہ دیتے ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ نے سیدھے راستے کو ایک ایسے راستے سے تشبیہ دی ہے جس کے دونوں طرف دیواریں ہیں، ان میں کھلے دروازے ہیں جن پر پردے لٹکے ہیں، اور راستے کے آغاز میں ایک پکارنے والا کہتا ہے: "اے لوگو! سیدھے راستے پر آجاؤ اور کجی اختیار نہ کرو!" راستے کے اوپر سے ایک اور پکارنے والا بھی آواز دیتا ہے کہ دروازے نہ کھولو، ورنہ اس میں داخل ہوجاؤ گے۔ اس تشبیہ میں "سیدھا راستہ" اسلام ہے، "دیواریں" اللہ کی حدود ہیں، "کھلے دروازے" اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں، اور "راستے کے اوپر سے پکارنے والا" ہر مسلمان کے دل میں اللہ کا واعظ ہے۔ البقاعی `hidayah` (ہدایت) کو `dalal` (گمراہی) کے تضاد میں بیان کرتے ہیں، اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سچی ہدایت کا طلبگار وہ ہے جو اپنی فطرت کی سلامتی پر ہے اور صحیح راستہ نہ جاننے کی وجہ سے گمراہ ہے، جبکہ وہ شخص مذموم گمراہ ہے جو ہدایت پانے کے بعد کجی اختیار کرے۔

یہ دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری تمام تر عبادات، حمد و ثنا اور اللہ پر بھروسے کا حتمی مقصد سیدھے راستے پر چلنا ہے، جو ہمیں اللہ کی رضا کے قریب لے جائے۔

مآخذ: al-Wasit (Tantawi), al-Biqa'i (Nazm al-Durar), al-Sabuni (Safwat al-Tafasir)

حکمت

راہِ راست کی طلب: ایک دائمی پکار

قرآنِ کریم کی پہلی سورۃ، سورۃ الفاتحہ، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کے بعد ایک جامع دعا پر مشتمل ہے۔ آیت نمبر 6، "ٱهْدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلْمُسْتَقِيمَ" (ہمیں سیدھا راستہ دکھا) ہر مسلمان کے لیے ایک قلبی پکار اور مسلسل طلب کی صورت ہے۔ اس آیت میں بندہ اپنے رب سے رہنمائی اور سیدھے راستے پر ثابت قدمی کی دعا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں یہ دعا سکھا کر دراصل یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہدایت ہماری بنیادی ضرورت ہے، جس کے بغیر ہم دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔

ہدایت کی جامعیت

`Ihdina` (اھدنا) کا مطلب محض "دکھانا" نہیں بلکہ اس میں رہنمائی، توفیق اور راستے پر ثابت قدمی جیسے گہرے معانی شامل ہیں۔ امام قرطبی فرماتے ہیں کہ یہ بندے کی اپنے رب سے دُعا اور دلی خواہش ہے کہ وہ اسے اللہ کی قربت اور اُنسیت تک پہنچانے والے راستے کی طرف ہدایت دے۔ یہ سیدھا راستہ، جیسا کہ `al-Muyassar` میں بیان ہوا ہے، اسلام کا واضح راستہ ہے جو اللہ کی رضا اور جنت کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جس کی نشاندہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی اور اسی پر استقامت کے بغیر کوئی شخص سعادت حاصل نہیں کر سکتا۔

ہدایت کے مدارج

مفتی شفیع صاحب `Ma'arif al-Quran` میں ہدایت کے تین درجے بیان کرتے ہیں، جو ہماری اس دعا کی گہرائی کو واضح کرتے ہیں:
1. عام ہدایت: جو تمام مخلوقات میں موجود ہے، جیسے ہر عضو کا اپنا کام کرنا یا ہر شے کا فطری طور پر اپنے مقصد کی طرف بڑھنا۔
2. انبیاء کے ذریعے ہدایت: یہ انسانوں اور جنوں کے لیے ہے، جو اللہ کے پیغمبروں اور نازل شدہ کتابوں کے ذریعے پہنچائی گئی۔
3. خاص ہدایت (توفیق): یہ حقیقی مومنوں اور پرہیزگاروں کے لیے ہے، جو اللہ کی براہ راست مدد اور خصوصی توفیق ہے جو انہیں ہدایت کو قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے میں آسانی فراہم کرتی ہے۔ یہ ہدایت نیک اعمال کے ذریعے بڑھتی رہتی ہے اور اس کا دائرہ لا محدود ہے۔

جب ہم "اهدنا الصراط المستقیم" (اهدنا الصراط المستقيم) کہتے ہیں، تو ہم خاص طور پر ہدایت کے اسی تیسرے درجے کی مسلسل توفیق اور ترقی کے طالب ہوتے ہیں۔ ابن الجوزی اور `al-Munir` بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگرچہ ہم پہلے ہی اسلام کی ہدایت پا چکے ہیں، مگر یہ دعا دراصل اس ہدایت پر ثابت قدمی اور اس میں مسلسل اضافے کی طلب ہے۔ یہ ایک جاری عمل ہے جو آخری سانس تک درکار ہے۔

ذاتی زندگی میں سبق

یہ آیت ہمیں ایک بہت اہم عمومی سبق سکھاتی ہے: ہدایت انسان کی سب سے بڑی اور مستقل ضرورت ہے۔ زندگی کے ہر موڑ پر، خواہ وہ کیسا ہی چھوٹا یا بڑا فیصلہ ہو، ہمیں اللہ کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ یہ دعا ہمیں عاجزی سکھاتی ہے کہ ہم اپنی عقل یا طاقت پر مکمل بھروسہ نہ کریں، بلکہ ہر لمحہ اللہ کے محتاج رہیں۔ اس کا عملی اطلاق یہ ہے کہ ہم ہر نماز میں اس دعا کو شعوری طور پر پڑھیں اور اپنی زندگی کے تمام معاملات میں ہدایت طلب کریں۔ جب انسان خلوص نیت سے سیدھے راستے کی طلب کرتا ہے، تو اللہ اسے مختلف طریقوں سے رہنمائی فراہم کرتا ہے، جیسے صحیح علم، نیک لوگوں کی صحبت، یا دل میں اطمینان ڈال کر۔ یہ دعا دراصل ہمارے سفرِ حیات کا ایک نقشہ ہے، جس میں ہم اپنی منزل (اللہ کی رضا) اور اس کے راستے (الصراط المستقیم) پر استقامت مانگتے ہیں۔

مآخذ: al-Qurtubi (al-Jami li-Ahkam), Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), al-Saadi (Taysir al-Karim), Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)

وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے

یہ آیت Maani کے 12 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔

قرآن کے تمام موضوعات دیکھیں

اس آیت پر غور کریں

Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔

Maani کے ساتھ اس آیت پر غور کریں