سورۃ الفاتحہ، آیت 5
سُورَةُ ٱلْفَاتِحَةِ · مکی · آیت 5 / 7
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
اردو ترجمہ
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔
معنی اور غور و فکر
الفاظ کا انتخاب
سورت فاتحہ کی اس مبارک آیت `إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ` میں ہم اپنے پروردگار سے سیدھی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ جب ہم اللہ تعالیٰ کی تعریف کر چکے ہوتے ہیں اور اس کی عظیم صفات کا اقرار کر چکے ہوتے ہیں، تو یہ کلام اب براہ راست اللہ کی ذات سے مخاطب ہو جاتا ہے۔
خالق سے سیدھی بات
غور کریں کہ پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ کا ذکر غائب کی صیغے میں تھا، جیسے "تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو تمام جہانوں کا رب ہے" (`الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ`). لیکن اس آیت میں اچانک انداز بدل جاتا ہے اور ہم براہ راست اللہ سے مخاطب ہوتے ہیں۔ عربی بلاغت میں اسے `التفات` (تلفّات) کہتے ہیں، یعنی بات کہنے کا انداز بدلنا۔ ابن عاشور (ابن عاشور) اور زمخشری (الزمخشری) کے مطابق، یہ تبدیلی سامع کی توجہ کو تازہ کرتی ہے اور ایک خاص قرب کا احساس دلاتی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے جب ہم کسی ہستی کی عظمت اور بڑائی کا مکمل ادراک کر لیں، تو ہمارا دل بے اختیار ہو کر اسے براہ راست مخاطب کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے، گویا ہم اس کی موجودگی کا بھرپور احساس کر رہے ہوں۔
بس آپ ہی کی بندگی
آیت کی ابتدا میں `إِيَّاكَ` (صرف آپ ہی کو) کا لفظ فعل (`نَعْبُدُ` یا `نَسْتَعِينُ`) سے پہلے آیا ہے، جو عربی گرامر میں `حصر` (حَصْر) یعنی کسی چیز کو صرف ایک ذات کے لیے خاص کرنے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم صرف آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں" اور "آپ کے سوا کسی کی نہیں کرتے۔" عبادت (`عبادة`) کا معنی ہے انتہا درجے کا خضوع، عاجزی اور اطاعت۔ ابن عاشور کے مطابق، عبادت دراصل اللہ کے امر کی تعظیم اور مخلوق پر شفقت کا مجموعہ ہے۔ یعنی، ہم اپنی ساری بندگی اور سر تسلیم خم کرنا صرف اللہ کے لیے خاص کرتے ہیں، کسی اور کے لیے نہیں۔
اور بس آپ ہی سے مدد
دوسرے جملے میں `وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ` (اور ہم صرف آپ ہی سے مدد مانگتے ہیں) میں بھی `إِيَّاكَ` کی تکرار نہایت اہم ہے۔ الجدوال فی اعراب القرآن (الجدوال في إعراب القرآن) میں محمود صافی (محمود صافی) فرماتے ہیں کہ اگر `إِيَّاكَ` کو دہرایا نہ جاتا، تو یہ واضح نہ ہوتا کہ مدد طلب کرنا بھی صرف اللہ کے لیے ہی خاص ہے۔ ابن عاشور وضاحت کرتے ہیں کہ `إِيَّاكَ نَعْبُدُ` میں حصر `حقيقي` (حقیقی) ہے، یعنی کوئی مؤمن اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتا۔ البتہ `وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ` میں حصر `ادِّعائِيٌّ` (اظہاری) ہے، یعنی اگرچہ ہم روزمرہ کے معمولی کاموں میں ایک دوسرے سے مدد لیتے ہیں (جیسا کہ قرآن خود 'نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کرو' کا حکم دیتا ہے)، لیکن حقیقی، بڑی اور اہم معاملات میں صرف اللہ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں۔ انسان صرف انہی چیزوں میں کسی کی مدد لے سکتا ہے جو اس کے بس میں ہوں، لیکن جو چیزیں انسان کی قدرت سے باہر ہوں، ان میں مدد صرف اللہ سے ہی مانگی جاتی ہے۔
عبادت پہلے، مدد بعد میں کیوں؟
`إِيَّاكَ نَعْبُدُ` کا `وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ` سے پہلے آنا بھی ایک گہری حکمت رکھتا ہے۔ ابن عاشور فرماتے ہیں کہ عبادت خالق سے قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اور یہ اللہ کا حق ہے۔ جبکہ استعانت (مدد طلب کرنا) بندے کے اپنے فائدے کے لیے ہے۔ اس لیے مناسب یہی تھا کہ جو کام اللہ کے حق سے متعلق ہے، اسے پہلے بیان کیا جائے۔ مزید برآں، اللہ سے مدد طلب کرنے کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ ہمارے معبود ہیں، اور ہماری عبادت بھی انہی امور میں سے ہے جن پر ہمیں اللہ کی مدد درکار ہے۔ یوں، عبادت ہی حقیقی مدد کا دروازہ کھولتی ہے۔
مآخذ: Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir), al-Zamakhshari (al-Kashshaf), al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi), al-Jalalayn, al-Razi (Mafatih al-Ghayb)
قرآنی دنیا
قلوب کو نور بخشنے والے اس عظیم کلام کی پانچویں آیت، `إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ`، ایک گہرے اقرار اور دعا کا دل چھو لینے والا بیان ہے۔ اس میں ایک بندہ اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے، اس کی تعریف و توصیف کے بعد اس سے براہ راست مخاطب ہوتا ہے۔
یکتائی کا اقرار
جب ایک مسلمان نماز میں یا کسی بھی لمحے یہ آیت پڑھتا ہے، تو وہ اپنی زبان اور دل دونوں سے یہ اعلان کرتا ہے کہ "اے اللہ! ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔" یہ "ہم" یا تو ایک اکیلا بندہ پوری امت کی طرف سے کہہ رہا ہوتا ہے، یا اگر وہ جماعت میں ہے تو سب مومنوں کے ساتھ مل کر کہتا ہے۔ یہ اس بات کا اقرار ہے کہ کوئی اور ہستی اس قابل نہیں کہ اس کی پوجا کی جائے، اس کے سامنے جھکا جائے، یا اس کے احکامات کی مکمل اطاعت کی جائے۔ امام طبری اور ابن کثیر کے مطابق، `عبادت` (`'ibadah'`) کا اصل مطلب عاجزی، فرمانبرداری اور انتہائی تذلل کے ساتھ بندگی کرنا ہے۔ جیسے ایک راستہ جو بار بار چلنے سے ہموار ہو جائے، اسے "معبد" (ہموار) کہتے ہیں۔ اس لفظ میں اللہ سے کامل محبت، خوف اور عاجزی کا حسین امتزاج ہے.
کائنات سے ربط
یہ آیت نہ صرف روحانی بلکہ ہمارے کائناتی نقطہ نظر کو بھی بدل دیتی ہے۔ سید قطب نے اس پر گہرائی سے روشنی ڈالی ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ "ہم صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں،" تو ہم تمام جھوٹی طاقتوں، توہمات اور انسانوں کی غلامی سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ اس سے ہمیں یہ سمجھ آتی ہے کہ کائنات کی تمام قوتیں، چاہے وہ طبعی ہوں یا انسانی، اللہ ہی کے حکم کی تابع ہیں۔ ایک مسلمان فطرت کو اپنا دشمن نہیں سمجھتا کہ اسے تسخیر کیا جائے، بلکہ ایک دوست اور معاون سمجھتا ہے جو اللہ کے تابع ہے۔ اس آیت کے ذریعے انسان کا ضمیر کائناتی خوف اور اندیشوں سے آزاد ہو جاتا ہے، اور وہ ہر مسئلے اور ہر حاجت میں صرف ایک اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ پہاڑ، ندیاں، ہوائیں، یہ سب اللہ کی مخلوق ہیں اور اس کے تابع ہیں، لہذا ان سے خوفزدہ ہونے کے بجائے ان سے ایک پیار اور ہم آہنگی کا تعلق بنتا ہے۔
آزادی کا اعلان
یہ اقرار صرف چند الفاظ نہیں، بلکہ آزادی کا ایک بھرپور اعلان ہے۔ اللہ ہی کی بندگی کا اقرار ہمیں شرک کی ہر قسم سے پاک کرتا ہے، جبکہ اسی سے مدد مانگنا ہمیں اپنی طاقت اور قوت کے فریب سے نکال کر اللہ پر کامل توکل سکھاتا ہے۔ یہ دونوں حصے، جیسا کہ ابن کثیر بیان کرتے ہیں، دین کا خلاصہ ہیں۔ یہ ہمارے دلوں کو ریاکاری، خود پسندی، اور تکبر جیسی بیماریوں سے شفا بخشتے ہیں، جیسا کہ المیسر کی تفسیر میں بیان کیا گیا ہے۔ اس آیت میں، ایک بندہ اللہ کی قربت محسوس کرتے ہوئے، اس سے براہ راست دعا کرتا ہے، اور یوں اس کے روحانی سفر میں ایک نئی منزل پاتا ہے۔ یہ آیت درحقیقت ہر مومن کے لیے ایک رہنما اصول ہے جو اسے ہر حالت میں اللہ کی طرف رجوع کرنے کا درس دیتی ہے۔
مآخذ: al-Tabari (Jami al-Bayan), al-Baghawi (Maalim al-Tanzil), Ibn Kathir, Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), al-Razi (Mafatih al-Ghayb)
ذاتی آئینہ
قلب کو گہرائی سے چھو لینے والی سورہ فاتحہ کی یہ پانچویں آیت، إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں)، بندے اور رب کے درمیان ایک انوکھے عہد و پیمان کا اظہار ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہماری زندگی کی ہر کیفیت اور ہر ضرورت میں صرف اللہ ہی ہمارا مرکز و محور ہے۔
بندگی کا سچا عہد
اس آیت میں ”کَ“ ضمیر (تُو) کو پہلے لانے سے حصر کا مفہوم پیدا ہوتا ہے، یعنی ”صرف تجھے ہی“۔ گویا یہ جملہ کسی رسمی اعلان سے بڑھ کر ہے، یہ بندے کا اپنے رب سے ایک فیصلہ کن وعدہ ہے، جیسا کہ ڈاکٹر اسرار احمد (Israr Ahmad) اسے اللہ سے `handshake` (ہاتھ ملانے) سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ صرف زبان سے کہہ دینے کی بات نہیں کہ ”اے اللہ! میں تیری بندگی کروں گا“، بلکہ اس فیصلے پر قائم رہنا بہت مشکل ہے۔ یہ ایک بندے کا اپنی ذات سے گہرا تعلق ہے، جس میں وہ اپنے دل کی حالت کا جائزہ لیتا ہے اور اللہ کے سامنے اپنی کمزوری کا اقرار کرتا ہے۔ یہ آیت ہر مسلمان کو اپنی بندگی کے خلوص اور گہرائی پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے، تاکہ ریاکاری (`riya`) اور خود پسندی (`ujb`) جیسے دل کے امراض سے چھٹکارا مل سکے۔
کامل بھروسہ اور مدد طلبی
بندگی کے اس بڑے عہد کے فوراً بعد، اللہ سے مدد طلب کرنا (وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ) ہماری اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ہم اپنی قوت سے یہ وعدہ پورا نہیں کر سکتے۔ ڈاکٹر اسرار احمد فرماتے ہیں کہ جیسے ہی ہم بندگی کا عہد کرتے ہیں، ہمیں اللہ کی پناہ میں آ جانا چاہیے، کیونکہ اس عہد کو نبھانے کے لیے اسی کی مدد درکار ہے۔ یہ ہماری اندرونی کیفیت کا اظہار ہے کہ ہم اللہ سے توفیق (`tawfeeq`)، آسانی (`tayseer`)، اور نصرت (`nusrat`) کے محتاج ہیں۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر نماز کے بعد ہم نبی کریم ﷺ کی دعا رَبِّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ (اے اللہ! میری مدد فرما کہ میں تجھے یاد رکھ سکوں، تیرا شکر ادا کر سکوں اور تیری بندگی احسن طریقے سے بجا لاؤں) کے ساتھ اپنے رب سے مدد مانگیں۔ یہ ہمارے روزمرہ کے معاملات میں بھی اللہ پر کامل توکل (`tawakkul`) اور بھروسے کی یاد دہانی ہے۔
ہر غلامی سے آزادی
سید قطب (Sayyid Qutb) کے مطابق، یہ آیت انسان کو ہر قسم کی غلامی سے مکمل آزادی دلاتی ہے۔ جب ہم صرف اللہ کی بندگی کا اقرار کرتے ہیں، تو ہم اوہام و خرافات (`awham o khurafat`)، غلط رسم و رواج، اور باطل نظام ہائے زندگی (`batil nizam e zindagi`) کی پابندی سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک مومن کے ضمیر کو دوسرے انسانوں اور جاہلی نظاموں کی زنجیروں سے رہا کرتی ہے۔ اس سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ دنیاوی طاقت اور ظاہری شان و شوکت کے سامنے پریشان نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ قوت کا اصل سرچشمہ صرف اللہ کی ذات ہے۔ یہ ایک وسیع تر معاشرتی اور سیاسی پہلو کو اجاگر کرتا ہے، کہ ایک حقیقی مومن صرف اللہ کا پابند ہوتا ہے اور اس کے حکم کے خلاف کسی بھی طاقت یا نظام کے سامنے نہیں جھکتا۔
باجماعت دعا اور عاجزی
مفسرین جیسے کہ وحبہ الزحیلی (Wahba al-Zuhayli) اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہاں ”میں عبادت کرتا ہوں“ یا ”میں مدد مانگتا ہوں“ کی بجائے صیغہ جمع ”نَعْبُدُ“ اور ”نَسْتَعِينُ“ (ہم عبادت کرتے ہیں، ہم مدد مانگتے ہیں) استعمال کیا گیا ہے۔ یہ بندے کی عاجزی کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اکیلے اللہ کے سامنے کھڑے ہونے میں اپنی کوتاہیوں اور گناہوں کی وجہ سے شرمندگی محسوس کرتا ہے۔ اس لیے وہ تمام مومنین کی جماعت میں شامل ہو کر دعا کرتا ہے، گویا یہ درخواست کرتا ہے کہ میری دعا کو ان کے ساتھ قبول فرما۔ یہ امت (`ummah`) کے اجتماعی تعلق اور ایک دوسرے کے ساتھ عاجزی کے رشتے کو مضبوط کرتا ہے، کہ ہماری بندگی اور مدد طلبی میں ایک اجتماعی روح شامل ہو۔
یہ آیت اپنے اندر ایک کامل زندگی کا نسخہ رکھتی ہے، جو ہمیں داخلی پاکیزگی، اللہ پر مکمل انحصار، اور ہر قسم کے دنیاوی بوجھ سے آزادی کا درس دیتی ہے۔ یہ ہر مومن کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنے دل، اپنے رشتوں اور اپنے معاشرتی کردار کو صرف اللہ کی بندگی کے تابع کرے۔
مآخذ: Israr Ahmad (Bayan ul Quran), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Tazkirul Quran, Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)
روابط
السلام علیکم، آیة `إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ` (ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھی سے مدد مانگتے ہیں) سورہ فاتحہ کے دل کی حیثیت رکھتی ہے، اور اس کی گہرائیوں کو سمجھنے کے لیے اس کے آس پاس کے کلام سے اس کا جوڑ دیکھنا بہت ضروری ہے۔ آئیے، اس آیة کے ارتباط کو سمجھتے ہیں:
تعریف اور خطاب
اس آیة میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ ایمان والوں کو سکھا رہے ہیں کہ وہ اس کی ذات سے کیسے مخاطب ہوں اور کیسے اس سے دعا کریں۔ یہ بندے کی طرف سے اللہ سے براہ راست گفتگو ہے، جو پچھلی آیات میں اللہ کی تعریفی کلمات کے بعد آتی ہے۔ پچھلی آیات `الحمد لله رب العالمين` (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے) سے لے کر `ملك يوم الدين` (بدلے کے دن کا مالک ہے) تک اللہ کی غائبانہ تعریف کی جا رہی تھی۔ لیکن اس آیة میں اچانک خطاب کا انداز بدل جاتا ہے اور `إياك` (`Iyyaka`، یعنی "صرف تُو") کہہ کر اللہ کو براہ راست مخاطب کیا جاتا ہے۔ امام زمخشری (Zamakshari) کے قول کے مطابق، یہ اسلوبِ خطاب کی تبدیلی سامع کے ذہن کو تازہ کرتی ہے اور اسے کلام کی طرف مزید متوجہ کرتی ہے۔
ربوبیت سے عبودیت کا سفر
پہلی تین آیات میں اللہ کی ربوبیت (مالک ہونا)، عظمت، رحمت اور آخرت پر اس کی حاکمیت کو بیان کیا گیا۔ امام طنطاوی (Tantawi) فرماتے ہیں کہ یہ آیات (1:1-4) اللہ کی ربوبیت کی حقیقت کو بیان کرتی ہیں، جس میں دنیا و آخرت کے تمام معاملات شامل ہیں۔ اس کے بعد آیة `إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ` آتی ہے تاکہ یہ واضح ہو کہ جس اللہ کی یہ صفات ہیں، صرف وہی عبادت اور مدد کے لائق ہے۔ یہ ایک فطری ربط ہے کہ جب انسان اللہ کی شان، رحمت اور قدرت کو پہچان لیتا ہے، تو اس کا دل فوراً اس کی بندگی اور اسی سے مدد طلب کرنے کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔
توحید کا عملی مظہر
علامہ شنقیطی (Shinqiti) اس آیة کو `لا إله إلا الله` (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں) کے معنی کی عملی تشریح قرار دیتے ہیں۔ `إِيَّاكَ نَعْبُدُ` میں `إياك` (صرف تُو) کو فعل `نعبد` (ہم عبادت کرتے ہیں) سے پہلے لانے کا مطلب "حصر" (exclusive devotion) ہے، یعنی عبادت صرف اللہ کے لیے ہے۔ یہ نفی (غیراللہ کی عبادت کا انکار) اور اثبات (صرف اللہ کی عبادت کا اقرار) دونوں کو ایک ساتھ بیان کرتا ہے۔ `وإياك نستعين` (اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں) بھی اسی حصر کو دہراتا ہے، یہ بتاتا ہے کہ صرف وہی مدد کا مستحق ہے جو عبادت کا مستحق ہو۔ شنقیطی اس کی مثال قرآن کی دیگر آیات سے دیتے ہیں جیسے `فاعبده وتوكل عليه` (اس کی عبادت کرو اور اسی پر توکل کرو)، جو عبادت اور استعانت کے گہرے تعلق کو واضح کرتا ہے۔
اجتماعیت اور عاجزی
اس آیة میں `نعبد` (ہم عبادت کرتے ہیں) اور `نستعين` (ہم مدد مانگتے ہیں) میں جمع (plural) کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے، نہ کہ `أعبد` (میں عبادت کرتا ہوں)۔ امام صابونی (Sabuni) اور طنطاوی اس کی حکمت یہ بتاتے ہیں کہ یہ بندے کی عاجزی کا اظہار ہے کہ وہ خود کو تنہا بادشاہوں کے بادشاہ کے دربار میں کھڑا کرنے کے بجائے، مومنین کی جماعت میں شامل ہو کر دعا کرتا ہے۔ یہ اجتماعیت اور اخوت کا بھی پیغام ہے کہ ایمان والے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ امام بقاعی (Biqa'i) اس سے نماز میں اجتماعیت کی طرف بھی اشارہ دیکھتے ہیں، `إن الصلاة بُنیت على الاجتماع` (نماز کی بنیاد اجتماع پر رکھی گئی ہے)۔
عبادت اور استعانت کا تعلق
اس آیة میں `نعبد` کو `نستعين` سے پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ امام طنطاوی اور بقاعی اس کا سبب یہ بتاتے ہیں کہ عبادت اللہ سے کچھ مانگنے کا ذریعہ ہے۔ پہلے اس کی بندگی کا اقرار کیا جاتا ہے، پھر اس سے مدد طلب کی جاتی ہے۔ یہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ انسان اللہ کی مدد کے بغیر عبادت بھی صحیح طریقے سے ادا نہیں کر سکتا، `عبادتہ لا تتھیا الا بمعونتہ` (اس کی عبادت اس کی مدد کے بغیر ممکن نہیں)۔ لہٰذا، ہم عبادت کے لیے بھی اسی سے مدد مانگتے ہیں۔
یہ آیة، پچھلی آیات میں اللہ کی شان اور عظمت کے بیان کے بعد، بندے کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ کس طرح عاجزی، توحید اور اجتماعیت کے ساتھ اللہ کی بندگی کا اقرار کرے اور ہر حال میں اسی پر بھروسہ کرے۔ یہ ایک مکمل زندگی کا نقشہ ہے، جو توکل اور استقامت کا درس دیتا ہے۔
مآخذ: al-Wasit (Tantawi), al-Shinqiti (Adwa al-Bayan), al-Biqa'i (Nazm al-Durar), al-Sabuni (Safwat al-Tafasir)
حکمت
سورہ فاتحہ کی یہ عظیم آیت، "إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ" (`Iyyaka na'budu wa Iyyaka nasta'in`) دراصل ایک دعا اور اللہ تعالیٰ سے ایک گہرا عہد ہے۔ اس میں ایک مومن اپنے رب سے گفتگو کرتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ اس آیت کا آغاز عربی کے لفظ "إِيَّاكَ" (`Iyyaka`) سے ہوتا ہے جس کا مطلب ہے "صرف تجھ ہی کو" یا "تجھ ہی کو اکیلا"۔ یہ لفظ شروع میں آ کر اس بات پر زور دیتا ہے کہ عبادت اور استعانت (مدد طلب کرنا) صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔ کسی اور کو اس میں شریک نہیں کیا جاتا۔
بندگی کا اقرار
جب ہم کہتے ہیں "إِيَّاكَ نَعْبُدُ" (`Iyyaka na'budu`), "ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں"، تو اس کا مطلب صرف نماز، روزہ، حج، زکات جیسے مخصوص اعمال نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک وسیع تر تصور ہے۔ جیسا کہ مفتی محمد شفیع (رحمہ اللہ) اپنی تفسیر "معارف القرآن" میں فرماتے ہیں، عبادت کا مطلب اللہ سے اس طرح محبت کرنا، ڈرنا، بھروسہ کرنا اور امید رکھنا ہے جس طرح صرف اللہ سے کیا جاتا ہے۔ اس میں ہر وہ قول اور فعل شامل ہے جسے اللہ پسند فرماتا ہے، خواہ وہ ظاہری ہو یا باطنی، جیسا کہ امام السعدی (رحمہ اللہ) نے بیان فرمایا ہے۔ یہ اقرار ہے کہ ہماری زندگی، ہماری تمام وابستگیاں، ہماری اطاعت اور ہماری مکمل عاجزی صرف اللہ ہی کے لیے ہے۔
مدد صرف اسی سے
"وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ" (`wa Iyyaka nasta'in`), "اور صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں"، یہ بندگی کے اقرار کا قدرتی نتیجہ ہے۔ جب ہم یہ سمجھ جاتے ہیں کہ ہماری تمام ماضی، حال اور مستقبل کی ضروریات صرف اللہ ہی پوری کر سکتا ہے، تو یہ لازمی ہو جاتا ہے کہ ہم اسی سے مدد مانگیں۔ امام السعدی کے مطابق، استعانت کا مطلب منافع حاصل کرنے اور نقصانات کو دور کرنے کے لیے اللہ پر بھروسہ کرنا ہے، اس یقین کے ساتھ کہ وہی سب کچھ عطا کر سکتا ہے۔ یہ مدد نہ صرف ہماری دنیاوی حاجات کے لیے ہے بلکہ ہماری عبادات کی ادائیگی کے لیے بھی ہے، کیونکہ اللہ کی مدد کے بغیر ہم اس کے احکامات پر عمل نہیں کر سکتے۔
ہم کا مطلب
غور کریں کہ اس آیت میں "میں" نہیں بلکہ "ہم" کا صیغہ استعمال ہوا ہے، یعنی "ہم عبادت کرتے ہیں" اور "ہم مدد مانگتے ہیں"۔ امام الوہب الزحیلی (رحمہ اللہ) "التفسیر المنیر" میں اس کی حکمت یہ بیان فرماتے ہیں کہ یہ بندے کی عاجزی کا اظہار ہے کہ وہ اللہ کے حضور تنہا کھڑا ہونے میں اپنی کوتاہی اور گناہوں کی وجہ سے شرم محسوس کرتا ہے۔ اس لیے وہ تمام مؤمنین کے ساتھ شامل ہو کر، ان کی دعاؤں کے ساتھ اپنی دعا پیش کرتا ہے، تاکہ اسے بھی قبول کر لیا جائے۔
عملی سبق
یہ آیت ہمیں زندگی کا ایک بنیادی سبق سکھاتی ہے: ہماری زندگی کا مقصد صرف اللہ کی رضا حاصل کرنا اور تمام معاملات میں صرف اسی پر بھروسہ کرنا ہے۔ جب یہ شعور دل میں راسخ ہو جاتا ہے تو تکبر، ریا (دکھاوا) اور اللہ کے سوا کسی اور سے امید وابستہ کرنے جیسی بیماریاں ختم ہو جاتی ہیں۔ ہمیں عملی طور پر یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ جب بھی کوئی پریشانی آئے یا کوئی کام شروع کریں تو اللہ سے مدد مانگیں اور اس پر کامل بھروسہ رکھیں۔ یہ آیت ہمارے دلوں کو غیر اللہ سے تعلق توڑ کر، صرف اللہ سے جوڑنے کا پیغام دیتی ہے۔ یہ ہمیں اللہ کی موجودگی اور قدرت کا ہر لمحہ احساس دلاتی ہے۔
مآخذ: al-Qurtubi (al-Jami li-Ahkam), Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), al-Saadi (Taysir al-Karim), Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)
وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے
یہ آیت Maani کے 12 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔
اس آیت پر غور کریں
Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔