سورۃ الفاتحہ، آیت 2
سُورَةُ ٱلْفَاتِحَةِ · مکی · آیت 2 / 7
ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ
اردو ترجمہ
سب طرح کی تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے
اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔
معنی اور غور و فکر
الفاظ کا انتخاب
آیت کا مفہوم
یہ آیت ایک گہرا پیغام ہے جہاں اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے بندوں کو یہ سکھا رہے ہیں کہ اس کی عظمت اور نعمتوں کے اعتراف میں اس کی حمد و ثنا کیسے کی جائے۔ یہ اللہ کی کامل صفات اور اس کی بے شمار ظاہری اور باطنی، دینی اور دنیاوی نعمتوں کا اقرار ہے۔ یہ ایک اعلان ہے کہ ہر قسم کی تعریف کا حقیقی مستحق صرف وہی ہے۔
"الحَمْدُ" – ہر تعریف کا حقدار
جب ہم "الحَمْدُ" (`al-Hamd`) کہتے ہیں، تو یہ صرف سرسری تعریف نہیں ہوتی۔ ابن عاشور اور زمخشری جیسے مفسرین نے اس کا مطلب "الثناء على الجميل" یعنی ہر خوبصورت صفت یا عمل پر کھل کر تعریف کرنا بیان کیا ہے۔ یہ "شکر" (`shukr`) سے مختلف ہے، کیونکہ شکر کا تعلق صرف نعمتوں سے ہوتا ہے، جبکہ حمد کسی بھی کمال اور خوبصورتی پر ادا کی جاتی ہے۔
اس لفظ میں "ال" (`al-`) کا استعمال بہت اہم ہے۔ ابن عاشور کے مطابق، یہ "تعريف الجنس" (`ta'reef al-jins`) کے لیے ہے، یعنی حمد کی ہر قسم، ہر شکل اور ہر صورت، جو کسی بھی زبان یا زمانے میں ادا کی گئی ہو، وہ صرف اور صرف اللہ ہی کے لیے مخصوص ہے۔ محمود صافی نے بھی اسے "الحمد الكلي الجامع لجميع أفراده" یعنی کل اور جامع حمد قرار دیا ہے جو اس کی تمام اکائیوں کو شامل ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ کسی بھی تعریف کا حقیقی منبع اور مستحق صرف اللہ کی ذات ہے۔
"الحَمْدُ لِلَّهِ" کو فعلی جملے (جیسے "أحمَدُ الله") کے بجائے اسمی جملے کے طور پر لانے میں ایک خاص بلاغت (`balagha`) ہے۔ یہ "الدوام والثبات" (`ad-Dawaam wal-Thabaat`) یعنی ہمیشگی اور پختگی کا مفہوم دیتا ہے۔ اسمی جملہ ایک مستقل حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ حمد اللہ کے لیے ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی، نہ کہ یہ کوئی وقتی فعل ہے۔ آیت کی ابتداء میں "الحَمْدُ" کو پہلے لانا، جیسا کہ ابن عاشور نے بیان کیا، اس مقام کی اہمیت کے پیشِ نظر ہے کہ قرآن کا آغاز ہی اللہ کی حمد و ثنا سے ہو۔
"لِلَّهِ" – اللہ ہی کے لیے
اس کے بعد "لِلَّهِ" (`lillahi`) آتا ہے۔ یہاں "لِ" (`li-`) حرف جر "اختصاص" (`ikhtisaas`) یعنی تخصیص کا مفہوم دیتا ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ ہر قسم کی تعریف اور ہر کمال صرف اللہ ہی کے لیے خاص ہے۔ اللہ کا اسمِ جلالہ اس ذاتِ واحد کے لیے خاص ذاتی نام ہے جس کا کوئی ثانی نہیں۔
"رَبِّ الْعَالَمِينَ" – تمام جہانوں کا پروردگار
"رَبِّ الْعَالَمِينَ" (`Rabbil-'Aalameen`) اللہ کی مزید صفت بیان کرتا ہے۔ لفظ "رب" (`Rabb`) صرف "مالک" کے معنی میں نہیں آتا بلکہ اس میں پرورش کرنے، نگہبانی کرنے، انتظام کرنے اور کسی چیز کو درجہ کمال تک پہنچانے کے گہرے معانی شامل ہیں۔ ابن عاشور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اللہ نہ صرف مالک ہے بلکہ وہ تمام مخلوقات کی تدبیر کرنے والا اور ان کی نشوونما کرنے والا ہے۔
"العَالَمِينَ" (`al-'Aalameen`) سے مراد تمام جہان ہیں، خواہ وہ انسانوں کے ہوں، جنات کے، فرشتوں کے یا کسی اور مخلوق کے۔ یہ لفظ "علم" یا "علامت" سے ماخوذ ہے، کیونکہ ہر مخلوق اپنے خالق کی قدرت اور وحدانیت کی نشانی ہے۔ اسے عقل والوں کے جمع (مثلاً `مُسْلِمِينَ` کی طرح `عَالَمِينَ`) کے صیغے میں لانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عقل والے اس کائنات کے اہم ترین اجزاء میں شامل ہیں اور ان کے ذریعے کائنات کے رب کا علم حاصل ہوتا ہے۔ یہاں بھی "ال" (`al-`) کا استعمال تمام جہانوں کو شامل کرنے کے لیے ہے، یعنی اللہ کی ربوبیت پوری کائنات پر پھیلی ہوئی ہے۔
یہ آیت ہمیں ایک مکمل تصویر دیتی ہے کہ اللہ ہی تمام حمد کا مستحق ہے اور وہی تمام کائنات کا بلا شرکت غیرے رب، پرورش کرنے والا اور نگہبان ہے۔
مآخذ: Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir), al-Zamakhshari (al-Kashshaf), al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi), al-Jalalayn, al-Razi (Mafatih al-Ghayb)
قرآنی دنیا
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ اپنی ذات کی حمد و ثنا بیان فرما رہے ہیں اور ساتھ ہی اپنے بندوں کو یہ سکھا رہے ہیں کہ وہ کیسے اپنے رب کی تعریف کریں۔ `الْحَمْدُ لِلَّهِ` (Al-hamdulillah) یعنی تمام تعریفیں، تمام خوبیاں اور تمام شکر صرف اللہ کے لیے ہے۔ `al-Muyassar` کے مطابق، یہ اللہ کی ان تمام صفاتِ کمال اور ظاہر و باطن نعمتوں کی ستائش ہے جو بے شمار ہیں، اور اس میں بندوں کو یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ وہ صرف اسی کی حمد کریں۔ `ابن کثیر` اور `al-Tabari` کے مطابق، `جبرئیل علیہ السلام` نے `نبی کریم ﷺ` کو سکھایا کہ وہ "الحمد لله" کہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کلام اللہ کی طرف سے ہدایت ہے اور اس کا تعلق نبوت کے بالکل ابتدائی زمانے سے ہے۔ `Sayyid Qutb` نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی، اس وقت انسانی اذہان میں اللہ کی ذات اور صفات کے بارے میں بہت سے غلط تصورات اور شرکیہ خیالات پائے جاتے تھے۔ اس آیت نے توحید (اللہ کی وحدانیت) کے بنیادی تصور کو واضح کرکے ان تمام باطل عقائد کی جڑ کاٹ دی۔ یہ اعلان اس بات کا واضح فرق قائم کرتا ہے کہ انسانیت کو صرف ایک رب کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔
رب العالمین کی وسعت
آیت کا اگلا حصہ `رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ` (Rabb al-Aalameen) ہمیں اللہ تعالیٰ کی وسیع ربوبیت اور کائنات کے مختلف جہانوں (Worlds) سے آشنا کراتا ہے۔ `رَبِّ` (Rabb) کا لفظ عربی لغت میں صرف مالک کے معنی میں ہی نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب وہ ہستی بھی ہے جو ہر چیز کی پرورش، نگہداشت، اصلاح اور اسے بتدریج کمال تک پہنچاتی ہے۔ `al-Baghawi` وضاحت کرتے ہیں کہ یہ لفظ اپنی مطلق شکل میں صرف اللہ کے لیے استعمال ہوتا ہے، کیونکہ کوئی بھی مخلوق خود اتنی کامل پرورش نہیں کر سکتی۔
`الْعَٰلَمِينَ` (`al-Aalameen`) لفظ `عالم` کی جمع ہے، اور یہ تمام موجودات کے وسیع دائرے کو گھیرتا ہے۔ `al-Tabari` اور `Ibn Kathir` کی روایات کے مطابق، اس میں انسان، جنات، فرشتے اور تمام انواع کی مخلوقات شامل ہیں۔ `Ma'arif al-Quran` اس کی مزید وضاحت کرتا ہے کہ `العالمين` میں آسمان، زمین، سورج، چاند، ستارے، ہوا، بارش، حیوانات، نباتات، معدنیات، یعنی وجود کی تمام ممکنہ شکلیں شامل ہیں۔ `امام رازی` (رحمۃ اللہ علیہ) نے صدیوں پہلے یہ عقلی دلیل پیش کی تھی کہ ہماری کائنات سے پرے بھی لامتناہی فضا میں لاکھوں کروڑوں اور جہان ہو سکتے ہیں، جو اللہ کی لامحدود قدرت کا ثبوت ہے۔ یہ بات جدید سائنسی دریافتوں سے مطابقت رکھتی ہے اور `رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ` کے مفہوم کو مزید گہرائی دیتی ہے۔
کائنات میں اللہ کی ربوبیت
`رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ` کا یہ جملہ ہمیں ایک ایسے کائناتی نظام کی طرف متوجہ کرتا ہے جو بے حد پیچیدہ ہونے کے باوجود کامل نظم و ضبط کے ساتھ قائم ہے۔ آسمانوں اور زمین سے لے کر ہر چھوٹی بڑی مخلوق تک، سب اپنے اپنے فرائض الٰہی حکمت کے تحت انجام دے رہی ہیں۔ `Ma'arif al-Quran` کے مطابق، یہ کائناتی نظم ہمیں سمجھاتا ہے کہ انسان بھی بے مقصد نہیں ہے۔ جس اللہ نے لاتعداد مخلوقات کو انسان کی خدمت پر مامور کیا، اس نے انسان کو بے فائدہ پیدا نہیں کیا۔ انسان کا بنیادی مقصد صرف اور صرف اپنے رب کی عبادت اور اس کی حمد کرنا ہے۔ یہ آیت ایک مومن کے دل میں اللہ کی عظمت اور اس کی بے پناہ نعمتوں کا شکر پیدا کرتی ہے، اور یہ احساس دلاتی ہے کہ ہمارا رب ہر لمحہ ہماری اور تمام مخلوقات کی نگہداشت اور پرورش فرما رہا ہے۔
مآخذ: al-Tabari (Jami al-Bayan), al-Baghawi (Maalim al-Tanzil), Ibn Kathir, Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), al-Razi (Mafatih al-Ghayb)
ذاتی آئینہ
قلب سے نکلنے والی ہر سچی بات کی ابتداء اللہ کی تعریف سے ہونی چاہیے، اور سورہ فاتحہ کی یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اس تعریف کا حق دار کون ہے۔ یہ صرف زبان سے ادا کیے جانے والے الفاظ نہیں، بلکہ ایک گہرا قلبی اعتراف ہے کہ ہماری زندگی اور اس کے گرد و پیش کی ہر نعمت اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے ہے۔
تعریف کا مفہوم (The Meaning of Praise)
جب ہم کہتے ہیں `الحمد لله` (تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں)، تو ہم صرف شکر ادا نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ اس کی خوبصورت صفات کو تسلیم کر رہے ہوتے ہیں جو اس کی عظمت، کمال اور بے انتہا فضل و کرم کو ظاہر کرتی ہیں۔ ڈاکٹر اسرار احمد کے مطابق، لفظ 'اللہ' کا مفہوم وسیع ہے۔ ایک عام انسان کے لیے وہ ہستی ہے جس سے ضرورت کے وقت رجوع کیا جائے، پریشانیوں میں مدد طلب کی جائے، اور حاجات پوری کرنے کے لیے پکارا جائے۔ اہل معرفت کے لیے وہ ذات ہے جس سے بے پناہ محبت ہو۔ فلسفیانہ اعتبار سے وہ ہستی جس کی حقیقت کو انسان اپنے فہم و ادراک سے نہیں پاسکتا۔ یہ `حمد` ہمیں اپنے دلوں میں یہ احساس جگاتی ہے کہ ہماری ہر چھوٹی بڑی ضرورت اور شدید ترین چاہت کا مرکز وہی ذات ہے۔
تمام جہانوں کا رب (Lord of All Worlds)
آیت کا دوسرا حصہ، `رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ` (تمام جہانوں کا رب) اس حقیقت کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔ 'رب' کا مطلب صرف مالک نہیں، بلکہ وہ جو پرورش کرے، دیکھ بھال کرے، اصلاح کرے اور تدبیر کرے۔ یہ ربوبیت، یعنی اللہ کی پرورش اور دیکھ بھال کا دائرہ کسی ایک طبقے یا علاقے تک محدود نہیں، بلکہ تمام مخلوقات، تمام جہانوں اور تمام زمانوں پر محیط ہے۔
علامہ سید قطب اس آیت میں موجود `ربوبیت` کے اس عالمگیر تصور کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ جاہلیت کے تفرقہ پسندانہ اور کئی خداؤں والے تصورات سے مکمل طور پر مختلف ہے۔ جہاں لوگ چھوٹے چھوٹے ارباب اور مختلف خداؤں کے قائل تھے، وہاں اس آیت نے تمام مخلوقات کو ایک ہی `رب` کی طرف متوجہ کر کے انسانی شعور کو آزاد کیا، اسے اوہام و خرافات سے نجات دلائی اور فکری انتشار کو ختم کیا۔ یہ آیت ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ اس کائنات کا کوئی بھی حصہ یا کوئی بھی فرد بغیر نگرانی اور پرورش کے نہیں ہے۔ اللہ ہر وقت، ہر لمحہ اپنی مخلوق کے ساتھ ایک تعلق میں ہے، اس کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔
آپ کے لیے اس کا مفہوم (What it Means For You)
'ورلڈلی مرر' کے عدسے سے دیکھیں تو یہ آیت ہمارے لیے گہری ذاتی، معاشرتی اور اجتماعی بصیرت کا ذریعہ بنتی ہے۔
* ذاتی طور پر (Inner): یہ ہمیں اپنی زندگی کی ہر نعمت، ہر لمحے کے لیے شکر گزار ہونے کا درس دیتی ہے۔ یہ پہچان کہ اللہ ہی `رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ` ہے، ہمارے دل میں اطمینان پیدا کرتی ہے اور ہمیں کائنات کے ہر ذرے میں اس کی ربوبیت کے نشانات دیکھنے کی دعوت دیتی ہے۔ یہ ہماری تمام تر امیدوں، خوفوں اور آرزوؤں کو صرف اس ایک ذات سے جوڑتی ہے، جس سے `توحید` (اللہ کی وحدانیت) کا اقرار ہمارے وجود کا لازمی حصہ بن جاتا ہے۔
* معاشرتی اور اجتماعی طور پر (Worldly / Ummah): یہ آیت ایک مضبوط سماجی اور سیاسی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ جب ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ تمام جہانوں کا رب ایک ہے، تو یہ تمام انسانوں کو ایک ہی `رب` کے بندے بنا دیتا ہے۔ اس تصور کے تحت کوئی بھی گروہ یا قوم اپنی برتری کا دعویٰ نہیں کر سکتی، کیونکہ سب کا مالک و پروردگار ایک ہی ہے۔ یہ ہمیں تقسیم کرنے والے باطل تصورات، قومیتوں، اور علاقائی تعصبات سے آزادی دلاتی ہے، اور تمام انسانیت کو ایک `اُمت` (جماعت) کے طور پر ایک دوسرے سے جڑنے اور ایک دوسرے کی بھلائی کے لیے کام کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ `اللہ` ہی حقیقی حاکم ہے اور تمام لوگوں کو اس کی `ربوبیت` کا اقرار کر کے فکری آزادی اور قلبی سکون حاصل کرنا چاہیے۔
یہ آیت محض تعریف کے کلمات نہیں، بلکہ ایک مکمل طرز فکر اور طرز زندگی کا اعلان ہے جو ہر فرد اور پوری اُمت کو اللہ کی وحدانیت اور اس کی ہمہ گیر ربوبیت کے سائے میں متحد کرتی ہے۔
مآخذ: Israr Ahmad (Bayan ul Quran), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Tazkirul Quran, Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)
روابط
ہم اللہ تعالیٰ کے کلام، سورۃ الفاتحہ کی دوسری آیت، `ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ` (الحمد للہ رب العالمین) پر غور کرنے جا رہے ہیں۔ یہ آیت، جس کا مطلب ہے "تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے"، ہمیں اللہ کی حمد و ثنا کا حکم دیتی ہے، اُس کی کامل صفات اور ظاہری و باطنی نعمتوں پر، خواہ وہ دینی ہوں یا دنیاوی۔ یہ ہمیں اُس ہستی کی طرف متوجہ کرتی ہے جو ہر مخلوق کا خالق، اُن کے معاملات کا نگہبان، اور اپنی نعمتوں سے سب کی پرورش کرنے والا ہے۔
سورۃ الفاتحہ کا مرکزی پیغام
یہ آیت نہ صرف اپنی جگہ پر مکمل ہے بلکہ قرآن کے وسیع تر تانے بانے کا ایک اہم حصہ بھی ہے۔ `سورة الفاتحة` (سورۃ الفاتحہ) کو `أم الكتاب` (ام الکتاب) یعنی "کتاب کی ماں" کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ امام صابونی بیان کرتے ہیں، یہ سورہ اپنی مختصرت کے باوجود پورے قرآن کے بنیادی مقاصد کو سمیٹے ہوئے ہے، جس میں عقیدہ (ایمان)، عبادت، قانون سازی، آخرت پر یقین، اللہ کے اسمائے حسنیٰ (صفاتِ کمال)، اور اللہ سے ہدایت کی التجا شامل ہیں۔ اس آیت کا سورہ کے آغاز میں آنا، جیسا کہ طنطاویٰ فرماتے ہیں، ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم اپنی تحریریں اور خطبے اللہ کی حمد سے شروع کریں تاکہ ہمارا تعلق اللہ سے جڑا رہے اور ہمارے دلوں سے غفلت کے پردے ہٹ جائیں۔
حمد کی وسعت اور عالمین کی ربوبیت
اس آیت میں اللہ کی حمد کی گئی ہے، لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ حمد کب اور کہاں کی جائے۔ اس تعلق کو علامہ شنقیطی قرآن کی دیگر آیات سے جوڑتے ہیں، جیسے کہ سورۃ الروم (آیت 18) میں `وَلَهُ الحَمْدُ في السَّماواتِ والأرْضِ` (اور آسمانوں اور زمین میں اُسی کے لیے تعریف ہے) سے مکانی وسعت جبکہ سورۃ القصص (آیت 70) میں `وَلَهُ الحَمْدُ في الأُولى والآخِرَةِ` (اور اُسی کے لیے دنیا اور آخرت میں حمد ہے) سے زمانی وسعت کا علم ہوتا ہے۔ یہ ربط ظاہر کرتا ہے کہ اللہ کی حمد ہر جگہ اور ہر وقت محیط ہے۔
`رَبِّ العالَمِينَ` (رب العالمین) کے الفاظ بھی گہرے معنی رکھتے ہیں۔ شنقیطیٰ اس کی وضاحت سورۃ الشعراء (26:23-24) سے کرتے ہیں، جہاں فرعون کے سوال "رب العالمین کیا ہے؟" کے جواب میں موسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں: "آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، سب کا رب"۔ یہ تعلق `العالمين` (العالمین) کی جامعیت کو مزید واضح کرتا ہے۔ بقاعیٰ کہتے ہیں کہ اللہ نے جب اپنی ذات کو تمام تعریفوں کا مستحق قرار دیا (الحَمْدُ لِلَّهِ)، تو پھر `رَبِّ العالَمِينَ` (رب العالمین) کہہ کر اشارہ کیا کہ وہ اپنی ربوبیت (پرورش) اور انعام دینے کے پہلو سے بھی حمد کے مستحق ہیں۔ عالمین (کائنات) کا ذکر اللہ کی تخلیق کا آغاز دکھا کر مخلوق سے خالق پر استدلال کی طرف اشارہ ہے۔
دعوت کا حکیمانہ انداز
علامہ طنطاویٰ اس بات پر بھی ایک خوبصورت نکتہ بیان کرتے ہیں کہ سورہ کا آغاز "احمدوا اللہ" (اللہ کی حمد کرو) جیسے امری صیغے کے بجائے `ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ` (الحمد للہ) جیسے خبری انداز میں کیوں ہوا؟ وہ فرماتے ہیں کہ حکم کبھی کبھی دلوں کو بوجھل محسوس ہو سکتا ہے۔ چونکہ یہ نئی شریعت اور نئے احکامات کا آغاز تھا، اللہ نے اپنے بندوں سے نرمی کا برتاؤ کیا تاکہ اُن کے دلوں کو مانوس کر لے اور وہ بآسانی اِن احکامات کو سنیں اور اُن پر عمل کریں۔ یہ انداز ہمیں اللہ کی رحمت اور اُس کے کلام کی حکیمانہ بلاغت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
اس آیت کا مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اللہ کی تعریف نہ صرف اُس کی کامل ذات کی وجہ سے ہے بلکہ اُس کی ربوبیت اور ہر چیز کی پرورش کے لحاظ سے بھی ہے۔ یہ پورے قرآن کے پیغام کا نچوڑ ہے اور اللہ کے ساتھ ہمارے تعلق کو گہرا کرنے کی بنیاد ہے۔
مآخذ: al-Wasit (Tantawi), al-Biqa'i (Nazm al-Durar), al-Shinqiti (Adwa al-Bayan), al-Sabuni (Safwat al-Tafasir)
حکمت
تعارف
سورہ فاتحہ کی یہ دوسری آیت، `ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعٰلَمِينَ` (الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ - تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے)، ہمیں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کا حکم دیتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ اس کی تعریف کیوں ضروری ہے۔ یہ محض ایک بیان نہیں بلکہ ایک حکم ہے کہ ہم سب اس کی حمد کریں۔
حمد اور اس کا مفہوم
`الْحَمْدُ لِلّٰهِ` کا مطلب ہے کہ ہر قسم کی تعریف اور شکر اللہ تعالیٰ ہی کے لیے خاص ہے۔ مفسرین نے وضاحت کی ہے کہ `حمد` (تعریف) `شکر` (احسان ماننا) سے زیادہ وسیع ہے۔ شکر عام طور پر کسی خاص نعمت کے بدلے میں ہوتا ہے، جبکہ حمد اللہ کی ذاتی صفاتِ کمال اور اس کے تمام افعال پر ثناء ہے، چاہے وہ نعمت کے بدلے میں ہو یا نہ ہو۔ معرف القرآن کے مفتی شفیع صاحب فرماتے ہیں کہ کائنات میں جو کچھ بھی خوبصورت، پرفیکٹ اور مفید ہے، اس سب کی تعریف بالآخر اللہ ہی کی تعریف ہے، کیونکہ یہ سب اس کی تخلیقی قوت کا مظہر ہیں۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جب بھی ہم کوئی خوبی، خوبصورتی یا نعمت دیکھیں، تو ہمارا دل اور زبان فوراً `الْحَمْدُ لِلّٰهِ` کہہ اٹھے۔ یہ عمل ہمارے دلوں کو غیر اللہ کی تعریف سے ہٹا کر صرف اللہ کی توحید (اللہ کی وحدانیت) سے جوڑ دیتا ہے۔
رب العالمین کا وسیع مفہوم
`رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ` کے معنی میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی کائنات کے ساتھ تعلق کا گہرا ادراک ہے۔ `رب` کا لغوی معنی پروردگار، مالک، پالنے والا، تربیت کرنے والا اور ہر چیز کو بتدریج کمال تک پہنچانے والا ہے۔ یہ نام صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔ `العالمين` (العالمین) کا مطلب ہے تمام جہان، یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا ہر وہ چیز جو وجود رکھتی ہے، خواہ وہ انسان ہوں، جن ہوں، فرشتے ہوں، حیوانات ہوں، نباتات ہوں، یا ذرے ذرے اور بے شمار معلوم و نامعلوم کائناتیں۔
علامہ سعدیؒ کے مطابق، اللہ کی ربوبیت (پروردگاری) عالمگیر اور جامع ہے، کیونکہ وہ ہر چیز کو پیدا کرتا ہے، رزق دیتا ہے، اس کی پرورش کرتا ہے اور اسے اس کے مقصد کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ یہ کائنات بے مقصد نہیں ہے، بلکہ ایک عظیم حکمت کے تحت بنی ہے۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے، "ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے بے فائدہ نہیں بنایا۔" (سورہ ص، 38:27) یہ آیت کائنات کی ہر چیز میں اللہ کی قدرت و تدبیر کو پہچاننے کی دعوت دیتی ہے، جس سے انسان کو اپنی تخلیق کے مقصد یعنی اللہ کی عبادت کا احساس ہو۔
خصوصی اور عمومی تربیت
علامہ سعدیؒ مزید فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تربیت (پالنے اور سنوارنے کا عمل) کی دو اقسام ہیں: عمومی اور خصوصی۔ عمومی تربیت تمام مخلوقات کے لیے ہے، جس میں انہیں رزق دینا، دنیاوی مفادات کے لیے رہنمائی کرنا اور ان کی بقا کا سامان کرنا شامل ہے۔ خصوصی تربیت اللہ کے اولیاء (منتخب بندوں) کے لیے ہے، جس میں انہیں ایمان پر مضبوط کرنا، نیکی کی توفیق (الٰہی مدد) دینا اور ان کے راستے سے رکاوٹیں دور کرنا شامل ہے۔ انبیاء کرام کی دعاؤں میں اکثر `رب` کا لفظ اسی وجہ سے استعمال ہوتا تھا کہ وہ اللہ کی اس خصوصی تربیت کے طلبگار ہوتے تھے۔
عملی سبق
یہ آیت ہمیں مکمل طور پر اللہ پر بھروسہ کرنے اور اس کا شکر ادا کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ جب ہم اللہ کی ربوبیت کا ادراک کرتے ہیں، تو ہمیں اپنی مکمل محتاجی اور اس کی بے پناہ قدرت و رحمت کا احساس ہوتا ہے۔ یہ احساس ہمیں اللہ کے سوا ہر طاقت سے بے نیاز کر دیتا ہے اور ہمارے دل میں عاجزی اور اطمینان پیدا کرتا ہے۔ ہمیں ہر وقت اللہ کی حمد کرنی چاہیے اور اس کی خصوصی تربیت اور رہنمائی کی دعا کرنی چاہیے۔
مآخذ: al-Qurtubi (al-Jami li-Ahkam), Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), al-Saadi (Taysir al-Karim), Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)
وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے
یہ آیت Maani کے 9 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔
اس آیت پر غور کریں
Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔