سورۃ الفاتحہ، آیت 3
سُورَةُ ٱلْفَاتِحَةِ · مکی · آیت 3 / 7
ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اردو ترجمہ
بڑا مہربان نہایت رحم والا
اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔
معنی اور غور و فکر
الفاظ کا انتخاب
سورہ فاتحہ کی اس مبارک آیت `ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ` پر غور کرتے ہوئے، ہمیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دو خوبصورت اور جامع پہلو نظر آتے ہیں۔ یہ اسماء، `الْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ` کے فوراً بعد آنا بذات خود گہری اہمیت رکھتا ہے، جو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمارے رب کی تمام تعریفیں اور جہاں والوں کی پرورش اُس کی بے پناہ رحمت کا ہی نتیجہ ہے۔
الفاظ کی گہرائی
یہ دونوں اسم `الرحمن` اور `الرحیم` ایک ہی عربی مادہ `رحم` سے بنے ہیں، جس کا معنی رحم کرنا یا مہربانی کرنا ہے۔ `المیّسر` کے مطابق، `الرحمن` ایسی ذات کو کہتے ہیں جس کی رحمت عام ہو، جس نے تمام مخلوقات کو اپنی رحمت سے گھیر رکھا ہو۔ یہ وہ رحمت ہے جو دنیا میں مومن اور کافر، نیک اور بد، سب کو بلا تفریق میسر ہے۔ جیسے سورج کی روشنی، بارش کا پانی، رزق کی فراوانی – یہ سب `الرحمن` کی عام رحمت کے مظاہر ہیں۔
اس کے برعکس، `الرحیم` اس ذات کی صفت ہے جو خاص طور پر مومنوں پر رحم فرمانے والا ہے۔ یہ وہ رحمت ہے جو خاص مہربانی، رہنمائی، بخشش اور آخرت کی کامیابی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ عام رحمت سے زیادہ مخصوص اور دائمی ہوتی ہے۔
معانی میں اضافہ
عربی زبان کے اصول `زیادة المبنى لزيادة المعنى` (لفظی ساخت میں اضافہ معنی کی گہرائی پر دلالت کرتا ہے) کے مطابق، علماء جیسے ابن عاشور اور زمخشری نے بیان کیا ہے کہ `الرحمن` کا لفظ `الرحیم` سے زیادہ جامع اور بلیغ ہے۔ `الرحمن` اللہ تعالیٰ کا ایک خاص نام ہے جو صرف اُسی ذات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن نے مشرکین کے قول `وما الرحمن` (الفرقان: 60) سے واضح کیا کہ یہ نام اللہ تعالیٰ نے خود متعارف کروایا، اور یہ اس کی ذات کے ساتھ خاص ہے۔ جب کہ `الرحیم` کا لفظ اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسرے کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا: `بالمؤمنين رءوف رحيم` (التوبہ: 128) یعنی "مومنین پر بہت مہربان، نہایت رحم کرنے والے ہیں۔" یہ فرق `الرحمن` کی عظمت اور جامعیت کو اجاگر کرتا ہے۔
ربوبیت سے تعلق
ابن عاشورؒ فرماتے ہیں کہ `رَبِّ الْعَالَمِينَ` کے بعد `الرحمن` کا ذکر کرنے میں ایک حسین مناسبت ہے۔ جب ہم اللہ کو تمام جہانوں کا پالنے والا مانتے ہیں، جو مخلوقات کو تدریجاً کمال تک پہنچاتا ہے، تو `الرحمن` کا وصف یہ بتاتا ہے کہ یہ پرورش اور کمال تک پہنچانا سختی یا مشقت سے نہیں بلکہ نرمی، آسانی اور ہر چیز کی استعداد کے مطابق ہوتا ہے۔ یہ ہمارے لیے احکام میں بھی آسانی اور راحت کے پہلو کو واضح کرتا ہے۔
اللہ کی رحمت کی نوعیت
یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کو `الرحمن` اور `الرحیم` کہا جاتا ہے، تو اس کا مطلب انسانوں جیسی رقت یا جذباتی کیفیت نہیں ہوتی۔ ابن عاشور اور جلالین کے مطابق، اللہ کی رحمت سے مراد اس کا احسان کرنے کا ارادہ اور اس کے نتیجے میں مخلوقات پر نرمی، لطف، بھلائی اور مدد کا ظہور ہے۔ یہ رحمت کا وہ اثر ہے جو اس کی قدرت کاملہ سے ہر شے پر ظاہر ہوتا ہے۔
اس طرح، `الرحمن الرحیم` کے الفاظ ہمیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے لا محدود پھیلاؤ اور اس کے خصوصی فضل کی گہرائیوں میں لے جاتے ہیں، جو ہر لمحہ ہماری زندگیوں کو گھیرے ہوئے ہے۔
Source: al-Muyassar plain meaning, Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir), al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi), al-Zamakhshari (al-Kashshaf), al-Jalalayn.
مآخذ: Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir), al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi), al-Zamakhshari (al-Kashshaf), al-Jalalayn, al-Razi (Mafatih al-Ghayb)
قرآنی دنیا
آیت کا مفہوم
سورہ فاتحہ کی یہ تیسری آیت اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے دو سب سے نمایاں صفاتی ناموں کو بیان کرتی ہے: `ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ` (الرحمٰن، الرحیم). اس کا سیدھا سادہ مفہوم یہ ہے کہ اللہ وہ ہستی ہے جس کی رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے. `الرحمن` کا مطلب ہے وہ ذات جو بہت وسیع، عمومی رحمت کی مالک ہے، ایسی رحمت جو اس کی تمام مخلوقات کو شامل ہے، چاہے وہ ماننے والے ہوں یا نہ ماننے والے، اس دنیا میں ہر جاندار کو رزق اور سہولیات فراہم کرتی ہے. اور `الرحیم` خاص طور پر ایمان والوں پر مہربانی اور ان پر اپنی رحمت کے مخصوص اظہار کا نام ہے، جس کا سب سے بڑا مظہر آخرت میں مومنوں کے لیے بخشش اور ابدی نعمتیں ہوں گی. گویا `الرحمن` کی صفت دنیا میں ہر چیز کے لیے عام ہے، جبکہ `الرحیم` کی صفت آخرت میں مومنوں کے لیے خاص ہے، جیسا کہ علامہ بغوی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ یہ دو نام ہیں جن میں سے ایک دوسرے سے زیادہ نرمی لیے ہوئے ہے.
رحمت کا وسیع عالم
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کو دو مختلف پہلوؤں سے اجاگر کرتے ہیں. مفتی شفیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ دو صفات (الرحمٰن اور الرحیم) عربی زبان میں مبالغہ کے صیغے ہیں، جو اللہ کی رحمت کی انتہا اور کمال کو ظاہر کرتے ہیں. یہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ اللہ نے اپنی مخلوق کی پرورش کی ذمہ داری کسی بیرونی دباؤ یا ضرورت کے تحت نہیں لی، بلکہ یہ اس کی اپنی صفتِ رحمت کا تقاضا ہے. اگر یہ ساری کائنات نہ بھی ہوتی تو اس سے اللہ کو کوئی نقصان نہ ہوتا، اور اگر یہ موجود ہے تو اس سے اللہ پر کوئی بوجھ نہیں. یہ کائنات اور اس میں موجود ہر چیز اللہ کی بے پناہ رحمت کا کھلا مظہر ہے، جس سے `World of Creation` یعنی کائنات کا عالم اور اس کے پیچھے کارفرما رب کی رحمت کا گہرا تعلق واضح ہوتا ہے.
پرانے تصورات سے موازنہ
یہاں `الرحمن الرحیم` کا اعادہ، جیسا کہ سید قطب رحمہ اللہ نے فرمایا ہے، رحمت و شفقت کے تمام معانی، تمام حالات اور تمام وسعتوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے. یہ خالق اور مخلوق کے درمیان محبت اور دلی سکون پر مبنی تعلق کو نمایاں کرتا ہے. اس تصور کی گہرائی اس وقت مزید سمجھ میں آتی ہے جب ہم اس کا موازنہ پرانے قوموں اور عقیدوں میں خدا کے تصور سے کرتے ہیں (`Worlds of Past Nations`). سید قطب یونانی اولمپک دیوتاؤں کا ذکر کرتے ہیں جو ظالم اور قسی القلب سمجھے جاتے تھے، یا عہد نامہ قدیم کی بعض روایات میں بابل کے ٹاور کی کہانی جس میں خدا کو اپنی مخلوق سے انتقام لیتے اور ان کی زبانوں میں اختلاف ڈالتے ہوئے دکھایا گیا ہے. ان کے برعکس، اسلام اللہ تعالیٰ کا جو تصور پیش کرتا ہے وہ `الٰہ العالمین` (عالمین کا معبود) کا ہے، جو اپنے بندوں کے لیے بے پناہ رحمت اور شفقت رکھتا ہے. یہ موازنہ واضح کرتا ہے کہ قرآن کس طرح ایک منفرد اور رحیم خدا کا تعارف کراتا ہے، جس کی رحمت تمام مخلوقات پر چھائی ہوئی ہے.
مآخذ: Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), al-Baghawi (Maalim al-Tanzil), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), al-Tabari (Jami al-Bayan), Ibn Kathir, al-Razi (Mafatih al-Ghayb)
ذاتی آئینہ
سورة الفاتحہ کی یہ آیت، `ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ` (الرحمٰن، الرحیم)، اللہ تعالیٰ کی دو سب سے نمایاں صفات کا تعارف کراتی ہے جو اس کی بے پناہ رحمت کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ خود اپنی ان صفات کو بیان کر رہے ہیں تاکہ بندہ اس کی عظمت اور مہربانی کا ادراک کر سکے۔ یہ آیت الحمد للہ رب العالمین کے بعد آ کر یہ احساس دلاتی ہے کہ تمام جہانوں کا رب نہ صرف مالک و پالنہار ہے بلکہ وہ اپنی مخلوق پر بے انتہا مہربان بھی ہے۔
رحمت کی پہچان
`الرَّحْمٰنِ` (الرحمٰن) اور `الرَّحِیْمِ` (الرحیم) دونوں اسماء 'رحمت' کے مادے سے ہیں، لیکن ان کے معانی میں ایک خاص فرق ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد کی تشریح کے مطابق، `الرَّحْمٰنِ` (الرحمٰن) 'فعلان' کے وزن پر ہے جو مبالغے کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے، یعنی وہ ذات جس کی رحمت ایک اُمنڈتے ہوئے سمندر کی طرح ہے، ہر شے پر محیط، بغیر کسی تفریق کے۔ یہ اللہ کی عام رحمت ہے جو مومن، کافر، انسان اور حیوان، سب کو یکساں طور پر حاصل ہے۔ اس کے برعکس، `الرَّحِیْمِ` (الرحیم) 'فعیل' کے وزن پر ہے جو صفت مشبہہ ہے، یعنی اس کی رحمت مستقل اور دائمی ہے۔ یہ رحمت ایک بہتے ہوئے دریا کی طرح مسلسل جاری رہتی ہے، جو خاص طور پر مومنوں کے لیے ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ کی رحمت جہاں وسعت میں بے مثال ہے، وہیں دوام اور استحکام میں بھی لازوال ہے۔
دل پر اثر
جب ہم ان دونوں ناموں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں تو یہ ہمارے دلوں میں گہرا اثر ڈالتا ہے۔ سید قطب فرماتے ہیں کہ یہ اسماء اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان ایک ایسا رشتہ قائم کرتے ہیں جو اطمینان قلب کی بنیاد اور محبت سے بھرے دلوں سے جڑا ہوتا ہے۔ یہ ہمیں دنیا کے ان تصورات سے دور لے جاتا ہے جہاں خداؤں کو بے رحم سمجھا جاتا تھا۔ اللہ کی یہ صفات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ وہ ہر حال میں اپنے بندوں پر مہربان ہے۔ جب ہم کسی کام کا آغاز اللہ کے ان ناموں سے کرتے ہیں تو یہ درحقیقت اپنی بندگی کا اعتراف اور اللہ کی بے پایاں رحمت کو اپنی مدد کے لیے پکارنا ہے۔ تذکر القرآن کے مطابق، یہ اس بات کی الٰہی ضمانت بھی ہے کہ اللہ اپنی رحمتوں سے اس کام کو خیر و خوبی کے ساتھ مکمل کرے گا۔ یہ ایک بندے کو قلبی سکون اور اعتماد عطا کرتا ہے کہ جس ہستی پر وہ بھروسہ کر رہا ہے، وہ نہ صرف قادر مطلق ہے بلکہ بے انتہا شفیق اور مہربان بھی ہے۔
زندگی میں جھلک
ان صفات پر غور و فکر ہمیں اپنے اندر جھانکنے اور اپنی زندگی کے تجربات کو اللہ کی رحمت کے آئینے میں دیکھنے کا موقع دیتا ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد ایک مثال دیتے ہیں: اگر ہم کسی بے سہارا بچے کی کفالت کا بوجھ اُٹھا لیتے ہیں تو ہمارا رحم کا جذبہ وقتی ہو سکتا ہے اور بعد میں پچھتاوا بھی ہو سکتا ہے۔ مگر اللہ کی رحمت میں جوش (مبالغہ) بھی ہے اور دوام بھی۔ یہ مثال ہمارے لیے ایک تنبیہ ہے کہ ہم اپنے اندر رحم کے جذبے کو مستقل اور دائمی بنانے کی کوشش کریں، تاکہ ہماری ذاتی، معاشرتی اور سماجی رویوں میں اللہ کی ان صفات کی جھلک نظر آئے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کے ہر موڑ پر، چاہے کامیابی ہو یا نقصان، اللہ کی رحمت ہمیشہ موجود ہے اور اس کا طلبگار بننا ہی اصل سعادت ہے۔
ان اسماء پر تدبر ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں ہر حال میں اللہ کی وسیع اور مسلسل رحمت پر یقین رکھنا چاہیے، اس سے امید وابستہ رکھنی چاہیے، اور اسی رحمت کو اپنی زندگی میں جذب کر کے دوسروں کے لیے باعثِ رحمت بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔
مآخذ: Israr Ahmad (Bayan ul Quran), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Tazkirul Quran, Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)
روابط
یہ آیت کریمہ `ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ` (نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا) اللہ تعالیٰ کے دو خوبصورت نام اور صفات ہیں جو اللہ کی بے پناہ رحمت اور شفقت کو بیان کرتے ہیں۔ یہ اسماء سورہ فاتحہ میں `رب العالمين` (تمام جہانوں کا پالنہار) کے بعد آتے ہیں اور ان کے درمیان ایک گہرا تعلق ہے۔
ربوبیت اور رحمت کا گہرا تعلق
جب ہم اللہ کو `رب العالمين` (تمام جہانوں کا پالنہار، مالک اور انتظام کرنے والا) کہتے ہیں تو یہ وصف بظاہر کچھ خوف یا رعب پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ پالنہار کبھی سخت اور جابر بھی ہو سکتا ہے۔ امام طنطاوی (al-Wasit) اس نکتے کو یوں واضح کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کے ساتھ فوراً `ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ` کا ذکر کیا تاکہ بندوں کو یہ احساس دلایا جا سکے کہ اس کی پرورش اور انتظام محض طاقت پر مبنی نہیں بلکہ وسیع رحمت اور احسان پر مبنی ہے۔ ہماری ہستی، رزق اور آخرت میں سوال و حساب سب اسی کی رحمت سے ہے۔ یہ تعلق ہمیں اللہ کی عبادت اس طرح کرنے کی ترغیب دیتا ہے کہ ہمارے دل مطمئن اور شادمان ہوں۔ علامہ بقاعی (al-Biqa'i) فرماتے ہیں کہ ربوبیت کا مرتبہ رحمت کے بغیر کمال حاصل نہیں کرتا، اس لیے یہ اسماء حمد کی پختگی میں رغبت پیدا کرتے ہیں۔
رحمٰن اور رحیم کے معنی میں فرق
عام فہم یہ ہے کہ `الرحمن` (الرَّحْمَٰنِ) وہ ذات ہے جس کی رحمت عام ہے اور تمام مخلوقات کو شامل ہے، خواہ وہ مؤمن ہوں یا کافر، جبکہ `الرحیم` (الرَّحِيمِ) کی رحمت خاص طور پر مؤمنوں کے لیے ہے۔ امام شنقیطی (al-Shinqiti) اور صابونی (al-Sabuni) دونوں اس معنی کی تصدیق کرتے ہیں۔ شنقیطی `الرحمن` کے لیے قرآن سے مثالیں دیتے ہیں جیسے `الرَّحْمَنُ عَلَّمَ القُرْآنَ` (سورہ الرحمن 55:1-2) جو اس کی وسیع رحمت کو ظاہر کرتا ہے کہ اس نے تمام انسانوں کو قرآن سکھایا۔ اور `الرحیم` کے لیے `وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا` (سورہ الاحزاب 33:43) کی مثال دیتے ہیں جو مؤمنوں پر خاص رحمت کو واضح کرتی ہے۔ اس طرح، `الرحمن` عظیم اور وسیع رحمت کا اظہار ہے، جبکہ `الرحیم` دائمی اور مستقل احسان کی صفت ہے۔
قرآن کا مرکزی پیغام
سورہ فاتحہ کو "ام الکتاب" (کتاب کی ماں) کہا جاتا ہے کیونکہ یہ قرآن کے تمام بنیادی مقاصد اور عقائد کا خلاصہ ہے۔ صابونی (al-Sabuni) کے مطابق، یہ سورہ عقیدے، عبادت، تشریع (قانون سازی) اور آخرت پر ایمان سمیت سبھی کو مختصر طور پر بیان کرتی ہے۔ `الرحمن الرحیم` کے ناموں کا اس ترتیب میں آنا اللہ کی ذات کے بارے میں ہماری بنیادی سمجھ کو مضبوط کرتا ہے، کہ وہ خالق اور پالنہار ہونے کے ساتھ ساتھ سراپا رحمت اور بخشش ہے۔ حسن البنا (شہید اسلام) جو صابونی کے تفاسیر میں مذکور ہیں، فرماتے ہیں کہ یہ اسماء اس احساس کو بیدار کرتے ہیں کہ اللہ کی نعمتیں اور تربیت محض اس کے فضل اور رحمت کی وجہ سے ہیں۔
یہ تدبر ہمیں سکھاتا ہے کہ جب ہم اپنے رب کی ربوبیت کا اقرار کرتے ہیں، تو ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس کی تمام طاقت اور اختیار کا منبع رحمت اور شفقت ہے، جو سب پر عام ہے اور خاص طور پر اپنے ماننے والوں پر ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ یہ معرفت ہمارے دلوں میں اللہ کی محبت، امید اور اس پر بھروسے کو پروان چڑھاتی ہے۔
مآخذ: al-Wasit (Tantawi), al-Biqa'i (Nazm al-Durar), al-Shinqiti (Adwa al-Bayan), al-Sabuni (Safwat al-Tafasir)
وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے
یہ آیت Maani کے 4 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔
اس آیت پر غور کریں
Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔