سورۃ البقرہ، آیت 74
سُورَةُ البَقَرَةِ · مدنی · آیت 74 / 286
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم مِّنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ فَهِىَ كَٱلْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةًۭ ۚ وَإِنَّ مِنَ ٱلْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ ٱلْأَنْهَٰرُ ۚ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ ٱلْمَآءُ ۚ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ ٱللَّهِ ۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
اردو ترجمہ
پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے۔ گویا وہ پتھر ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت۔ اور پتھر تو بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں،اور ان میں سے پانی نکلنے لگتا ہے، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں، اور خدا تمہارے عملوں سے بے خبر نہیں
اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔
معنی اور غور و فکر
قرآنی دنیا
تفسیر کی یہ آیت بنی اسرائیل (حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد) کی جانب توجہ دلاتی ہے اور ان کے دلوں کی غیر معمولی سختی پر گہری فکر انگیز بات کرتی ہے. یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک سخت تنبیہ اور سرزنش ہے.
آیت کا سیاق و سباق
اللہ تعالیٰ اس آیت میں بنی اسرائیل سے خطاب کر رہے ہیں، ان کی سرکشی اور نا شکری پر انہیں ملامت کر رہے ہیں. سیاق و سباق میں ان معجزات کا ذکر ہے جو انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے دیکھے تھے، خاص طور پر ایک مقتول کو زندہ کیا جانا جس نے اپنے قاتل کا نام لیا تھا. اس کے باوجود کہ ان کے سامنے سچائی واضح ہو چکی تھی اور انہیں اللہ کی قدرت کا کھلا ثبوت مل چکا تھا، ان کے دلوں نے نرمی اختیار نہیں کی. امام ابن کثیر (Ibn Kathir) فرماتے ہیں کہ یہ ان کی جانب سے سچائی کو دیکھنے کے باوجود تکذیب کرنے اور بعد میں جھٹلانے کا نتیجہ تھا. مفتی شفیع (Mufti Shafi) اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ ان کے دل بار بار کی نافرمانیوں اور سرکشیوں کی وجہ سے الہی رہنمائی کے خلاف مزید سخت ہو گئے تھے.
دلوں کی سختی کا موازنہ
اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی سختی کا موازنہ پتھروں سے کرتے ہیں اور فرماتے ہیں: `ثم قست قلوبكم من بعد ذلك فهي كالحجارة أو أشد قسوة` (پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے، پتھروں جیسے یا اس سے بھی زیادہ سخت). `قست` کا مطلب ہے دلوں کا خشک، سخت اور بے حس ہو جانا، جس سے رحم اور نرمی نکل جائے. امام طبری (al-Tabari) وضاحت کرتے ہیں کہ ان کے دل، سچائی کو پہچاننے اور اللہ کے حق کو جاننے کے بعد بھی، اس کے سامنے جھکنے اور اس کا اقرار کرنے سے سخت ہو گئے. 'او' (`aw`) کا لفظ یہاں تردید کے لیے نہیں بلکہ حقیقت کی شدت کو بیان کرنے کے لیے آیا ہے، یعنی یا تو پتھروں جیسے یا ان سے بھی زیادہ سخت.
کائنات کی دنیا سے سبق
اس کے بعد آیت ہمیں کائنات (World of Creation) کی طرف متوجہ کرتی ہے اور پتھروں کی تین خصوصیات کا ذکر کرتی ہے جو ان بے حس دلوں سے زیادہ بہتر ہیں:
1. `وإن من الحجارة لما يتفجر منه الأنهار` (اور پتھروں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جن سے نہریں پھوٹ بہتی ہیں).
2. `وإن منها لما يشقق فيخرج منه الماء` (اور کچھ ایسے بھی ہیں جو پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکلتا ہے).
3. `وإن منها لما يهبط من خشية الله` (اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں).
یہاں `خشية الله` (اللہ کے خوف) سے پتھروں کے گرنے کا ذکر دلوں کی سختی کو مزید نمایاں کرتا ہے. امام بغوی (al-Baghawi) اور امام رازی (al-Razi) جیسے علماء اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جمادات (بے جان اشیاء) میں بھی ایک خاص شعور اور خشیت (عاجزی) پیدا کر رکھی ہے، جو انسانوں کی عقل سے ماورا ہے. احادیث میں پتھروں کے نبی ﷺ کو سلام کرنے اور جبل احد کے حضور ﷺ سے محبت کا ذکر اس بات کی تائید کرتا ہے کہ اللہ جب چاہے اپنی مخلوق میں یہ صفات پیدا کر دیتا ہے. مفتی شفیع (Mufti Shafi) اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پتھر انسانوں اور جانوروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں، جبکہ بنی اسرائیل کے دل کسی کے لیے ہمدردی نہیں رکھتے.
امت مسلمہ کے لیے رہنمائی
اگرچہ یہ آیت بنیادی طور پر بنی اسرائیل کو مخاطب کرتی ہے، لیکن اس میں ہر انسان کے لیے، خاص طور پر امت مسلمہ (World of Revelation) کے لیے ایک اہم سبق ہے. امام ابن کثیر (Ibn Kathir) سورۃ الحدید کی آیت 16 کا حوالہ دیتے ہوئے مسلمانوں کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ بنی اسرائیل کی طرح نہ ہوں جن کے دلوں پر لمبی مدت گزرنے سے قساوت آ گئی تھی. سید قطب (Sayyid Qutb) اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ یہ آیت مسلمانوں کو یہودیوں کی چالاکیوں اور سازشوں سے خبردار کرتی ہے جو آج بھی امت مسلمہ کو قرآن اور دین سے دور کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں، تاکہ مسلمان اپنے حقیقی طاقت کے سرچشمے سے محروم رہیں.
آیت کا اختتام اس سخت وارننگ پر ہوتا ہے: `وما الله بغافل عما تعملون` (اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے). یہ اس بات کا یقین دلاتی ہے کہ اللہ تمام اعمال، دلوں کے حالات اور نیتوں سے واقف ہے. یہ ہر انسان کو اپنے دل کا جائزہ لینے اور اسے اللہ کے ذکر، اس کی آیات اور اس کے خوف سے نرم رکھنے کی ترغیب دیتا ہے، تاکہ وہ کہیں پتھروں جیسا سخت نہ ہو جائے اور اللہ کے غضب کا مستحق نہ ٹھہرے.
Source: Ibn Kathir, Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), al-Baghawi, Sayyid Qutb, al-Tabari, al-Razi
مآخذ: Ibn Kathir, Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), al-Baghawi (Maalim al-Tanzil), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), al-Tabari (Jami al-Bayan), al-Razi (Mafatih al-Ghayb)
وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے
یہ آیت Maani کے 13 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔
اس آیت پر غور کریں
Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔