سورۃ الناس، آیت 5
سُورَةُ النَّاسِ · مکی · آیت 5 / 6
ٱلَّذِى يُوَسْوِسُ فِى صُدُورِ ٱلنَّاسِ
اردو ترجمہ
جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے
اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔
معنی اور غور و فکر
الفاظ کا انتخاب
قرآن کی یہ آیت (سورہ ناس کی آیت نمبر 5) اس مخلوق کی وضاحت کرتی ہے جس سے پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے: "وہ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔" (الَّذِي يُوَسْوَسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ)
وسوسہ کیا ہے؟
جب ہم آیت کے الفاظ پر غور کرتے ہیں تو سب سے پہلے لفظ `يُوَسْوَسُ` (یوَسوِسُ) نمایاں ہوتا ہے۔ یہ لفظ "وسوسہ" کے مادے سے ہے، جس کا مطلب ہے ایک خفیہ اور باریک آواز، یا آہستہ سے کان میں کچھ ڈالنا۔ امام زمخشری (al-Zamakhshari) اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ `الوسوسة` (الوسوسۃ) ایک دھیمی، چھپی ہوئی آواز کو کہتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے زیورات کی چھن چھن کی آواز یا کسی سرگوشی کی آواز۔ گویا یہ وسوسہ کوئی کھلی پکار یا واضح حکم نہیں ہوتا، بلکہ ایک پوشیدہ اور آہستہ سی تحریک ہوتی ہے جو انسان کو برائی کی طرف مائل کرتی ہے۔ امام محمود صافی (Mahmud Safi) تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اس سورت میں سین (س) حرف کی تکرار خود وسوسے کی آواز کو کانوں تک پہنچاتی ہے، جس سے ایک ایسا ماحول بنتا ہے جو اس کی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔ ابن عاشور (Ibn Ashur) کے مطابق، یہ وسوسہ کبھی حقیقت میں (جیسے انسانوں کا آپس میں خفیہ مشورہ) ہوتا ہے اور کبھی مجازی طور پر (جیسے شیطان کا انسان کے دل میں خیالات ڈالنا)۔
کہاں سرگوشیاں ہوتی ہیں؟
اگلا اہم لفظی پہلو `فِي صُدُورِ النَّاسِ` (فی صُدُورِ النَّاسِ) یعنی "لوگوں کے سینوں میں" ہے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ "دلوں میں" کی بجائے "سینوں میں" کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ امام جلالین (al-Jalalayn) اس کی وضاحت کرتے ہیں کہ یہاں `صدور` (صُدُور) سے مراد `قلوب` (قُلُوب) یعنی دل ہی ہیں۔ تاہم، امام ابن عاشور (Ibn Ashur) اس میں مزید گہرائی بتاتے ہیں کہ `صدور` کا استعمال نفسیاتی احساسات (psychological feelings) اور انسان کے باطن کی گہرائیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے: "گناہ وہ ہے جو سینے میں کھٹکے اور دل میں تردد پیدا کرے"۔ یہ بتاتا ہے کہ `صدر` وہ جگہ ہے جہاں ارادے جنم لیتے ہیں، شک و شبہات اٹھتے ہیں اور بنیادی عقائد کی تشکیل ہوتی ہے۔ شیطان کا وسوسہ دل کے اسی بنیادی مرکز کو نشانہ بناتا ہے، جہاں سے انسان کے خیالات، احساسات اور فیصلے پھوٹتے ہیں۔ یہ وسوسہ انسان کی داخلی دنیا میں ایسے سرایت کر جاتا ہے کہ کئی بار اسے اپنے ہی خیالات محسوس ہونے لگتے ہیں۔
یہ سب کیوں اہم ہے؟
ان الفاظ کا یہ انتخاب ہمیں بتاتا ہے کہ دشمن (وسواس الخناس) کا حملہ کتنا زیرک اور چھپا ہوا ہے۔ یہ کوئی ظاہری دھمکی نہیں، بلکہ ایک اندرونی چال ہے۔ اس کی سرگوشیاں ہمارے سینوں کی گہرائی میں، ہمارے ضمیر میں اتر کر ہمارے فیصلوں اور سوچوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں کس قدر گہری اور مستقل بنیادوں پر اللہ کی پناہ کی ضرورت ہے، تاکہ ہم اس خفیہ دشمن کے وار سے بچ سکیں۔
Source: al-Jalalayn, al-Razi, al-Zamakhshari, Ibn Ashur, al-Jadwal fi I'rab al-Quran
مآخذ: al-Razi (Mafatih al-Ghayb), al-Jalalayn, al-Zamakhshari (al-Kashshaf), Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir), al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi)
قرآنی دنیا
سورة الناس کی یہ پانچویں آیت، ٱلَّذِى يُوَسْوِسُ فِى صُدُورِ ٱلنَّاسِ, ہمیں اس شر کی گہرائی تک لے جاتی ہے جس سے پناہ مانگی گئی ہے۔ یہ آیت اس ہستی کی وضاحت کرتی ہے جو لوگوں کے دلوں میں برائی اور شکوک و شبہات پیدا کرتی ہے. اللہ تعالیٰ یہاں اس خطرناک دشمن کا تعارف کروا رہا ہے جس کے شر سے ہمیں ہر وقت اللہ کی پناہ میں رہنا چاہیے۔ یہ بات خاص طور پر نبی اکرم ﷺ کو بتائی گئی اور آپ کے ذریعے پوری امت کو، تاکہ ہم اپنے اندرونی دشمن کو پہچان سکیں۔
وسوسے کی نوعیت
یہاں `یوسوس` کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے "آہستہ سے، چھپ کر، دھیمی آواز میں بات کرنا" جو دل میں اتر جائے۔ امام بغوی کے مطابق، یہ وہ پوشیدہ کلام ہے جس کا مفہوم دل تک پہنچتا ہے مگر سنائی نہیں دیتا۔ یہ شیطان کی چال ہے کہ وہ براہ راست بات نہیں کرتا بلکہ دل میں برے خیالات اور شکوک کو اس طرح ڈالتا ہے کہ جیسے وہ ہمارے اپنے ہی خیالات ہوں۔ مفتی شفیع رحمہ اللہ اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ وسوسہ اس طرح ہوتا ہے کہ انسان کے دل میں ایک وہمی اور شک پیدا کرنے والی بات ڈال دی جاتی ہے، جس میں کوئی آواز نہیں ہوتی۔
وسوسہ ڈالنے والا کون؟
آیت میں `الناس` (لوگوں) کا ذکر ہے، جس کے دلوں میں وسوسہ ڈالا جاتا ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ اس پر بحث کرتے ہیں کہ کیا `الناس` سے مراد صرف انسان ہیں یا جنات بھی؟ وہ فرماتے ہیں کہ اس لفظ میں جنات بھی شامل ہو سکتے ہیں، کیونکہ قرآن میں جنات کے لیے بھی "رجال من الجن" (جنات میں سے مرد) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وسوسہ ڈالنے والے شیاطین انسانوں میں سے بھی ہو سکتے ہیں اور جنات میں سے بھی۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلی آیت میں `الوسواس الخناس` کا ذکر کیا گیا ہے جو شیطان کو ایک "چھپ کر حملہ کرنے والا" بتاتی ہے۔ جب انسان اللہ کا ذکر کرتا ہے تو یہ شیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے، اور جب انسان غافل ہوتا ہے تو دوبارہ دل پر حملہ آور ہوتا ہے۔
انسان کے باطن کی جنگ
یہ آیت ہمیں ہمارے اندرونی عالم کی طرف متوجہ کرتی ہے، جہاں ہر وقت ایک جنگ جاری ہے۔ ایک طرف فرشتے نیکی کی ترغیب دیتے ہیں اور دوسری طرف شیطان وسوسے ڈالتا ہے۔ یہ وسوسے صرف برے کاموں کی طرف ہی نہیں اکساتے، بلکہ خیالات، جذبات، اور خواہشات کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ سید قطب رحمہ اللہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ رات کی تاریکی کی طرح، وسوسے بھی انسان کے شعور اور جذبات پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ یہ ہماری ذاتی دنیا کا ایک اہم حصہ ہے، ایک مسلسل روحانی جدوجہد جو ہم ہر روز اپنے دلوں میں جھیلتے ہیں۔ اس آیت پر تدبر ہمیں اس اندرونی کشمکش سے آگاہ کرتا ہے اور ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اس سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ ضروری ہے۔
مآخذ: al-Razi (Mafatih al-Ghayb), al-Baghawi (Maalim al-Tanzil), Ibn Kathir, Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi)
ذاتی آئینہ
یہ آیت، سورہ الناس کا حصہ ہے، ایک گہرے وسوسے (وسوسہ) کی وضاحت کرتی ہے جس سے ہمیں اللہ کی پناہ مانگنے کی تلقین کی گئی ہے۔ یہ وسوسہ ہمارے دلوں اور ذہنوں میں برے خیالات اور شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔ اگرچہ یہ ہدایت براہ راست نبی اکرم ﷺ کو دی گئی ہے، لیکن یہ درحقیقت تمام انسانوں کے لیے ایک عمومی رہنمائی ہے کہ وہ ہر قسم کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگیں۔
وسوسے کی نوعیت
آیت "ٱلَّذِى يُوَسْوِسُ فِى صُدُورِ ٱلنَّاسِ" (`alladhī yuwaswisu fī ṣudūri n-nās`) میں "یُوَسْوِسُ" کا مطلب ہے دھیمی آواز میں، چپکے سے یا خفیہ طور پر کوئی بری بات دل میں ڈالنا۔ یہ عمل عام طور پر دل کے اندر ہوتا ہے، جہاں خیالات، ارادے اور جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ "صُدُورِ ٱلنَّاسِ" (لوگوں کے سینوں) کا ذکر اس لیے ہے کہ دل ہی وسوسوں کا اصل ٹھکانہ ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ شیطان انسان کے دل پر جھکا رہتا ہے۔ جب انسان غفلت میں پڑتا ہے یا اللہ کو بھول جاتا ہے تو شیطان وسوسہ ڈالتا ہے، لیکن جب اللہ کو یاد کیا جاتا ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے (المنیر، وہبہ الزحیلی)۔ یہ ایک مسلسل اندرونی کشمکش ہے جو ہر انسان کو درپیش ہوتی ہے۔
وسوسے کے ذرائع
"تذکر القرآن" ہمیں بتاتا ہے کہ یہ وسوسہ ڈالنے والے صرف غیر مرئی جنات میں سے ہی نہیں ہوتے، بلکہ انسانوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو شیطان کی طرح بہکانے والے ہیں۔ یہ بظاہر آپ کے ہمدرد یا خیر خواہ بن کر سامنے آتے ہیں، لیکن ان کے الفاظ فریب سے بھرے ہوتے ہیں اور وہ انسان کو گمراہی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں۔ اس طرح وسوسہ نہ صرف ہماری اندرونی ذات (نفس) پر اثر انداز ہوتا ہے، بلکہ ہمارے تعلقات اور معاشرتی دائرے میں بھی شر کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ شر کا منبع اندرونی خواہشات، بیرونی شیطانی جنات، اور گمراہ کن انسانوں کی شکل میں ہو سکتا ہے۔
تحفظ اور بیداری
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے، جو ایک گہرا روحانی عمل ہے۔ "تذکر القرآن" کے مطابق، فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگنا ایک دو طرفہ کوشش ہے۔ ایک طرف اللہ کی خاص رحمت اور مدد حاصل کرنے کی کوشش ہے، اور دوسری طرف اپنے اندر کی بیداری (شعور بیدار) کو تیز کرنا ہے تاکہ حق اور باطل، خیر اور شر کے درمیان تمیز کی جا سکے۔ یہ آیت ہمیں روحانی بصیرت اور ذہنی ہوشیاری کی دعوت دیتی ہے تاکہ ہم ان پوشیدہ اور واضح وسوسوں کو پہچان سکیں اور ان کا مقابلہ کر سکیں۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ دین کی حفاظت کے لیے مستقل بیداری اور اللہ پر بھروسہ کتنا ضروری ہے۔
مآخذ: Tazkirul Quran, Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Israr Ahmad (Bayan ul Quran), Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)
روابط
عزیز قاری، آئیے سورہ الناس کی اس پانچویں آیت، `ٱلَّذِى يُوَسْوِسُ فِى صُدُورِ ٱلنَّاسِ` (جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے)، پر گہرائی سے غور کریں۔ یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا کلام ہے، جو ہمیں ایک ایسی حقیقت سے آگاہ کر رہا ہے جس کا تجربہ ہم سب اپنی زندگیوں میں کرتے ہیں۔
اس آیت کا سیدھا سادا مطلب یہ ہے کہ شیطان وہ ہے جو لوگوں کے سینوں میں برائی اور شک ڈالتا ہے۔ یہ وضاحت کرتا ہے کہ جس `وَسْوَاسُ الْخَنَّاسِ` (وسوسہ ڈالنے والا، پیچھے ہٹنے والا) سے ہم پچھلی آیت میں پناہ مانگتے ہیں، اس کی سرگرمی کا میدان کہاں ہے: یہ انسانی دل، ارادوں اور خیالات کا اندرونی حصہ ہے۔
اندرونی اور بیرونی خطرات
یہ آیت سورہ الفلق (Surah Al-Falaq) کے ساتھ ایک گہرا تعلق ظاہر کرتی ہے۔ مفسر ابو حیان کے مطابق، سورہ الفلق میں بیرونی خطرات کا ذکر ہے، جیسے جادوگروں کا شر اور حسد کرنے والے کی حسد، جو نسبتاً ظاہر ہوتے ہیں اور جن سے بچنا ممکن ہوتا ہے۔ جبکہ سورہ الناس میں جس `وَسْوَاسِ` (وسوسے) کا ذکر ہے، وہ ایک اندرونی خطرہ ہے، جو ہمارے اپنے سینوں کے اندر سے اٹھتا ہے، اور یہ زیادہ خطرناک ہے۔ اسی لیے، الشنقیطی (`al-Shinqiti`) کے مطابق، اس ایک خطرناک اندرونی دشمن سے پناہ مانگنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی تین عظیم صفات: `رَبِّ النَّاسِ` (لوگوں کا رب)، `مَلِكِ النَّاسِ` (لوگوں کا بادشاہ)، `إِلَهِ النَّاسِ` (لوگوں کا معبود) کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ سورہ الفلق میں صرف ایک صفت `رَبِّ الْفَلَقِ` (صبح کا رب) کافی سمجھی گئی۔ یہ تعلق ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمارے اندر کا دشمن باہر کے دشمن سے زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ ہمیں شک اور تردد میں ڈالتا ہے۔
شک اور یقین کا تعلق
الشنقیطی (`al-Shinqiti`) مزید وضاحت کرتے ہیں کہ اس سورت کا تعلق قرآن کے آغاز سے بھی ہے۔ سورہ الفاتحہ (`Al-Fatihah`) میں ہم اللہ سے `الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ` (سیدھا راستہ) مانگتے ہیں، اور اس کے فوراً بعد سورہ البقرہ (`Al-Baqarah`) کا آغاز `ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَ رَيْبَ فِيهِ` (یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں) سے ہوتا ہے۔ اس طرح، قرآن کا آغاز ہمیں یقین (`یقین`) کی بنیاد فراہم کرتا ہے، جبکہ سورہ الناس، جو قرآن کی آخری سورت ہے، ہمیں `الوسواس الخناس` (وسوسہ ڈالنے والا، پیچھے ہٹنے والا) کے شر سے خبردار کرتی ہے جو دلوں میں `تشكيك` (شک) اور `تردد` (ہچکچاہٹ) پیدا کرتا ہے۔ یہ ایک یاد دہانی ہے کہ زندگی بھر کی جدوجہد یقین کو برقرار رکھنے اور شک کو دور کرنے کی ہے۔
وسوسے کی تاریخی جڑیں
الشنقیطی (`al-Shinqiti`) یہ بھی بتاتے ہیں کہ `وسوسہ` (`waswasah`) کا یہ عمل انسانی تاریخ میں اتنا ہی پرانا ہے جتنا خود انسان۔ شیطان نے حضرت آدم اور حوا علیہما السلام کے ساتھ بھی جنت میں اسی وسوسے کے ذریعے انہیں بہکایا تھا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ دشمن نسل انسانی کا ازل سے پیچھا کر رہا ہے، اور ہمیں ہر وقت اس سے ہوشیار رہنا چاہیے۔
اس آیت میں `الناس` (لوگ) سے مراد انسان ہیں، جیسا کہ الشنقیطی (`al-Shinqiti`) نے ابن تیمیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے، اور اگلی آیت میں `مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ` (جنوں اور انسانوں میں سے) وسوسہ ڈالنے والوں کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس طرح، یہ آیت ہمیں اپنے اندرونی قلعے کو مضبوط رکھنے اور اللہ کی پناہ طلب کرنے کی اہمیت سکھاتی ہے۔
مآخذ: al-Biqa'i (Nazm al-Durar), al-Wasit (Tantawi), al-Shinqiti (Adwa al-Bayan), al-Sabuni (Safwat al-Tafasir)
حکمت
یہ آیت، سورہ الناس کی پانچویں آیت ہے، جو ہمیں اس چھپی ہوئی، پراسرار قوت سے آگاہ کرتی ہے جو انسان کے دلوں میں برے خیالات ڈالتی ہے۔ یہ اللہ کا کلام ہے، جو ہم سب کو ایک گہرا سبق دیتا ہے کہ ہمارے اندر اور باہر ایک مسلسل کشمکش جاری ہے۔
وسوسے کی نوعیت
قرآن کریم میں وسوسے کے لیے لفظ `یُوَسْوِسُ` (yuwaswisu) استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ کوئی اونچی آواز میں کہی گئی بات نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک ایسی پوشیدہ، سرگوشی ہوتی ہے جو ہمارے دلوں میں بری سوچوں اور شکوک کو جنم دیتی ہے۔ امام سعدی اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ برائی کو خوبصورت دکھاتی ہے اور نیکی سے دور کرتی ہے۔ مفتی شفیع نے اسے "خیالی گفتگو" قرار دیا ہے جو دل میں اترتی ہے لیکن کانوں سے سنائی نہیں دیتی۔
دلوں میں وسوسہ
آیت میں `فِي صُدُورِ ٱلنَّاسِ` (fi sudur-in-nas) کا ذکر ہے، یعنی لوگوں کے سینوں میں۔ مفسرین بتاتے ہیں کہ سینہ دلوں کا مقام ہے، اور دل ہی ہمارے ارادوں، خیالات اور نیتوں کا مرکز ہے۔ مفتی شفیع ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہیں کہ شیطان انسان کے دل پر اپنا منہ جمائے رہتا ہے۔ جب انسان غافل ہوتا ہے تو وہ وسوسے ڈالتا ہے، اور جب اللہ کا ذکر کرتا ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے، اسی لیے اسے `ٱلْخَنَّاسِ` (al-Khannas) کہا جاتا ہے یعنی بار بار پیچھے ہٹنے والا۔
علامہ وہبہ الزحیلی اپنی تفسیر المنیر میں بتاتے ہیں کہ یہ وسوسہ صرف جنات کی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ انسانوں کی طرف سے بھی آ سکتا ہے۔ کچھ انسان بظاہر خیر خواہ بن کر ایسی باتیں ہمارے دلوں میں ڈالتے ہیں جو شیطانی وسوسوں کی راہ ہموار کرتی ہیں۔
عمومی سبق اور عملی اقدام
یہ آیت ہمیں ایک بہت اہم اور گہرا سبق دیتی ہے کہ ہمارے ایمان کی حفاظت کے لیے ہمیں ہر لمحہ بیدار رہنا ہے۔ زندگی میں ایسے بہت سے مواقع آتے ہیں جب ہمیں خود پر شک ہوتا ہے، منفی سوچیں ہمیں گناہ کی طرف راغب کرتی ہیں، یا معاشرتی دباؤ ہمیں غلط راستے پر چلنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ سب وسوسے کی ہی مختلف شکلیں ہیں۔
اس وسوسے کا مقابلہ کرنے کا عملی طریقہ اللہ کی پناہ طلب کرنا اور اسے یاد کرنا ہے۔ مفتی شفیع ایک حدیث نقل کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص "تعس الشیطان" (شیطان تباہ ہو) کہتا ہے تو شیطان تکبر کرتا ہے کہ میں نے اپنی طاقت سے اسے گرایا، لیکن جب وہ `بِسْمِ ٱللَّهِ` (Bismillah) کہتا ہے تو شیطان چھوٹا ہو کر مکھی کی طرح ہو جاتا ہے۔ لہٰذا، اللہ کا ذکر کرنا اور اس کی پناہ طلب کرنا (استعاذہ) ہمارے دلوں کو شیطانی وسوسوں سے محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ المنیر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارے دین (ایمان) کی سلامتی دنیاوی سلامتی سے زیادہ اہم ہے۔
مآخذ: al-Saadi (Taysir al-Karim), Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)
وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے
یہ آیت Maani کے 6 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔
اس آیت پر غور کریں
Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔