سورۃ الناس، آیت 6

سُورَةُ النَّاسِ · مکی · آیت 6 / 6

مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ

اردو ترجمہ

وہ جنّات میں سے (ہو) یا انسانوں میں سے

اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔

معنی اور غور و فکر

الفاظ کا انتخاب

سورة الناس کی یہ آخری آیت، `مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ`، پچھلی آیت میں بیان کیے گئے "وسوسہ ڈالنے والے، چھپ کر وار کرنے والے" کی حقیقت کو کھول کر بیان کرتی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے بندوں کو سکھا رہے ہیں کہ وہ کس چیز سے پناہ مانگیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ خود مخاطب ہیں اور ہمیں بتا رہے ہیں کہ وہ شر کہاں سے آ سکتا ہے جس سے ہم ربِ کائنات کی پناہ طلب کر رہے ہیں۔

وسوسے کے دو ماخذ

اس آیت کے الفاظ `مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ`، یعنی "جنوں اور انسانوں میں سے" ایک واضح وضاحت (بیان) ہیں کہ وسوسہ ڈالنے والا کون ہو سکتا ہے۔ یہ صرف ایک قسم کی مخلوق نہیں، بلکہ اس کے دو ماخذ ہیں۔ ایک وسوسہ جنات کی طرف سے آتا ہے، اور دوسرا انسانوں کی طرف سے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے سورہ انعام میں کہا گیا: `شَيَاطِينَ الإِنسِ وَالْجِنِّ` (انعام 6:112) یعنی انسانوں اور جنات میں سے شیاطین۔

انسانوں کا وسوسہ زیادہ خطرناک کیوں؟

ابن عاشور (ابن عاشور) جیسے مفسرین اس بات کی گہرائی میں اترتے ہیں کہ یہ وضاحت کیوں ضروری تھی۔ عموماً ہم شیطان کے وسوسوں کا ذکر سنتے ہی جنات کی طرف سے آنے والے وسوسوں کو ذہن میں لاتے ہیں۔ لیکن انسانوں کے وسوسے، جو شاید ہمیں بظاہر اتنے بڑے خطرے محسوس نہ ہوں، وہ درحقیقت زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہے کیونکہ انسانی شیطان، جو ہمارے ارد گرد موجود ہو سکتا ہے، وہ ہماری قریب کی صحبتوں میں گھل مل جاتا ہے، اور اس کے نقصان پہنچانے کے طریقے زیادہ قریب اور مؤثر ہوتے ہیں۔ وہ ہمیں خیر خواہ بن کر گمراہ کر سکتا ہے، اور ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ یہ ایک شیطانی وسوسہ ہے۔

الفاظ کی ترتیب میں حکمت

اس آیت میں `الجِنَّةِ` (جنات) کا ذکر `النَّاسِ` (انسانوں) سے پہلے کیا گیا ہے۔ ابن عاشور کے مطابق، اس کی وجہ یہ ہے کہ جنات وسوسوں کی اصل (اصل الوسواس) ہیں، یعنی شیطانی وسوسوں کا بنیادی ماخذ جنات ہیں۔ جبکہ انسان اس شیطانی تحریک کے تابع ہوتے ہیں۔ یہ ترتیب اس بات پر زور دیتی ہے کہ بنیادی جڑ جنات میں ہے، حالانکہ انسانوں کے وسوسے بھی کم نہیں ہوتے۔

"س" حرف کا آہنگ

الجدول فی اعراب القرآن کے مصنف محمود صافی نے اس سورہ میں "س" کے حرف کی تکرار کی طرف توجہ دلائی ہے۔ سورہ الناس میں ہر آیت میں اور کئی کلمات میں "س" کی آواز بار بار آتی ہے (مثلاً الناس، الوسواس، الخناس، يوسوس، صدور الناس، من الجنة والناس)۔ یہ تکرار ایک سرگوشی یا وسوسے کی آواز جیسا تاثر پیدا کرتی ہے، جو وسوسے کے موضوع کے ساتھ ایک خوبصورت صوتی ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔ یہ ہمیں قرآن کے کلامی اعجاز (بلاغت) کا ایک شاندار پہلو دکھاتا ہے کہ الفاظ کا انتخاب اور ان کا آہنگ کس طرح معنی کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

پس، جب ہم اس آیت پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں جن اور انسان دونوں کے وسوسوں سے پناہ مانگنی چاہیے۔ یہ ہماری حفاظت کے لیے ایک جامع دعا ہے، اور یہ ہمیں ہوشیار رہنے کی دعوت دیتی ہے کہ شر کہاں کہاں سے آ سکتا ہے۔

Source: al-Razi, al-Jalalayn, al-Zamakhshari, Ibn Ashur, al-Jadwal fi I'rab al-Quran.

مآخذ: al-Razi (Mafatih al-Ghayb), al-Jalalayn, al-Zamakhshari (al-Kashshaf), Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir), al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi)

قرآنی دنیا

سورة الناس، قرآن کی آخری سورت، ہمیں اس ایک اہم پناہ کا راستہ دکھاتی ہے جو انسان کو اللہ کی طرف سے ملتی ہے۔ یہ سورت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم ہر قسم کے وسوسوں اور شر سے اللہ کی پناہ مانگیں۔ زیرِ نظر آیت، `مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ` (جِنّوں اور اِنسانوں میں سے)، ان وسوسے ڈالنے والوں کی وضاحت کرتی ہے۔

وسوسے کے سرچشمے

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ جو ہستی ہمارے دلوں میں وسوسے ڈالتی ہے، وہ شیطان جنات میں سے بھی ہو سکتی ہے اور انسانوں میں سے بھی۔ امام فخر الدین رازیؒ فرماتے ہیں کہ وسوسہ ڈالنے والا، جسے `الوسواس الخناس` (وسوسہ ڈالنے والا، جو پیچھے ہٹ جاتا ہے) کہا گیا ہے، جنات میں سے بھی ہو سکتا ہے اور انسانوں میں سے بھی، جیسا کہ سورہ انعام میں بھی `شياطين الإنس والجن` (انسانوں اور جنات کے شیطان) کا ذکر ہے۔

انسانی شیطان کی حقیقت

آپ ﷺ نے ابو ذرؓ کے ایک سوال کے جواب میں فرمایا تھا کہ "کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "ہاں۔" یہ حدیث اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ صرف جنات ہی نہیں بلکہ کچھ انسان بھی شیطانی خصلت رکھتے ہوئے دوسروں کے دلوں میں برے خیالات اور وسوسے ڈالتے ہیں۔ یہ انسان بظاہر ہمدرد اور خیر خواہ لگ سکتے ہیں، لیکن ان کی باتوں کا مقصد گمراہی ہوتا ہے۔ اگر ان کی بات رد کی جائے تو وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں، اور اگر قبول کر لی جائے تو وہ مزید گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مفتی شفیعؒ فرماتے ہیں کہ انسانی شیطان بالواسطہ اور غیر محسوس طریقے سے شک و شبہات پیدا کرتے ہیں۔ کبھی تو یہ اپنے نفسِ امارہ (انسان کا اپنا نفس جو برائی کی طرف اکساتا ہے) کے وسوسے بھی ہوتے ہیں، جس سے پناہ مانگنے کی آپ ﷺ نے دعا سکھائی: `اللَّھُمَّ اَعُوذُ بِکَ مِن شَرِّ نَفسِی وَ شَرِّ الشَّیطَانِ وَ شِرکِہٖ` (اے اللہ! میں تجھ سے اپنے نفس کے شر سے، شیطان کے شر سے اور اس کے شرک سے پناہ مانگتا ہوں)۔

قرآنی دنیاؤں کا ربط

جب ہم اس آیت پر غور کرتے ہیں تو یہ ہمیں قرآن کے "دنیائے وحی" اور "دنیائے اقوامِ ماضی" سے جوڑتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی زندگی اور آپ ﷺ کے صحابہ کرامؓ کے تجربات ہمیں دکھاتے ہیں کہ یہ وسوسے کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ "تم میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک شیطان (قَرِین `qareen`) مقرر کیا گیا ہے۔" صحابہ کرامؓ کے پوچھنے پر آپ ﷺ نے فرمایا: "ہاں، میرے ساتھ بھی، لیکن اللہ نے مجھے اس کے خلاف مدد دی، اور وہ فرمانبردار ہو گیا، اب وہ مجھے صرف نیکی کا حکم دیتا ہے۔" ایک موقع پر آپ ﷺ نے اپنی زوجہ حضرت صفیہؓ کے ساتھ جاتے ہوئے دو انصار کو دیکھ کر فوراً وضاحت فرمائی کہ یہ میری بیوی صفیہ ہیں، اور فرمایا کہ "شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔" آپ ﷺ کو یہ اندیشہ تھا کہ کہیں ان کے دلوں میں کوئی برا وسوسہ نہ آجائے۔ یہ واقعات ہمیں سکھاتے ہیں کہ شیطانی وسوسے (چاہے جنات کے ہوں یا انسانوں کے) انسانی ذہنوں اور تعلقات پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں، اور ان سے بچنے کے لیے واضح رہنمائی اور اللہ کی پناہ کتنی ضروری ہے۔

بچاؤ کا راستہ

شیطانی وسوسے، خواہ جنوں کی طرف سے ہوں یا انسانوں کی طرف سے، انتہائی خطرناک ہیں۔ انسانوں سے تو کسی حد تک صبر اور حکمت سے نمٹا جا سکتا ہے، لیکن شیطانِ جن اور شیطانِ انس کی خفیہ چالوں سے بچنے کا واحد راستہ اللہ کی پناہ ہے۔ یہ سورت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے دلوں اور ذہنوں کو ان پوشیدہ دشمنوں کے حملوں سے بچانے کے لیے ہر لمحہ اللہ کے دامنِ رحمت سے وابستہ رہیں۔

مآخذ: al-Razi (Mafatih al-Ghayb), al-Baghawi (Maalim al-Tanzil), Ibn Kathir, Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi)

ذاتی آئینہ

سورۃ الناس کی چھٹی آیت، مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ، ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہمارے دلوں میں وسوسے ڈالنے والے شیطان صرف جنات میں سے ہی نہیں ہوتے، بلکہ انسانوں میں سے بھی ہوتے ہیں۔ یہ آیت پچھلی آیت (الَّذِي يُوَسْوَسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ) کی وضاحت کرتی ہے، کہ یہ وسوسہ ڈالنے والا کون ہو سکتا ہے. اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے رب، مالک، اور معبود کی پناہ میں آنے کا حکم دیتا ہے تاکہ ہم ہر قسم کے شر سے محفوظ رہیں۔

وسوسے کا اصلی چہرہ

روزمرہ کی زندگی میں ہم اکثر شیطانی وسوسوں کو صرف غیبی قوتوں سے منسوب کرتے ہیں، لیکن یہ آیت اس تصور کو وسعت دیتی ہے۔ الطبری اور وہبہ الزحیلی جیسے مفسرین کے مطابق، "وسواس" یا تو وہ ذات ہے جو وسوسہ ڈالتی ہے (یعنی شیطان) یا خود وسوسہ (یعنی بری سوچ). جو بات یہاں اہم ہے وہ یہ ہے کہ یہ وسوسہ ڈالنے والے (الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ) صرف جنات میں سے ہی نہیں ہوتے بلکہ انسانوں میں بھی موجود ہوتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے ایک سوال کے جواب میں اس کی تصدیق فرمائی: "کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں" (تذکر القرآن).

اندرونی اور بیرونی وسوسے

یہ آیت ہمارے لیے ایک آئینے کا کام کرتی ہے۔ سید قطب فرماتے ہیں کہ وسوسے انسانی شعور کو متاثر کرتے ہیں۔ ڈاکٹر اسرار احمد مزید وضاحت کرتے ہیں کہ شیطان انسان کے اندر خون کی طرح گردش کرتا ہے اور اس کے جذبات اور شہوات کو بھڑکاتا ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک یہ ہے کہ جب انسان کا دل اللہ کے ذکر سے خالی ہوتا ہے تو اس کا اپنا نفس بھی شیطان کا نمائندہ بن سکتا ہے (نفس امارہ).

`مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ` کا مطلب ہے کہ ہمیں نہ صرف غیر مرئی جناتی شیطانوں سے پناہ مانگنی چاہیے، بلکہ ان انسانی شیطانوں سے بھی جو ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔ یہ وہ لوگ ہو سکتے ہیں جو بظاہر مشفق یا خیر خواہ نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت میں اپنی پر فریب باتوں اور چالاکی سے ہمیں گمراہی کی راہ پر ڈالتے ہیں۔ وہبہ الزحیلی کے مطابق، ایک انسانی شیطان خود کو مخلص مشیر کے طور پر پیش کر سکتا ہے، لیکن اس کے الفاظ دل میں شیطانی وسوسے کی بنیاد بن جاتے ہیں۔

آپ کے لیے اس میں سبق

یہ آیت ہمیں داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر ہوشیار رہنے کی دعوت دیتی ہے۔
* اپنی ذات کے لیے: ہمیں اپنے دل کو اللہ کے ذکر سے بھرنا چاہیے تاکہ شیطانی وسوسوں کے لیے اس میں جگہ نہ ہو۔ ڈاکٹر اسرار احمد کا یہ نقطہ اہم ہے کہ شیطان اسی دل پر پھونکیں مارتا ہے جو اللہ کی یاد سے خالی ہوتا ہے۔
* تعلقات کے لیے: یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے تعلقات میں بھی چوکنا رہنا چاہیے۔ کون سے لوگ میری زندگی میں ایسے ہیں جو مجھے اللہ سے دور کرنے، بری باتوں پر ابھارنے یا غلط راستے پر لے جانے کی کوشش کرتے ہیں؟ ہمیں ایسی باتوں کو پہچاننے کے لیے اپنے شعور کو بیدار (جاگتا ہوا شعور) رکھنا چاہیے، جیسا کہ تذکر القرآن میں ذکر ہے۔
* معاشرے کے لیے: بحیثیت امت، یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ معاشرے میں گمراہی پھیلانے والے افراد سے بھی پناہ مانگنی چاہیے۔ ایسے لوگ جو جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرتے ہیں، فتنہ پھیلاتے ہیں، یا اخلاقی برائیوں کو فروغ دیتے ہیں، وہ بھی `شياطين الإنس` کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔

اس آیت کی گہری تدبر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ ہی تمام شرور سے بہترین پناہ گاہ ہے، چاہے وہ جنات کی طرف سے ہوں یا انسانوں کی طرف سے۔ اس لیے ہمیں اللہ کی پناہ مانگنے میں مسلسل رہنا چاہیے تاکہ ہمارا دل اور ہمارا معاشرہ ہر قسم کے وسوسوں اور گمراہیوں سے پاک رہے۔

مآخذ: Tazkirul Quran, Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Israr Ahmad (Bayan ul Quran), Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)

روابط

`مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ` (جِنوں اور انسانوں میں سے)

دل کی گہرائیوں سے، پوری عاجزی اور احترام کے ساتھ، آیئے قرآن کے آخری کلمات میں سے اس ایک آیت پر غور کریں۔ یہ اللہ کا کلام ہے، جو ہماری رہنمائی اور ہمارے دلوں کو بدلنے کے لیے نازل ہوا ہے۔

وسوسے کے ذرائع

سورہ الناس (114) قرآن پاک کے اختتام پر ایک گہری دعا کے ساتھ نازل ہوئی ہے، جہاں ہمیں ہر قسم کے شر سے اللہ کی پناہ مانگنا سکھایا گیا ہے۔ اس کی چھٹی اور آخری آیت `مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ` ہمارے لیے یہ واضح کرتی ہے کہ وہ کون ہیں جو ہمارے سینوں میں وسوسے ڈالتے ہیں، یعنی `الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ` (چھپ چھپ کر وسوسے ڈالنے والا)۔

الواسط (طنطاوی) اور الصابونی جیسے مفسرین بتاتے ہیں کہ یہ آیت وسوسے کے دو ممکنہ ذرائع کو بیان کرتی ہے: ایک `الْجِنَّةِ` (جنات) جو پوشیدہ ہوتے ہیں اور جنہیں ہم دیکھ نہیں سکتے، اور دوسرے `وَالنَّاسِ` (انسان) جو ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔ جنات کا ذکر پہلے اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ وہ وسوسے کی اصل جڑ اور نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں، جیسے کہ قرآن سورہ اعراف میں فرماتا ہے: `إِنَّهُ يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ` (یقیناً وہ اور اس کا قبیلہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے)۔

یہ آیت ہمیں ایک بہت اہم حقیقت سے آگاہ کرتی ہے: شر صرف جنات کی صورت میں نہیں آتا بلکہ بسا اوقات ہمارے اپنے ہم جنس، انسانوں کے ذریعے بھی آتا ہے۔ سورہ انعام میں بھی اسی بات کو یوں بیان کیا گیا ہے: `وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ` (اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے انسانی اور جناتی شیطانوں کو دشمن بنایا ہے)۔ یہ تعلق ہمیں بتاتا ہے کہ یہ وسوسہ ڈالنے والے، خواہ جن ہوں یا انسان، ایک ہی مقصد کے ساتھ آتے ہیں: ہمیں سیدھے راستے سے بھٹکانا۔ الصابونی کے مطابق، شیطانِ جن اللہ کا نام سن کر `خناس` (پیچھے ہٹ جاتا) ہے، لیکن شیطانِ انس ہٹانے پر بھی نہیں ہٹتا، جو اس کے زیادہ خطرناک ہونے کی نشانی ہے۔

قرآن کا خوبصورت ربط

البیقاعی، جو قرآن میں سورتوں کے درمیان `مناسبت` (آیات اور سورتوں کے باہمی تعلق) پر خاص مہارت رکھتے ہیں، اس آیت کا ایک گہرا تعلق قرآن کے آغاز، یعنی سورہ فاتحہ سے جوڑتے ہیں۔ ان کے مطابق، قرآن کا اختتام اس کے آغاز سے ملتا ہے، جیسے ایک دائرہ مکمل ہوتا ہے۔

سورہ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ کے تین ناموں کا ذکر ہے: `اللہ`، `الرب` (پروردگار)، اور `الملک` (بادشاہ)، اور اس میں `الرحمن` اور `الرحیم` بھی ہیں جو اللہ کی ربوبیت کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اسی طرح سورہ الناس میں بھی اللہ کی تین صفات بیان ہوئی ہیں: `رَبِّ النَّاسِ`، `مَلِكِ النَّاسِ`، اور `إِلَهِ النَّاسِ`۔ `الٰہ` کا لفظ `اللہ` کے اسمِ جلالہ کی اصل ہے۔ یہ خوبصورت ربط ظاہر کرتا ہے کہ جس اللہ کی حمد و ثناء سے قرآن کا آغاز ہوتا ہے، اسی کی پناہ مانگ کر اس کا اختتام ہوتا ہے۔

البیقاعی اس ربط کو ایک بلند ترین `مراقبہ` (اللہ کی موجودگی کا شعور) کی شکل میں دیکھتے ہیں، جہاں بندہ اپنے دل کو دنیاوی آلائشوں سے پاک کرکے صرف اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ جس طرح سورہ فاتحہ میں ہم اللہ کی مدد طلب کر کے ہدایت کا سفر شروع کرتے ہیں، اسی طرح سورہ الناس میں ہم تمام ظاہری اور باطنی شرور سے اسی رب العالمین کی پناہ مانگ کر اس سفر کو مکمل کرتے ہیں۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر لمحے اللہ پر بھروسہ اور توکل ہی تمام خطرات سے بچنے کا واحد ذریعہ ہے۔ یہ آخری آیت ہمیں اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ اللہ کی پناہ ہی حقیقی پناہ ہے۔

مآخذ: al-Wasit (Tantawi), al-Biqa'i (Nazm al-Durar), al-Sabuni (Safwat al-Tafasir)

حکمت

آیت کا سیاق و سباق

سورہ ناس کی چھٹی آیت "مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ" (جنوں اور انسانوں میں سے) اپنی پچھلی آیات کو مزید واضح کرتی ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم سب کو) حکم دیتے ہیں کہ وہ وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے پناہ مانگیں۔ یہ آیت خاص طور پر یہ بیان کرتی ہے کہ وسوسہ ڈالنے والا، جسے `وسواس الخناس` (بار بار وسوسہ ڈالنے والا جو اللہ کے ذکر سے پیچھے ہٹ جاتا ہے) کہا گیا ہے، جنات میں سے بھی ہو سکتا ہے اور انسانوں میں سے بھی۔ اس طرح یہ ہمیں شر کے دو اہم اور پوشیدہ ذرائع کی نشاندہی کرتی ہے جن سے ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے۔

وسوسے کے ذرائع اور اس کا گہرا سبق

یہ آیت ہمیں ایک بہت اہم اور گہرا سبق سکھاتی ہے: کہ برائی اور گمراہی کی ترغیب صرف پوشیدہ جناتی شیاطین کی طرف سے نہیں آتی۔ المعارف القرآن کے مطابق، یہ وسوسہ (یعنی دلوں میں خفیہ برے خیالات یا شکوک و شبہات ڈالنا) انسانوں کی طرف سے بھی آ سکتا ہے۔ انسانی شیطان وہ برے لوگ ہوتے ہیں جو بظاہر خیر خواہ بن کر، اپنی باتوں اور مشوروں سے دوسروں کے دلوں میں شک اور فتنہ پیدا کرتے ہیں۔ الشیخ عزالدین ابن عبدالسلام کی رائے کے مطابق، "انسانی وسوسہ" سے مراد انسان کے اپنے نفس (اندرونی ذات اور اس کی خواہشات) کی طرف سے آنے والے برے خیالات بھی ہیں۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ شر کثیر الجہت ہے، یہ اندر سے بھی اُبھر سکتا ہے اور باہر سے بھی آ سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہماری حفاظت کے لیے ہمیں ان تمام ذرائع سے باخبر رہنا چاہیے جو ہمارے دلوں کو اللہ کی یاد سے غافل کر سکتے ہیں اور ہمیں برائی کی طرف مائل کر سکتے ہیں۔

عملی دفاع اور تحفظ

اس آیت سے ملنے والا سب سے بڑا سبق اللہ تعالیٰ پر مکمل اعتماد اور اس کی پناہ میں آنا ہے۔ مفتی شفیع رحمہ اللہ نے وضاحت کی ہے کہ جہاں سورہ فلق ظاہری، جسمانی اور دنیاوی آفات سے پناہ سکھاتی ہے، وہیں سورہ ناس دین کی سلامتی کو ہدف بناتی ہے۔ دین پر آنے والی آفت دنیا کی کسی بھی بڑی آفت سے زیادہ سنگین ہے۔ انسانی دشمنوں سے تو حکمت، نرمی، صبر اور عفو و درگزر سے نمٹنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے تاکہ دشمن دوست بن جائیں، لیکن شیطانی دشمن (خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے) کی بنیادی فطرت ہی شر والی ہوتی ہے۔ اس سے نمٹنے کا واحد مؤثر طریقہ اللہ کی پناہ طلب کرنا (`تعوذ`) اور اس کا ذکر (`ذکراللہ`) ہے۔ جب بھی کوئی برا خیال یا وسوسہ دل میں آئے، فوراً اللہ کو یاد کرنے سے شیطان کمزور پڑ جاتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ اس لیے `معوذتین` (سورہ فلق اور ناس) کی کثرت سے تلاوت ہماری روحانی ڈھال ہے۔ ہمیں اپنے نفس کے شر سے بھی پناہ مانگنی چاہیے، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے: "اللَّھُمَّ اَعُوذُ بِکَ مِن شَرِّ نَفسِی وَ شَرِّ الشَّیطَانِ وَ شِرکِہٖ" (اے اللہ! میں تیرے ذریعے اپنے نفس کے شر، شیطان کے شر اور شرک کے شر سے پناہ مانگتا ہوں)۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہماری ہر قسم کی حفاظت کا حقیقی مرکز صرف اور صرف اللہ ہی ہے۔

مآخذ: al-Saadi (Taysir al-Karim), Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)

وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے

یہ آیت Maani کے 4 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔

قرآن کے تمام موضوعات دیکھیں

اس آیت پر غور کریں

Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔

Maani کے ساتھ اس آیت پر غور کریں