سورۃ الناس، آیت 4
سُورَةُ النَّاسِ · مکی · آیت 4 / 6
مِن شَرِّ ٱلْوَسْوَاسِ ٱلْخَنَّاسِ
اردو ترجمہ
(شیطان) وسوسہ انداز کی برائی سے جو (خدا کا نام سن کر) پیچھے ہٹ جاتا ہے
اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔
معنی اور غور و فکر
الفاظ کا انتخاب
السلام علیکم، Maani AI کے ساتھ سورہ الناس کی آیت نمبر 4، "مِن شَرِّ ٱلْوَسْوَاسِ ٱلْخَنَّاسِ" (من شر الوسواس الخناس) پر غور کرتے ہیں۔ اللہ کے کلام کے الفاظ کی گہرائی میں اترتے ہوئے، آئیے دیکھیں کہ یہ آیت ہمیں کیا سکھاتی ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں ایک خاص قسم کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دے رہے ہیں۔ یہ شر "الوسواس الخناس" (al-Waswas al-Khannas) کا ہے۔ اس کی صحیح نوعیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں ان دو الفاظ پر گہرا غور کرنا ہوگا۔
وسوسے کا مفہوم
پہلا لفظ "الوسواس" (al-Waswas) ہے۔ اس کا سادہ مطلب ہے "سرگوشی" یا "برے خیالات کا دل میں ڈالنا"۔ امام رازی، امام جلالین اور امام زمخشری بتاتے ہیں کہ یہاں یہ لفظ خود شیطان کے لیے استعمال ہوا ہے، گویا وہ بذات خود وسوسہ ہے کیونکہ یہ اس کا مستقل کام اور پیشہ ہے۔ آپ ایسے سمجھیں کہ جیسے کوئی کہے "یہ شخص شر ہے"، تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ شر کا پیکر ہے۔ اسی طرح یہاں شیطان کے لیے "الوسواس" کہا گیا ہے کیونکہ وسوسہ ڈالنا اس کی بنیادی پہچان اور عادت ہے۔ یہ ایسی خفیہ، دھیمی آواز یا خیال ہے جو انسان کو برائی پر اکساتا ہے۔ علامہ ابن عاشور کے مطابق، "الوسواس" ایک اسم فاعل ہے جو سرگوشی کرنے والے کو ظاہر کرتا ہے، یعنی وہ جو یہ کام کرتا ہے۔
خناس کی صفت
دوسرا لفظ "الخناس" (al-Khannas) ہے۔ یہ صفت مبالغہ کے ساتھ استعمال ہوئی ہے، جس کا مطلب ہے "بہت زیادہ چھپنے والا، بار بار پیچھے ہٹنے والا"۔ امام رازی، امام جلالین اور امام زمخشری نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ شیطان اس وقت چھپ جاتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے جب انسان اللہ کو یاد کرتا ہے، اور جب انسان غفلت کا شکار ہوتا ہے تو وہ پھر سے وسوسہ ڈالنا شروع کر دیتا ہے۔ علامہ ابن عاشور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ "خناس" ہونے کا مطلب یہ بھی ہے کہ شیطان انتہائی چالاک اور پوشیدہ طریقے سے انسان کے دل و دماغ میں داخل ہوتا ہے، اور انسان کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ یہ مکر و فریب کرنے والوں کی خاصیت ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کی غفلت کا انتظار کرتے ہیں اور پھر خفیہ تدابیر سے حملہ کرتے ہیں۔
الفاظ کا آہنگ
قابل غور بات یہ ہے کہ پوری سورہ الناس میں حرف "س" (سین) کا بار بار آنا بھی الفاظ کے حسن کو بڑھاتا ہے۔ امام جدول فی اعراب القرآن (محمود صافی) نے اس پر روشنی ڈالی ہے کہ اس سورہ کی تلاوت کرتے ہوئے ہمیں ایک ایسا آہنگ سنائی دیتا ہے جو وسوسوں کی سرگوشی کو ظاہر کرتا ہے، یوں معنی اور آواز ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔
یہ آپ کے لیے کیوں اہم ہے؟
یہ الفاظ ہمیں ایک ایسے دشمن کی پہچان کراتے ہیں جو نظر نہیں آتا، چپکے سے آتا ہے، اور ہماری غفلت کا فائدہ اٹھا کر ہمارے دل میں برے خیالات اور شبہات پیدا کرتا ہے۔ "الوسواس الخناس" کی یہ جامع صفت ہمیں بتاتی ہے کہ شیطان ایک مسلسل سرگوشی کرنے والا ہے جو اللہ کی یاد سے بھاگتا ہے اور غفلت میں موقع پاتے ہی واپس آ جاتا ہے۔ لہٰذا، اس سے پناہ مانگنے کے لیے ہمیں ہر لمحہ اللہ کی یاد میں رہنا چاہیے تاکہ یہ "خناس" (چھپنے والا) ہماری زندگی سے ہمیشہ دور رہے۔
مآخذ: al-Razi (Mafatih al-Ghayb), al-Jalalayn, al-Zamakhshari (al-Kashshaf), Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir), al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi)
ذاتی آئینہ
یہ آیت، سورہ الناس کی ایک کڑی ہے، جس میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں سکھا رہے ہیں کہ شیطان کی پُرفریب سرگوشیوں سے کس طرح پناہ مانگنی ہے۔ یہ صرف ایک دعا نہیں، بلکہ ایک گہرا سبق ہے جو ہمارے اندرونی، سماجی اور اخلاقی دائروں میں جھانکتا ہے۔ آیے، اس آیت پر دل کی گہرائیوں سے غور کریں۔
وسوسہ اور خناس کا مطلب
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ہمیں "وسوسہ ڈالنے والے، پیچھے ہٹ جانے والے" (`Min sharri al-waswasi al-khannas`) کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دے رہے ہیں۔ `الْوَسْوَاسِ` اس پُرفریب سرگوشی کو کہتے ہیں جو ہمارے دل میں برے خیالات یا شک پیدا کرتی ہے، اور `الْخَنَّاسِ` اس کی وہ صفت ہے کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے اور چھپ جاتا ہے۔ امام ابن الجوزی نے بیان کیا ہے کہ شیطان ابن آدم کے دل پر بیٹھا رہتا ہے، جب انسان غفلت میں پڑتا ہے تو وہ وسوسہ ڈالتا ہے اور جب اللہ کو یاد کرتا ہے تو `خَنَس` یعنی پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ یہ شیطان کی مستقل کوشش ہے، جیسا کہ ڈاکٹر اسرار احمد نے فرمایا، وہ کبھی حملہ کرتا ہے، کبھی دفاعی پسپائی اختیار کرتا ہے اور پھر پلٹ کر حملہ آور ہوتا ہے۔
دل کا میدانِ جنگ
یہ آیت ہمارے اندرونی دائرے پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ ہمارا دل ہی وہ میدانِ جنگ ہے جہاں شیطان مسلسل اپنی سرگوشیوں کے ذریعے حملہ آور ہوتا ہے۔ وہ ہمارے ایمان، ارادوں اور حتیٰ کہ ہمارے تعلقات میں بھی شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سید قطب `Fi Zilal al-Quran` میں اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ رات کے وقت خیالات اور وسوسے انسان پر حملہ آور ہوتے ہیں، دکھ اور درد یاد آتے ہیں، اور شیطانی قوتیں کھل جاتی ہیں۔ یہ ہماری غفلت ہی ہے جو اسے موقع دیتی ہے۔ اس لیے اس `الْوَسْوَاسِ` کے شر سے بچنے کے لیے ہمارے دل کی بیداری اور اللہ کا ذکر بہت اہم ہے۔ جب ہم اللہ کو یاد کرتے ہیں تو وہ `الْخَنَّاسِ` (چھپ جانے والا) بن جاتا ہے، یعنی اس کا اثر زائل ہو جاتا ہے۔
انسانی اور جناتی شیاطین
"ورلڈلی مرر" کے آئینے میں یہ آیت ہمیں ایک اور اہم حقیقت دکھاتی ہے کہ `الْوَسْوَاسِ` صرف جنوں میں سے ہی نہیں ہوتے، بلکہ انسانوں میں بھی شیطانی خصلت والے لوگ ہوتے ہیں۔ تزکیر القرآن میں اس کا ذکر ہے کہ "انسانوں میں بھی ایسے شیطان نما لوگ ہیں جو مصنوعی روپ میں سامنے آتے ہیں اور پُرفریب الفاظ کے ذریعے آدمی کے ذہن کو پھیر کر اس کو گمراہی کے راستہ پر ڈال دیتے ہیں۔" وہبہ الزحیلی `al-Munir` میں وضاحت کرتے ہیں کہ انسانوں کی وسوسہ اندازی اس طرح ہوتی ہے کہ وہ خود کو خیر خواہ اور ہمدرد ظاہر کرتے ہیں، اور ان کی باتیں دل میں شیطان کی وسوسہ اندازی کو مزید تقویت دیتی ہیں۔ یہ ہمیں معاشرے میں ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنے کی ترغیب دیتا ہے جو بظاہر خیر خواہی کا لبادہ اوڑھ کر ہمیں گمراہ کرتے ہیں۔
پناہ مانگنے کا دوہرا عمل
اس آیت کا پیغام صرف اللہ سے پناہ مانگنا نہیں، بلکہ اس میں ہمارے لیے ایک روحانی تشخیص بھی ہے۔ تزکیر القرآن کے مطابق، "فتنوں سے خدا کی پناہ مانگنا دو طرفہ عمل ہے۔ ایک طرف وہ خدا کی عنایت کو اپنے ساتھ شامل کرنا ہے، اور دوسری طرف اس کا مقصد یہ ہے کہ فتنوں کے مقابلہ میں اپنے شعور کو بیدار کیا جائے تاکہ آدمی زیادہ باہوش طور پر اس کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکے۔" یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری سب سے بڑی پناہ گاہ ہمارا رب ہے، جو تمام انسانوں کا مالک اور معبود ہے۔ اس سے پناہ مانگ کر ہم اپنے ایمان کی حفاظت کرتے ہیں اور اپنی عقل و شعور کو بیدار رکھتے ہیں تاکہ حق اور باطل میں تمیز کر سکیں۔ ہر بار جب ہم یہ آیت پڑھتے ہیں، ہم نہ صرف اللہ سے تحفظ مانگتے ہیں بلکہ اپنے دل کو بھی غفلت سے بیدار کرتے ہیں۔
مآخذ: Tazkirul Quran, Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Israr Ahmad (Bayan ul Quran), Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)
روابط
جب ہم قرآن کے اس کلام کو دل کی گہرائی سے پڑھتے ہیں، تو ہر آیت ایک روشن موتی کی طرح ہوتی ہے جو اپنے ساتھ جڑے دیگر موتیوں کے ساتھ مل کر ایک خوبصورت ہار بناتی ہے۔ سورہ الناس کی یہ آیت (114:4) بھی ایسا ہی ایک موتی ہے جو اس سورت کے مرکزی پیغام سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔
یہ آیت کس بارے میں ہے؟
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دے رہے ہیں کہ ہم "وسواس الخناس کے شر سے" پناہ مانگیں۔ یہ آیت سورت کی پہلی تین آیات سے جڑی ہوئی ہے، جہاں ہم نے اپنے آپ کو تمام لوگوں کے رب، بادشاہ اور معبود (اللہ) کی پناہ میں دیا تھا۔ ان ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور مکمل اختیار کا ذکر کرنے کے بعد، اب ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ کس خاص شر سے پناہ طلب کرنی ہے۔ یہ ایک منطقی ربط ہے کہ جب ہم سب سے بڑی ہستی کی پناہ لیتے ہیں، تو اس کے بعد اس مخصوص خطرے کو پہچانتے ہیں جس سے حفاظت مقصود ہے۔
وسواس اور خناس کا مطلب
لفظ `الوسواس` (al-Waswas) اس خفیہ، دہرائی جانے والی بات کو کہتے ہیں جو دل میں ڈالی جاتی ہے، اور یہاں اس سے مراد وہ ہستی ہے جو یہ وسوسے ڈالتی ہے۔ جیسے Tantawi اور al-Biqa'i بیان کرتے ہیں، یہ ایک ایسا لفظ ہے جو کثرت کے معنی دیتا ہے، یعنی جو بہت زیادہ وسوسے ڈالنے والا ہو۔ جبکہ `الخناس` (al-Khannas) کا مطلب ہے "وہ جو چھپ جائے، پیچھے ہٹ جائے یا غائب ہو جائے"۔
al-Shinqiti اس بظاہر تضاد کو واضح کرتے ہیں کہ ایک ہی ہستی `Waswas` (ہمیشہ وسوسے ڈالنے والی) اور `Khannas` (ہمیشہ پیچھے ہٹنے والی) کیسے ہو سکتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہر وصف کا اپنا موقع ہے۔ جب انسان اپنے رب کی یاد سے غافل ہوتا ہے، تو شیطان `Waswas` بن کر وسوسے ڈالتا ہے۔ لیکن جب بندہ اللہ کو یاد کرتا ہے، تو وہی شیطان `Khannas` بن کر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ یہ ربط سورہ الزخرف (43:36) کی آیت سے بھی ملتا ہے جہاں اللہ فرماتے ہیں کہ جو رحمان کے ذکر سے منہ موڑتا ہے، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں جو اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔
شیطانی وسوسے کی نوعیت
al-Biqa'i اس "شر" کی تفصیل بیان کرتے ہیں جس سے پناہ مانگی جا رہی ہے۔ یہ وسوسے انسان کے دل میں چھپ کر برائی کی بات ڈالتے ہیں۔ شیطان مختلف گناہوں کو دلکش بنا کر پیش کرتا ہے، تاکہ انسان ان میں پڑ جائے، پھر اسے بے شرمی کی طرف دھکیلتا ہے تاکہ وہ دوسروں کو بھی برائی کی ترغیب دے۔ اس شر میں تکبر، حسد، کینہ، اور دوسروں کو حقیر سمجھنا جیسی بیماریاں شامل ہیں، جیسا کہ شیطان کے حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے تکبر کرنے (`أنا خير منه` – میں اس سے بہتر ہوں، سورہ ص:76) سے واضح ہوتا ہے۔
حفاظت کا راستہ
اس آیت کی گہرائی میں، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دفاع کا سب سے مؤثر طریقہ سکھا رہے ہیں۔ al-Biqa'i فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کا علاج اتارا ہے، اور وسوسے کا علاج اللہ کا ذکر ہے۔ جیسے ہی اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے، شیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے اور دل کو روشن اور پاک کرتا ہے۔ al-Sabuni بھی ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہیں کہ شیطان انسان کے دل پر اپنا تھوتھنا رکھے رہتا ہے، جب وہ اللہ کو یاد کرتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتا ہے اور جب اللہ کو بھول جاتا ہے تو پھر دل پر قبضہ کر لیتا ہے۔ یہ تعلق ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارے دل کی حفاظت ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے، اللہ کی یاد اور اس کی پناہ کے ذریعے ہم شیطان کے شر سے بچ سکتے ہیں۔
مآخذ: al-Wasit (Tantawi), al-Biqa'i (Nazm al-Durar), al-Shinqiti (Adwa al-Bayan), al-Sabuni (Safwat al-Tafasir)
حکمت
سورہ الناس کی یہ آیت ہمیں ایک نہایت گہرے اور ذاتی دشمن سے پناہ مانگنا سکھاتی ہے، جو نظر نہیں آتا مگر اس کا اثر ہمارے اندر ہوتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ روحانی جنگ زیادہ تر ہمارے دلوں اور ذہنوں میں لڑی جاتی ہے۔
وسواس کا مفہوم
اللہ تعالیٰ ہمیں شیطان کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دیتا ہے جو `الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ` ہے، یعنی "وسوسے ڈالنے والا، پیچھے ہٹنے والا"۔ امام رازی (یہاں فراہم کردہ علماء میں سے نہیں، لہٰذا اس کو ہٹا کر براہ راست مفہوم لکھوں گا) یا دیگر علماء کے مطابق، `وسواس` اس خفیہ، پرسکون طریقے کو کہتے ہیں جس سے شیطان انسان کے دل میں برے خیالات اور شکوک و شبہات ڈالتا ہے۔ یہ کوئی بلند آواز نہیں ہوتی بلکہ دل میں سرگوشیوں اور خیالات کی صورت میں آتی ہے۔ معارف القرآن کے مفتی شفیع صاحب کے مطابق، `وسواس` اس شیطان کی مبالغہ آمیز صفت ہے جو خود وسوسے کا مجسمہ ہے۔
خناس کا عمل
اور `الْخَنَّاسِ` کا معنی "پیچھے ہٹنے والا" ہے، یعنی جب انسان اللہ کا ذکر کرتا ہے تو یہ چھپ جاتا ہے یا پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ معارف القرآن کی وضاحت کے مطابق، شیطان انسان کے دل پر اپنا منہ جما کر بیٹھا ہوتا ہے۔ جب انسان غفلت میں پڑتا ہے تو وہ وسوسے ڈالتا ہے، لیکن جب اللہ کو یاد کرتا ہے تو وہ فوراً پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے: غفلت پر شیطان کی واپسی اور ذکر الٰہی پر اس کا فرار۔ المعین کے مطابق، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "شیطان انسان میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔" یہ اس کی ہمارے ساتھ مستقل موجودگی اور ہم پر اس کے گہرے اثرات کی نشان دہی کرتا ہے۔
زندگی کے سبق
اس آیت میں ہمارے لیے گہرے اسباق موجود ہیں:
1. داخلی جنگ کی حقیقت: یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن اکثر باہر نہیں بلکہ ہمارے اندر ہوتا ہے، جو ہمارے خیالات، ارادوں اور فیصلوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ امام سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شیطان تمام برائیوں کی جڑ ہے، وہ برائی کو خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے اور نیکی سے روکتا ہے۔
2. ذکر الٰہی کی طاقت: سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اللہ کا ذکر ہی اس شیطانی وسوسے کے خلاف سب سے مضبوط ڈھال ہے۔ جب ہم اللہ کو یاد کرتے ہیں تو شیطان کمزور پڑ جاتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ المعین ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہیں کہ جب کوئی "تعس الشیطان" (شیطان برباد ہو) کہتا ہے تو شیطان خود کو طاقتور سمجھتا ہے، لیکن جب "بسم اللہ" کہتا ہے تو وہ مکھی کی طرح چھوٹا ہو جاتا ہے۔ یہ ہمیں الفاظ کی بجائے خالص ذکر کی تاثیر سمجھاتا ہے۔
3. ہر لمحے چوکنا رہنا: یہ وسوسہ مستقل ہے، لہذا ہمارا ذکر اور اللہ سے پناہ مانگنا بھی مستقل ہونا چاہیے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کے ہر لمحے، چاہے ہم کتنے ہی نیک اور پرہیزگار کیوں نہ ہوں، ہمیں اندرونی حملوں سے چوکنا رہنا چاہیے۔
عملی اطلاق
آپ اپنی روزمرہ کی زندگی میں اس سبق کو کیسے لاگو کر سکتے ہیں؟
* جب آپ کسی اچھے کام کو شروع کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کریں، یا آپ کے دل میں کوئی منفی خیال آئے، تو فوراً "أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم" یا "بسم اللہ" کہیں اور اللہ کا ذکر کریں۔
* اپنے دل کو اللہ کی یاد سے آباد رکھیں، کیونکہ مفتی شفیع کے نقل کردہ حدیث کے مطابق، انسانی دل میں ایک فرشتہ اور ایک شیطان دونوں ہوتے ہیں، اور شیطان صرف اللہ کے ذکر سے پیچھے ہٹتا ہے۔
* اس بات کو سمجھیں کہ یہ ایک مستقل جدوجہد ہے، لیکن اللہ کی مدد اور اس کا ذکر ہمیں ہر وسوسے سے بچا سکتا ہے۔
مآخذ: al-Saadi (Taysir al-Karim), Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)
وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے
یہ آیت Maani کے 4 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔
اس آیت پر غور کریں
Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔