سورۃ الناس، آیت 3

سُورَةُ النَّاسِ · مکی · آیت 3 / 6

إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ

اردو ترجمہ

لوگوں کے معبود برحق کی

اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔

معنی اور غور و فکر

الفاظ کا انتخاب

Surah An-Nas کی یہ مبارک آیت، `إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ` (معبودِ ناس، یعنی لوگوں کا معبود) اس سورہ کی ابتدائی تین صفات میں سے تیسری صفت ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ ہمیں یہ سکھا رہے ہیں کہ جب ہم وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے پناہ مانگیں تو اپنے رب کی کن کن صفات کا واسطہ دیں۔ یہ آیت، جس کا مطلب ہے کہ اللہ ہی لوگوں کا حقیقی معبود ہے، ایک گہری روحانی بصیرت پیش کرتی ہے۔

آیت کا سادہ مفہوم

اس آیت میں اللہ تعالیٰ کو "معبودِ ناس" یعنی "انسانوں کا معبود" کہہ کر پکارا گیا ہے۔ اس سے پہلے کی آیات میں انہیں `رَبِّ ٱلنَّاسِ` (لوگوں کا رب، پالنے والا) اور `مَلِكِ ٱلنَّاسِ` (لوگوں کا بادشاہ) کہا گیا تھا۔ یہ تینوں صفات ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور اللہ کے ساتھ ہمارے تعلق کو واضح کرتی ہیں۔

الفاظ کا انتخاب

`إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ` کا انتخاب اس لیے خاص ہے کیونکہ یہ اللہ کی واحدانیت اور اس کے بے مثال ہونے کو حتمی شکل دیتا ہے۔ امام زمخشری اور امام رازی فرماتے ہیں کہ یہ صفت `رب` (پالنے والا) اور `ملك` (بادشاہ) کے بعد آتی ہے، اور یہ `بیان کا حتمی درجہ` (غاية البيان) ہے کیونکہ 'معبود' صرف اللہ ہی ہو سکتا ہے۔ `رب` اور `ملك` کے الفاظ بعض اوقات غیر اللہ کے لیے بھی مجازی طور پر استعمال ہو سکتے ہیں (مثلاً گھر کا مالک یا علاقے کا سردار) لیکن 'إلہ' کا لفظ صرف اور صرف اللہ ہی کے لیے ہے، اس میں کوئی شریک نہیں۔

صفات کا تدریجی بیان

امام رازی فرماتے ہیں کہ اللہ کی ان تینوں صفات کا ذکر ایک خاص ترتیب سے ہے جو اللہ کی معرفت کے درجات (مراتب النظر في معرفة الله تعالى) کو ظاہر کرتا ہے۔
پہلے `رب` (پالنے والا) کا ذکر کیا گیا کیونکہ انسان سب سے پہلے اللہ کی نعمتوں اور اس کے پروردگاری کو محسوس کرتا ہے۔ وہ ہماری تخلیق اور پرورش کرتا ہے۔
پھر `ملك` (بادشاہ) کا ذکر کیا گیا جو اللہ کی کامل بادشاہت، حاکمیت اور مخلوق سے بے نیازی کو نمایاں کرتا ہے۔
آخر میں `إله` (معبود) کا ذکر کیا گیا ہے، جو یہ باور کراتا ہے کہ وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے۔ جب انسان اللہ کی ربوبیت اور ملکیت کو جان لیتا ہے، تب اسے سمجھ آتا ہے کہ حقیقی عبادت صرف اسی کی ہونی چاہیے۔ یہ ایک مکمل تعارف ہے جو انسان کو اللہ پر کامل بھروسے اور اس کی عبادت کی طرف لے جاتا ہے۔

"الناس" کی تکرار

آیت میں `الناس` (لوگوں) کے لفظ کی بار بار تکرار (رَبِّ ٱلنَّاسِ، مَلِكِ ٱلنَّاسِ، إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ) محض لسانی خوبصورتی نہیں بلکہ ایک اہم نکتہ اجاگر کرتی ہے۔ ابن عاشور کے مطابق، یہ `ضمیر کی جگہ واضح اسم کا استعمال` (إظهار في مقام الإضمار) ہے جس کا مقصد اللہ کی ربوبیت، بادشاہت اور معبودیت کو تمام انسانوں کے لیے تاکید کے ساتھ بیان کرنا ہے۔ یہ تکرار لوگوں کے شرف کو بھی بڑھاتی ہے کہ اللہ نے اپنی ذات کی تعریف ان سے تعلق جوڑ کر کی ہے، خاص کر اس سورہ میں جہاں انسانوں کو وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ اس تکرار سے پناہ مانگنے والے کو یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ جس ہستی سے وہ پناہ مانگ رہا ہے، وہ اس کی خاص نگرانی، ملکیت اور عبادت کا مرکز ہے۔

مآخذ: al-Jalalayn, al-Zamakhshari (al-Kashshaf), Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir), al-Razi (Mafatih al-Ghayb), al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi)

قرآنی دنیا

سورہ الناس کی یہ تیسری آیت، `إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ` (انسانیت کا الٰہ، یا معبود)، ہمیں اللہ تعالیٰ کی ایک اور عظیم صفت کی طرف بلاتی ہے جس کے ذریعے ہمیں ہر شر سے پناہ ملتی ہے۔ یہ کلام اس واحد ہستی سے رجوع کرنے کا حکم دیتا ہے جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں۔

انسانوں کا حقیقی معبود

جب اللہ تعالیٰ ہمیں `إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ` کہہ کر پکارنے کا حکم دیتے ہیں، تو `الٰہ` کا مطلب وہ ہستی ہے جو دلوں کی محبت، تعظیم اور بندگی کا واحد حقدار ہو۔ جیسا کہ المیسر نے وضاحت کی ہے، `إله الناس الذي لا معبود بحق سواه` (انسانیت کا وہ معبود جس کے سوا کوئی حق پرستی کے لائق نہیں)۔ یہ محض ایک حکمران نہیں، بلکہ وہ ہستی ہے جس کی عبادت کی جاتی ہے، جس کی طرف ہر حاجت مند پلٹتا ہے۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ انسان کی اپنے رب کی معرفت کا سفر `رب` (پالنے والے) سے شروع ہو کر `ملک` (بادشاہ) تک پہنچتا ہے، اور پھر `الٰہ` (معبود) پر مکمل ہوتا ہے، جہاں انسان کو حقیقی بندگی کا ادراک ہوتا ہے۔

ہدایت کا بنیادی محور

یہ آیت ہمیں اس "دنیا کی حقیقت" کی طرف رہنمائی کرتی ہے جہاں ہم اللہ کے کلام کے ذریعے جیتے ہیں۔ جب یہ آیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے پڑھا تو یہ توحید، یعنی اللہ کی وحدانیت، کا بنیادی سبق تھا۔ اس نے انہیں ہر قسم کے شر، خاص طور پر `الوسواس الخناس` (شیطان کے وسوسے) سے پناہ لینے کی جگہ بتائی۔ ابن کثیر کی تفسیری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے اور اللہ کے ذکر سے ہی چھوٹا ہو کر مچھر جیسا ہو جاتا ہے۔ یہ آیت ایمان والوں کو سکھاتی ہے کہ ان کا حقیقی معبود ہی ان کے دلوں کو شیطان کے وسوسوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

تخلیق کا مقصد

یہ آیت ہمیں "دنیا کی تخلیق" کے اس بڑے مقصد کی یاد دلاتی ہے کہ انسان کو عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ انسان، اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود، کمزور ہے اور اسے ایک ایسی طاقتور ہستی کی پناہ درکار ہے جو اسے ہر خطرے سے بچا سکے۔ سید قطب کی تفسیر بھی اس نکتے پر زور دیتی ہے کہ اللہ کی صفات کا ذکر ہمیں ہر قسم کے شر سے پناہ لینے کے لیے تیار کرتا ہے۔ اس طرح `إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ` کا اقرار، انسان کو اس کی پیدائشی کمزوری کا احساس دلاتا ہے اور اس کی تمام تر امیدوں اور تکیہ کو صرف اللہ کی ذات سے جوڑ دیتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارا وجود، ہماری حفاظت اور ہماری نجات اسی ذات سے وابستہ ہے جو تمام انسانوں کا سچا معبود ہے۔

مآخذ: al-Baghawi (Maalim al-Tanzil), Ibn Kathir, Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), al-Razi (Mafatih al-Ghayb)

ذاتی آئینہ

سورۃ الناس کی یہ تیسری آیت، `إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ` (انسانوں کا معبود), ہمیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی اس ہستی سے متعارف کراتی ہے جو ہماری عبادت کی واحد حقدار ہے۔ یہ آیت ایک گہری پناہ اور روحانی تعلق کی طرف دعوت دیتی ہے۔

معنی کا دل پر اثر

المیّسر کی سادہ تشریح کے مطابق، `إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ` کا مطلب ہے "لوگوں کا الٰہ (معبود) جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں"۔ یعنی، اللہ وہ ہستی ہے جو ہماری حمد و ثنا، ہماری عاجزی اور ہماری مکمل سپردگی کے لائق ہے۔ یہ پہچان ہمارے دلوں کو سکون دیتی ہے، کیونکہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہماری تمام تر توجہ صرف اسی ذات کی طرف ہونی چاہیے جو تمام طاقتوں کا مالک ہے۔

رب، بادشاہ اور معبود

یہ آیت سورۃ الناس کی پہلی دو آیات (`بِرَبِّ ٱلنَّاسِ` یعنی "لوگوں کے رب کی" اور `مَلِكِ ٱلنَّاسِ` یعنی "لوگوں کے بادشاہ کی") کے ساتھ مل کر اللہ تعالیٰ کی تین بنیادی صفات کو مکمل کرتی ہے۔ اسراء احمد (Israr Ahmad) اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "انسانوں کا رب اور بادشاہ ہونے کے علاوہ وہ ان کا معبود بھی ہے ' چناچہ وہ ان پر کامل اقتدار اور اختیار رکھتا ہے اور ان کی حفاظت پر پوری طرح قادر ہے۔" وہ ہمارے رب (پالنے والا)، ہمارے ملک (بادشاہ) اور ہمارے الٰہ (معبود) ہیں، یہ تینوں صفات مل کر ہمیں یہ یقین دلاتی ہیں کہ وہی ہستی ہے جو ہر شر سے مکمل پناہ دے سکتی ہے۔ المعیار (al-Munir) کے مطابق، لفظ "الناس" کا تکرار انسانوں کی عزت افزائی اور مدد و وضاحت میں اضافہ کے لیے ہے۔

اندرونی عکاسی

جب ہم `إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ` پر غور کرتے ہیں تو یہ ہماری ذات کا آئینہ بن جاتا ہے۔ یہ ہمیں اپنی عاجزی اور بندگی کا احساس دلاتا ہے۔ کیا ہمارے دلوں میں اللہ کے سوا کسی اور کی محبت، خوف یا امید اتنی گہری ہے کہ وہ بندگی کی حد تک پہنچ جائے؟ تزکیر القرآن (Tazkirul Quran) بیان کرتا ہے کہ انسان ایک عاجز مخلوق ہے، جسے لازمی طور پر پناہ کی ضرورت ہے، اور یہ پناہ صرف ایک خدا کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتا۔ اس آیت کا مطالعہ ہمیں اپنے اندر جھانکنے اور اپنے توحید (اللہ کی وحدانیت) کو خالص کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ہمارا اندرونی سکون اسی بات پر منحصر ہے کہ ہم اللہ کو ہی اپنا واحد معبود مانیں اور اسی پر مکمل بھروسہ کریں۔

اجتماعی رہنمائی

`إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ` کا تصور معاشرتی اور اجتماعی زندگی کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کسی بھی انسان، نظام، یا دنیاوی طاقت کو ایسی حیثیت نہ دی جائے جو اللہ کے لیے مخصوص ہے۔ جب ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ ہی تمام انسانوں کا معبود ہے، تو یہ ہمیں کسی بھی جابر حکمران، ظالمانہ قانون یا فریب پر مبنی نظریے کے سامنے سر جھکانے سے روکتا ہے۔ تزکیر القرآن اس بات پر زور دیتا ہے کہ "انسانوں میں بھی ایسے شیطان نما لوگ" ہوتے ہیں جو فریب دہ الفاظ سے انسان کو گمراہی کی راہ پر ڈال دیتے ہیں۔ اس آیت کے ذریعے ہمیں ان ظاہری اور باطنی شیطانوں کے شر سے اللہ کی پناہ مانگنے کی تلقین کی گئی ہے، چاہے وہ جنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے۔ یہ ہمیں اپنے اجتماعی شعور کو بیدار رکھنے اور حق و ناحق میں تمیز کرنے کی بصیرت عطا کرتا ہے۔

باطنی تشخيص

یہ آیت ایک گہری روحانی تشخیص پیش کرتی ہے: ہمارے دین اور ایمان کی سلامتی اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اللہ کو ہی اپنا واحد معبود تسلیم کریں۔ یہ ہمیں توحید کو مضبوط کرنے، ہر قسم کے شر سے بچنے اور صرف اللہ پر کامل توکل کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔

Source: Tazkirul Quran, Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Israr Ahmad (Bayan ul Quran), al-Munir (Wahba al-Zuhayli), al-Muyassar plain meaning

مآخذ: Tazkirul Quran, Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Israr Ahmad (Bayan ul Quran), Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)

روابط

قرآن کی آخری سورت، سورہ الناس، ہمیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی پناہ طلب کرنے کا حکم دیتی ہے، اور آیت 3، `إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ` (انسانوں کا معبود), اسی پناہ گاہ کی تیسری صفت بیان کرتی ہے۔ یہ آیت سورہ کے اندر اور پورے قرآن کے ساتھ بھی گہرے تعلقات رکھتی ہے۔

صفات کا باہمی ربط

یہ آیت سورہ کی ابتدائی دو آیات (`بِرَبِّ ٱلنَّاسِ`, `مَلِكِ ٱلنَّاسِ`) سے جڑی ہوئی ہے۔ `تفسیر الواسط` (طنطاوی) کے مطابق، یہ صفات ایک خاص ترتیب میں ہیں جو انسان کے اللہ کی پہچان کے سفر کو ظاہر کرتی ہیں۔ پہلے ربوبیت (`رب الناس`) کا ذکر ہے، جو اللہ کی مخلوقات کی پرورش اور نعمتوں کا مالک ہونا ہے۔ جب انسان سمجھدار ہو جاتا ہے، تو وہ اس رب کی بادشاہت (`ملك الناس`) کو سمجھتا ہے جو ہر چیز کا مالک اور ہر معاملے میں تصرف کرنے والا ہے۔ اور پھر آخر میں، جب وہ مکمل طور پر سمجھ لیتا ہے، تو اسے ادراک ہوتا ہے کہ صرف وہی `إله الناس` (حقیقی معبود) ہے، جس کی عبادت کی جانی چاہیے۔ یہ کمالِ بیان ہے۔

علامہ شنقیطی (اضواء البیان) بھی اس کو بندگی کے کمال کا تیسرا درجہ قرار دیتے ہیں، اور یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جب بندہ اقرار کر لے کہ اللہ ہی اس کا رب اور بادشاہ ہے، تو منطقی طور پر یہ لازم آتا ہے کہ صرف وہی عبادت کے لائق ہے۔ اسی کو قرآن کی دعوت قرار دیا گیا ہے۔

توحید الوہیت کا محور

علامہ بقاعی (نظم الدرر) فرماتے ہیں کہ بادشاہ (`الملك`) تو کوئی اور بھی ہو سکتا ہے، لیکن `الإلهِيَّة` (الوہیت) ایسی خاص صفت ہے جو کسی بھی شرک کو قبول نہیں کرتی۔ یہ `توحید الوہیت` یعنی اللہ کو واحد معبود ماننے کی بنیاد ہے، جو `ربوبیت` (رب ہونے) اور `ملکیت` (بادشاہ ہونے) کے اقرار کا فطری نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اسی دلیل سے لوگوں پر حجت قائم کرتے ہیں کہ جب تم اس کی ربوبیت اور ملکیت کے اقرار میں اس کا شریک نہیں ٹھہراتے، تو اس کی الوہیت میں شرک کیسے کرتے ہو؟ لہٰذا، وہی ذات اکیلی ہر طرح کی پناہ اور عبادت کی مستحق ہے۔

لفظ `الناس` کی تکرار

آیت میں `الناس` (انسانوں) کا لفظ تین بار دہرایا گیا ہے۔ علامہ صابونی (صفوۃ التفاسیر) اور دیگر مفسرین بتاتے ہیں کہ یہ انسانوں کی تعظیم اور شرف کا اظہار ہے، اس بات پر زور دینے کے لیے کہ اللہ ان کے رب، بادشاہ اور معبود ہیں۔ یہ تکرار اس بات کو بھی واضح کرتی ہے کہ اللہ کی ہر صفت عام ہے اور کسی خاص پہلو سے محدود نہیں۔

قرآن کے آغاز و انجام کا ربط

علامہ شنقیطی ایک بہت خوبصورت `مناسبت` (باہمی تعلق) بیان کرتے ہیں: قرآن مجید کے شروع میں سورہ فاتحہ میں بھی یہ تینوں صفات موجود ہیں: `رَبِّ الْعَالَمِينَ` (ربوبیت)، `مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ` (ملکیت)، اور اسم جلالہ `الله` (الوہیت) میں مضمر ہے۔ اور قرآن کے آخر میں سورہ الناس میں بھی یہ تینوں صفات اسی ترتیب سے آتی ہیں۔ یہ ایک `عود على بدء` (آغاز پر اختتام) ہے، یعنی قرآن کا اختتام اپنے آغاز سے جڑ جاتا ہے، اور یہ بتاتا ہے کہ پورا قرآن اسی عظیم معنی کی شرح اور بیان ہے۔ اس طرح، یہ آیت ہمیں اللہ کی پناہ مانگنے کی اس عظیم بنیاد کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے جو پوری کتاب میں پھیلی ہوئی ہے۔

مآخذ: al-Wasit (Tantawi), al-Biqa'i (Nazm al-Durar), al-Shinqiti (Adwa al-Bayan), al-Sabuni (Safwat al-Tafasir)

حکمت

الٰہ الناس کا مطلب

سورہ الناس کی یہ تیسری آیت، "إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ" (لوگوں کا معبود)، اس حقیقت پر زور دیتی ہے کہ اللہ ہی تمام انسانوں کا واحد حقیقی معبود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہی ذات ہے جو عبادت، اطاعت اور پناہ مانگنے کے لائق ہے۔ کوئی اور اس مرتبے میں اس کا شریک نہیں۔

اللہ کے تین بنیادی نام

اس سورہ میں اللہ تعالیٰ کے تین صفاتی ناموں کا ذکر کیا گیا ہے: رب، مالک اور الٰہ۔ ہر نام انسان کی پناہ کی طلب کو مضبوط بناتا ہے۔ `رب الناس` (لوگوں کا پالنے والا) یہ بتاتا ہے کہ اللہ ہی ہمارا پروردگار اور ہر معاملے میں ہمارا نگہبان ہے۔ `ملک الناس` (لوگوں کا بادشاہ) یہ واضح کرتا ہے کہ تمام بادشاہت اور اختیار اسی کے پاس ہے، اور کوئی اس کے حکم سے باہر نہیں۔ `الٰہ الناس` (لوگوں کا معبود) اس بات کو مکمل کرتا ہے کہ چونکہ وہی ہمارا رب اور مالک ہے، اس لیے وہی اکیلا معبود ہونے کے لائق ہے۔ جیسا کہ مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ نے بیان کیا، ہر آقا یا بادشاہ عبادت کے لائق نہیں ہوتا، لیکن اللہ ہی اکیلا رب، مالک اور معبود ہے۔ یہ تینوں صفات مل کر اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ جب ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، تو ہم ایک ایسی ہستی سے پناہ مانگ رہے ہوتے ہیں جو ہر اعتبار سے اس کی مستحق اور قادر ہے۔

عمومی سبق اور رہنمائی

اس آیت میں ہمارے لیے کئی اہم اسباق پوشیدہ ہیں۔

1. توحید کا اقرار: "إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ" ہمیں `توحید الوہیت` (معبود ہونے میں اللہ کی وحدانیت) کا اقرار سکھاتی ہے۔ یعنی، ہر قسم کی عبادت، چاہے وہ دعا ہو، سجدہ ہو یا مکمل انحصار، صرف اللہ ہی کے لیے ہونا چاہیے۔ جب ہم اسے اپنا `الہٰ` (معبود) تسلیم کرتے ہیں، تو ہم اپنے دلوں کو ہر غیر اللہ سے پاک کر لیتے ہیں۔

2. مکمل بھروسہ اور پناہ: یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہماری تمام تر مشکلات، خاص طور پر `شیطان` (برائی کی وسوسہ ڈالنے والا) کے `وسوسوں` (برے خیالات) اور انسانوں کی شرارتوں سے نجات کے لیے، ہمیں صرف اللہ ہی کی پناہ میں آنا چاہیے۔ وہ واحد ہستی ہے جو ہمارے ایمان اور دین کو ہر طرح کے نقصانات سے بچا سکتی ہے۔ جیسا کہ الشیخ الزحیلی نے فرمایا، دین کی حفاظت دنیاوی نقصانات سے زیادہ اہم ہے، اسی لیے اللہ کی تین عظیم صفات کا ذکر کیا گیا۔

3. قلبی سکون کا ذریعہ: جب ہم اپنے دل سے یہ مان لیتے ہیں کہ اللہ ہی ہمارا حقیقی معبود ہے، تو یہ ہمیں ایک گہرا قلبی سکون اور اطمینان عطا کرتا ہے۔ یہ اس بات کا یقین ہے کہ کوئی بھی مشکل یا خوف ہمیں اللہ کی طاقت اور پناہ سے محروم نہیں کر سکتا۔ عملی طور پر، یہ ہمیں روزمرہ کی زندگی میں `ذکر اللہ` (اللہ کو یاد کرنے) اور خلوص دل سے `دعا` (التجا) کرنے کی ترغیب دیتا ہے، کیونکہ یہی `شیطان` کو دور بھگانے کا مؤثر ترین طریقہ ہے۔

مآخذ: al-Saadi (Taysir al-Karim), Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)

وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے

یہ آیت Maani کے 4 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔

قرآن کے تمام موضوعات دیکھیں

اس آیت پر غور کریں

Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔

Maani کے ساتھ اس آیت پر غور کریں