سورۃ الفاتحہ، آیت 4

سُورَةُ ٱلْفَاتِحَةِ · مکی · آیت 4 / 7

مَٰلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ

اردو ترجمہ

انصاف کے دن کا حاکم

اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔

معنی اور غور و فکر

الفاظ کا انتخاب

قرآن کی پہلی سورت الفاتحہ کی چوتھی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: مَٰلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ (مالک یوم الدین)۔ اس آیت کا سادہ مطلب یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اکیلے ہی یومِ قیامت کے مالک ہیں، جو اعمال کے بدلے کا دن ہے۔ یہ آیت مومنوں کو آخرت کی یاد دلاتی ہے اور انہیں نیک اعمال سے تیاری کرنے اور گناہوں سے بچنے کی ترغیب دیتی ہے۔

الفاظ کا گہرا مطلب

آئیے اس مبارک آیت کے الفاظ میں گہرائی سے غور کرتے ہیں۔ یہاں دو مختلف قراءتیں (تلاوت کے طریقے) مشہور ہیں جو اپنے اندر معانی کی وسعت رکھتی ہیں۔ ایک ہے `مَلِكِ` (`Maliki` یعنی بادشاہ)، اور دوسری ہے `مَٰلِكِ` (`Maaliki` یعنی مالک یا صاحب اختیار)۔ ابن عاشور کے مطابق، `مَلِكِ` (بادشاہ) سے مراد وہ ہستی ہے جو عقلمند مخلوقات کے معاملات کو تدبیر کرتی ہے، حکمرانی کرتی ہے اور عدل قائم کرتی ہے۔ `مَٰلِكِ` (مالک) سے مراد کسی شے اور اس کے فوائد کا مکمل اختیار رکھنے والا ہے۔ دونوں قراءتیں، جب `يَوْمِ ٱلدِّينِ` (یوم الدین) کے ساتھ استعمال ہوتی ہیں، تو اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ اللہ ہی اس دن کے تمام امور کا اکیلا مختار ہے، کوئی اس کا شریک نہیں۔ الجلالین خاص طور پر `مَلِكِ` کی قراءت کو اس لیے نمایاں کرتے ہیں کہ اس دن اللہ کے سوا کسی کی بادشاہت ظاہر نہیں ہوگی، جیسا کہ خود قرآن میں ہے: `لمن الملك اليوم؟ لله` (آج کس کی بادشاہت ہے؟ اللہ کے لیے ہے)۔

لفظ `ٱلدِّينِ` (`Ad-Deen`) کا معنی یہاں "بدلہ" یا "انعام و سزا" ہے۔ ابن عاشور بتاتے ہیں کہ یہاں `الدِّينِ` کا انتخاب "یوم الحساب" (حساب کا دن) کے بجائے اس لیے کیا گیا ہے تاکہ یہ واضح ہو کہ یہ دن صرف حساب کا نہیں بلکہ مکمل اور انصاف پر مبنی بدلے کا دن ہے، جہاں ہر عمل کا اس کے مطابق پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ یہ ایک خاص عدل ہے جس میں کوئی ظلم نہیں ہوگا۔

پہلی آیات سے تعلق

ابن عاشور نے وضاحت کی ہے کہ `مَٰلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ` کا ذکر اللہ کی عظمت اور کمال کی صفات کو مکمل کرتا ہے۔ پچھلی آیات میں اللہ کو `رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ` (رب العالمین – تمام جہانوں کا رب)، اور پھر `ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ` (الرحمٰن الرحیم – نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا) کہا گیا۔ ان صفات کے بعد `مَٰلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ` کا ذکر ایک حسین توازن پیدا کرتا ہے۔ یہ رحمانیت اور رحمت کی امید کے ساتھ ساتھ جوابدہی اور انصاف کی یاد دہانی کراتا ہے، تاکہ لوگ صرف اللہ کی رحمت پر تکیہ کر کے گناہوں میں دلیر نہ ہو جائیں۔ یہ وصف دراصل یہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت دونوں میں مکمل تصرف کے مالک ہیں، وہ ربوبیت (پرورش اور انتظام) کے ساتھ ساتھ ملکیت (حکمرانی اور بدلے) کے بھی مالک ہیں۔

مآخذ: Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir), al-Zamakhshari (al-Kashshaf), al-Jalalayn, al-Razi (Mafatih al-Ghayb), al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi)

قرآنی دنیا

مَٰلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ (Maliki Yawm al-Din)
"وہ روز جزا کا مالک ہے۔"

یہ آیت اس گہرے سچ کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس کائنات کے مالک درحقیقت صرف اللہ تعالیٰ ہی ہیں۔ یہ مبارک آیت، جو ہم اپنی ہر نماز میں دہراتے ہیں، ہمیں اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ اس دنیا میں ہمارا وقت عارضی ہے اور ایک دن سب کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ یہ ہمیں آخرت کی تیاری کرنے اور گناہوں سے بچنے کی ترغیب دیتی ہے۔

الفاظ کے گہرے معنی

اس آیت میں "مَٰلِكِ" (Maliki) اور "يَوْمِ ٱلدِّينِ" (Yawm al-Din) کے الفاظ بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ "مَٰلِكِ" کا مطلب ہے "مالک" یا "سربراہ"۔ کچھ قراء اسے "مَلِكِ" (Malik) پڑھتے ہیں، یعنی "بادشاہ"۔ علامہ ابن کثیر اور امام طبری جیسے مفسرین نے دونوں قراءتوں کو صحیح قرار دیا ہے، لیکن "ملک" (بادشاہ) کا پہلو اکثر علماء کو زیادہ وسیع لگتا ہے کیونکہ بادشاہت میں ملکیت (ownership) کا مفہوم خود بخود آ جاتا ہے، جبکہ ایک مالک کا بادشاہ ہونا ضروری نہیں۔ اس سے یہ حقیقت مزید نمایاں ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ روزِ قیامت نہ صرف ہر چیز کے مالک ہوں گے بلکہ مکمل حاکم بھی ہوں گے۔

"يَوْمِ ٱلدِّينِ" کا مطلب ہے "جزا و سزا کا دن" یا "حساب کا دن"۔ اس دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات سے ان کے اعمال کا حساب لیں گے اور ہر ایک کو اس کے اچھے یا برے عمل کا پورا بدلہ دیں گے۔ یہ دنیا صرف عمل کی جگہ ہے، بدلے کی نہیں۔ جیسا کہ مفسرین نے بیان کیا ہے، اس دنیا کی تکلیفیں یا راحتیں مکمل جزا نہیں بلکہ ایک آزمائش یا وارننگ ہوتی ہیں۔

یوم الدین کا خاص ذکر کیوں؟

اللہ تعالیٰ تو دنیا اور آخرت ہر چیز کے مالک اور رب ہیں۔ پھر یہاں خاص طور پر "یوم الدین" کا ذکر کیوں کیا گیا؟ مفتی شفیع صاحب اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس دنیا میں اللہ نے انسان کو ایک عارضی اور ظاہری ملکیت دی ہے، جیسے زمین، پیسہ یا اختیار۔ انسان اکثر اس عارضی ملکیت کے نشے میں تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ "مَٰلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ" کی آیت ایک تنبیہ ہے کہ یہ سب کچھ فانی ہے، اور ایک دن ایسا آئے گا جب ہر ظاہری ملکیت ختم ہو جائے گی اور ہر چیز پر صرف اللہ تعالیٰ کی حاکمیت بالکل واضح ہو گی۔ اس دن کوئی اپنی ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکے گا اور نہ کوئی اللہ کی اجازت کے بغیر بات کر پائے گا، جیسا کہ قرآن کی دیگر آیات میں بیان ہوا ہے "لِمَنِ ٱلْمُلْكُ ٱلْيَوْمَ ۖ لِلَّهِ ٱلْوَٰحِدِ ٱلْقَهَّارِ" (غافر: 16) یعنی "آج کس کی بادشاہی ہے؟ اللہ اکیلے، زبردست کی!"

یوم الدین اور آپ

سید قطب رحمہ اللہ زور دیتے ہیں کہ یوم آخرت پر ایمان اسلامی عقائد میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ عقیدہ ہمارے دلوں میں جوابدہی کا احساس پیدا کرتا ہے۔ جب انسان یہ یقین رکھتا ہے کہ ایک دن اسے اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے، تو اس کی سوچ اور عمل بلند ہو جاتے ہیں۔ وہ صرف دنیاوی خواہشات کے حصول میں نہیں لگا رہتا بلکہ آخرت کے لیے بھی محنت کرتا ہے، سچائی کی حمایت کرتا ہے اور نیکی کے کاموں میں تعاون کرتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اس کا حقیقی اجر اللہ کے پاس ہے۔ یہ عقیدہ انسان کو دنیاوی قدروں اور مادی تصورات سے اوپر اٹھا کر روحانی اور ربانی اقدار پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ ایمان انسان کو اطمینان اور یقین کی دولت عطا کرتا ہے، اور اس کے دل و دماغ کو وسعت دیتا ہے۔

مآخذ: al-Tabari (Jami al-Bayan), al-Baghawi (Maalim al-Tanzil), Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Ibn Kathir, al-Razi (Mafatih al-Ghayb)

ذاتی آئینہ

سورہ فاتحہ کی یہ چوتھی آیت، "مَٰلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ" (جزا اور سزا کے دن کا مالک)، ایک گہرا پیغام دیتی ہے جو ہمیں اپنے رب کی عظمت اور اپنے انجام کی یاد دلاتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ براہ راست ہم مسلمانوں کو مخاطب کر رہے ہیں اور ہر نماز کی ہر رکعت میں اس آیت کی تلاوت کے ذریعے ہمیں آخرت کی یاد دہانی کراتے ہیں، تاکہ ہم نیک اعمال کے ذریعے اس دن کی تیاری کریں اور برائیوں سے بچیں۔

دلوں پر یومِ جزا کا نقش

یہ آیت ہمارے دلوں میں اللہ کی مطلق حاکمیت (`مالک`) اور انصاف کا تصور بٹھاتی ہے۔ سید قطب فرماتے ہیں کہ یوم جزا پر ایمان انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے، کیونکہ یہ ہمیں اللہ کے سامنے جوابدہی کا احساس دلاتا ہے۔ یہ احساس ہمیں محض دنیاوی خواہشات میں غرق ہونے سے بچاتا ہے اور ہماری نیکیوں اور جدوجہد کا مقصد صرف اللہ کی رضا بن جاتا ہے۔ اس سے انسان کو ایک گہرا اطمینان (`اطمینان`) اور یقین (`یقین`) حاصل ہوتا ہے کہ دنیاوی معاملات میں حق پر قائم رہنے کا بدلہ آخرت میں ضرور ملے گا، خواہ اس دنیا میں پورا نہ ملے۔ تذکر القرآن کے مطابق، جب انسان خدا کی تخلیق اور اس کی رحمتوں کا مشاہدہ کرتا ہے، تو وہ بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ "خدایا! تو فیصلہ کے دن کا مالک ہے"، اور اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دیتا ہے، مدد چاہتا ہے۔

دنیا اور اُمت کا آئینہ

`مالِكِ يَوْمِ الدِّينِ` کا اقرار اس بات کا معیار ہے کہ کوئی شخص اپنی خواہشات کا غلام ہے یا حقیقی انسانی آزادی کا مالک ہے۔ سید قطب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ آخرت پر پختہ ایمان کے بغیر انسانی زندگی اسلامی نظامِ حیات (`اسلامی نظام حیات`) کے مطابق استوار نہیں ہو سکتی۔ دنیا میں باطل نظریات کو غالب پانے سے روکنے کے لیے اس عقیدے کا دلوں میں پختہ ہونا نہایت ضروری ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد بیان کرتے ہیں کہ قیامت کے دن کسی کی کوئی سفارش یا زور نہیں چلے گا، صرف اللہ کی مختارِ مطلق بادشاہی ہوگی۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اس دنیا میں بھی حقیقی طاقت اور اختیار بالآخر اللہ ہی کے پاس ہے، اور اس حقیقت کو جان کر ہمیں اپنی سماجی اور سیاسی زندگی میں بھی عدل اور حق پرستی کی بنیاد رکھنی چاہیے۔

عملی زندگی کی رہنمائی

اس آیت کی ہر رکعت میں تلاوت ایک روحانی تشخیص کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری زندگی محض دنیاوی کامیابیوں اور ناکامیوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ ایک امتحان گاہ ہے جس کا نتیجہ ایک بڑے دن ظاہر ہوگا۔ اس سے ہمارے اندر نیک اعمال (`العمل الصالح`) کرنے اور گناہوں (`المعاصي والسيئات`) سے بچنے کا محرک پیدا ہوتا ہے۔ یہ ہمیں امید دلاتی ہے کہ ہماری چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی ضائع نہیں ہوگی اور ساتھ ہی یہ خوف بھی پیدا ہوتا ہے کہ ہر عمل کا حساب لیا جائے گا۔ یہ آیت ہمیں زندگی کے ہر موڑ پر اللہ کی طرف رجوع کرنے اور اس کی مدد طلب کرنے کی ترغیب دیتی ہے، کیونکہ وہی یوم جزا کا مالک ہے اور اسی کے ہاتھ میں تمام اختیار ہے۔

مآخذ: Israr Ahmad (Bayan ul Quran), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Tazkirul Quran, Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)

روابط

عزیز قاری، ہم سورۃ الفاتحہ کی چوتھی آیت، `مَٰلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ` (انصاف کے دن کا مالک) پر گہرا غور و فکر (تدبر) کرتے ہیں۔ یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اس کائنات کا رب ہی روزِ قیامت کا بلاشرکت غیرے مالک و مختار ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، لہٰذا آئیے اسے عاجزی، احترام اور کھلے دل سے سنیں۔

پہلی آیات سے ربط

یہ آیت اپنے سے پہلے کی آیات `الحمد لله رب العالمين` (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے) اور `الرحمن الرحيم` (انتہائی مہربان، بہت رحم کرنے والا) کے ساتھ ایک خوبصورت تعلق رکھتی ہے۔ امام طنطاوی بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حمد کے وجوہات بیان کرنے کے بعد، اپنے رحم اور کرم کا تذکرہ کرنے کے فوراً بعد، یہ واضح کیا کہ وہ `مَٰلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ` ہے۔

علامہ بقاعی اس تعلق کو اس طرح واضح کرتے ہیں کہ رب ہونا، جو پرورش کرنے والا اور مہربان ہے، اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کے پاس کامل اختیار اور مالکیت بھی نہ ہو۔ صرف رحمان اور رحیم کہنا ہی کافی نہیں، بلکہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ وہی حاکمِ مطلق ہے جو اپنے اختیارات کا استعمال کرتا ہے۔ امام حسن البنا (جیسا کہ صابونی نے نقل کیا) نے بھی اس ربط کی وضاحت کی ہے کہ اللہ کی اپنے بندوں کی تربیت ترغیب (رحمت سے امید دلانا) اور ت رہیب (عدل و حساب سے ڈرانا) دونوں پر مبنی ہے۔ چنانچہ `الرحمن الرحيم` کے بعد `مَٰلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ` آکر عدل و حساب کا پہلو واضح کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کی تکمیل کرتا ہے۔

قرآن کے وسیع تر تناظر میں

`یوم الدین` یعنی انصاف کا دن، جس میں ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ علامہ شنقیطی فرماتے ہیں کہ قرآن خود ہی اپنی آیات کی تفسیر کرتا ہے۔ اس آیت میں `یوم الدین` کی مکمل وضاحت نہیں کی گئی، مگر سورۃ الانفطار (82:17-19) میں اسے یوں بیان کیا گیا ہے: `وَما أَدْراكَ ما يَوْمُ الدِّينِ، ثُمَّ ما أَدْراكَ ما يَوْمُ الدِّينِ، يَوْمَ لا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَيْئًا وَٱلْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِلَّهِ` (تمہیں کیا معلوم کہ انصاف کا دن کیا ہے؟ پھر تمہیں کیا معلوم کہ انصاف کا دن کیا ہے؟ وہ دن جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے لیے کچھ بھی کرنے کا اختیار نہیں رکھے گا، اور اس دن سارا اختیار اللہ ہی کا ہوگا۔) یہ آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ اس دن اللہ تعالیٰ کی مالکیت و اختیار قطعی اور کامل ہو گا۔

علامہ بقاعی مزید وضاحت کرتے ہیں کہ `یوم الدین` کا مطلب صرف آخرت کا دن نہیں، بلکہ جزاء و سزا کا آغاز دنیا میں بھی ہو جاتا ہے، اگرچہ وہ ہم سے اکثر پوشیدہ رہتا ہے۔ جب کوئی بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ لگ جاتا ہے، اور دنیا میں آنے والی مصیبتیں (جیسے بیماری) بھی اللہ کی طرف سے جزاء ہی ہوتی ہیں۔ اس طرح، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت دونوں میں `مَٰلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ` ہے۔

سورۃ الفاتحہ کا مرکزی پیغام

سورۃ الفاتحہ کو "ام الکتاب" (کتاب کی ماں) کہا جاتا ہے کیونکہ یہ پورے قرآن کے بنیادی مقاصد اور معانی کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ دین کے اصولوں، عقیدے، عبادت اور آخرت کے تصور کو اجمالی طور پر پیش کرتی ہے۔ `مَٰلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ` کی آیت دراصل یوم آخرت پر ایمان کے بنیادی رکن کو مضبوط کرتی ہے، جو عقیدے کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ آیت بندے کو اپنے خالق سے دعا اور رہنمائی طلب کرنے سے پہلے، اللہ تعالیٰ کی عظمت، رحمت اور اس کے کامل عدل و اختیار کا ایک جامع تعارف کراتی ہے۔

آپ کے لیے اس کا مفہوم

جب ہم نماز کی ہر رکعت میں `مَٰلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ` کی تلاوت کرتے ہیں، تو یہ صرف الفاظ کی ادائیگی نہیں ہوتی، بلکہ یہ روزِ آخرت کی یاد دہانی ہوتی ہے۔ یہ ہمیں اعمالِ صالحہ سے تیاری کرنے اور گناہوں سے بچنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اس دن کوئی دوسرا کسی کے لیے کچھ نہیں کر پائے گا، اور سارا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہو گا۔ یہ جاننا ہمارے دلوں میں اپنے خالق کے لیے مراقبے (خود احتسابی) کا احساس گہرا کرتا ہے اور ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ آیت ہمیں اللہ کی مطلق بادشاہت کی یاد دلاتے ہوئے ایک گہرا قلبی سکون اور مقصد عطا کرتی ہے۔

مآخذ: al-Wasit (Tantawi), al-Biqa'i (Nazm al-Durar), al-Shinqiti (Adwa al-Bayan), al-Sabuni (Safwat al-Tafasir)

حکمت

یہ آیت، سورۃ الفاتحہ کی چوتھی آیت، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حاکمیت اور عدل کا ایک عظیم اعلان ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ روزِ جزا کا مالک ہے۔

`مالك` اور `دین` کا مطلب

اس آیت میں "مالک" (`مالك`) کا مطلب ہے ایسا آقا جو کسی چیز پر مکمل اختیار رکھتا ہو، اسے اپنی مرضی کے مطابق تصرف میں لا سکے اور اس کا پورا اختیار رکھتا ہو۔ جبکہ "دین" (`الدين`) سے مراد جزا، حساب اور بدلہ کا دن ہے۔ لہٰذا، "مالک یوم الدین" (`مالك يوم الدين`) کا مطلب ہے روزِ جزا کا مکمل مالک اور حکمران۔ یہ وہ دن ہوگا جب ہر عمل کا حساب لیا جائے گا، چاہے وہ اچھا ہو یا برا۔ جیسا کہ مفسرین نے وضاحت کی ہے، جیسے ابن الجوزی، `الدين` کا مطلب ہے حساب اور جزا۔

یہاں یوم الدین کا خاص ذکر کیوں؟

ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمام زمانوں اور ہر چیز کا مالک ہے، تو پھر "یوم الدین" (روزِ جزا) کا خاص ذکر کیوں کیا گیا؟ مفسرین اس کی کئی وجوہات بیان کرتے ہیں۔ المعارف القرآن کے مفتی شفیع صاحب کے مطابق، دنیا میں انسانوں کو ایک عارضی اور ظاہری ملکیت دی گئی ہے، جس کی وجہ سے وہ اکثر تکبر اور غفلت میں ڈوب جاتے ہیں۔ لیکن "مالک یوم الدین" (`مالك يوم الدين`) کا اعلان ایک تنبیہ ہے کہ یہ تمام ملکیتیں اور تعلقات فانی ہیں۔ ایک دن آئے گا جب کوئی بھی کسی چیز کا مالک نہیں ہوگا، اور ہر ظاہر و باطن پر مکمل ملکیت صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ہوگی۔

امام قرطبی اور السعدی کے تفاسیر سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ روزِ جزا میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت، عدل اور حکمت پوری طرح نمایاں ہو جائیں گی۔ دنیا میں فرعون اور نمرود جیسے کئی حکمران خود کو مالک یا خدا سمجھتے تھے، لیکن اس دن کوئی بھی اللہ کی ملکیت میں نزاع نہیں کرے گا۔ بادشاہ، رعایا، غلام اور آزاد سب اللہ کی عظمت کے سامنے سر جھکا دیں گے، اور ہر کوئی اپنے اعمال کی جزا یا سزا کا منتظر ہوگا۔

ہمارے لیے اس سے کیا سبق؟

اس آیت میں ہمارے لیے گہرے اسباق پوشیدہ ہیں۔
* خود کو پہچاننا: یہ ہمیں ہماری عارضی حیثیت کی یاد دلاتی ہے۔ دنیا میں ہماری کوئی بھی کامیابی، مال و دولت، یا اختیار مستقل نہیں ہے۔ یہ سب اللہ کی طرف سے ایک آزمائش اور عارضی امانت ہے۔
* تکبر سے بچنا: جب ہم اللہ تعالیٰ کو "مالک یوم الدین" (`مالك يوم الدين`) تسلیم کرتے ہیں، تو ہمیں اپنے اندر تکبر یا غرور پیدا نہیں ہونے دینا چاہیے۔ آج جو اقتدار، دولت یا اختیار ہمارے پاس ہے، وہ کل ہم سے چھین لیا جائے گا۔
* عمل کا شعور: یہ آیت ہر مسلمان کو آخرت کے دن کی یاد دلاتی ہے، اور اسے نیک اعمال کرنے اور گناہوں سے بچنے کی ترغیب دیتی ہے۔ مفتی شفیع صاحب کے مطابق، دنیا صرف عمل کی جگہ ہے، انعام یا مکمل جزا کی نہیں۔ حقیقی اور مکمل جزا و سزا آخرت میں ملے گی۔
* عدل کی امید: یہ آیت ان لوگوں کے لیے سکون کا باعث ہے جو دنیا میں ظلم کا شکار ہوتے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ ایک دن ہر چھوٹے بڑے عمل کا عدل و انصاف کے ساتھ حساب ہوگا، اور کوئی کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔
* معاملات میں احتیاط: جب ہم جانتے ہیں کہ ایک دن ہمیں اللہ کے حضور پیش ہونا ہے، تو ہم اپنے ہر معاملے میں زیادہ محتاط ہو جاتے ہیں، اپنے فرائض ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور اپنے حقوق و واجبات کو احسن طریقے سے نبھاتے ہیں۔

لہٰذا، جب بھی ہم یہ آیت پڑھیں، ہمیں اللہ کی بے مثال حاکمیت کو دل و جان سے تسلیم کرتے ہوئے، اپنی آخرت کی تیاری کرنی چاہیے اور ہر اس کام سے بچنا چاہیے جو اس عظیم دن میں ہمارے لیے ندامت کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ آیت ہمیں ہر وقت اللہ سے مدد مانگنے اور اسی پر توکل کرنے کا درس دیتی ہے۔

مآخذ: Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), al-Qurtubi (al-Jami li-Ahkam), al-Saadi (Taysir al-Karim), Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)

وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے

یہ آیت Maani کے 7 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔

قرآن کے تمام موضوعات دیکھیں

اس آیت پر غور کریں

Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔

Maani کے ساتھ اس آیت پر غور کریں