سورۃ البقرہ، آیت 183
سُورَةُ البَقَرَةِ · مدنی · آیت 183 / 286
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
اردو ترجمہ
مومنو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں۔ جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو
اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔
معنی اور غور و فکر
الفاظ کا انتخاب
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے تم پر روزے فرض کیے ہیں، جیسا کہ تم سے پہلی امتوں پر فرض کیے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔ یہ آیت مومنوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیتی ہے اور اس عبادت کی گہری حکمتوں کو بیان کرتی ہے۔ آئیں اس کے الفاظ میں چھپی خوبصورتی اور معانی پر غور کریں۔
پکار اور حکم
آیت کا آغاز پکار کے ساتھ ہوتا ہے: ﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟﴾ (اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو). ابن عاشور کہتے ہیں کہ یہ پکار ان الفاظ میں پوشیدہ گہری اہمیت اور توجہ کا اظہار کرتی ہے جو اس کے بعد آنے والے ہیں۔ یہ براہ راست مومنین سے مخاطب ہے، اس بات پر زور دیتا ہے کہ یہ حکم ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور اس کی شریعت پر عمل کرتے ہیں۔
پھر حکم آتا ہے: ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلصِّيَامُ﴾ (تم پر روزہ فرض کیا گیا). یہاں "کُتِبَ" (لکھا گیا، فرض کیا گیا) کا صیغہ مجہول استعمال ہوا ہے، یعنی فعل کا فاعل ذکر نہیں کیا گیا (کس نے فرض کیا؟)۔ یہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ یہ فرض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اور اس کی فرضیت قطعی ہے۔ یہ ایک غیر مشروط اور لازمی حکم ہے۔ "الصِّيَامُ" (روزہ) کا لفظ اپنے ساتھ الف لام (ال) کے ساتھ ایک معروف، مخصوص قسم کے روزے کی طرف اشارہ کرتا ہے، اگرچہ اس کی مزید تفصیلات بعد میں آئیں۔ امام رازی اور ابن عاشور وضاحت کرتے ہیں کہ لغوی طور پر صوم کا مطلب کسی چیز سے رکنا ہے، لیکن شرعی اصطلاح میں یہ مخصوص وقت میں کھانے پینے اور ازدواجی تعلقات سے پرہیز کا نام ہے۔
پچھلی امتوں سے مشابہت
آیت کا اگلا حصہ ہے: ﴿كَمَا كُتِبَ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ﴾ (جیسا کہ تم سے پہلی امتوں پر فرض کیا گیا تھا). یہ تشبیہ ایک اہم لغوی نکتہ ہے۔ ابن عاشور اور امام رازی کے مطابق، یہ مشابہت روزے کی *اصلی فرضیت* میں ہے، یعنی یہ عبادت صرف مسلمانوں پر نہیں بلکہ پہلے انبیاء اور ان کی امتوں پر بھی فرض تھی۔ یہ ہر تفصیل میں مماثلت کا مطلب نہیں، بلکہ روزے کے بنیادی تصور اور فرضیت کی ہمہ گیریت کو بیان کرتا ہے۔
اس تشبیہ کے تین بڑے مقاصد ہیں:
1. اہمیت بڑھانا: یہ اس عبادت کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ صرف ایک وقتی حکم نہیں بلکہ ایک ایسی عبادت ہے جو صدیوں سے چلی آ رہی ہے اور ہر زمانے کے صالحین کی پہچان رہی ہے۔
2. بوجھ ہلکا کرنا: اس سے روزہ رکھنے والوں کے لیے آسانی پیدا ہوتی ہے۔ جب انسان جانتا ہے کہ یہ فرض صرف اس پر نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی بہت سے لوگوں پر تھا، تو اسے نبھانا آسان ہو جاتا ہے۔
3. عزائم کو ابھارنا: اس سے مسلمانوں کے اندر ایک جوش پیدا ہوتا ہے کہ وہ اس عبادت کو پچھلی امتوں سے بھی بہتر طریقے سے انجام دیں۔
تقویٰ کا مقصد
آخر میں، آیت اس عبادت کا حتمی مقصد بیان کرتی ہے: ﴿لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ (تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ). یہاں "لَعَلَّ" کا مطلب صرف امید نہیں بلکہ حکم کا مطلوبہ نتیجہ اور حکمت ہے۔ "تَتَّقُونَ" (تقویٰ اختیار کرو) کا مطلب اللہ کا خوف رکھنا، گناہوں سے بچنا اور اس کی اطاعت کرنا ہے۔
امام رازی اور ابن عاشور اس بات کو بہت خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں کہ روزہ کیسے تقویٰ کی طرف لے جاتا ہے۔ روزہ انسان کی جسمانی خواہشات (جیسے بھوک، پیاس، اور شہوت) کو توڑتا اور قابو کرتا ہے، جو اکثر گناہوں کا باعث بنتی ہیں۔ اس طرح یہ جسمانیت پر روحانیت کو غالب آنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ جب انسان انتہائی پسندیدہ چیزوں (جیسے کھانا پینا) سے اللہ کی رضا کے لیے پرہیز کر سکتا ہے، تو دیگر گناہوں سے بچنا بھی اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ روزہ ایک ڈھال ہے، جو اسے گناہوں، آخرت کے عذاب اور بے اعتدالی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچاتا ہے۔
اس آیت کے الفاظ ہمیں روزے کی فرضیت، اس کی تاریخی جڑیں اور اس کے عظیم روحانی مقصد کی یاد دلاتے ہیں۔ یہ ہمیں اللہ کی آواز سے جڑنے اور تقویٰ کی گہرائیوں میں اترنے کی دعوت دیتی ہے۔
مآخذ: Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir), al-Zamakhshari (al-Kashshaf), al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi), al-Razi (Mafatih al-Ghayb), al-Jalalayn
وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے
یہ آیت Maani کے 20 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔
اس آیت پر غور کریں
Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔