سورۃ الحجر، آیت 39

سُورَةُ الحِجۡرِ · مکی · آیت 39 / 99

قَالَ رَبِّ بِمَآ أَغْوَيْتَنِى لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ

اردو ترجمہ

(اس نے) کہا کہ پروردگار جیسا تونے مجھے رستے سے الگ کیا ہے میں بھی زمین میں لوگوں کے لیے (گناہوں) کو آراستہ کر دکھاؤں گا اور سب کو بہکاؤں گا

اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔

معنی اور غور و فکر

الفاظ کا انتخاب

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سورۃ الحجر کی اس آیت میں ابلیس اپنی سرکشی اور نافرمانی کے بعد اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہو کر ایک عزم کا اظہار کر رہا ہے۔ یہ آیت ہمیں شیطان کے عزائم اور انسانوں کے لیے اس کی حکمت عملی کو سمجھنے کا ایک قیمتی موقع فراہم کرتی ہے۔

شیطان کا اعلان

آیت کا آغاز ابلیس کے الفاظ `قَالَ رَبِّ` (قَالَ رَبِّ, اس نے کہا، اے میرے رب) سے ہوتا ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اپنی بغاوت کے باوجود، ابلیس اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اقرار کر رہا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے ایک عزم کا اعلان کرتا ہے جو تمام انسانیت کے لیے ایک واضح انتباہ ہے۔

'اَغْوَیْتَنِی' کا مفہوم

ابلیس کہتا ہے `بِمَا أَغْوَيْتَنِي` (بِمَآ أَغْوَيْتَنِى), یعنی "اس وجہ سے کہ تو نے مجھے گمراہ کیا" یا "میری گمراہی کا سبب بنا"۔ یہاں `باء` (ba) حرفِ جار سببیت (عِلّت) کو ظاہر کرتا ہے، اور `ما` (ma) موصولہ ہے۔ ابن عاشور کے مطابق، اس کا مطلب ہے: "اس وجہ سے کہ تو نے مجھے غاوی (گمراہ) پیدا کیا۔" یہ ایک قسم کا الزام ہے جو ابلیس اللہ تعالیٰ پر لگا رہا ہے، اور وہ اپنی گمراہی کی ذمہ داری اللہ پر ڈال کر اپنے شیطانی عزائم کو تقویت دیتا ہے۔ دوسرے علماء کے نزدیک، یہاں `باء` (ba) قسم کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے، یعنی "میں قسم کھاتا ہوں تیری اس بات کی کہ تو نے مجھے گمراہ کیا"۔ یہ دونوں تشریحات ابلیس کے اس دعوے کو نمایاں کرتی ہیں کہ اس کی گمراہی کا آغاز کسی نہ کسی طرح اللہ کے حکم سے ہوا۔

زمین میں خوبصورتی

ابلیس پھر قسم کھاتے ہوئے کہتا ہے `لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ` (لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي ٱلْأَرْضِ), یعنی "میں انہیں زمین میں خوبصورت بنا کر دکھاؤں گا"۔ یہاں `ل` (lam) تاکید کے لیے ہے اور اس میں ایک چھپی ہوئی قسم کا مفہوم پایا جاتا ہے، جیسا کہ سورہ ص کی آیت ٨٢ میں صراحت سے بیان ہوا ہے (`فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ`)۔ `تزيين` (tazyin) کا مطلب ہے کسی چیز کو حسین یا دلفریب بنا دینا۔ یہاں وہ بُرے اور گناہ کے کاموں کو انسانوں کے لیے حسین بنا کر پیش کرنے کی بات کر رہا ہے، تاکہ وہ انہیں اچھے لگنے لگیں اور وہ ان میں مشغول ہو جائیں۔ `فِي الْأَرْضِ` (فِي ٱلْأَرْضِ, زمین میں) کا اضافہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ابلیس کو جنت سے نکال کر زمین پر بھیجا گیا تھا، اور اب وہ اسی میدان میں بنی آدم کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے گا، تاکہ اس کا اثر زمین پر ہر چیز اور ہر حالت پر پھیلے۔

ہر ایک کو بہکانے کی قسم

اس کا اگلا عزم ہے `وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ` (وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ), یعنی "اور میں ان سب کو گمراہ کروں گا"۔ `إغواء` (ighwa') کا مطلب ہے راہ راست سے بھٹکا دینا یا گمراہ کرنا۔ ابلیس کا یہ قول `أَجْمَعِينَ` (أَجْمَعِينَ, سب کے سب) اس کے اس وسیع اور مکمل ارادے کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ بنی آدم میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑے گا اور سب کو گمراہی کی طرف دھکیل دے گا۔ یہ اس کی شدید دشمنی اور عزم کا مظہر ہے۔

استثناء اور تحفظ

تاہم، ابلیس اپنے عزم میں ایک استثناء بھی بیان کرتا ہے: `إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ` (إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ ٱلْمُخْلَصِينَ), یعنی "سوائے تیرے ان بندوں کے جو مخلص ہوں"۔ یہ ایک اہم نقطہ ہے کیونکہ اس سے ابلیس کی طاقت کی حد بھی ظاہر ہوتی ہے۔ مفسرین نے `المُخْلَصِينَ` (المُخْلَصِينَ) کی دو قراءتیں بیان کی ہیں۔ ایک قراءت میں 'لام' پر فتحہ ہے، جس کا مطلب ہے "وہ جنہیں اللہ نے خود خالص کر لیا ہے" یا "جنہیں پاکیزہ بنا دیا ہے"۔ دوسری قراءت میں 'لام' پر کسرہ ہے، جس کا مطلب ہے "وہ جنہوں نے اپنے عمل میں اللہ کے لیے اخلاص پیدا کیا"۔ دونوں صورتوں میں، یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ شیطان صرف انہی لوگوں کو گمراہ نہیں کر سکتا جو اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ یہ اخلاص چاہے اللہ کی توفیق سے حاصل ہو یا بندے کی اپنی کوشش سے، یہ شیطان کے حملوں کے خلاف ایک مضبوط ڈھال ہے۔

یہ آیت ہمیں شیطان کی حکمت عملی سے آگاہ کرتی ہے کہ وہ برائیوں کو خوبصورت بنا کر دکھاتا ہے اور ہر ممکن طریقے سے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ساتھ ہی، یہ ہمیں مخلص بندوں کے لیے اللہ کی حفاظت اور شیطان کی محدود طاقت کے بارے میں بھی بتاتی ہے۔

مآخذ: Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir), al-Zamakhshari (al-Kashshaf), al-Jalalayn, al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi), al-Razi (Mafatih al-Ghayb)

قرآنی دنیا

یہ آیت اللہ تعالیٰ کے ساتھ ابلیس کے مکالمے کو بیان کرتی ہے۔ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار اور پھر راندہ درگاہ ہونے کے بعد، ابلیس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک مہلت مانگی تھی۔ یہ آیت اس مہلت کے بعد کا اس کا ایک شیطانی عہد ہے۔ اس میں ابلیس، جو خود کو اللہ کی رحمت سے محروم پا چکا تھا، اپنے گمراہی کے منصوبے کا اعلان کر رہا ہے۔

ابلیس کا اعلان

ابلیس نے کہا: `قَالَ رَبِّ بِمَآ أَغْوَيْتَنِى` (اس نے کہا: اے میرے رب! جس طرح تو نے مجھے گمراہ کیا)۔ مفسرین جیسے کہ امام طبری اور امام رازی کے مطابق، یہاں `بِمَآ أَغْوَيْتَنِى` میں 'با' (ب) قسم کے لیے بھی ہو سکتی ہے یا سبب کے لیے بھی، یعنی "تیری وجہ سے مجھے جو گمراہی ملی" یا "میں قسم کھاتا ہوں تیری گمراہی کے سبب"۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ نے اسے گمراہ کیا بلکہ یہ ابلیس کی اپنی ضد اور سرکشی تھی جس کی وجہ سے وہ اللہ کی رحمت سے محروم ہوا۔ امام بغوی کے مطابق، `اغویتنی` کا ایک مفہوم "مجھے اپنی رحمت سے مایوس کر دیا" بھی ہے۔ اپنی اس مایوسی اور بغاوت کے نتیجے میں، ابلیس نے انسانوں کو گمراہ کرنے کا تہیہ کیا۔

زمین میں اس کی چال

ابلیس نے صاف لفظوں میں اعلان کیا: `لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ` (میں زمین میں ان کے لیے (برائیوں کو) آراستہ کروں گا) اور `وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ` (اور ان سب کو گمراہ کروں گا)۔ سید قطب اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ابلیس نے اپنا میدان جنگ اور اپنے ہتھیار کا اعلان کر دیا: وہ زمین میں انسان کے خلاف جنگ کرے گا اور اس کا ہتھیار یہ ہوگا کہ وہ غلط اور نقصان دہ اعمال کو انسانوں کے لیے خوشنما بنا دے گا۔ وہ برے کو بھلا بنا کر پیش کرے گا اور مصنوعی خوبصورتیوں کے ذریعے لوگوں کو فریب میں مبتلا کرے گا۔ یہ دراصل انسان کی آزمائش اور امتحان کی بنیاد ہے۔

کون محفوظ ہیں؟

تاہم، ابلیس نے اپنے اس شیطانی منصوبے میں ایک استثنائی گروہ کا ذکر خود کیا۔ اس نے کہا: `إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ ٱلْمُخْلَصِينَ` (سوائے تیرے ان بندوں کے جو خالص کیے گئے ہیں)۔ امام رازی بتاتے ہیں کہ `ٱلْمُخْلَصِينَ` سے مراد وہ بندے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت، ایمان اور توفیق کے ذریعے اپنے لیے خالص کر لیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے لیے اپنی اطاعت اور عبادت کو ہر قسم کی آمیزش سے پاک کر لیا۔ سید قطب بیان کرتے ہیں کہ ابلیس یہ استثناء اس لیے کرتا ہے کہ وہ جانتا تھا کہ اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ اپنے کچھ بندوں کو خالص کر لے گا۔ ایسے بندے اللہ کی حمایت اور نگرانی میں ہوتے ہیں اور ان پر شیطان کے ہتھکنڈے کارگر نہیں ہوتے۔

ہمارے لیے سبق

"قرآنی جہان" کے آئینے میں یہ آیت ہمیں بنیادی حقائق کی طرف لوٹاتی ہے۔ یہ دنیا کے اس روحانی جنگ کا آغاز اور اس کی حقیقت بیان کرتی ہے جو تخلیق آدم کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھی۔ یہ آیت ہمیں اس "دنیاوی جہان" کے خطرات سے آگاہ کرتی ہے، جہاں ابلیس ہر لمحہ ہمارے اعمال اور خواہشات کو خوبصورت بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے اس اعلان کو سن کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنی زندگی میں ہر وسوسے اور گناہ کی ترغیب کو اسی ابلیسی منصوبے کا حصہ سمجھا ہو گا۔ آج بھی ہمارے لیے یہ ایک انتباہ ہے کہ شیطان کی سب سے بڑی چال یہ ہے کہ وہ برائی کو برائی کے روپ میں نہیں بلکہ بھلائی اور خوبصورتی کے لباس میں پیش کرتا ہے۔ اس سے بچنے کا واحد راستہ اللہ کے مخلص بندوں میں شامل ہونا ہے، جو اپنے آپ کو اللہ کے لیے خالص کر لیتے ہیں۔

مآخذ: Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), al-Baghawi (Maalim al-Tanzil), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), al-Tabari (Jami al-Bayan), Ibn Kathir, al-Razi (Mafatih al-Ghayb)

وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے

یہ آیت Maani کے 10 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔

قرآن کے تمام موضوعات دیکھیں

اس آیت پر غور کریں

Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔

Maani کے ساتھ اس آیت پر غور کریں