سورۃ الناس، آیت 2
سُورَةُ النَّاسِ · مکی · آیت 2 / 6
مَلِكِ ٱلنَّاسِ
اردو ترجمہ
(یعنی) لوگوں کے حقیقی بادشاہ کی
اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔
معنی اور غور و فکر
الفاظ کا انتخاب
سورۃ الناس کی دوسری آیت `مَلِكِ ٱلنَّاسِ` (ملک الناس) ایک گہرے مفہوم کی حامل ہے جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کو بیان کرتی ہے۔ یہ آیت سورہ کی پہلی آیت `قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ` (کہہ دیجیے کہ میں لوگوں کے رب کی پناہ مانگتا ہوں) کے فوراً بعد آتی ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ذریعے تمام مومنوں کو یہ سکھا رہے ہیں کہ وہ اپنی پناہ کس ہستی سے طلب کریں۔ اس کا لہجہ رہنمائی پر مبنی اور تسلی بخش ہے۔
آیت کا بنیادی مفہوم
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کو "لوگوں کا بادشاہ" کہا گیا ہے۔ اس سے مراد وہ ہستی ہے جو لوگوں کے تمام معاملات کی مختار ہے، ان سے بے نیاز ہے، اور ان پر مکمل اختیار رکھتی ہے۔ یہ پناہ مانگنے والے کے دل میں اللہ کی مکمل حاکمیت اور طاقت کا احساس پیدا کرتا ہے۔
لفظوں کا انتخاب اور تاکید
"Wording" کے عدسے سے دیکھیں تو یہاں `مَلِكِ` (`Malik`) کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے "بادشاہ" یا "حاکمِ اعلیٰ"۔ یہ `مَالِكِ` (`Maalik`) سے مختلف ہے جس کا مطلب "مالک" ہوتا ہے۔ امام رازی (al-Razi) جیسے علماء نے وضاحت کی ہے کہ `رَبِّ النَّاسِ` (رب الناس) میں "رب" کا لفظ پہلے ہی مالک ہونے کے معنی دیتا ہے۔ `مَلِكِ النَّاسِ` کا انتخاب اس بات پر زور دیتا ہے کہ اللہ صرف لوگوں کا مالک ہی نہیں بلکہ ان کا مطلق بادشاہ بھی ہے جو ان کے تمام امور میں تصرف کرتا ہے، ان پر مکمل اقتدار رکھتا ہے اور کسی کا محتاج نہیں۔ `مَلِكِ النَّاسِ` کا جملہ `رَبِّ النَّاسِ` کے لیے `عطفِ بیان` (`atf bayan`) ہے، یعنی یہ پہلے والے لفظ کی مزید وضاحت اور تفصیل پیش کرتا ہے تاکہ اللہ کی ربوبیت کی حقیقت کو مزید واضح کیا جا سکے۔
'الناس' کی تکرار کا مقصد
اس آیت میں اور اس سے پہلے اور بعد کی آیات میں لفظ `النَّاسِ` (الناس، یعنی "لوگ") کو بار بار دہرایا گیا ہے۔ علامہ ابن عاشور (Ibn Ashur) اور امام زمخشری (al-Zamakhshari) جیسے مفسرین نے اس تکرار کو اہم قرار دیا ہے۔ عام طور پر، عربی زبان میں جب ایک ہی بات کا ذکر ہو تو ضمیر (pronoun) استعمال کیا جاتا ہے، لیکن یہاں `النَّاسِ` کی بار بار وضاحت اس بات پر زور دینے کے لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، بادشاہت اور الوہیت خاص طور پر `تمام انسانوں` کے لیے ہے۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ یہ تکرار لوگوں کے شرف کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ اللہ نے اپنی ذات کی پہچان ان کی نسبت سے کرائی ہے۔ یہ تاکید ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ اللہ کی حکمرانی ہر انسان کے ہر پہلو پر محیط ہے۔
عظمتِ الٰہی کا تدریجی بیان
سورت الناس کی ابتدائی آیات `رَبِّ ٱلنَّاسِ`، `مَلِكِ ٱلنَّاسِ`، `إِلَهِ ٱلنَّاسِ` میں اللہ تعالیٰ کے تین اہم ناموں کو تدریجی انداز میں ذکر کیا گیا ہے۔ امام رازی اور علامہ ابن عاشور کے مطابق یہ ایک خوبصورت لسانی ترتیب ہے جو اللہ کی پہچان میں گہرائی پیدا کرتی ہے۔
1. `رَبِّ النَّاسِ` (رب الناس): سب سے پہلے رب کا ذکر ہے جو پروردگار، پالنے والا، اور انتظام کرنے والا ہے۔ یہ اللہ کی نعمتوں اور ہماری پرورش کا احساس دلاتا ہے۔
2. `مَلِكِ النَّاسِ` (ملک الناس): اس کے بعد بادشاہ کا ذکر ہے جو اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ہمارا رب صرف پالنے والا ہی نہیں بلکہ مطلق حاکم اور بے نیاز بادشاہ بھی ہے جس کا ہر چیز پر مکمل اختیار ہے۔
3. `إِلَهِ النَّاسِ` (الہ الناس): آخر میں الٰہ (معبود) کا ذکر ہے جو یہ سکھاتا ہے کہ یہ رب اور ملک اپنی عظمت اور قدرت کی وجہ سے واحد ہستی ہے جو عبادت کے لائق ہے۔
یہ تدریجی بیان ہمیں اللہ کے بارے میں ایک مکمل اور گہرا تصور دیتا ہے، اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جس سے ہم پناہ مانگ رہے ہیں وہ ایک ایسی ذات ہے جو نہ صرف ہمیں پالنے والی ہے بلکہ ہر چیز پر مکمل حکمرانی بھی رکھتی ہے اور وہی ہماری حقیقی معبود ہے۔
مآخذ: al-Jalalayn, al-Zamakhshari (al-Kashshaf), Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir), al-Razi (Mafatih al-Ghayb), al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi)
قرآنی دنیا
سورت الناس کی اس دوسری آیت میں، اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے آپ کو انسانیت کے بادشاہ کے طور پر متعارف کراتے ہیں۔ یہ فرمان کہ "مَلِكِ ٱلنَّاسِ" (لوگوں کا بادشاہ)، پہلی آیت "رَبِّ ٱلنَّاسِ" (لوگوں کا پروردگار) کے بعد آتا ہے اور آگے "إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ" (لوگوں کا معبود) کی تمہید بنتا ہے۔ اس کے ذریعے ہم اس ہستی کی عظمت اور اختیار کو سمجھ پاتے ہیں جس سے پناہ طلب کی جا رہی ہے۔
کس سے بات کی جا رہی ہے؟
یہ کلام براہ راست نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کر کے نازل ہوا ہے، تاکہ وہ اللہ کی پناہ طلب کریں، اور ان کے ذریعے پوری امت کو یہ سکھایا جا رہا ہے کہ وہ تمام برائیوں سے بچنے کے لیے اسی عظیم ہستی کی پناہ میں آئیں۔ یہ ہدایت اور تسلی کا لہجہ ہے۔
بادشاہت کا مفہوم
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفت `مَلِكِ ٱلنَّاسِ` (لوگوں کا بادشاہ) بیان کی گئی ہے۔ سیدھا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہی تمام انسانوں کے معاملات کا انتظام کرنے والا ہے اور وہ ان سب سے بے نیاز ہے۔ `ملك` (بادشاہ) کا لفظ اللہ کی مطلق بادشاہی اور حاکمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ جیسے کہ امام رازی کہتے ہیں، اللہ اگرچہ تمام مخلوقات کا رب (`رَبّ`) ہے، لیکن یہاں خاص طور پر "لوگوں کا بادشاہ" کہا گیا ہے کیونکہ جس شر سے پناہ مانگی جا رہی ہے (یعنی وسوسوں) وہ خاص طور پر انسانوں کو متاثر کرتا ہے۔
انسانی دنیا میں، ایک بادشاہ وہ ہوتا ہے جو حکمرانی کرتا ہے اور اپنے رعایا پر اختیار رکھتا ہے۔ لیکن اللہ کی بادشاہت (`ملك`) دنیاوی بادشاہوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اس کی بادشاہت ایسی ہے جس میں وہ نہ صرف حکم دیتا ہے بلکہ ہر شے کو پیدا کرتا، سنبھالتا، اور ہر حال میں اس کا انتظام بھی کرتا ہے۔ دنیا کا کوئی بادشاہ تمام انسانوں کے ہر معاملے پر مکمل اختیار نہیں رکھ سکتا، نہ ہی وہ ان سے مکمل طور پر بے نیاز ہو سکتا ہے۔ لیکن اللہ، جو `مَلِكِ ٱلنَّاسِ` ہے، ہر انسان کے دل کے رازوں سے لے کر اس کے ظاہر و باطن کے تمام معاملات کا مالک و مختار ہے۔ وہ ہر ضرورت سے پاک ہے، جبکہ تمام انسان اس کے محتاج ہیں۔
اس گہری تفہیم سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ جب ہم `مَلِكِ ٱلنَّاسِ` سے پناہ طلب کرتے ہیں، تو ہم اس ہستی سے پناہ مانگتے ہیں جو ہماری تمام تر کمزوریوں کے باوجود، ہمارے اندرونی و بیرونی تمام شر سے بچانے کی مکمل قدرت رکھتی ہے۔ یہ ہمیں یقین دلاتا ہے کہ اس کی پناہ میں ہی حقیقی تحفظ ہے۔
مآخذ: al-Baghawi (Maalim al-Tanzil), Ibn Kathir, Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), al-Razi (Mafatih al-Ghayb)
ذاتی آئینہ
قرآن کی سورت الناس، جس میں ہم پناہ طلب کر رہے ہیں، اس کی دوسری آیت "مَلِكِ ٱلنَّاسِ" (انسانوں کا بادشاہ) ہے۔ یہ آیت ہمیں اللہ تعالیٰ کی مطلق بادشاہی کی یاد دلاتی ہے اور ہماری تمام پناہوں کا مرکز صرف اسی ذات کو ٹھہراتی ہے۔
لفظ کا معنی و مفہوم
"مَلِكِ ٱلنَّاسِ" کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام انسانوں کے حقیقی بادشاہ، حکمران، اور ان کے معاملات کے تنہا مالک ہیں۔ وہ تمام انسانوں کے ہر معاملے میں تصرف کرنے والے ہیں اور ہر ضرورت سے بے نیاز ہیں۔ امام اسرار احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ صرف انسانوں کا رب (پروردگار) ہی نہیں، بلکہ ان کا بادشاہ اور فرمانروا بھی ہے۔ اس کا حکم ہر وقت، ہر جگہ اور ہر چیز پر نافذ ہے۔ ابن الجوزی رحمہ اللہ کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے "لوگوں کا رب" اور "لوگوں کا بادشاہ" اس لیے کہا کیونکہ لوگ دیگر مخلوقات پر معزز ہیں، اور چونکہ پناہ ان کے شر سے مانگی جا رہی ہے، تو بتایا گیا کہ وہی ان کا رب اور بادشاہ ہے جو ان کے شر سے پناہ دے سکتا ہے۔
اللہ کی بادشاہی اور ہم
جب ہم "مَلِكِ ٱلنَّاسِ" پر غور کرتے ہیں تو سب سے پہلے ہمارے اندر عاجزی پیدا ہوتی ہے۔ ہم ایک کمزور مخلوق ہیں جسے لازمی طور پر پناہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ پناہ صرف ایک خدا ہی دے سکتا ہے، جو ہمارا رب اور بادشاہ ہے۔ یہ دل کا ایسا مقام ہے جہاں انسان دنیاوی طاقتوں کی محدودیت کو پہچانتا ہے اور اللہ کی لامحدود قدرت کے سامنے جھک جاتا ہے۔ وہ ہمارا سچا مالک ہے، اور اسی کے حکم سے زندگی کے تمام پہلو چلتے ہیں۔ اس شعور سے دل میں اللہ کے لیے محبت، امید اور ایک گہرا قلبی سکون پیدا ہوتا ہے۔ الشیخ وہبہ الزحیلی کے مطابق، اس سورت میں دین کی سلامتی مطلوب ہے، اور دین کو لاحق خطرات دنیاوی خطرات سے کہیں بڑھ کر ہیں۔
دنیاوی حکمرانی کا آئینہ
یہ آیت ہمارے معاشرتی اور سیاسی شعور کے لیے بھی ایک آئینہ ہے۔ دنیا میں بہت سے بادشاہ، حکمران اور طاقتور لوگ موجود ہیں، لیکن "مَلِكِ ٱلنَّاسِ" یہ واضح کرتا ہے کہ حقیقی اور مطلق بادشاہت صرف اللہ کی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانوں کے بنائے ہوئے کسی بھی نظام یا حکمران کی بادشاہت عارضی اور محدود ہے۔ علامہ مودودی نے اشارہ کیا کہ جب لوگوں میں بادشاہ ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنی بادشاہی کا اعلان کیا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں کسی بھی دنیاوی حکمران یا طاقت میں اتنا غلو نہیں کرنا چاہیے کہ ہم اللہ کی بادشاہت کو فراموش کر دیں۔ اس کے برعکس، ہمیں ہر حکمران کے عمل اور ہر سماجی ڈھانچے کو اللہ کے حکم کے میزان پر پرکھنا چاہیے۔ یہ ایک اہم اصول ہے جو امت مسلمہ کو طاغوتی طاقتوں کے سامنے جھکنے سے روکتا ہے۔
پناہ کا گہرا احساس
"مَلِكِ ٱلنَّاسِ" ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ہمارا حقیقی سہارا، ہمارا نجات دہندہ اور ہمارا محافظ صرف اللہ ہے۔ سید قطب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اللہ کی وہ صفات ہیں جن کے ذریعے ان شرور سے پناہ ملتی ہے جن کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے۔ ہم شیطان کے وسوسوں اور انسانوں کے شر سے اسی وقت بچ سکتے ہیں جب ہم اللہ کی کامل بادشاہت کا اقرار کریں اور اسی کی پناہ میں آئیں۔ یہ آیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے ایمان اور اپنے دین کی حفاظت کے لیے سب سے بڑی طاقت، یعنی اللہ کی پناہ طلب کریں۔
Source: al-Muyassar, Tazkirul Quran, Sayyid Qutb, Israr Ahmad, Ibn al-Jawzi, al-Munir (Wahba al-Zuhayli)
مآخذ: Tazkirul Quran, Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Israr Ahmad (Bayan ul Quran), Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)
روابط
اس آیت پر تدبر کرنے سے پہلے اپنے دل کو اللہ کی بات کے لیے نرم اور کھُلا رکھیں، اور نہایت عاجزی سے یہ سوچیں کہ یہ آیت آپ کے لیے کیا معنی رکھتی ہے۔
آیت کا سادہ مفہوم
سورت الناس کی دوسری آیت `مَلِكِ ٱلنَّاسِ` (Maliki al-Naas) کا مطلب ہے "انسانوں کا بادشاہ،" وہ جو ان کے تمام معاملات میں مکمل تصرف رکھتا ہے اور ان سے بے نیاز ہے۔ پہلی آیت میں اللہ کو "رب الناس" (انسانوں کا رب) کہا گیا، اور اس دوسری آیت میں اسے انسانوں کا "ملک" یعنی بادشاہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جو انسانوں کے ہر چھوٹے بڑے معاملے کا پورا مالک ہے اور ان پر مکمل اختیار رکھتا ہے۔
رب سے بادشاہ کا تعلق
یہاں `رَبِّ النَّاسِ` (انسانوں کا رب) کے فوراً بعد `مَلِكِ ٱلنَّاسِ` (انسانوں کا بادشاہ) کا ذکر کرنا گہرا ربط رکھتا ہے۔ علامہ بقاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ "رب" کا مفہوم شفقت اور تربیت کے قریب ہے، جبکہ "ملک" کا مفہوم غلبے، تصرف اور انصاف کے زیادہ قریب ہے۔ ایک رب ضروری نہیں کہ بادشاہ بھی ہو، اس لیے اس کا تصرف بھی مکمل نہیں ہوتا۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کو "ملک الناس" کہا گیا تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کا تصرف کامل ہے، اس کی قدرت نافذ ہے، اور اس کا اختیار مکمل ہے۔ اسی کی طرف پناہ مانگی جاتی ہے، اسی سے مدد مانگی جاتی ہے، اور اسی کی طرف سب کا لوٹنا ہے۔
علامہ شنقیطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ `رَبِّ النَّاسِ` کے بعد `مَلِكِ ٱلنَّاسِ` کا ذکر عظیم معانی کی طرف ایک تدریجی آگاہی ہے، اور بندوں کو رب کی معرفت سے اللہ کی الوہیت تک پہنچانے کا ایک ذریعہ ہے۔ پہلے انسان اس رب کی ربوبیت کا اقرار کرتا ہے جس کی تخلیق اور رزق دینے کے آثار وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ پھر وہ اس رب کو اپنا بادشاہ تسلیم کرتا ہے جو کائنات کے تمام معاملات پر حکم چلاتا ہے۔ اس کے بعد وہ اللہ کو اپنا "الہ" (معبود) مانتا ہے، کیونکہ وہی عبادت کے لائق ہے۔ یہ ایک ایسا تعلق ہے جو انسان کو اللہ کی ذات کو پہچاننے کی گہری منازل طے کرواتا ہے۔
اللہ کی بادشاہت کا وسعت
`مَلِكِ ٱلنَّاسِ` کا ایک اہم ربط قرآن کی دیگر آیات سے بھی جڑتا ہے۔ علامہ شنقیطی رحمہ اللہ کئی جگہوں سے اس کی وضاحت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت دنیا کے بادشاہوں سے بالکل مختلف ہے۔ انسانوں کا بادشاہ صرف حکمرانی کرتا ہے، وہ مالک نہیں ہوتا۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت مکمل ملکیت، تصرف اور تدبیر پر مبنی ہے۔ جب قیامت کا دن آئے گا تو دنیا کی ہر بادشاہت فنا ہو جائے گی اور صرف اللہ کی بادشاہت باقی رہے گی: `لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ` (الغافر: 16)۔ اسی طرح سورہ فاتحہ میں بھی ہم پڑھتے ہیں `مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ` (روز جزا کا مالک)، جو اللہ کی مطلق بادشاہت کو نمایاں کرتا ہے۔
اس طرح، `مَلِكِ ٱلنَّاسِ` کی آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمارے تمام معاملات کا واحد حقیقی حاکم اللہ تعالیٰ ہی ہے، اور اسی کی طرف رجوع کرنا چاہیے جب ہمیں کسی مشکل کا سامنا ہو۔
آپ کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
یہ آیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اللہ کی بادشاہت لامحدود ہے، وہ ہماری ہر ضرورت اور مشکل کو جانتا ہے اور اس پر مکمل قدرت رکھتا ہے۔ جب آپ یہ پڑھتے ہیں `مَلِكِ ٱلنَّاسِ` تو سوچیں کہ کیا آپ نے حقیقی معنوں میں اسے اپنی زندگی کا بادشاہ مانا ہے؟ کیا آپ اپنی امیدیں اور خوف کسی اور سے وابستہ کرتے ہیں یا صرف اسی بادشاہ سے جو تمام انسانوں کا حقیقی مالک ہے؟ یہ سوچ ہمیں اللہ پر مکمل بھروسہ سکھاتی ہے۔
مآخذ: al-Biqa'i (Nazm al-Durar), al-Wasit (Tantawi), al-Shinqiti (Adwa al-Bayan), al-Sabuni (Safwat al-Tafasir)
حکمت
سورۃ الناس کی دوسری آیت, "مَلِكِ ٱلنَّاسِ" (Malik an-Nas), یعنی "لوگوں کا بادشاہ" یا "انسانوں کا حاکم" ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کی ایک اور صفت کو بیان کرتی ہے جس کے ذریعے ہم شیطان کے وسوسوں سے پناہ مانگتے ہیں۔
خالق کی بادشاہت
اس مختصر آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی مطلق بادشاہت کا اعلان کر رہے ہیں۔ `al-Muyassar` کے مطابق، اللہ وہ ہستی ہے جو انسانوں کے تمام معاملات کا انتظام سنبھالتا ہے اور ان سے بے نیاز ہے۔ دنیا میں بہت سے بادشاہ اور حکمران ہوتے ہیں، لیکن ان کی بادشاہت محدود ہوتی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت بے مثال اور ہمہ گیر ہے۔ وہ ہر چیز کا مالک اور ہر معاملے پر مکمل اختیار رکھنے والا ہے۔ `al-Saadi` فرماتے ہیں کہ تمام مخلوقات اللہ کی ربوبیت اور بادشاہت کے تحت ہیں۔ یہ یاد دہانی ہے کہ جب ہم پناہ مانگتے ہیں تو کس سے مانگ رہے ہیں۔ ہم اس ہستی سے پناہ مانگتے ہیں جو صرف ہمارا رب (پالنے والا) ہی نہیں، بلکہ ہمارا `Malik` (بادشاہ) بھی ہے۔
ہم پر اس کا اثر
جب ہم اللہ کو `Malik an-Nas` کے طور پر پہچانتے ہیں، تو یہ ہمارے لیے ایک گہرا سبق ہے۔ زندگی کے پیچیدہ حالات میں، جب ہمیں کسی طاقتور ہستی کی مدد یا تحفظ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، تو یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تمام قوتوں اور اختیارات کا سرچشمہ صرف اللہ ہی ہے۔ کوئی دنیاوی حکمران یا طاقت ہمیں اتنی مکمل پناہ نہیں دے سکتا جتنی اللہ۔ `Wahba al-Zuhayli` کہتے ہیں کہ یہ صفت بتاتی ہے کہ اللہ پناہ دینے کا حقدار ہے اور اس پر پوری طرح قادر ہے۔ `Mufti Shafi` بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ `Malik` کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہر حال میں تمام معاملات کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ یہ علم ہمیں دنیا کی طاقتوں سے بے خوفی اور اللہ پر کامل بھروسہ (tawakkul) سکھاتا ہے۔ یہ ایک ایسی گہری سچائی ہے جو ہمیں ہر طرح کے خوف اور تشویش سے آزادی دیتی ہے۔
عملی سبق
اس آیت سے ہمیں یہ عملی سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی تمام امیدیں اور پناہ صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرنی چاہیے۔ جب بھی کوئی مشکل آئے، کوئی وسوسہ تنگ کرے یا دل میں بے چینی پیدا ہو، تو اپنے آپ کو یاد دلائیں کہ اللہ ہی `Malik an-Nas` ہے۔ وہی ہمارا حقیقی حاکم ہے اور وہی ہر چیز پر مکمل اختیار رکھتا ہے۔ اس پر ایمان لانا اور اس کی بادشاہت کا اقرار کرنا ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہر چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے مسئلے میں اسی کی طرف رجوع کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ `Wahba al-Zuhayli` کے مطابق، `الناس` کے لفظ کو بار بار دہرانے میں انسان کی تکریم بھی ہے، اور یہ بھی کہ یہ پناہ خاص طور پر انسانوں کے لیے ہے۔ یہ ہمیں اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے اور صرف اس کی عبادت کرنے کی طرف مائل کرتا ہے۔
Source: al-Muyassar, al-Saadi (Taysir al-Karim), Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)
مآخذ: al-Saadi (Taysir al-Karim), Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)
وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے
یہ آیت Maani کے 4 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔
اس آیت پر غور کریں
Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔