سورۃ الناس، آیت 1

سُورَةُ النَّاسِ · مکی · آیت 1 / 6

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ

اردو ترجمہ

کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں

اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔

معنی اور غور و فکر

الفاظ کا انتخاب

سورت الناس کی پہلی آیت، "قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ"، ایک ایسی آیت ہے جو دل کی گہرائیوں سے پناہ مانگنے کا درس دیتی ہے۔ یہاں لفظوں کا چناؤ اور ان کی ترتیب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی قدرت اور پناہ گزین ہونے والے کی ضرورت کو خوبصورتی سے واضح کرتی ہے۔

ایک براہ راست حکم: "قُلْ"

اس آیت کا آغاز لفظ "قُلْ" (کہو!) سے ہوتا ہے، جو اللہ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کو ایک براہ راست حکم ہے۔ ابن عاشور اور زمخشری کے مطابق، اگرچہ یہ حکم نبی اکرم ﷺ کو دیا گیا ہے، لیکن اس کا مقصد پوری امت کو شامل کرنا ہے، تاکہ سب لوگ اسی طرح پناہ مانگیں۔ یہ لفظ `Qul` اس بات پر زور دیتا ہے کہ یہ محض ایک دعا نہیں بلکہ ایک اعلان ہے، جسے زبان سے ادا کیا جانا ضروری ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب بھی شیطان کے وسوسے آئیں، ہمیں فوراً یہ کلمات ادا کرنے چاہییں۔

پناہ مانگنے کا عمل: "أَعُوذُ"

"أَعُوذُ" کا مطلب ہے "میں پناہ مانگتا ہوں" یا "میں اعتصام کرتا ہوں" (یعنی مضبوطی سے تھام لیتا ہوں)۔ یہ لفظ صرف جسمانی پناہ کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ دل کی گہرائیوں سے کسی ذات کی حفاظت اور پناہ میں آنے کے ارادے کو بیان کرتا ہے۔ یہ فعل حال (present tense) میں ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ پناہ مانگنے کا عمل مستقل اور جاری رہنا چاہیے۔ انسان کو ہر وقت، ہر حال میں اللہ کی پناہ میں رہنے کی ضرورت ہے۔

لوگوں کا رب: "بِرَبِّ ٱلنَّاسِ"

اس دعا میں اللہ کو "بِرَبِّ ٱلنَّاسِ" (لوگوں کے رب) کے طور پر مخاطب کیا گیا ہے۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ "رب" وہ ذات ہے جو کسی کی پرورش، تدبیر اور اس کی اصلاح کا ذمہ لے لے۔ یہ اللہ کی نعمتوں کو پہچاننے کا پہلا قدم ہے۔ اس آیت میں اللہ کے لیے لوگوں کا رب کا لفظ استعمال کرنے کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ جن شرور سے پناہ مانگی جا رہی ہے (جیسا کہ سورت کی اگلی آیات میں بیان کیا گیا ہے) وہ خاص طور پر لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں۔

الجیلی اور ابن عاشور کے مطابق، "الناس" (لوگوں) کو خاص طور پر ذکر کرنا ان کی عظمت اور شرف کو ظاہر کرتا ہے، اور یہ بھی کہ جن وسوسوں سے پناہ چاہی جا رہی ہے، وہ انسانوں کو ہی متاثر کرتے ہیں۔ لہٰذا، انسانوں کے رب سے پناہ طلب کرنا اس صورت حال کے لیے سب سے موزوں ہے۔ اگلی آیات میں بھی اللہ کے اوصاف کو "ملک الناس" (لوگوں کا بادشاہ) اور "إله الناس" (لوگوں کا معبود) کہہ کر پکارا گیا ہے، اور ہر صفت کے ساتھ "الناس" کا لفظ دہرایا گیا ہے۔ یہ تکرار اللہ کی ربوبیت، بادشاہی اور الوہیت کو تمام انسانوں کے لیے مزید مضبوطی سے بیان کرتی ہے اور انسانوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ یہ لفظوں کا انتخاب اور ترتیب ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ ہی ہمارا حقیقی مالک، بادشاہ اور معبود ہے، اور اس کے سوا کوئی ہمیں شرور سے بچا نہیں سکتا۔

Source: al-Jalalayn, al-Razi, al-Zamakhshari, Ibn Ashur, al-Muyassar, al-Jadwal fi I'rab al-Quran

مآخذ: Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir), al-Razi (Mafatih al-Ghayb), al-Jalalayn, al-Zamakhshari (al-Kashshaf), al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi)

قرآنی دنیا

سورۃ الناس: آیت 1 کی قرآنی دنیاؤں کے آئینے میں گہری فکر

ہم جب سورۃ الناس کی پہلی آیت `قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ` (کہو، میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی) پر غور کرتے ہیں تو سب سے پہلے ہم خود کو وحی کی دنیا میں پاتے ہیں۔ یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا اپنے محبوب پیغمبر ﷺ کو براہ راست حکم ہے، ایک ایسا حکم جو آپ ﷺ کے ذریعے پوری امت تک پہنچتا ہے۔ یہ آیت صرف ایک اطلاع نہیں بلکہ ایک فوری ہدایت ہے، ایک عمل کا امر ہے۔

نبی ﷺ کو خطاب

اس آیت کا آغاز لفظ `قُلْ` (کہو) سے ہوتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ کلام خاص طور پر نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کر رہا ہے۔ (المیسر کے مطابق: `أيها الرسول` یعنی اے رسول!) اور آپ کے ذریعے ہم سب کو یہ سکھایا جا رہا ہے کہ ہم کس طرح اپنے دلوں کو اللہ سے جوڑیں اور اس کی پناہ طلب کریں۔ اس میں ایک گہرا روحانی سبق ہے کہ اللہ اپنے پیغمبر کو ایسے لمحات میں بھی تعلیم دے رہا ہے جہاں تحفظ کی ضرورت ہو۔ یہ نہ صرف ایک دعائیہ تعلیم ہے بلکہ اس بات کی بھی تصدیق ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی حفاظت کرتا ہے، اور خاص طور پر اپنے انبیاء کی۔ مفسر بغوی (امام بغوی) کے مطابق، یہ سورہ مدنی ہے، یعنی یہ مدینہ میں نازل ہوئی، جو اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ اس وقت شاید کچھ خاص چیلنجز تھے جن سے پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا۔

رب الناس: انسانوں کا نگہبان

جب ہم `أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ` (میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی) کہتے ہیں تو ہم درحقیقت انسانوں کی دنیا میں جھانکتے ہیں۔ علامہ فخر الدین رازی (امام رازی) اس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ اگرچہ اللہ تمام کائنات کا رب ہے، لیکن یہاں "الناس" (لوگوں) کا ذکر خاص طور پر اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ وہ شر جس سے پناہ مانگی جا رہی ہے (یعنی وسوسہ) لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے۔ یہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ اللہ لوگوں کا خاص نگہبان ہے، ان کے معاملات کا مالک ہے اور ان کا معبود ہے۔ مفتی محمد شفیع (مفتی شفیع) اپنی تفسیر "معارف القرآن" میں `رَبّ` کے معنی "پرورش کرنے والا" بیان کرتے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ ہر حال میں ہر چیز کی دیکھ بھال کرتا ہے۔

ابن کثیر (امام ابن کثیر) اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ یہاں اللہ تعالیٰ کی تین بنیادی صفات (ربوبیت، ملکیت، اور الوہیت) کا ذکر ہے، جس کا مفہوم ہے کہ وہ ہر چیز کا رب، مالک اور معبود ہے۔ یہ ہمیں یقین دلاتا ہے کہ وہی واحد ذات ہے جو ہمیں ہر طرح کے شر سے بچا سکتی ہے۔ اس آیت کا مقصد ہمیں یہ سکھانا ہے کہ جب ہم دنیا کے وسوسوں اور فتنوں سے پریشان ہوں تو ہمیں کس کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ یہ ایک براہ راست رہنمائی ہے کہ انسان کو اپنی تمام تر کمزوریوں اور خوف کے ساتھ اپنے خالق اور پروردگار کی پناہ میں آنا چاہیے۔

یہ آیت ہمیں ایک ایسے رب سے تعلق قائم کرنے کی دعوت دیتی ہے جو نہ صرف ہمارا خالق ہے بلکہ ہمارا محافظ، ہمارا بادشاہ اور ہمارا حقیقی معبود بھی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اپنی تمام تر پریشانیوں میں ہم اسی کی پناہ مانگیں جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے، خاص طور پر وہ وسوسے جو انسانی دلوں کو متاثر کرتے ہیں۔

مآخذ: al-Baghawi (Maalim al-Tanzil), al-Razi (Mafatih al-Ghayb), Ibn Kathir, Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi)

ذاتی آئینہ

یہ آیت، سورۃ الناس کی پہلی آیت ہے، جو ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم کس ذات سے پناہ مانگیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی (ﷺ) کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں، `قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ` (کہو، میں تمام انسانوں کے رب کی پناہ مانگتا ہوں)۔ یہ صرف ایک حکم نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے تحفظ اور رہنمائی کا ایک گہرا سبق ہے۔

پناہ کا گہرا مفہوم

`أَعُوذُ` (اَعوذ) کا مطلب ہے "میں پناہ مانگتا ہوں، میں پناہ میں آتا ہوں، میں تحفظ چاہتا ہوں"۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جب انسان اپنی کمزوری کا اعتراف کرتا ہے اور اپنی حفاظت کے لیے ایک برتر ذات کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ تفسیر المنیر (Wahba al-Zuhayli) کے مطابق، `أَعُوذُ` کا مطلب ہے `ألتجئ وأحتمي` (میں پناہ لیتا اور حفاظت چاہتا ہوں)۔ تصور کریں کہ آپ کسی بہت بڑی مشکل یا خوفناک صورتحال میں ہیں، اور آپ کسی ایسے شخص کے پاس جاتے ہیں جو ہر طرح سے طاقتور اور مدد کرنے والا ہو۔ اسی طرح، یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہماری تمام مشکلات اور خوف میں، پناہ کی واحد حقیقی جگہ اللہ کی ذات ہے۔ تفسیر تذکر القرآن (Tazkirul Quran) بیان کرتی ہے کہ انسان ایک عاجز مخلوق ہے اور اسے لازمی طور پر پناہ کی ضرورت ہے، جو اسے صرف ایک خدا دے سکتا ہے۔

رب الناس کی خصوصیت

اللہ تعالیٰ اس آیت میں خود کو `رَبِّ ٱلنَّاسِ` (تمام انسانوں کے رب) کے طور پر متعارف کراتے ہیں۔ شیخ اسرار احمد (Israr Ahmad) کے مطابق، یہ تعارف اس لیے ہے کہ جس ذات سے پناہ مانگنے کا حکم دیا جا رہا ہے وہ ہماری تمام ضروریات کا کفیل ہے۔ اللہ تمام کائنات کا رب ہے، مگر یہاں خاص طور پر `الناس` (لوگ) کا ذکر کرنا ایک خاص تکریم اور اعزاز کی علامت ہے۔ تفسیر المنیر (Wahba al-Zuhayli) اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ انسان عظمت والے ہیں، اس لیے انہیں خصوصی طور پر اللہ کے رب ہونے کا ذکر کیا گیا۔ ساتھ ہی، پناہ مانگنے کا مقصد لوگوں کے شر سے بچنا بھی ہے، تو اللہ یہ بتاتا ہے کہ وہی ہے جو ان کے شر سے پناہ دے سکتا ہے۔

دنیاوی آئینے میں ہماری ذمہ داری

یہ آیت ہمیں ایک ایسے دنیاوی آئینے میں جھانکنے کی دعوت دیتی ہے جہاں ہم اپنے اندرونی اور بیرونی خطرات کو دیکھ سکیں۔ جب ہم کہتے ہیں `رب الناس` تو یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ نہ صرف ہمارا رب ہے بلکہ پورے انسانی سماج کا بھی رب ہے۔ تفسیر تذکر القرآن (Tazkirul Quran) یہ نقطہ اٹھاتی ہے کہ سب سے زیادہ خطرناک فتنہ شیطان ہے، مگر انسانوں میں بھی ایسے شیطان نما لوگ ہیں جو مصنوعی روپ میں سامنے آتے ہیں اور پرفریب الفاظ سے گمراہ کرتے ہیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمیں صرف جناتی شر سے ہی نہیں بلکہ انسانی شر سے بھی اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔ سماجی اور معاشرتی زندگی میں ہمیں بہت سے چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے، جہاں لوگوں کے حسد، دھوکہ، اور گمراہ کن خیالات ہمارے امن و سکون کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس آیت کا ذکر کرنا ہمیں اللہ کی پناہ میں آنے کے ساتھ ساتھ اپنے شعور کو بیدار رکھنے کی بھی ترغیب دیتا ہے تاکہ ہم حق اور ناحق میں تمیز کر سکیں۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اپنی حفاظت اور فلاح کے لیے ہمیشہ اللہ کی طرف رجوع کریں، اور ہر قسم کے فتنے کے مقابلے میں اپنے ایمان کو مضبوط رکھیں۔

Source: al-Muyassar plain meaning, Tazkirul Quran, Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Israr Ahmad (Bayan ul Quran), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)

مآخذ: Tazkirul Quran, Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Israr Ahmad (Bayan ul Quran), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)

روابط

اللہ کے کلام پر غور کرتے ہوئے، ہمیں ہمیشہ عاجزی، عقیدت، اور کھلے دل سے اس کے معانی کو سمجھنا چاہیے۔ یہ ایک رہنمائی ہے جو ہمارے دلوں کو بدلنے کے لیے آئی ہے، نہ کہ صرف ایک علمی مشق۔ سورۃ الناس کی یہ پہلی آیت، ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ﴾ (کہو، میں لوگوں کے رب کی پناہ مانگتا ہوں)، ہمیں ایک اہم ہدایت دیتی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے رب کی پناہ مانگیں، جو تنہا وسوسہ ڈالنے والے کے شر کو دور کرنے پر قادر ہے۔ یہ حکم ہر ایمان والے کے لیے ہے کہ وہ بھی اسی طرح پناہ طلب کرے۔

سورتوں کا باہمی ربط

قرآن کی سورتیں موتیوں کی لڑی کی طرح باہم مربوط ہیں۔ سورۃ الناس (114) اور اس سے پچھلی سورۃ الفلق (113) کو 'معوذتین' (پناہ مانگنے والی دو سورتیں) کہا جاتا ہے۔ امام البقاعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سورۃ الفلق میں بیرونی اور جسمانی نقصانات سے پناہ مانگی گئی ہے، جبکہ سورۃ الناس میں اندرونی اور نفسانی شرور، خاص طور پر وسوسے سے پناہ مانگنے کا ذکر ہے۔ یہ انسان کے باطن کو متاثر کرنے والے شیطان کے وسوسوں سے بچاؤ کی بات ہے۔ سورۃ الناس کا نام بھی اس کے مقصد سے جڑا ہے، کیونکہ 'ناس' لفظ 'اُنس' (انسیت، تعلق) سے ماخوذ ہے، اور وسوسے اکثر انسان کو پسندیدہ چیزوں سے آتے ہیں۔

'رب الناس' کی خصوصیت

اگرچہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے (جیسا کہ سورۃ الفاتحہ میں 'رب العالمین' آتا ہے)، لیکن یہاں 'رب الناس' (لوگوں کا رب) کہہ کر انسانوں کو خاص شرف بخشا گیا ہے۔ امام شنقیطی رحمۃ اللہ علیہ بتاتے ہیں کہ یہ اختصاص اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے کی خصوصی نگہداشت فرماتا ہے جو اس سے دشمن کے شر سے پناہ مانگتا ہے، اور یہ بندے کے اپنے رب پر بھروسے کو بھی مضبوط کرتا ہے۔

ربوبیت اور بندگی کا تعلق

قرآن پاک میں اللہ کی ربوبیت (پرورش اور انتظام کرنا) کا ذکر اکثر اس کی عبادت کے تقاضے سے جڑا ہوتا ہے۔ 'رب' صرف پرورش کرنے والا نہیں بلکہ ہر چیز کا مالک اور حاکم بھی ہے۔ امام شنقیطی اس کی مثال سورۃ البقرہ (2:21-22) سے دیتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ لوگوں کو اپنی عبادت کا حکم دیتا ہے کیونکہ اس نے انہیں اور ان سے پہلے والوں کو پیدا کیا، زمین کو بچھونا بنایا اور آسمان سے پانی برسایا۔ یہ سب اس کی ربوبیت کی نشانیاں ہیں جو اسے اکیلے عبادت کا حقدار بناتی ہیں۔ اسی طرح، سورۃ الناس میں 'رب الناس' کے ساتھ 'ملک الناس' (لوگوں کا بادشاہ) اور 'إله الناس' (لوگوں کا معبود) کا ذکر، اس کی کامل اور ہمہ گیر ربوبیت کو واضح کرتا ہے۔ یہ اوصاف اس بات پر مہر لگاتے ہیں کہ جس سے پناہ مانگی جا رہی ہے، وہ نہ صرف رب ہے بلکہ کامل حاکم اور اکیلا معبود بھی ہے۔

اس طرح، یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جب ہمیں سب سے بڑے اور پوشیدہ شر، یعنی اندرونی وسوسوں کا سامنا ہو، تو ہماری پناہ گاہ صرف وہی ذات ہے جو نہ صرف ہمارا رب ہے بلکہ ہم سب کا کامل مالک اور اکیلا معبود بھی ہے۔ یہ سورت اللہ سے پناہ مانگنے کے اس اہم سبق کو سمیٹتی ہے جو پورے قرآن کا مرکزی پیغام ہے۔

مآخذ: al-Sabuni (Safwat al-Tafasir), al-Wasit (Tantawi), al-Shinqiti (Adwa al-Bayan), al-Biqa'i (Nazm al-Durar)

حکمت

سورہ الناس کی پہلی آیت، "قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ" (کہو، میں لوگوں کے رب کی پناہ میں آتا ہوں)، ہمیں ایک گہرا اور فوری سبق سکھاتی ہے۔ اس آیت میں، اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ وہ لوگوں کے رب کی پناہ طلب کریں۔ یہ صرف ایک زبانی دعا نہیں بلکہ ایک روحانی پناہ گاہ ہے جو ہر انسان کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ اس آیت کا لہجہ ایک تسلی اور تحفظ کا ہے، یہ سکھاتا ہے کہ ہر شر سے بچاؤ کے لیے اللہ ہی واحد سہارا ہے۔

اللہ کی ربوبیت کا مفہوم

اس آیت میں اللہ تعالیٰ کو "ربّ الناس" (لوگوں کا رب) کہہ کر پکارا گیا ہے۔ 'ربّ' کا معنی پرورش کرنے والا، نگہبان اور مالک ہے۔ المعارف القرآن کے مطابق، یہ صفت اللہ کی کامل دیکھ بھال اور پرورش کو ظاہر کرتی ہے جو وہ تمام حالات میں کرتا ہے۔ چونکہ یہ سورت خاص طور پر انسانی نفسانی آزمائشوں اور شیطانی وسوسوں سے پناہ مانگنے کے لیے ہے، اسی لیے اللہ کی ربوبیت کو تمام مخلوقات کے بجائے خاص طور پر "لوگوں" سے منسوب کیا گیا ہے (جیسا کہ امام وہبہ الزحیلی نے بیان کیا ہے)۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ ہی ہماری ہر طرح کی اندرونی اور بیرونی کمزوریوں کا بہترین محافظ اور نگہبان ہے۔

عمومی سبق

یہ آیت ہمیں زندگی کا ایک بنیادی اصول سکھاتی ہے: ہر قسم کے شر اور برائی سے بچنے کے لیے ہمیشہ اللہ کی پناہ طلب کریں۔ السعدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ شیطان تمام برائیوں کی جڑ ہے جو انسانوں کے سینوں میں وسوسے ڈال کر برائی کو خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے اور نیکی سے روکتا ہے۔ یہ وسوسے صرف جنات کی طرف سے نہیں ہوتے، بلکہ انسانوں کے درمیان بھی شیطانی فطرت رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں جو برائی کی ترغیب دیتے ہیں۔ لہذا، جب ہم "رب الناس" کی پناہ مانگتے ہیں تو ہم صرف کسی خاص برائی سے نہیں بلکہ ہر اس چیز سے پناہ مانگتے ہیں جو ہمارے دین و دنیا کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ ہی وہ ہستی ہے جو ہر چیز پر قادر ہے اور ہر شر کو دفع کر سکتی ہے۔

عملی اطلاق

اس آیت کا عملی اطلاق یہ ہے کہ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں شعوری طور پر اللہ کی پناہ طلب کریں۔ جب بھی آپ کسی پریشانی، خوف، یا کسی غلط کام کی طرف مائل ہونے لگیں، یا جب کوئی منفی خیال آپ کے ذہن میں آئے، تو فوراً اس آیت کو یا اس کے ابتدائی کلمات "أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ" کو دل میں دہرائیں۔ امام ابن عباس (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ شیطان ابن آدم کے دل پر جما رہتا ہے، جب وہ غافل ہوتا ہے تو وسوسہ ڈالتا ہے، اور جب اللہ کو یاد کرتا ہے تو چھپ جاتا ہے (المنیر)۔ یہ ایک عملی دفاعی ڈھال ہے جو ہمیں شیطانی اثرات سے بچاتی ہے اور ہمارے دلوں کو اللہ کی یاد سے منور رکھتی ہے۔ اس سے ہمارا توکل اور یقین اللہ پر مضبوط ہوتا ہے، اور ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہر مشکل میں ہمارا خالق و مالک ہمارے ساتھ ہے۔

مآخذ: al-Saadi (Taysir al-Karim), Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)

وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے

یہ آیت Maani کے 6 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔

قرآن کے تمام موضوعات دیکھیں

اس آیت پر غور کریں

Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔

Maani کے ساتھ اس آیت پر غور کریں