سورۃ الاخلاص، آیت 2

سُورَةُ الإِخۡلَاصِ · مکی · آیت 2 / 4

ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ

اردو ترجمہ

معبود برحق جو بےنیاز ہے

اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔

معنی اور غور و فکر

الفاظ کا انتخاب

یہ سورت، جسے `سورۃ الاخلاص` بھی کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا ایک بنیادی تعارف ہے۔ `ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ` اللہ کے تعارف کا دوسرا اہم جملہ ہے جو ہمیں اس کی عظمت اور ہماری اس پر مکمل انحصار کو سمجھاتا ہے۔

"الصَّمَدُ" کا معنیٰ

`الصَّمَدُ` (as-Samad) کا لفظی مطلب گہرائی اور ہمہ گیری رکھتا ہے۔ ہمارے مفسرین جیسے ابن عاشور اور زمخشری کے مطابق، یہ اس ہستی کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کی طرف تمام مخلوقات اپنی ضروریات اور خواہشات کے لیے رجوع کرتی ہیں۔ "صمدتُ إلیہ" کا مطلب ہے "میں نے اس کی طرف قصد کیا" یا "میں اس کی طرف بڑھا"۔ پس `الصَّمَدُ` وہ ہے جس کی طرف ہر حاجت مند متوجہ ہو، جس سے اپنی مرادیں طلب کرے اور جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو۔ یہ معنی ہمارے ایہ کانٹیکسٹ سے بھی مطابقت رکھتا ہے کہ اللہ وہ ہے جس کی طرف خلائق اپنی حاجتوں کے لیے رجوع کرتی ہے۔ امام رازی مزید وضاحت کرتے ہیں کہ `الصَّمَدُ` کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنی ذات میں واجب الوجود، اپنی صفات میں کامل، اور ہر قسم کے تغیر و نقص سے پاک ہے۔

الفاظ کا انتخاب اور گرامر

اس آیت میں الفاظ کے انتخاب اور ترتیب میں خاص بلاغت پنہاں ہے۔

`اللہ` کی تکرار: غور کریں کہ `قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ` کے بعد `هُوَ الصَّمَدُ` کی بجائے `ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ` (Allah us-Samad) کہا گیا ہے۔ ابن عاشور فرماتے ہیں کہ اس میں اللہ کے نام کو دوبارہ ظاہر کرنا (`إظهار`) اس لیے ہے تاکہ یہ ایک الگ اور آزاد جملہ محسوس ہو، گویا استاذ اپنے شاگرد کو یکے بعد دیگرے کئی بنیادی حقائق سمجھا رہا ہو۔ امام رازی بھی فرماتے ہیں کہ اس تکرار سے `أحد` کو نکرہ اور `الصَّمَدُ` کو معرفہ لانے کی گنجائش ملی، جو ایک ہی جملے میں ممکن نہ ہوتا۔ یہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ اللہ کی ذات کا ہر وصف اپنی جگہ مکمل اور مستقل اہمیت کا حامل ہے۔

`الصَّمَدُ` کا خاص ہونا: `الصَّمَدُ` کو معرفہ (definite) `الـ` کے ساتھ لانا، جو اسم جلالہ `اللہ` کے بعد آیا ہے، اس میں ایک خاص `قصر` (exclusivity) پیدا کرتا ہے۔ ابن عاشور کے مطابق، اس کا مطلب ہے کہ `صَمَدیَّت` (as-Samadiyyah) کی صفت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔ کوئی دوسری ہستی `الصَّمَدُ` نہیں ہو سکتی۔ یہ اس شرک کی نفی کرتا ہے جس میں لوگ اللہ کے سوا دوسروں کی طرف اپنی حاجتوں کے لیے رجوع کرتے تھے۔ امام رازی بیان کرتے ہیں کہ `الصَّمَدُ` کو معرفہ لایا گیا کیونکہ عرب اس صفت (حاجتوں میں رجوع کا مرکز ہونا) سے پہلے سے واقف تھے، جبکہ `أحد` کی وحدانیت ان کے لیے ایک نیا تصور تھا۔

یہ سب آپ کے لیے کیوں اہم ہے؟

`الصَّمَدُ` کا گہرا مطلب ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہماری تمام امیدیں، التجائیں اور ضرورتیں صرف اللہ کی ذات سے وابستہ ہونی چاہییں۔ وہی ہے جس کی طرف ہر مخلوق اپنے وجود اور بقا کے لیے، ہر حاجت کے لیے رجوع کرتی ہے اور وہی ان حاجتوں کو پورا کرنے پر قادر ہے۔ یہ صفت ہمیں اللہ پر مکمل بھروسہ سکھاتی ہے اور کسی اور در پر دستک دینے سے بے نیاز کرتی ہے۔

مآخذ: Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir), al-Zamakhshari (al-Kashshaf), al-Jalalayn, al-Razi (Mafatih al-Ghayb), al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi)

وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے

یہ آیت Maani کے 6 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔

قرآن کے تمام موضوعات دیکھیں

اس آیت پر غور کریں

Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔

Maani کے ساتھ اس آیت پر غور کریں