سورۃ الطارق، آیت 2

سُورَةُ الطَّارِقِ · مکی · آیت 2 / 17

وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلطَّارِقُ

اردو ترجمہ

اور تم کو کیا معلوم کہ رات کے وقت آنے والا کیا ہے

اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔

معنی اور غور و فکر

الفاظ کا انتخاب

قلب کی گہرائی سے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی کلام پر غور کرتے ہوئے، آئیے سورہ الطارق کی دوسری آیت `وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلطَّارِقُ` پر تدبر کریں۔ یہ اللہ کی جانب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے ذریعے ہم سب کو مخاطب کیا جا رہا ہے، ایک ایسی بات پر زور دینے کے لیے جو بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اس آیت کا لہجہ تعظیم اور اشتیاق پیدا کرنے والا ہے۔

`وَمَآ أَدْرَىٰكَ` کا مفہوم

اللہ تعالیٰ اس آیت میں ایک خاص قسم کا سوال استعمال کر رہا ہے: `وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلطَّارِقُ` (اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ طارق کیا ہے؟)۔ یہ صرف ایک سوال نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا انداز ہے جو مخاطب کی توجہ کو پوری طرح مرکوز کرتا ہے۔ مفسرین نے وضاحت کی ہے کہ جب قرآن میں `وَمَآ أَدْرَىٰكَ` (`Wamā 'adrāka`) استعمال ہوتا ہے، تو اس کے بعد اس چیز کی وضاحت کی جاتی ہے جس کے بارے میں پوچھا گیا ہے۔ جیسا کہ علامہ زمخشری اور امام ابن عاشور نے بیان کیا ہے، اس فقرے کا مقصد کسی چیز کی عظمت اور شان کو نمایاں کرنا اور اس کے بارے میں تجسس پیدا کرنا ہے۔ یہ سننے والے کو تیار کرتا ہے کہ آگے کوئی بڑی اور اہم بات آنے والی ہے۔

`الطارق` کا انتخاب

آیت سے پہلے اللہ تعالیٰ نے آسمان اور `الطارق` (`al-Tariq`) کی قسم کھائی ہے۔ `الطارق` وہ ہے جو رات کو آتا ہے۔ اس نام کے انتخاب میں ایک خاص حکمت ہے۔ اللہ نے فوراً اس کی وضاحت نہیں کی، بلکہ پہلے `مَا ٱلطَّارِقُ` کہہ کر ایک گہرا سوال کھڑا کیا، جس میں ابہام اور عظمت دونوں شامل تھیں۔ ابن عاشور کے مطابق، `الطارق` کے بارے میں ابتداء میں یہ ابہام پیدا کرنا اور پھر سوال کے ذریعے اس کی عظمت کو بڑھانا، اس لیے ہے تاکہ جب اگلے آیت میں اس کی وضاحت `النَّجْمُ الثَّاقِبُ` (چمکدار ستارہ) کے طور پر آئے، تو اس کی اہمیت اور بھی واضح ہو جائے۔ یہ انداز بیان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اللہ اپنی تخلیقات میں کس قدر گہری نشانیاں رکھتا ہے، اور ہمیں ان پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ خاص لفظی انتخاب تجسس کو بڑھاتا ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ رات کے وقت نمودار ہونے والا یہ ستارہ کوئی معمولی چیز نہیں، بلکہ اللہ کی قدرت کا ایک عظیم نشان ہے۔

گہرا تعلق اور مقصد

اس آیت کی گہری معنویت صرف زبان کے خوبصورت استعمال میں نہیں، بلکہ اس کا تعلق اس بات سے بھی ہے جو اللہ نے اس قسم کے بعد بیان کی ہے۔ یہ عظیم الشان سوال اس لیے پوچھا گیا تاکہ لوگ `الطارق` کی عظمت کو سمجھیں، جو کہ اللہ کی عظیم قدرت کی نشانی ہے۔ اور یہ عظمت ہمیں اس بڑے مقصد کی طرف لے جاتی ہے جس پر اللہ نے قسم کھائی ہے: `إنْ كُلُّ نَفْسٍ لَمّا عَلَيْها حافِظٌ` (یعنی کوئی ایسی جان نہیں جس پر کوئی نگہبان مقرر نہ ہو)۔ یہ الفاظ کا خوبصورت انتخاب اور گہرا انداز ہمیں روزِ قیامت کی حقیقت اور ہماری جوابدہی کی طرف متوجہ کرتا ہے، جہاں ہر عمل کا حساب لیا جائے گا۔

Source: al-Jalalayn, al-Zamakhshari (al-Kashshaf), al-Razi (Mafatih al-Ghayb), Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir)

مآخذ: al-Zamakhshari (al-Kashshaf), al-Jalalayn, al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi), al-Razi (Mafatih al-Ghayb), Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir)

ذاتی آئینہ

سورۃ الطارق کی اس دوسری آیت میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ آسمان اور رات میں نظر آنے والے ایک خاص ستارے کی قسم کھا کر ایک سوال پوچھتے ہیں: "اور تم کیا جانو کہ وہ طارق کیا ہے؟" یہ محض ایک سوال نہیں بلکہ ایک گہری دعوت فکر ہے۔

سوال کی گہرائی

جب اللہ تعالیٰ خود کوئی سوال پوچھتے ہیں، خاص طور پر `وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلطَّارِقُ` (اور تم کیا جانو کہ طارق کیا ہے؟) جیسے انداز میں، تو اس کا مقصد اس چیز کی عظمت اور اہمیت کو اجاگر کرنا ہوتا ہے جس کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے۔ مفسرین کرام، جیسے ابن الجوزی اور المُنیر، بیان کرتے ہیں کہ یہ اسلوب `التهويل والتفخيم` یعنی کسی چیز کی عظمت اور شان کو بڑھا کر پیش کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ دراصل ہمیں ایک طرح کی بے بسی کا احساس دلاتا ہے کہ ہمارے لیے اللہ کی مخلوق اور اس کے بھیدوں کو اپنی محدود عقل سے مکمل طور پر جاننا ممکن نہیں۔ سید قطب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گویا `طارق` ایک ایسی چیز ہے جو انسانی ادراک سے ماوراء ہے۔

دل پر اثر

یہ آیت ہمارے دلوں میں عاجزی پیدا کرتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری انسانی فہم کی حدود کیا ہیں۔ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کا علم صرف اللہ کے پاس ہے اور وہی ہمیں بتاتا ہے تو ہم جان پاتے ہیں۔ یہ احساس کہ ہم اللہ کی وسیع کائنات میں کتنے نادان ہیں، ہمیں اللہ کی عظمت اور اس کے علم کی وسعت کا ادراک کراتا ہے۔ یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ جب ایک معمولی سی مخلوق، رات میں نمودار ہونے والا یہ ستارہ بھی ہمارے لیے اتنا پراسرار ہو سکتا ہے، تو خود اس کے خالق کی شان کتنی بڑی ہو گی۔

معرفت کا راستہ

اس آیت کا انداز دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے معرفت یعنی گہرے علم کی فراہمی کا ایک طریقہ بھی ہے۔ یہ سوال ہمارے ذہنوں میں تجسس پیدا کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ ہی اگلے کلام میں اس کا جواب دے کر ہمیں علم عطا فرماتے ہیں۔ یہ دراصل ہمیں سکھاتا ہے کہ جب ہم اپنے اندر کسی حقیقت کو جاننے کی تڑپ پیدا کریں گے اور اللہ کی طرف رجوع کریں گے، تو اللہ ہمیں اس حقیقت کا علم عطا فرمائے گا، جیسا کہ تزکرۃ القرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقائق کی معرفت کے سینے کھلنے کا ذکر ہے۔ یہ ایک دعوت ہے کہ ہم اللہ کے کلام پر اسی عاجزی، تعظیم اور کھلے دل کے ساتھ غور کریں تاکہ اس کی گہرائیوں کو پا سکیں۔ یہ دل میں اللہ کے لیے امید اور تشکر پیدا کرتا ہے کہ وہ ہمیں اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی کی طرف لاتا ہے۔

مآخذ: Israr Ahmad (Bayan ul Quran), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Tazkirul Quran, al-Munir (Wahba al-Zuhayli), Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir)

حکمت

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آئیے، آج سورہ طارق کی آیت نمبر 2، وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلطَّارِقُ (اور آپ کو کیا معلوم کہ الطارق کیا ہے؟) پر گہرائی سے غور کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسی آیت ہے جو ہمیں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی نشانیوں پر تدبر کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

آیت کا مفہوم

اللہ تعالیٰ نے اس سورت کا آغاز آسمان اور `الطارق` یعنی رات میں نمودار ہونے والے ستارے کی قسم کھا کر کیا ہے۔ یہ قسم ایک عظمت اور تاکید کی دلیل ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ایک اہم پیغام کی طرف ہماری توجہ مبذول کروانا چاہتے ہیں۔ اس آیت میں سوالیہ انداز `وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلطَّارِقُ` (اور آپ کو کیا معلوم کہ الطارق کیا ہے؟) دراصل اس `الطارق` کے شرف اور عظمت کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوا ہے، گویا اس کی حقیقت اتنی عظیم ہے کہ عام انسانی فہم اس کا مکمل ادراک نہیں کر سکتا۔ (المنير، ابن الجوزی) یہ سوال دراصل سننے والے کے دل میں تجسس پیدا کرتا ہے اور اسے آنے والی وضاحت کے لیے تیار کرتا ہے۔

الطارق کی حکمت

`الطارق` سے مراد وہ ستارہ ہے جو رات کے وقت چمکتا ہے اور اپنے نور سے تاریکی کو چھیدتا ہوا معلوم ہوتا ہے (النَّجْمُ الثَّاقِبُ)۔ یہ کوئی خاص ستارہ بھی ہو سکتا ہے، جیسے بعض مفسرین نے زحل یا ثریا کہا ہے، اور یہ تمام رات میں چمکنے والے ستاروں کے لیے ایک عمومی لفظ بھی ہو سکتا ہے (ابن الجوزی، معارف القرآن)۔ اس کی چمک رات کے اندھیرے میں لوگوں کو رہنمائی فراہم کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک خوبصورت مظہر ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ستارے کی قسم کھا کر اس کی عظمت کو نمایاں کیوں کیا؟ یہ ہمیں اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے اردگرد پھیلی ہوئی اللہ کی نشانیوں پر غور کریں۔ جس طرح یہ ستارہ تاریک رات کو روشن کرتا ہے، اسی طرح اللہ کا کلام ہمارے دلوں کی تاریکی کو منور کرتا ہے۔ اس کی تخلیق میں ایک حیرت انگیز ترتیب اور حکمت ہے جو ہمیں اللہ کی لا محدود قدرت کا احساس دلاتی ہے۔ یہ ایک یاد دہانی ہے کہ اللہ کی بنائی ہوئی ہر چیز، خواہ وہ کتنی ہی معمولی نظر آئے، گہرے معانی اور سبق رکھتی ہے۔

ہمارے لیے سبق

اس آیت میں ہمارے لیے کئی عمومی اسباق پنہاں ہیں:

1. قدرت الٰہی کا ادراک: ہمیں یہ سکھایا جا رہا ہے کہ اللہ کی قدرت کا احاطہ کرنا انسانی بس کی بات نہیں۔ وہ ایسے عظیم کام کر سکتا ہے جو ہماری سوچ سے ماورا ہیں۔ (المنير)
2. تدبر کی اہمیت: اللہ نے جس چیز کو اس قدر اہمیت دی ہے کہ اس کی قسم کھائی اور پھر اس کے بارے میں سوالیہ انداز اپنایا، اس پر غور و فکر کرنا، اس کے اسرار کو جاننے کی کوشش کرنا اور اس سے حکمت اخذ کرنا ضروری ہے۔
3. غافل نہ رہنا: جس طرح رات کا ستارہ اچانک نمودار ہوتا ہے، اسی طرح زندگی میں پیش آنے والے واقعات، اللہ کی نشانیاں اور آخرت کی فکر بھی ہمیں کبھی غافل نہیں ہونے دینی چاہیے۔ Mufti Shafi کے مطابق، انسان کو اپنی زندگی کے کسی بھی لمحے میں یوم حساب کے نتائج کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
4. ذہن کی کشادگی: یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اپنی سوچ کو محدود نہ رکھیں، بلکہ کائنات کے وسیع تر تناظر میں اللہ کی نشانیوں کو پہچانیں۔ اس سے ہمارے ایمان میں اضافہ ہوگا اور ہمیں اپنی تخلیق کے مقصد کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

اس طرح، `الطارق` کی قسم ہمیں صرف ایک ستارے کے بارے میں نہیں، بلکہ اپنے خالق کی عظمت، اس کی حکمت اور ہماری اپنی حیثیت کے بارے میں گہرا سوچنے پر اکساتی ہے۔ یہ اللہ کی ایک ایسی نشانی ہے جو ہمیں تاریکی میں بھی رہنمائی کا راستہ دکھاتی ہے۔

مآخذ: Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), al-Munir (Wahba al-Zuhayli), Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir)

وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے

یہ آیت Maani کے 4 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔

قرآن کے تمام موضوعات دیکھیں

اس آیت پر غور کریں

Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔

Maani کے ساتھ اس آیت پر غور کریں