سورۃ الطارق، آیت 1

سُورَةُ الطَّارِقِ · مکی · آیت 1 / 17

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ وَٱلسَّمَآءِ وَٱلطَّارِقِ

اردو ترجمہ

آسمان اور رات کے وقت آنے والے کی قسم

اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔

معنی اور غور و فکر

الفاظ کا انتخاب

یہ سورہ ایک طاقتور قسم کے ساتھ شروع ہوتی ہے، جو ہمیں اللہ کی کلام کی عظمت پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کائنات کی دو حیرت انگیز چیزوں کی قسم کھا کر ایک اہم پیغام کا آغاز فرما رہے ہیں۔

ایک گہری قسم

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَٱلسَّمَآءِ وَٱلطَّارِقِ (`Was-Samaa'i wat-Taariq`)، یعنی "آسمان کی قسم اور رات کو آنے والے کی قسم!" جب اللہ کسی چیز کی قسم کھاتے ہیں، تو یہ اس چیز کی اہمیت اور عظمت کو ظاہر کرتا ہے، اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس کے بعد جو کچھ کہا جائے گا وہ بہت اہم ہے۔ یہ ہمیں فوراً توجہ دینے کی دعوت دیتا ہے۔ یہاں دو عظیم مخلوقات کی قسم کھائی گئی ہے: ایک تو وسیع و عریض آسمان، جس کا مشاہدہ ہر شخص کرتا ہے، اور دوسرا `الطّارق` (رات کو آنے والا)، جس کا ذکر اگلے حصے میں مزید واضح کیا گیا ہے۔

رات کا مہمان کون؟

آیت میں "الطارق" کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کا لغوی معنی "رات کو آنے والا" ہے. (ابن عاشور)۔ عربی زبان میں اس کا مطلب اس مسافر سے لیا جاتا ہے جو رات کے وقت کسی جگہ پہنچتا ہے، جیسے دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ یہاں اس لفظ کا انتخاب بہت خوبصورت ہے کیونکہ یہ ابتدا میں ایک تجسس پیدا کرتا ہے۔ کون ہے یہ رات کو آنے والا جس کی قسم کھائی جا رہی ہے؟ اللہ تعالیٰ اسے فوری طور پر واضح نہیں کرتے، بلکہ سوال کے انداز میں مزید شدت پیدا کرتے ہیں: وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلطَّارِقُ (`Wa ma adraaka mal-Taariq`)، یعنی "اور تمہیں کیا معلوم کہ رات کو آنے والا کیا ہے؟" امام رازی اور ابن عاشور جیسے مفسرین بتاتے ہیں کہ `ما أدراك` کا انداز کلام کسی چیز کی عظمت اور اہمیت کو بڑھانے کے لیے آتا ہے، اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بارے میں بتا دیا تھا۔ یہ سوال ہمیں اس کے بارے میں مزید جاننے پر ابھارتا ہے۔

چمکتا ستارہ

پھر اللہ تعالیٰ خود اس رات کے مہمان کی وضاحت کرتے ہیں: ٱلنَّجْمُ ٱلثَّاقِبُ (`An-Najmut-Thaaqib`)، یعنی "وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے۔" `النجْم` (ستارہ) رات کی تاریکی میں نظر آتا ہے، اس لیے اسے "الطارق" کہا گیا۔ `الثاقب` کا مطلب "سوراخ کرنے والا" یا "چمکتا ہوا" ہے۔ امام زمخشری اور امام رازی اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ ستارہ اپنی روشنی سے رات کے اندھیرے کو ایسے چیر دیتا ہے جیسے کوئی چیز کسی چیز میں سوراخ کر دے۔ ابن عاشور نے بھی اس کی وضاحت کی ہے کہ ستارے کی روشنی کا تاریکی کو چیرنا ایک خوبصورت استعارہ ہے جو قرآن نے استعمال کیا ہے۔ یہ الفاظ اس ستارے کی چمک، شدت اور اس کے رات میں نمایاں ہونے کی کیفیت کو بہترین انداز میں بیان کرتے ہیں۔

آپ کے لیے معنی

اس آیت کی گہرائی اس کی زبردست لفظیات میں پنہاں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قسم، تجسس پیدا کرنے والا سوال، اور پھر اس کا خوبصورت جواب۔ یہ تمام چیزیں ہمیں اس تخلیق کی عظمت پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہیں کہ ایک معمولی ستارہ بھی کس قدر بے مثال اور حیرت انگیز ہے۔ یہ طریقہ کار ہمیں اللہ کی قدرت، اس کی صناعی اور اس کی حکمت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے، اور ہمیں احساس دلاتا ہے کہ جس ذات نے ایسی عظیم کائنات بنائی ہے، وہ ہر نفس کے اعمال کو بھی دیکھ رہی ہے۔

مآخذ: al-Zamakhshari (al-Kashshaf), al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi), al-Razi (Mafatih al-Ghayb), Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir), al-Jalalayn

قرآنی دنیا

اس سورت کا آغاز ایک پُروقار قسم سے ہوتا ہے، جہاں اللہ سبحانہ و تعالیٰ آسمان اور اس کی ایک خاص نشانی `الطَّارِق` (رات کو آنے والے) کی قسم کھاتے ہیں۔ یہ قسم سننے والے کے دل پر گہرا اثر ڈالتی ہے، اسے دعوت دیتی ہے کہ وہ اللہ کی قدرت کے ان عظیم نشانات پر غور کرے۔

نزول کا پس منظر اور پہلا سامع

یہ ایک `مکی سورت` (Makki Surah) ہے، یعنی یہ ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی تھی۔ اس وقت مشرکینِ مکہ اللہ کی وحدانیت اور قیامت پر شک کرتے تھے۔ ان کے خوابیدہ احساسات کو بیدار کرنے اور انہیں کائنات میں اللہ کی نشانیوں پر غور کرنے کی دعوت دینے کے لیے یہ سورت اتری۔

الاسباب النزول (نزول کے اسباب) کے حوالے سے، امام بغویؒ اور ابن کثیرؒ ایک اہم واقعہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کے چچا ابو طالب ایک بار آپ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے، جب آسمان سے ایک ستارہ گرا۔ وہ حیران ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ یہ ایک ستارہ ہے جسے پھینکا گیا ہے اور یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ اس کے بعد یہ آیات نازل ہوئیں، جو کائنات کے ان پراسرار مظاہر پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔ یہ واقعہ ہمیں اس سورت کے پہلے سامعین کے رد عمل اور ان کے لیے اس کے معانی کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے، جو اس وقت ایمان نہیں لائے تھے۔ ابن کثیرؒ کی ایک اور روایت کے مطابق، نبی اکرم ﷺ نے سفر طائف کے دوران ثقیف کے لوگوں کے سامنے بھی اس سورت کی تلاوت فرمائی، جو اسلام کی دعوت کے ابتدائی اور مشکل مرحلے میں اللہ کی نشانیوں کے ذریعے لوگوں کو متاثر کرنے کی ایک مثال ہے۔ سید قطبؒ نے اس سورت کو غفلت میں ڈوبے ہوئے شخص کو جگانے کے لیے پے در پے شدید ضربات قرار دیا ہے، جس میں کائناتی مناظر کی شدت نمایاں ہے۔

کائنات کی دنیا میں جھانکنا

اللہ تعالیٰ `وَٱلسَّمَآءِ وَٱلطَّارِقِ` کہہ کر آسمان کی قسم کھاتے ہیں اور پھر `الطَّارِق` کا تعارف کراتے ہیں۔ `طارق` عربی زبان میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو رات کو آئے۔ چونکہ ستارے دن میں چھپے ہوتے ہیں اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں، اس لیے انہیں `طارق` کہا گیا (معارف القرآن)۔

اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ خود ہی `الطَّارِق` کی وضاحت `النَّجْمُ الثَّاقِبُ` (چمکتا ہوا، چھیدنے والا ستارہ) کہہ کر فرماتے ہیں۔ امام رازیؒ اس `الثَّاقِب` کے کئی معانی بیان کرتے ہیں: یہ اپنی روشنی سے تاریکی کو چیر دیتا ہے؛ یہ بلندی پر ہوتا ہے گویا آسمان میں سوراخ کرتا ہوا نکلتا ہے؛ یا یہ شیاطین کو بھگانے کے لیے استعمال ہوتا ہے، انہیں چیرتا اور جلاتا ہے۔ یہ سب معانی اس ستارے کی عظمت اور اس کی چمک کی شدت کو بیان کرتے ہیں۔

اس طرح، یہ آیت ہمیں آسمان کی وسعتوں اور رات کے پراسرار تاروں کے جہان میں لے جاتی ہے، جہاں اللہ کی قدرت کے واضح نشانات بکھرے پڑے ہیں۔ یہ ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے اردگرد پھیلی ہوئی اللہ کی نشانیوں پر تدبر کریں اور ان سے خالق کی عظمت اور حکمت کا ادراک حاصل کریں۔ یہ کائناتی قسم محض ایک بیان نہیں، بلکہ ایک سوچنے پر مجبور کرنے والا چیلنج ہے جو انسان کے دل و دماغ کو بیدار کرتا ہے۔

مآخذ: al-Baghawi (Maalim al-Tanzil), Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), al-Razi (Mafatih al-Ghayb), Ibn Kathir

ذاتی آئینہ

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

سماء اور طارق کی قسم

سورۃ الطارق کا آغاز اللہ تعالیٰ کے ایک پُرعظمت قسم کے ساتھ ہوتا ہے: `وَٱلسَّمَآءِ وَٱلطَّارِقِ` (آسمان کی قسم اور رات کو آنے والے کی۔) یہ صرف چند الفاظ نہیں، بلکہ یہ دلوں کو جھنجھوڑنے اور غور و فکر کی دعوت دینے والے ہیں۔ یہاں اللہ سبحانہ و تعالیٰ آسمان کی عظمت اور `ٱلطَّارِقِ` کی اہمیت پر قسم کھا رہے ہیں۔ لغوی طور پر، `ٱلطَّارِقِ` ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو رات کے وقت آئے (ابن الجوزی)۔ لیکن قرآن اسے مزید واضح کرتا ہے کہ اس سے مراد "چمکا ہوا تارا" یعنی `ٱلنَّجْمُ ٱلثَّاقِبُ` ہے (سورۃ الطارق: 3)۔ یہ وہ ستارہ ہے جو اپنی روشنی سے رات کے اندھیرے کو چیرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

اللہ کا قسم کھانا، جیسا کہ وحبہ الزحیلی نے بیان کیا ہے، اس بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ آسمان اور ستاروں کے طلوع و غروب اور ان کی حرکت میں بڑی عجیب نشانیاں ہیں، جو ایک خالقِ مدبّر کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ یہ محض ایک علمی مشاہدہ نہیں، بلکہ قلب کے لیے ایک ایسا اشارہ ہے جو ہمیں اپنی روزمرہ کی زندگی سے ہٹ کر کائنات کی وسعت اور اس کے پیچھے موجود بے پناہ قدرت پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

خود شناسی کا آئینہ

یہ قسم ہماری اندرونی حالت، یعنی ہمارے `نفس` کے لیے ایک آئینہ ہے۔ سید قطب `رحمہ اللہ` اس سورت کو انسانیت کے "خوابیدہ احساس" کو "شدید ضربات" سے بیدار کرنے والی قرار دیتے ہیں۔ اس آیت کے ذریعے ہم پرسکون لمحوں میں آسمان کی طرف دیکھ کر اپنی عاجزی اور اللہ کی عظمت کا ادراک کر سکتے ہیں۔ جب ہم رات کی تاریکی میں چمکتے ستاروں کو دیکھتے ہیں، تو یہ ہمیں اپنی بساط اور خالق کی لامحدود طاقت کا احساس دلاتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری زندگی کی جدوجہد کے پیچھے ایک عظیم الشان نظام اور ایک حکیم خالق ہے۔ یہ احساس ہمیں اللہ کی طرف مزید رجوع کرنے اور زندگی کے حقیقی مقاصد پر غور کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

اُمّت کے لیے پیغام

وسیع تر `اُمّت` کے تناظر میں، یہ آیت غور و فکر کا ایک اجتماعی سبق ہے۔ جب امت کے افراد ان عظیم نشانیوں پر ذاتی طور پر غور کرتے ہیں، تو یہ ان کے ایمان کو تقویت بخشتا ہے اور انہیں اللہ کی `قدرت` اور `حکمت` کی گہرائیوں میں ڈوبنے کی تحریک دیتا ہے۔ تذکر القرآن کے مطابق، یہ حقائق کا علم رسول اللہ ﷺ کو دیا گیا تھا تاکہ آپ کا پیغام پھیلے۔ اسی طرح، آج بھی، کائناتی نشانیوں پر مشترکہ غور و فکر ایک امت کو اس کے خالق کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کرنے اور زندگی کے امتحان کے لیے تیار ہونے میں مدد کر سکتا ہے، جس کا ذکر اس سورت کی بعد کی آیات میں کیا گیا ہے۔ یہ آیت ہمیں اپنی سوچ کو وسیع کرنے، کائنات کے نظام میں اللہ کی نشانیوں کو پہچاننے، اور اپنی ذات سے بلند ہو کر ایک عظیم مقصد کے لیے جینے کی دعوت دیتی ہے۔

مآخذ: Israr Ahmad (Bayan ul Quran), al-Munir (Wahba al-Zuhayli), Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Tazkirul Quran

روابط

رب کا عظیم قسم

سورہ الطارق کی پہلی آیت، "وَٱلسَّمَآءِ وَٱلطَّارِقِ" (آسمان کی قسم اور رات کو آنے والے ستارے کی قسم)، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک گہرا خطاب ہے جو ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ یہ صرف ایک علمی مشق نہیں، بلکہ دل سے جڑنے والا لمحہ ہے جہاں ہم اللہ کے کلام کے سامنے عاجزی، عقیدت اور کھلے پن کا رویہ اپناتے ہیں۔ اس قسم کے ذریعے اللہ کائنات کی وسعت اور اپنی بے مثال قدرت کی طرف ہماری توجہ مبذول کرواتا ہے، جس کا تعلق ہماری زندگی اور آخرت کے بہت اہم حقائق سے ہے۔

سورت کا بنیادی پیغام

امام بقاعی (al-Biqa'i) فرماتے ہیں کہ سورہ الطارق کا مرکزی مقصد (یعنی `maqsud`) قرآن کی سچائی کو بیان کرنا ہے کہ یہ اہل ایمان کے لیے نعمتوں اور اہل کفر کے لیے عذاب کا وعدہ پورا کرے گا، خاص طور پر یومِ قیامت جب تمام پوشیدہ راز کھول دیے جائیں گے۔ یہ سورت، سورہ البروج کے آخر میں دیے گئے اس بیان سے گہرا تعلق رکھتی ہے کہ قرآن 'لوح محفوظ' (`Lawh Mahfuz`) میں ہے اور اس کا نازل کرنے والا (اللہ) ہر چیز پر محیط ہے۔ اس ربط کو قائم کرتے ہوئے، یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اللہ کی ہر چیز پر احاطہ کرنے کی قدرت میں ہر شخص کے اعمال کا تحفظ بھی شامل ہے، تاکہ اسے قیامت کے دن جزا یا سزا دی جا سکے۔

الطارق کا معنی اور اس کا ربط

لفظ 'الطارق' (`At-Tariq`) کا مطلب ہے "رات کو آنے والا"۔ علامہ شنقیطی (al-Shinqiti) اور امام قرطبی (al-Qurtubi) کے مطابق، عربی میں 'طرق' (`tarq`) کا اصل معنی "دستک دینا" ہے۔ چونکہ رات کو آنے والے شخص کو دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت پڑتی ہے، اس لیے ہر اس چیز کو 'طارق' کہا گیا جو رات کو آئے، جیسے ستارہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں بھی اس کا ذکر ہے کہ "میں رات اور دن کے طارقوں کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، سوائے اس طارق کے جو خیر کے ساتھ آئے، اے رحمن۔" یہ نشاندہی کرتا ہے کہ 'طارق' کوئی اچانک یا غیر متوقع طور پر آنے والا ہے۔ اگلی ہی آیت (86:2) میں اللہ تعالیٰ خود اس کی وضاحت فرماتے ہیں کہ یہ "النجم الثاقب" (`An-Najm ath-Thaqib`) یعنی روشن، چمکتا ہوا ستارہ ہے۔

کائنات اور وحی کا ربط

اللہ تعالیٰ کا آسمان اور طارق (ستارے) کی قسم کھانا، اس کی عظیم قدرت کا مظہر ہے، جیسا کہ امام صابونی (al-Sabuni) بھی بیان کرتے ہیں۔ قرآن میں سورج، چاند اور ستاروں کا بار بار ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ ان کے حالات، اشکال، حرکت اور طلوع و غروب خالق کی مکمل قدرت کی نشانی ہیں۔ یہ آسمانی اجسام صرف ہماری دنیا کو روشنی اور رہنمائی نہیں دیتے، بلکہ امام بقاعی (al-Biqa'i) کے مطابق، وہ 'مردہ' (شیاطین) سے آسمان کی حفاظت بھی کرتے ہیں، تاکہ قرآن جیسے مجید کلام کو محفوظ رکھا جا سکے۔ اس طرح، آسمان اور اس کے ستارے، دونوں اللہ کی حفاظت اور قدرت کے زندہ دلائل ہیں، جو اس بات کی بنیاد بنتے ہیں کہ اللہ ہر روح کے اعمال کا محافظ ہے اور قیامت کے دن ان کا حساب لے گا۔

یہ ربط ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ جس طرح اللہ نے اس وسیع کائنات کو اتنے دقیق نظام کے ساتھ قائم کر رکھا ہے، اسی طرح وہ ہمارے ہر عمل، نیت اور ہر ایک راز سے بھی باخبر ہے۔ یہ سورت ہمیں اللہ کی لا محدود قدرت، اس کے قرآن کی سچائی اور آخرت میں اپنے اعمال کے جواب دہ ہونے کی حقیقت کے بارے میں سوچنے کی دعوت دیتی ہے۔

مآخذ: al-Biqa'i (Nazm al-Durar), al-Wasit (Tantawi), al-Shinqiti (Adwa al-Bayan), al-Sabuni (Safwat al-Tafasir)

حکمت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

آسمان اور طارق کی قسم

سورہ طارق کا آغاز اللہ تعالیٰ کے دو عظیم مخلوقات کی قسم سے ہوتا ہے: `وَٱلسَّمَآءِ وَٱلطَّارِقِ` (آسمان اور طارق کی قسم). یہاں `ٱلسَّمَآءِ` سے مراد وہ وسیع و عریض آسمان ہے جو ہمارے اوپر پھیلا ہوا ہے. جبکہ `وَٱلطَّارِقِ` کا مطلب ہے 'رات کو آنے والا'. مفسرین جیسے مفتی شفیع اور وہبہ الزحیلی کی تشریح کے مطابق، یہ رات کو طلوع ہونے والے ستارے کو کہتے ہیں، کیونکہ ستارے دن میں چھپ جاتے ہیں اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں. اللہ نے اس کی عظمت کو مزید اجاگر کرنے کے لیے فرمایا: `وَمَا أَدْرَاكَ مَا الطَّارِقُ` (اور تمہیں کیا معلوم کہ طارق کیا ہے؟). پھر خود ہی وضاحت فرمائی: `النَّجْمُ الثَّاقِبُ` (چمکنے والا، روشن اور سوراخ کرنے والا ستارہ). یہ وہ ستارہ ہے جو اپنی تیز روشنی سے رات کی تاریکی کو چیرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

عظمت اور فکر کا دعوت نامہ

اس آیت میں اللہ کا آسمان اور `الطارق` یعنی رات کو چمکنے والے ستارے کی قسم کھانا ایک گہرے سبق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جیسا کہ وہبہ الزحیلی `al-Munir` میں بیان کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں اکثر آسمانوں کی قسم کھاتے ہیں کیونکہ ان کے طلوع، غروب اور حرکت کے حیرت انگیز احوال اس بات کی دلیل ہیں کہ ان کا کوئی خالق، کوئی تدبیر کرنے والا ہے۔ `وَمَا أَدْرَاكَ مَا الطَّارِقُ` کا انداز بیان اس ستارے کی رفعت اور اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جو انسان کو اللہ کی عظیم قدرت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ قسم صرف آسمانی اجسام کی تعریف نہیں ہے، بلکہ یہ ان کے خالق کی بے پناہ طاقت، حکمت اور انتظام کی یاد دہانی ہے۔

آج کے لیے سبق

اس آیت سے ہمارے لیے کئی عمومی سبق حاصل ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ کائنات میں اللہ کی نشانیوں پر غور کرنا ضروری ہے۔ جب ہم آسمان کی وسعت اور رات کے تاریک پردے میں چمکتے ستارے کو دیکھتے ہیں، تو یہ ہمیں اللہ کی عظمت اور اس کی بے مثال تخلیق پر حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ یہ تفکر ہمیں عاجزی سکھاتا ہے اور اللہ کی لامحدود قدرت کو تسلیم کرنے پر اکساتا ہے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ اللہ کی قدرت صرف بڑے آسمانی اجسام تک محدود نہیں، بلکہ وہ ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کا بھی انتظام کرنے پر قادر ہے۔ اس عظمت کو یاد رکھنا ہمیں اپنی زندگی کے تمام معاملات میں اللہ پر بھروسہ کرنے اور اس پر توکل کرنے کا سبق دیتا ہے۔ اگر وہ اتنے بڑے نظام کو چلا رہا ہے تو ہمارے ذاتی معاملات بھی اس کی قدرت سے باہر نہیں۔ یہ ہمیں اللہ کی نگرانی اور ہماری جوابدہی کے لیے تیار رہنے کی ترغیب دیتا ہے، جو اس سورت کے اگلے حصوں کا مرکزی پیغام ہے۔

مآخذ: Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), al-Munir (Wahba al-Zuhayli), Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Saadi (Taysir al-Karim)

وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے

یہ آیت Maani کے 4 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔

قرآن کے تمام موضوعات دیکھیں

اس آیت پر غور کریں

Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔

Maani کے ساتھ اس آیت پر غور کریں