سورۃ الملک، آیت 3

سُورَةُ المُلۡكِ · مکی · آیت 3 / 30

ٱلَّذِى خَلَقَ سَبْعَ سَمَٰوَٰتٍۢ طِبَاقًۭا ۖ مَّا تَرَىٰ فِى خَلْقِ ٱلرَّحْمَٰنِ مِن تَفَٰوُتٍۢ ۖ فَٱرْجِعِ ٱلْبَصَرَ هَلْ تَرَىٰ مِن فُطُورٍۢ

اردو ترجمہ

اس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے۔ (اے دیکھنے والے) کیا تو (خدا) رحمٰن کی آفرنیش میں کچھ نقص دیکھتا ہے؟ ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھ بھلا تجھ کو (آسمان میں) کوئی شکاف نظر آتا ہے؟

اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔

معنی اور غور و فکر

الفاظ کا انتخاب

یہ آیت اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت اور رحمت کی نشانیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اس میں کائنات کے بے عیب اور بے مثال نظام کی وضاحت کی گئی ہے۔

کائنات کا مثالی نظام

آیت کا آغاز `الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَٰوَٰتٍۢ طِبَاقًۭا` (جس نے سات آسمان تہوں پر تہہ بنائے) سے ہوتا ہے۔ `طباقًا` (طِبَاقًا) کا لفظ یہاں بہت اہم ہے۔ مفسرین نے اس کے کئی معنی بیان کیے ہیں۔ امام رازی اور ابن عاشور کہتے ہیں کہ یہ `طابَقَ` سے ہے، یعنی "مطابق ہونا" یا "ایک دوسرے پر منطبق ہونا"۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ آسمان ایک دوسرے کے اوپر ایسے ترتیب سے بنے ہیں جیسے جوتے کی تہیں ایک دوسرے پر رکھی جاتی ہیں (زمخشری کا بیان)۔ ابن عاشور کے مطابق، اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ آپس میں گہرے طور پر ہم آہنگ ہیں اور ایک منظم طریقے سے حرکت کرتے ہیں۔ اس لفظ کا انتخاب اس بات پر زور دیتا ہے کہ یہ محض تہیں نہیں بلکہ ایسی تہیں ہیں جن میں کامل ہم آہنگی اور نظام ہے۔

ہر عیب سے پاک تخلیق

اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں `مَّا تَرَىٰ فِى خَلْقِ ٱلرَّحْمَٰنِ مِن تَفَٰوُتٍۢ` (تم رحمن کی تخلیق میں کوئی بے اعتدالی نہیں دیکھو گے)۔ یہاں `تفاوت` (تَفَاوُتٍ) کا لفظ بہت معنی خیز ہے۔ اس کا مطلب ہے "بے ترتیبی، عدم تناسب، یا نقص"۔ اس لفظ کے انتخاب سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ کی بنائی ہوئی ہر چیز میں کمال اور تناسب ہے۔ یہاں پر خاص طور پر `خَلْقِ ٱلرَّحْمَٰنِ` (رحمن کی تخلیق) کا ذکر بھی قابل غور ہے۔ یہ `التفات` (انتقال ضمیر) کی ایک صورت ہے، جہاں "ان کی تخلیق" (آسمانوں کی تخلیق) کہنے کے بجائے "رحمن کی تخلیق" کہا گیا۔ مفسرین، جیسے ابن عاشور، فرماتے ہیں کہ اس میں ایک اہم حکمت ہے۔ یہ آسمانوں کی عظمت کو بڑھاتا ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان کی بے عیبی کی وجہ یہ ہے کہ یہ `الرحمن` (بڑی رحمت والے) کی تخلیق ہیں۔ ان کے کامل نظام میں بھی اللہ کی رحمت جھلکتی ہے جو انسانوں کے لیے زندگی کی پائیداری کا باعث ہے۔ یہ مشرکوں کے رحمن کے نام سے انکار کو بھی ایک لطیف رد ہے۔

مزید غور و فکر کی دعوت

پھر اللہ تعالیٰ مزید چیلنج کرتے ہیں `فَٱرْجِعِ ٱلْبَصَرَ هَلْ تَرَىٰ مِن فُطُورٍۢ` (تو نظر دوبارہ ڈالو، کیا تمہیں کوئی شگاف نظر آتا ہے؟)۔ `فارجع البصر` (فَارْجِعِ الْبَصَرَ) کا مطلب ہے "نظر کو دوبارہ لوٹاؤ" یا "گہرائی سے دوبارہ دیکھو"۔ ابن عاشور کے مطابق، `ہل` کے ساتھ استفہام (سوال) تاکید کے لیے ہے، یعنی یہ ایک دعوتی اور چیلنج بھرا سوال ہے جو دیکھنے والے کو مزید غور کرنے پر اکساتا ہے۔ `فطور` (فُطُورٍ) کا لفظ `فطر` سے ہے جس کا مطلب ہے "پھاڑنا" یا "چیڑنا"۔ پس `فطور` کے معنی ہیں "شگاف، دراڑ یا ٹوٹ پھوٹ"۔

اس آیت کا مجموعی پیغام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو آسمان بنائے ہیں وہ نہ صرف ترتیب میں `طباقًا` (طبق در طبق) ہیں بلکہ `تفاوت` (بے اعتدالی) اور `فطور` (شگاف) سے بھی پاک ہیں۔ یہ اللہ کی قدرت، اس کے کامل علم اور اس کی وسیع رحمت کا ایک روشن ثبوت ہے، جو ہر دیکھنے والے کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اس عظیم تخلیق میں کمال کی تلاش کرے اور خالق کی عظمت کا اعتراف کرے۔

Source: al-Razi, Ibn Ashur, al-Zamakhshari, al-Jalalayn

مآخذ: al-Razi (Mafatih al-Ghayb), Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir), al-Zamakhshari (al-Kashshaf), al-Jalalayn, al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi)

وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے

یہ آیت Maani کے 4 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔

قرآن کے تمام موضوعات دیکھیں

اس آیت پر غور کریں

Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔

Maani کے ساتھ اس آیت پر غور کریں