سورۃ النور، آیت 16
سُورَةُ النُّورِ · مدنی · آیت 16 / 64
وَلَوْلَآ إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُم مَّا يَكُونُ لَنَآ أَن نَّتَكَلَّمَ بِهَٰذَا سُبْحَٰنَكَ هَٰذَا بُهْتَٰنٌ عَظِيمٌۭ
اردو ترجمہ
اور جب تم نے اسے سنا تھا تو کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں شایاں نہیں کہ ایسی بات زبان پر نہ لائیں۔ (پروردگار) تو پاک ہے یہ تو (بہت) بڑا بہتان ہے
اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔
معنی اور غور و فکر
الفاظ کا انتخاب
آئیے سورہ نور کی آیت 16 پر گہرا تدبر کریں جہاں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو مخاطب کر رہا ہے جنہوں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائے گئے بہتان کو سنا اور اسے پھیلا دیا۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمان والوں کا رویہ ایسے مواقع پر کیسا ہونا چاہیے اور الفاظ کا چناؤ کس قدر اہمیت رکھتا ہے۔
فوری ردعمل کی اہمیت
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَوْلَآ إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُم﴾ یعنی "اور جب تم نے اسے سنا تو تم نے کیوں نہ کہا؟" یہاں ﴿لَوْلَا﴾ 'کیوں نہ' یا 'کاش کہ' کے معنی میں ایک سخت سرزنش اور نصیحت ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان سے جس ردعمل کی توقع تھی وہ نہیں ہوا۔ الفاظ ﴿إِذْ سَمِعْتُمُوهُ﴾ (جب تم نے اسے سنا) کی تقدیم بہت اہم ہے۔ امام زمخشری اور امام رازی فرماتے ہیں کہ اس میں یہ فائدہ ہے کہ واضح ہو کہ واجب تھا کہ وہ سنتے ہی اس بہتان سے بات کرنے سے بچیں۔ یعنی، جیسے ہی یہ بات کانوں میں پڑی، فوراً ہی اس کو رد کر دینا چاہیے تھا، تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ ابن عاشور (Ibn Ashur) بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہاں `لولا` کا تکرار اور اس کے شرط و جزا کا اعادہ، اس جملے کی اہمیت کو بڑھاتا ہے۔
بات کرنے کی ممانعت
آیت کا اگلا حصہ ہے: ﴿مَّا يَكُونُ لَنَآ أَن نَّتَكَلَّمَ بِهَٰذَا﴾ یعنی "ہمیں یہ بات کہنے کی اجازت نہیں ہے۔" یہاں ﴿مَّا يَكُونُ لَنَا﴾ کا چناؤ گہری نفی بیان کرتا ہے۔ ابن عاشور وضاحت کرتے ہیں کہ ﴿مَّا يَكُونُ لَنَا﴾ کہنا، ﴿لَيْسَ لَنَا﴾ کہنے سے زیادہ شدت رکھتا ہے۔ یہ اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ ایسی بات کرنا اور اس میں پڑنا بنیادی طور پر ہی نامناسب اور ناممکن تھا۔ یہ ایک مومن کی شان کے خلاف ہے کہ وہ ایسی بے ہودہ بات میں حصہ لے۔ ضمیر ﴿لَنَا﴾ (ہمارے لیے) سب پر محیط ہے – ان پر بھی جنہوں نے بات پھیلائی اور ان پر بھی جنہوں نے اسے سنا اور خاموش رہے۔ یہ ایک اجتماعی ذمہ داری کا اعلان ہے۔
اللہ کی پاکیزگی اور تعجب
پھر فرمایا گیا: ﴿سُبْحَٰنَكَ﴾ "آپ پاک ہیں!" یہ کلمہ عام طور پر اللہ کی تسبیح کے لیے استعمال ہوتا ہے، لیکن یہاں علماء (جیسے زمخشری، رازی، ابن عاشور، جلالین) متفق ہیں کہ یہ معاملے کی سنگینی اور عظمت پر تعجب اور حیرت کے اظہار کے لیے آیا ہے۔ امام رازی اور امام زمخشری بیان کرتے ہیں کہ اس کی اصل یہ ہے کہ جب کوئی اللہ کی صفت میں کوئی عجوبہ دیکھتا ہے تو وہ اللہ کی تسبیح کرتا ہے، پھر یہ ہر اس چیز کے لیے استعمال ہونے لگا جو باعث تعجب ہو۔ ابن عاشور کے مطابق، یہ اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرکے اپنی بیزاری کا اعلان کرنا بھی ہے، گویا یہ کہنا کہ "اے اللہ! تو پاک ہے اس سے کہ یہ بہتان سچا ہو یا تو اس سے راضی ہو، اور میں بھی اس سے بری ہوں۔" یہ اللہ کے غضب کی طرف اشارہ بھی ہے، جس سے توبہ اور احتیاط کی ترغیب ملتی ہے۔
عظیم بہتان کی نوعیت
آخر میں فرمایا: ﴿هَٰذَا بُهْتَٰنٌ عَظِيمٌۭ﴾ "یہ ایک بہت بڑا بہتان ہے۔" ﴿بُهْتَٰنٌ﴾ اس جھوٹی خبر کو کہتے ہیں جو سننے والے کو حیران اور ششدر کر دے کیونکہ اس میں حقیقت کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی۔ ابن عاشور `عظیم` کے وصف کی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ صرف جھوٹ نہیں، بلکہ یہ عزت پر حملہ ہے، لوگوں کے درمیان گہری دشمنی پیدا کرتا ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المومنین کے مقام کی توہین ہے۔ اس آیت کے الفاظ ہمیں سکھاتے ہیں کہ ایک مومن کا دل اور زبان کس قدر پاکیزہ ہونی چاہیے اور کسی بھی بہتان کو سنتے ہی اسے فوراً رد کر دینا کتنا ضروری ہے۔
مآخذ: al-Zamakhshari (al-Kashshaf), al-Razi (Mafatih al-Ghayb), al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi), Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir), al-Jalalayn
قرآنی دنیا
جب ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے کلام کی طرف اس عاجزی اور احترام کے ساتھ رجوع کرتے ہیں کہ یہ میرے رب کا پیغام ہے جو میری زندگی کو بدلنے آیا ہے، تو دل کے دریچے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ سورہ نور کی یہ آیت، اپنے نزول کے پس منظر میں، ہمیں ایک اہم سبق سکھاتی ہے۔
کس سے خطاب ہے؟
یہ آیت ان لوگوں سے مخاطب ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی زوجہ مطہرہ پر لگائے گئے سنگین بہتان (جھوٹی تہمت) کے بارے میں سنا۔ یہ خطاب ایک سرزنش اور نصیحت ہے کہ انہیں اس بات کو سن کر فوراً کیا کہنا چاہیے تھا، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ یہ آیت اس وقت کے مسلمانوں کی معاشرتی تربیت اور کردار سازی کے لیے نازل ہوئی۔
نزول کا پس منظر
یہ آیت اس دردناک واقعے کے تناظر میں نازل ہوئی جسے تاریخ "واقعۂ افک" یعنی جھوٹی تہمت کے واقعے کے نام سے جانتی ہے۔ مدینہ کا وہ معاشرہ جہاں ایمان کے پھول کھل رہے تھے، وہاں منافقین کی سازشوں نے ایک بے بنیاد اور شرمناک افواہ پھیلا دی۔ یہ ایک ایسا نازک وقت تھا جب نبی اکرم ﷺ اور ان کے گھرانے کو شدید کرب سے گزرنا پڑا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں یاد دلا رہے ہیں کہ جب تم نے یہ جھوٹی بات سنی، تو تمہارا پہلا رد عمل کیا ہونا چاہیے تھا؟
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ ام ایوب رضی اللہ عنہا کا قصہ اس دنیا کی بہترین مثال پیش کرتا ہے۔ جب ام ایوب رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر سے اس بہتان کا ذکر کیا تو ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے فوراً فرمایا: "سبحانك هذا بهتان عظيم" یعنی "اے اللہ! تو پاک ہے، یہ تو بہت بڑا جھوٹ ہے۔" یہ آیت بعد میں انہی کلمات کے ساتھ نازل ہوئی، جو یہ دکھاتی ہے کہ نیک دلوں نے فطری طور پر حق کو پہچان لیا تھا۔ یہ آیت ہمیں ایک معیار دیتی ہے کہ جب کسی نیک شخص پر کوئی بے بنیاد الزام لگے تو ایک مومن کا رویہ کیا ہونا چاہیے، اسے فوراً اس کی تردید کرنی چاہیے۔
سچائی کا پیغام
آیت کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ اگر تم نے وہ بات سنی، تو تمہیں فوراً کہنا چاہیے تھا: مَا يَكُونُ لَنَآ أَن نَّتَكَلَّمَ بِهَٰذَا (ہمارے لیے یہ جائز نہیں کہ ہم ایسی بات کریں)۔ یعنی ہمارا منہ اس بات کے لیے نہیں بنا کہ ہم بے بنیاد اور بدگمانی پر مبنی باتوں کو پھیلائیں۔ اس کے ساتھ ہی فرمایا: سُبْحَٰنَكَ (تو پاک ہے)۔ علامہ رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ `سبحانك` کے کئی معنی ہو سکتے ہیں: اس عظمت کو دیکھ کر تعجب کا اظہار، یا اللہ کو اس بات سے پاک قرار دینا کہ اس کے نبی کی زوجہ ایسی ہو، یا اللہ کو اس بات سے پاک قرار دینا کہ وہ ایسے ظلم پر راضی ہو، یا ایسے ظالموں کو سزا نہ دے۔ خلاصہ یہ کہ یہ کلمہ اللہ کی پاکیزگی اور اس بہتان سے مکمل بیزاری کا اظہار ہے۔ اور پھر فرمایا: هَٰذَا بُهْتَٰنٌ عَظِيمٌ (یہ بہت بڑا بہتان ہے)۔ اس میں اللہ تعالیٰ خود اس الزام کو ایک بہت بڑا، عظیم جھوٹ قرار دے رہے ہیں، جس کی سنگینی کا ادراک ہونا ہر سننے والے پر لازم تھا۔
امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق، یہ سابقہ ہدایت کے بعد ایک اور اخلاقی تربیت ہے، جس میں یہ سکھایا گیا کہ اگر کسی قابل احترام شخص کے بارے میں کوئی نامناسب بات سنو تو فوری طور پر اس پر نیک گمان رکھو۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ایک مومن کا دل اور زبان کیسی ہونی چاہیے جب وہ کسی پر لگائے گئے بے بنیاد الزام کو سنے: اسے فوراً رد کر دے اور اسے "بہتان عظیم" قرار دے کر اللہ کی پاکیزگی بیان کرے۔
مآخذ: Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), al-Baghawi (Maalim al-Tanzil), al-Razi (Mafatih al-Ghayb), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), al-Tabari (Jami al-Bayan), Ibn Kathir
وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے
یہ آیت Maani کے 7 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔
اس آیت پر غور کریں
Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔