سورۃ الانبیاء، آیت 104
سُورَةُ الأَنبِيَاءِ · مکی · آیت 104 / 112
يَوْمَ نَطْوِى ٱلسَّمَآءَ كَطَىِّ ٱلسِّجِلِّ لِلْكُتُبِ ۚ كَمَا بَدَأْنَآ أَوَّلَ خَلْقٍۢ نُّعِيدُهُۥ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَآ ۚ إِنَّا كُنَّا فَٰعِلِينَ
اردو ترجمہ
جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ لیں گے جیسے خطوں کا طومار لپیٹ لیتے ہیں۔ جس طرح ہم نے (کائنات کو) پہلے پیدا کیا اسی طرح دوبارہ پیدا کردیں گے۔ (یہ) وعدہ (جس کا پورا کرنا لازم) ہے۔ ہم (ایسا) ضرور کرنے والے ہیں
اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔
معنی اور غور و فکر
الفاظ کا انتخاب
یہ آیت ہمیں قیامت کے ایک عظیم منظر کی جھلک دکھاتی ہے، جب اللہ تعالیٰ آسمانوں کو سمیٹ لیں گے اور ایک نئی تخلیق کا آغاز کریں گے۔ یہ منظر نہ صرف اللہ کی لامحدود قدرت کو بیان کرتا ہے بلکہ ہمیں اس وعدے کی پختگی کا یقین بھی دلاتا ہے کہ آخرت یقینی ہے۔
آسمانوں کا سمیٹا جانا
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: `يَوْمَ نَطْوِى ٱلسَّمَآءَ كَطَىِّ ٱلسِّجِلِّ لِلْكُتُبِ` (جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے جیسے (نوشتوں کا) کاغذ لپیٹا جاتا ہے کُتُب کے لیے)۔ یہاں `نَطْوِى` کا مطلب ہے 'ہم لپیٹ دیں گے'۔ لفظ `طيّ` کا مطلب ہے کسی پھیلی ہوئی چیز کے کچھ حصوں کو دوسرے حصوں پر موڑ کر لپیٹ دینا، جو کہ پھیلا نے (`نشر`) کے برعکس ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آسمان اپنے موجودہ نظام سے بدل جائیں گے۔ ابن عاشور فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ان اجرام فلکی کا اپنی جگہ سے ہٹ جانا یا ان کا ایک دوسرے کے قریب آ جانا ہے، جیسے کاغذ کو لپیٹا جاتا ہے۔
`السِّجِلِّ` کے معنی میں علماء کی مختلف آراء ہیں، لیکن عام طور پر اسے ایک نوشتہ، صحیفہ یا رول سمجھی جاتی ہے جس پر لکھا جاتا ہے۔ الزمخشری اور الجدوال اسے 'قرطاس' یا 'صحيفة' یعنی ایک ایسا کاغذ یا صحیفہ قرار دیتے ہیں جس پر کتابت کی جائے۔ `لِلْكُتُبِ` کا مطلب ہے 'کتابت کے لیے' یا 'جو کچھ اس پر لکھا گیا ہے اس کے لیے'۔ اس تشبیہ کا انتخاب آسمانوں کے عظیم وسعت کے باوجود، ان کو سمیٹنے میں اللہ کی کامل آسانی اور قدرت کو واضح کرتا ہے، جیسے انسان ایک معمولی کاغذ کو لپیٹ دیتا ہے۔ اس لفظی انتخاب میں یہ بات بھی نمایاں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں ایسی تشبیہات استعمال کرتے ہیں جو ہمیں اس کی عظمت کو سمجھنے میں مدد دیں۔ `يَوْمَ` (جس دن) کو ابتدا میں ذکر کرنا اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جو پرانے نظام کے اختتام اور نئی تخلیق کے آغاز کا وقت ہو گا۔
تخلیق کا اعادہ
آیت کا اگلا حصہ ہے: `كَمَا بَدَأْنَآ أَوَّلَ خَلْقٍۢ نُّعِيدُهُۥ` (جیسا کہ ہم نے پہلی بار مخلوق کو پیدا کیا تھا، ہم اسے دوبارہ پیدا کریں گے)۔ یہاں `كما` (جیسا کہ) پھر ایک تشبیہ استعمال ہوئی ہے جو پہلے اور دوبارہ پیدا کرنے کی یکسانیت اور آسانی کو بیان کرتی ہے۔ `بَدَأْنَا` یعنی 'ہم نے شروع کیا' یا 'ہم نے پیدا کیا' اور `نُعِيدُهُ` یعنی 'ہم اسے دوبارہ پیدا کریں گے'۔ الزمخشری کے مطابق `أَوَّلَ خَلْقٍ` کا مطلب ہے کہ اللہ نے مخلوق کو عدم سے وجود بخشا، اور اسی طرح وہ دوبارہ اسے عدم سے وجود بخشے گا۔ ابن عاشور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس تشبیہ کا مقصد دونوں (پہلی تخلیق اور دوبارہ تخلیق) کے ممکن ہونے اور ان پر اللہ کی قدرت کو اجاگر کرنا ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک واضح دلیل ہے جو مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کو ناممکن سمجھتے ہیں۔
اللہ کا پختہ وعدہ
آیت کا اختتام ان الفاظ پر ہوتا ہے: `وَعْدًا عَلَيْنَآ ۚ إِنَّا كُنَّا فَٰعِلِينَ` (یہ ہم پر لازم کیا ہوا وعدہ ہے، بے شک ہم اسے ضرور کرنے والے ہیں)۔ `وعداً` (وعدہ) ایک مؤکد مصدر ہے، جو اس حقیقت پر زور دیتا ہے کہ یہ محض ایک خبر نہیں بلکہ اللہ کا ایک پختہ وعدہ ہے۔ `علينا` (ہم پر) کا استعمال اس وعدے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک قسم کے التزام اور واجب ہونے کا احساس دلاتا ہے، یعنی اللہ نے یہ خود پر لازم کر لیا ہے۔ ابن عاشور کے مطابق `على` کا یہ استعمال اس وعدے کی پختگی اور وجوب کو ظاہر کرتا ہے۔
پھر فرمایا: `إِنَّا كُنَّا فَٰعِلِينَ` (یقیناً ہم اسے کرنے والے ہیں)۔ `إنّا` کا تاکیدی انداز اور `كنّا فاعلين` (ہم ہمیشہ سے کرنے والے رہے ہیں) میں فعل ماضی `كُنّا` کا استعمال یہ بتاتا ہے کہ یہ اللہ کی صفت ہے کہ وہ جو وعدہ کرتا ہے، اسے پورا کرتا ہے۔ اس کی قدرت کسی زمانے سے محدود نہیں، بلکہ وہ ہمیشہ سے یہ صلاحیت رکھتا ہے اور اس کا وعدہ یقینی طور پر پورا ہو کر رہے گا۔ یہ الفاظ مشرکین کے انکار کی نفی کرتے ہیں اور مومنین کے لیے اطمینان کا باعث بنتے ہیں کہ قیامت کا آنا اور حساب کا قائم ہونا ایک حتمی حقیقت ہے۔
مآخذ: al-Zamakhshari (al-Kashshaf), Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir), al-Jalalayn, al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi)
وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے
یہ آیت Maani کے 5 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔
اس آیت پر غور کریں
Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔