سورۃ الحجر، آیت 14
سُورَةُ الحِجۡرِ · مکی · آیت 14 / 99
وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فَظَلُّوا۟ فِيهِ يَعْرُجُونَ
اردو ترجمہ
اوراگر ہم آسمان کا کوئی دروازہ اُن پر کھول دیں اور وہ اس میں چڑھنے بھی لگیں
اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔
معنی اور غور و فکر
الفاظ کا انتخاب
یہ آیت ہمیں ان لوگوں کی گہری اور شدید ہٹ دھرمی کے بارے میں بتاتی ہے جو حق کو قبول نہیں کرنا چاہتے۔ اللہ تعالیٰ ان کفارِ مکہ سے مخاطب ہیں جو نبی اکرم ﷺ سے نشانیاں مانگتے تھے، اور اللہ ان کے انکار کی سرشت کو کھول کر بیان فرما رہا ہے۔
انکار کی گہرائی
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ﴾ "اور اگر ہم ان پر آسمان سے کوئی دروازہ کھول دیتے۔" یہاں "آسمان سے دروازہ" کھولنا ایک ایسی واضح نشانی ہے جو انسانی تصور سے بھی بالاتر ہے۔ اس کے بعد فرمایا: ﴿فَظَلُّوا۟ فِيهِ يَعْرُجُونَ﴾ "تو وہ دن بھر اس میں چڑھتے رہتے۔" ابن عاشور، الزمخشری اور الرازی جیسے مفسرین نے `ظلوا` کے استعمال کو اجاگر کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ عمل "دن کے وقت" ہوتا، یعنی جب ہر چیز روشن اور واضح ہوتی ہے۔ یہ اندھیرے کا کوئی وہم یا فریب نہیں ہوتا بلکہ مکمل روشنی میں ہوتا، جس سے کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔ `يعرجون` (چڑھتے رہنا) سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک لمحاتی تجربہ نہیں ہوتا بلکہ ایک مسلسل اور طویل مشاہدہ ہوتا، جو ان کے انکار کی انتہا کو مزید واضح کرتا ہے۔
آنکھوں کا فریب؟
ایسی حیرت انگیز اور واضح نشانی دیکھنے کے باوجود، وہ کہتے: ﴿لَّقَالُوٓا۟ إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَـٰرُنَا﴾ "وہ ضرور کہتے کہ ہماری آنکھیں بس جادو زدہ ہو گئی ہیں۔" `إنما` کا استعمال یہاں ان کے حتمی اور قطعی انکار کو ظاہر کرتا ہے۔ ابن عاشور اور الجدول فی اعراب القرآن اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ لفظ حصر (استثنائی طور پر) کے لیے آتا ہے، یعنی وہ اپنی آنکھوں کے فریب کے سوا کوئی اور امکان تسلیم نہ کرتے۔ `سُكِّرَتْ` کے کئی معانی بیان ہوئے ہیں، جن میں "روک دی گئیں" یا "بند ہو گئیں" (جیسے کوئی بند باندھ کر پانی کو روکا جائے) اور "حیران و پریشان ہو گئیں" یا "مدہوش ہو گئیں" (جیسے شراب کے نشے میں) شامل ہیں۔ یہ ایک استعارہ ہے جو بتاتا ہے کہ ان کی بصارت خراب ہو گئی تھی، جیسے نشے میں دھت شخص کی عقل خراب ہو جاتی ہے (الجدول فی اعراب القرآن)۔
سحر زدہ قوم
پھر وہ اپنے انکار کو مزید پختہ کرتے ہوئے کہتے: ﴿بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ﴾ "بلکہ ہم تو جادو زدہ قوم ہیں۔" یہاں `بل` ایک مضبوط تبدیلی اور تاکید کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ ہماری آنکھوں میں مسئلہ ہے، بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر کہتے ہیں کہ ہم سب بحیثیتِ قوم جادو کا شکار ہو چکے ہیں۔ ابن عاشور اس بات کو نمایاں کرتے ہیں کہ `قوم` کا اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جادو کا اثر ان میں اس قدر سرایت کر گیا ہے کہ یہ ان کی قومیت کی ایک مستقل خصوصیت بن چکا ہے۔ یہ محض ایک فردی تجربہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی کیفیت ہے، جو ان کی ضد اور انکار کی جڑیں کتنی گہری ہیں، اس کو عیاں کرتی ہے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہدایت صرف ظاہری نشانیوں سے نہیں ملتی، بلکہ اس کے لیے دل کا کھلا ہونا ضروری ہے۔ جو دل حق کا سامنا کرنے سے گریزاں ہو، وہ سب سے بڑی اور واضح نشانیوں کو بھی محض فریب یا جادو کہہ کر مسترد کر دیتا ہے۔
مآخذ: Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir), al-Zamakhshari (al-Kashshaf), al-Razi (Mafatih al-Ghayb), al-Jalalayn, al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi)
قرآنی دنیا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
یہ آیت، سورہ الحجر کی ابتدائی آیات کے تسلسل میں ہے جو مکہ کے ان لوگوں کے بارے میں بات کرتی ہے جو نبی کریم ﷺ کی نبوت اور قرآن کی حقانیت کا انکار کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ یہاں ان کے ہٹ دھرمی اور عناد کی انتہائی تصویر پیش فرماتے ہیں۔
کلام الٰہی کی تمہید
اس آیت میں اللہ تعالیٰ براہِ راست کفارِ مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ ان کا انکار دلیل کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ گہرے عناد اور ضد کی وجہ سے ہے۔ اس سے قبل وہ فرشتوں کے نازل ہونے کا مطالبہ کر چکے تھے، اور یہ آیت اسی مطالبے کے رد میں آتی ہے۔
وحی کا عالم
یہ آیت ایسے وقت میں نازل ہوئی جب نبی کریم ﷺ مکہ میں شدید مخالفت اور انکار کا سامنا کر رہے تھے۔ کفار آپ ﷺ کو جھٹلا رہے تھے اور حق کی واضح نشانیوں کے باوجود ایمان لانے سے گریزاں تھے۔ وہ طرح طرح کے معجزات کا مطالبہ کرتے تھے، جیسے آیت 15:7 میں فرشتوں کے نزول کا مطالبہ کیا گیا: "لَوْ مَا تَأْتِينَا بِالْمَلَائِكَةِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ" (اگر تم سچے ہو تو ہمارے سامنے فرشتے کیوں نہیں لے آتے؟)۔
یہ آیت دراصل ان کی اس ضد اور تعصب کا جواب ہے۔ سید قطبؒ نے اس حوالے سے بہترین وضاحت کی ہے کہ ان کا رویہ سچائی کو قبول کرنے کی خواہش سے نہیں بلکہ محض جدال اور عناد پر مبنی تھا۔ یہ آیت نبی ﷺ اور صحابہ کرام کے لیے ایک تسلی تھی کہ مخالفین کا انکار دلائل کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے اپنے دلوں کی سختی کی وجہ سے ہے۔ اس سے انہیں یہ معلوم ہوتا تھا کہ حق کا انکار کرنے والے ماضی کی اقوام میں بھی موجود تھے، جیسا کہ سورہ الحجر کی آیات 10-13 میں اس کا ذکر آیا ہے کہ پہلے رسولوں کو بھی جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا گیا۔
تخلیق کا عالم
یہ آیت کائنات کے ایک انتہائی حیران کن منظر کو فرضی طور پر پیش کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فَظَلُّوا۟ فِيهِ يَعْرُجُونَ" (اور اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن بھر اس میں چڑھتے رہتے۔)
یہاں دو ممکنہ تفاسیر سامنے آتی ہیں:
1. المشرکین کا عروج: بعض مفسرین، جیسے حسن بصریؒ، کی رائے ہے کہ اس سے مراد خود کفار مکہ کا آسمان میں چڑھنا ہے۔ یعنی اگر انہیں یہ موقع ملتا کہ وہ آسمان کے دروازے کھلتے دیکھتے اور خود اس میں اوپر چڑھتے، اللہ کی قدرت کی نشانیاں اپنی آنکھوں سے دیکھتے۔
2. فرشتوں کا عروج: ایک بڑی تعداد میں مفسرین، جن میں ابن عباسؓ اور قتادہؒ شامل ہیں (جیسا کہ امام طبریؒ نے نقل کیا ہے)، کی رائے ہے کہ اس سے مراد فرشتوں کا آسمان میں چڑھتے ہوئے نظر آنا ہے۔ یعنی اگر فرشتے ان کی نظروں کے سامنے آسمان کی بلندیوں میں آتے جاتے، اور وہ انہیں دن دہاڑے دیکھتے، تب بھی ان کا انکار نہ ٹوٹتا۔
دونوں صورتوں میں، بات ایک ایسے عظیم اور غیر معمولی مشاہدے کی ہے جو ہر شک و شبہ کو مٹا دینے والا ہوتا۔ انسان براہِ راست آسمانی حقیقت سے روبرو ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کے باوجود ان کا ردعمل کیا ہوتا؟ آیت 15 میں جواب آتا ہے: "لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَسْحُورُونَ" (وہ کہتے کہ ہماری آنکھوں پر جادو کردیا گیا ہے بلکہ ہم تو جادو زدہ لوگ ہیں۔)
یہاں "سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا" کا مطلب یہ ہے کہ ہماری آنکھیں بند کر دی گئیں ہیں، یا ان پر جادو کر دیا گیا ہے، یا وہ دھندلا گئی ہیں، جیسا کہ امام رازیؒ اور امام طبریؒ نے مختلف لغوی معانی بیان کیے ہیں۔ وہ اس واضح حقیقت کو بھی محض "جادو" قرار دے دیتے۔
گہرا سبق
اس آیت میں ہمارے لیے یہ گہرا سبق ہے کہ ایمان محض ظاہری نشانیاں دیکھنے کا نام نہیں، بلکہ دل کی سچائی، عاجزی اور حق کو قبول کرنے کی آمادگی کا نام ہے۔ اللہ نے کائنات میں بے شمار نشانیاں رکھی ہیں، اور قرآن کریم بھی بذاتِ خود ایک معجزہ ہے۔ اگر انسان کا دل ضد اور تعصب سے بھرا ہو، تو کوئی بھی معجزہ یا آسمانی مشاہدہ اسے ایمان کی راہ پر نہیں لاسکتا۔ یہ آیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے دلوں کا جائزہ لیں، کیا ہم حق کے لیے کھلے ہیں، یا ہماری آنکھیں بھی کسی باطنی حجاب کی وجہ سے سچائی کو محض "نظر کا دھوکا" سمجھنے پر آمادہ ہو سکتی ہیں۔
مآخذ: Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), al-Baghawi (Maalim al-Tanzil), al-Razi (Mafatih al-Ghayb), al-Tabari (Jami al-Bayan), Ibn Kathir
حکمت
آیت کا مرکزی پیغام
یہ آیت مکہ کے ان کافروں کی سرکشی اور عناد کو بیان کرتی ہے جو حق کو تسلیم کرنے پر تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ اگر ہم ان کے لیے آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ مسلسل اس میں چڑھتے رہتے، آسمانی مخلوقات اور حیرت انگیز نشانیاں اپنی آنکھوں سے دیکھتے، تب بھی وہ ایمان نہ لاتے۔ اس شدید انکار اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے وہ کہتے کہ یہ تو ہماری آنکھوں پر جادو کر دیا گیا ہے یا ہمیں فریب دیا گیا ہے، بلکہ ہم تو مسحور لوگ ہیں۔
ایمان کا قلبی تعلق
اس آیت سے ایک گہرا سبق ملتا ہے کہ ایمان محض ظاہری دلائل یا معجزات کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ اس کا گہرا تعلق دل کی نیت اور حق کو قبول کرنے کے رجحان سے ہے۔ امام السعدی فرماتے ہیں کہ خواہ انہیں کتنی ہی عظیم نشانیاں دکھا دی جاتیں، وہ پھر بھی ایمان نہ لاتے۔ ان کا ظلم اور عناد انہیں اس بات پر مجبور کرتا کہ وہ اپنی آنکھوں دیکھی حقیقت کو بھی جادو اور فریب قرار دیں۔ السعدی اور ابن الجوزی دونوں نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ لوگ آسمانی مشاہدے کو بھی `إنما سكرت أبصارنا` (ہماری آنکھیں بند کر دی گئی ہیں یا ہم پر جادو کر دیا گیا ہے) کہہ کر جھٹلا دیتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب دل پر عناد کی مہر لگ جائے تو اس کے لیے ہر حقیقت بے معنی ہو جاتی ہے۔
ہمارے لیے رہنمائی
یہ آیت ہمیں اپنے دلوں کا جائزہ لینے کی ترغیب دیتی ہے۔ کیا ہم بھی کسی حقیقت کو محض اپنے تعصب، ضد یا پیشگی تصورات کی وجہ سے رد کرنے پر آمادہ تو نہیں ہو جاتے؟ یہ کتنا خطرناک رجحان ہے کہ انسان سچائی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی اسے جھٹلا دے۔ اس آیت میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو حق کو پہچاننے کی صلاحیت دی ہے، مگر غرور اور ہٹ دھرمی اسے حق سے محروم کر دیتی ہے۔ یہ ہمیں عاجزی کے ساتھ اللہ سے دعا کرنا سکھاتی ہے کہ ہمارے دلوں کو حق کے لیے کھلا رکھے اور ہمیں ان تمام اندرونی رکاوٹوں سے بچائے جو ایمان کی راہ میں حائل ہوتی ہیں۔ اس سے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ حق کو قبول کرنے کے لیے سچی جستجو اور عاجزی بنیادی شرط ہے، ورنہ سب سے بڑے معجزات بھی محض فریب دکھائی دیں گے۔
مآخذ: al-Qurtubi (al-Jami li-Ahkam), Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), al-Saadi (Taysir al-Karim), Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)
وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے
یہ آیت Maani کے 2 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔
اس آیت پر غور کریں
Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔