سورۃ الشمس، آیت 15
سُورَةُ الشَّمۡسِ · مکی · آیت 15 / 15
وَلَا يَخَافُ عُقْبَٰهَا
اردو ترجمہ
اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں
اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔
معنی اور غور و فکر
الفاظ کا انتخاب
اس سورت کا اختتام قوم ثمود کی ہلاکت کے تذکرے پر ہوتا ہے، جنہوں نے اپنے نبی حضرت صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور اللہ کی نشانی، اونٹنی کو قتل کیا۔ اس آیت میں، اللہ تعالیٰ اپنے اس فیصلہ کن عمل کے بارے میں فرما رہے ہیں: وَلَا يَخَافُ عُقْبَٰهَا (اور وہ اس کے انجام سے نہیں ڈرتا)۔
"وہ" کون ہے؟
اس آیت کا گہرا تدبر اس لفظ پر غور کرنے سے شروع ہوتا ہے کہ "وہ" کون ہے جو انجام سے نہیں ڈرتا؟ آیة کانٹیکسٹ اور کئی مفسرین جیسے زمخشری اور الجدوال فی اعراب القرآن واضح کرتے ہیں کہ یہاں اللہ تعالیٰ کی ذات مراد ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے اس فیصلے اور عمل کے انجام سے بالکل بے خوف ہیں۔ امام رازی بھی اسی رائے کو سب سے قوی قرار دیتے ہیں۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کی مطلق قدرت اور حکمت کی نشاندہی کرتی ہے۔
"انجام" سے کیا مراد ہے؟
لفظ `عقباها` (`uqbāhā`) کے معنی "عواقب" یا "انجام" کے ہیں۔ جیسا کہ جلالین اور زمخشری نے اس کی تشریح `تبعتها` (بعد میں آنے والے نتائج) سے کی ہے۔ عام طور پر، جب کوئی طاقتور فریق کسی کو سزا دیتا ہے، تو وہ اس کے بعد ممکنہ انتقامی کارروائی یا کسی بھی منفی نتیجے سے بچنے کی فکر کرتا ہے۔ لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ، جو تمام جہانوں کا خالق اور مالک ہے، جب کوئی فیصلہ کرتا ہے اور سزا نافذ کرتا ہے، تو اسے کسی بھی انجام کا خوف نہیں ہوتا۔
گہری معنویت
یہاں "خوف نہ ہونا" (لَا يَخَافُ `lā yakhāfu`) ایک گہرا لسانی نقطہ رکھتا ہے۔ ابن عاشور کے مطابق، یہ ایک `کنایہ` (kināyah) ہے جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ کفار کو سزا دینے میں مکمل طور پر آزاد ہے اور اسے کسی بدلے یا انتقام کا کوئی خطرہ نہیں۔ یہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فیصلے میں نہ کسی کمزوری کا شکار ہے اور نہ کسی بیرونی دباؤ کے تحت ہے۔ اس کی سزا حق اور حکمت پر مبنی ہوتی ہے، اس لیے اسے نتائج کا ڈر نہیں ہوتا، جیسا کہ امام رازی فرماتے ہیں۔
الجدوال فی اعراب القرآن میں اسے `استعارة تمثیلية` (`istia'ārah tamthīliyah` یعنی ایک تمثیلی استعارہ) کہا گیا ہے جو اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ قوم ثمود کی ہلاکت اس قدر مکمل اور فیصلہ کن تھی کہ ان کا کوئی پسماندہ نہیں بچا جو اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کا کوئی انتقام لے سکے یا اس پر کوئی اعتراض کر سکے۔ یہ اس بات کا بھی اعلان ہے کہ اللہ کا عذاب حتمی ہوتا ہے اور اس کے بعد کوئی بچنے والا نہیں ہوتا۔
اس آیت کی گہری معنویت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان اٹل ہے اور اس کی کوئی طاقت یا ہستی جواب دہ نہیں ہو سکتی۔ یہ سننے والے کو اللہ کی عظمت اور اس کے سامنے اپنی عاجزی کا احساس دلاتی ہے۔
مآخذ: al-Zamakhshari (al-Kashshaf), al-Razi (Mafatih al-Ghayb), al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi), al-Jalalayn, Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir)
حکمت
قرآن کی یہ چھوٹی سی آیت، سورہ شمس کے اختتام پر، قوم ثمود کے انجام کے بارے میں ایک گہرا پیغام دیتی ہے۔ اس سے پہلے کی آیات میں بتایا گیا ہے کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کو ان کے سرکشی اور اونٹنی کو ذبح کرنے کے جرم میں مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا۔ ان کی تباہی اس قدر شدید تھی کہ چھوٹے بڑے، مرد عورت سب اس عذاب میں برابر کے شریک ہوئے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا يَخَافُ عُقْبَٰهَا (`Wa La Yakhafu 'Uqbaha`). اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ "اور اُسے اس کے انجام کا کوئی ڈر نہیں" یعنی اللہ تعالیٰ کو اس عذاب کے نتائج یا اس پر آنے والی کسی بھی ذمہ داری کا کوئی خوف نہیں۔
اللہ کی بے مثال قدرت
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی مطلق حکمرانی اور بے مثال قدرت کا اعلان کر رہے ہیں۔ جب کوئی طاقتور بادشاہ کسی قوم کو سزا دیتا ہے تو اسے اکثر اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ اس کے اس عمل کا کیا نتیجہ ہوگا، کیا بچ جانے والے لوگ یا دوسرے حمایتی بغاوت نہیں کریں گے؟ (جیسا کہ مفتی شفیع صاحب نے `معارف القرآن` میں بیان کیا ہے) لیکن اللہ رب العزت تمام مخلوقات پر غالب ہیں اور کوئی بھی مخلوق اس کی گرفت سے باہر نہیں ہے۔ علامہ سعدی `تفسیر کریم الرحمن` میں پوچھتے ہیں، "وہ کیسے ڈر سکتا ہے جو غالب ہو، جس کی قہاریت اور تصرف سے کوئی مخلوق باہر نہ ہو، جو اپنے ہر حکم اور شریعت میں حکمت والا ہو؟" اللہ تعالیٰ کو اپنی حکمت اور انصاف پر کامل بھروسہ ہے، لہٰذا وہ کسی بھی عمل کے نتائج سے بے نیاز ہے۔ اس کے فیصلے اٹل ہیں اور اسے کسی سے کوئی حساب نہیں دینا۔
ہمارے لیے سبق
یہ آیت ہمیں کئی گہرے سبق سکھاتی ہے۔ سب سے پہلے، یہ ہمیں اللہ کی عظمت اور اس کی بے پناہ طاقت کی یاد دلاتی ہے کہ جب وہ کوئی فیصلہ کر لے تو کوئی بھی اس کو بدلنے والا نہیں، اور کوئی اس سے باز پرس کرنے والا نہیں۔ یہ تصور ہمارے دلوں میں اللہ کے لیے عاجزی، تقویٰ اور مکمل انحصار پیدا کرتا ہے۔
دوم، یہ ہمیں اپنے اعمال پر غور کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ قوموں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے بغیر کسی خوف کے مکمل طور پر تباہ کر سکتا ہے، تو فرد کو بھی اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ یہ جان کر کہ اللہ کے فیصلوں کا کوئی `عقبٰی` (انجام) نہیں ہوتا، یعنی اس پر کسی قسم کا کوئی منفی اثر نہیں ہوتا، ہمیں اپنے روزمرہ کے فیصلوں میں زیادہ محتاط رہنا چاہیے اور ہر وقت اللہ کی رضا کو ترجیح دینی چاہیے۔
عملی طور پر، اس آیت سے ہم یہ سیکھتے ہیں کہ اللہ کے انصاف پر مکمل بھروسہ رکھیں اور یہ یقین رکھیں کہ وہ جو کچھ کرتا ہے وہ حکمت اور عدل کے ساتھ ہوتا ہے، خواہ ہمیں اس کی ظاہری وجہ سمجھ نہ آئے۔ یہ ہمیں دنیا کی مشکلات میں بھی ثابت قدم رہنے کی ہمت دیتی ہے، یہ جانتے ہوئے کہ تمام معاملات کا حتمی اختیار اللہ کے پاس ہے۔ ہماری حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ ہم اللہ کے احکامات کی پابندی کریں اور اس کی ناراضگی سے بچیں۔
مآخذ: Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), al-Saadi (Taysir al-Karim), Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)
وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے
یہ آیت Maani کے 3 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔
اس آیت پر غور کریں
Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔