سورۃ نوح، آیت 23
سُورَةُ نُوحٍ · مکی · آیت 23 / 28
وَقَالُوا۟ لَا تَذَرُنَّ ءَالِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّۭا وَلَا سُوَاعًۭا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًۭا
اردو ترجمہ
اور کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ود اور سواع اور یغوث اور یعقوب اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا
اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔
معنی اور غور و فکر
الفاظ کا انتخاب
یہ آیت حضرت نوح علیہ السلام کی دعا کا حصہ ہے جہاں وہ اپنے رب کے حضور اپنی قوم کے سرکش رویے کا ذکر فرما رہے ہیں۔ اس خاص آیت میں، ان کی قوم کے سردار اپنے کمزور پیروکاروں کو مخاطب کر کے حکم دے رہے ہیں کہ وہ اپنے بتوں کی عبادت ترک نہ کریں۔
سرداروں کا دوٹوک حکم
آیت کی ابتدا میں ہے: `وَقَالُوا۟ لَا تَذَرُنَّ ءَالِهَتَكُمْ` (اور انہوں نے کہا: اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا۔) یہاں `لَا تَذَرُنَّ` میں `لا` کے بعد آنے والے فعل پر جو `نون` لگی ہے، اسے `نون التوکید الثقيلة` (تاکید کے لیے ثقیلہ نون) کہتے ہیں۔ یہ تاکید اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ سرداروں کا حکم کتنا دوٹوک اور زور دار تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کے پیروکار اپنے معبودوں کو ہرگز ترک نہ کریں، گویا ان کے لیے توحید کی طرف بڑھنے کا کوئی راستہ ہی نہیں تھا۔ امام رازی رحمہ اللہ کے مطابق، یہ جملہ بذات خود ایک گہری چال (مکر) تھا، کیونکہ سرداروں نے بتوں کو "تمہارے معبود" کہا۔ یہ اس طرح کی فریب دہی تھی کہ جیسے یہ بت ان کے آباؤ اجداد کے بھی معبود تھے اور ان کی اپنی پہچان کا حصہ بن چکے تھے۔ اگر وہ انہیں چھوڑتے، تو گویا خود کو اور اپنے آباء کو گمراہ تسلیم کرتے، جو نفس پر بہت بھاری گزرتا تھا۔
خاص بتوں کا ذکر
اس کے بعد سرداروں نے پانچ خاص بتوں کا نام لے کر کہا: `وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّۭا وَلَا سُوَاعًۭا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًۭا` (اور نہ ہی ود، نہ سواع، نہ یغوث، یعوق اور نسر کو چھوڑنا۔) پہلے عام طور پر "اپنے معبودوں" کا ذکر کیا گیا اور پھر خاص طور پر ان پانچ بتوں کے نام لیے گئے۔ ابن عاشور اور زمخشری جیسے مفسرین اس کو `عطف الخاص على العام` (عام کے بعد خاص کا ذکر) قرار دیتے ہیں، جس کا مقصد ان بتوں کی اہمیت اور عظمت کو اجاگر کرنا تھا۔ گویا یہ ان کے سب سے بڑے اور اہم بت تھے۔
اس خاص ذکر میں ایک اور لسانی نکتہ بھی پوشیدہ ہے۔ `وَلَا تَذَرُنَّ` کی تکرار یا ہر بت کے نام سے پہلے `وَلَا` کا آنا، تاکید کی شدت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ ابن عاشور نے وضاحت کی ہے کہ بعض اوقات تاکید لفظی میں عطف (یعنی واؤ کے ساتھ جوڑنا) استعمال کیا جاتا ہے اور یہاں بھی ایسا ہی ہے۔ بعض قراءتوں میں "ود" کو `وَدًّا` (واؤ پر فتحہ) اور `وُدًّا` (واؤ پر ضمہ) دونوں طرح سے پڑھا گیا ہے، جو عربی زبان میں اس لفظ کے استعمال کے تنوع کو ظاہر کرتا ہے۔ ان بتوں کے بارے میں مفسرین نے بیان کیا ہے کہ یہ دراصل نیک لوگوں کے نام تھے جو حضرت آدم علیہ السلام کے بعد فوت ہوئے تھے۔ شیطان نے قوم کو یہ وسوسہ ڈالا کہ ان کی تصاویر یا مجسمے بنائے جائیں تاکہ انہیں دیکھ کر ان کی یاد تازہ ہو اور نیکی میں مزید رغبت پیدا ہو۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ، اگلی نسلوں نے ان مجسموں کی خود ہی عبادت شروع کر دی، اور اس طرح شرک نے جڑ پکڑی۔
اس آیت کی گہری تدبر سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ گمراہی کے سردار کس طرح اپنے پیروکاروں کو فریب دیتے ہیں اور انہیں حق سے دور رکھنے کے لیے ہر ممکن طریقے، خاص طور پر لسانی چالوں اور جذباتی وابستگیوں کا سہارا لیتے ہیں۔
مآخذ: al-Zamakhshari (al-Kashshaf), al-Jalalayn, al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi), Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir), al-Razi (Mafatih al-Ghayb)
وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے
یہ آیت Maani کے 4 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔
اس آیت پر غور کریں
Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔