سورۃ الحدید، آیت 28

سُورَةُ الحَدِيدِ · مدنی · آیت 28 / 29

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَءَامِنُوا۟ بِرَسُولِهِۦ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِۦ وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًۭا تَمْشُونَ بِهِۦ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اردو ترجمہ

مومنو! خدا سے ڈرو اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت سے دگنا اجر عطا فرمائے گا اور تمہارے لئے روشنی کردے گا جس میں چلو گے اور تم کو بخش دے گا۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔

معنی اور غور و فکر

الفاظ کا انتخاب

یہ آیت اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی جانب سے اپنے بندوں کے لیے ایک خوبصورت پکار اور وعدہ ہے جو اپنی خاص لفظیات کے ذریعے گہری حکمتیں لیے ہوئے ہے۔

ہدایت کا جامع پیغام

آیت کا آغاز `يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟` (اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو) کے الفاظ سے ہوتا ہے۔ تفاسیر بتاتی ہیں کہ یہ خطاب صرف نبی اکرم ﷺ کے صحابہ یا اس دور کے مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ اپنے اندر ایک وسعت رکھتا ہے۔ ابن عاشور رحمہ اللہ جیسی شخصیات نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اگرچہ عام طور پر یہ الفاظ مسلمانوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں، لیکن یہاں یہ اہل کتاب (یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں) کو بھی مخاطب کر سکتے ہیں جو پہلے سے ایمان لائے ہوئے تھے۔ انہیں حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ `اِتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ` یعنی اللہ سے ڈریں اور اس کے رسول محمد ﷺ پر ایمان لائیں۔ یہ ترتیب اہم ہے: پہلے اللہ کا تقویٰ، پھر اس کے رسول ﷺ پر ایمان۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جو شخص اللہ کا خوف اور اس کی عظمت دل میں رکھتا ہے، وہ اس کے رسول کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے بھی تیار ہو جاتا ہے۔ مسلمانوں کے لیے اس کا مطلب ایمان میں پختگی اور دوام اختیار کرنا بھی ہے۔

رحمت کے دُگنے حصے

آیت آگے بڑھ کر ان لوگوں کے لیے اللہ کی رحمت کے وعدوں کا ذکر کرتی ہے جو اس حکم کی تعمیل کریں گے: `يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِ` (وہ تمہیں اپنی رحمت کے دو حصے عطا فرمائے گا)۔ یہاں لفظ `كِفْلَيْنِ` (دو حصے) بہت نمایاں ہے۔ ابن عاشور اور امام رازی دونوں بتاتے ہیں کہ `کِفْل` کا مطلب نصیب یا حصہ ہوتا ہے۔ یہ وعدہ اہل کتاب میں سے ان لوگوں کے لیے خاص طور پر حوصلہ افزا تھا جو اپنے نبی پر ایمان لانے کے بعد نبی اکرم ﷺ پر بھی ایمان لائے، انہیں ان کے دو ایمانوں کا دُگنا اجر ملنے والا تھا۔ لیکن یہ عام مسلمانوں کے لیے بھی بشارت ہے کہ انہیں بھی یہ دُگنا اجر ملے گا۔ یہ `مِن رَّحْمَتِهِ` (اپنی رحمت میں سے) کے الفاظ سے مزید واضح ہوتا ہے، جو اس اجر کو اللہ کے فضل اور اس کی بے پناہ مہربانی سے جوڑتا ہے، نہ کہ محض ہمارے عمل کے بدلے سے۔

راہ روشن کرنے والا نور

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: `وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ` (اور تمہیں ایک ایسا نور دے گا جس کے ذریعے تم چلو گے)۔ یہ ایک نہایت خوبصورت تشبیہ (`تمثیل`) ہے۔ ابن عاشور فرماتے ہیں کہ یہ ان لوگوں کی حالت بیان کرتا ہے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور گمراہی سے بچنا چاہتے ہیں، جیسے کوئی شخص اندھیرے میں چل رہا ہو اور اسے راستہ دکھانے کے لیے روشنی مل جائے۔ یہ نور محض عقلی رہنمائی نہیں بلکہ زندگی کے ہر موڑ پر عملی ہدایت ہے، جو انسان کو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور قیامت کے دن بھی اس کے ساتھ ہو گا۔ الفاظ `تَمْشُونَ بِهِ` (تم اس سے چلو گے) اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ نور محض دیکھنے کے لیے نہیں بلکہ اس کی مدد سے عملی قدم اٹھانے کے لیے ہے، یہ آپ کی زندگی کے سفر کا ذریعہ ہے۔

بخشِش اور غفور و رحیم

آیت کا اختتام `وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ` (اور تمہیں بخش دے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے) کے وعدے پر ہوتا ہے۔ دُگنے اجر اور راہ دکھانے والے نور کے بعد گناہوں کی بخشش کا وعدہ بندے کے لیے مکمل اطمینان کا باعث بنتا ہے۔ آیت کا اختتام اللہ کے دو خوبصورت ناموں `غَفُورٌ` (بہت بخشنے والا) اور `رَّحِيمٌ` (نہایت رحم کرنے والا) پر کرنا، ان تمام وعدوں کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یہ نام ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اللہ کی مغفرت اور رحمت کی کوئی حد نہیں۔ یہ اس بات کی یقین دہانی ہے کہ جو لوگ اس کی پکار پر لبیک کہتے ہیں، انہیں صرف اجر ہی نہیں ملتا بلکہ ان کی کوتاہیاں بھی معاف کر دی جاتی ہیں۔

مآخذ: al-Zamakhshari (al-Kashshaf), Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir), al-Razi (Mafatih al-Ghayb), al-Jalalayn, al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi)

قرآنی دنیا

قلوب و نگاہوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی یہ آیت ایک خاص انداز میں مخاطب ہے۔ یہ ان لوگوں کو پکار رہی ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں: `يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟` (اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو)۔ لیکن یہاں ایک اہم نکتہ ہے جو تفسیری روایت ہمیں بتاتی ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ دراصل اہل کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں) کو پکار رہے ہیں جنہوں نے پہلے اپنے نبیوں پر ایمان رکھا تھا۔ انہیں یہ دعوت دی جارہی ہے کہ اب وہ اللہ سے ڈریں اور اس کے آخری رسول، محمد ﷺ پر بھی ایمان لائیں۔ یہ ایک پرعزم دعوت ہے جس میں بڑے وعدے چھپے ہیں۔

پچھلے نبیوں کی دنیا سے دعوت

یہ آیت ہمیں رسول اللہ ﷺ کے زمانے کی ایک جھلک دکھاتی ہے جہاں پچھلی امتوں کے ماننے والے اب اسلام کی روشنی میں آ رہے تھے۔ مفسرین جیسے امام بغوی، مفتی شفیع اور ابن کثیر کے مطابق، یہ آیت ان اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی جو پہلے حضرت موسیٰ یا حضرت عیسیٰ علیہم السلام پر ایمان رکھتے تھے، اور اب انہیں نبی اکرم ﷺ پر ایمان لانے کی دعوت دی جا رہی تھی۔ جب کچھ اہل کتاب نے مسلمانوں سے یہ پوچھا کہ اگر وہ قرآن پر ایمان لاتے ہیں تو کیا انہیں دوہرا اجر ملے گا، تب یہ آیت نازل ہوئی تاکہ وضاحت ہو سکے کہ نبی آخر الزمان ﷺ پر ایمان لانا کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔

اللہ تعالیٰ انہیں `كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِۦ` یعنی اپنی رحمت کے دوہرے حصے عطا کرنے کا وعدہ کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک اجر انہیں اپنے پہلے نبی پر ایمان لانے اور اس کی شریعت پر عمل کرنے پر ملے گا، اور دوسرا اجر نبی اکرم ﷺ پر ایمان لانے اور ان کی لائی ہوئی شریعت کو اپنانے پر۔ یہ سابقہ امتوں کے ماننے والوں کے لیے اللہ کی طرف سے ایک خاص فضل اور انعام ہے جو ایمان کی اس نئی دہلیز کو پار کرتے ہیں۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث (ابن کثیر میں مذکور) ایک تمثیل بیان کرتی ہے کہ کیسے مسلمانوں کو آخری امت ہونے کے باوجود سب سے زیادہ اجر ملا، جو اس دوہرے اجر کے تصور کو مزید تقویت دیتی ہے۔

ہدایت کا روشن راستہ

دہرے اجر کے ساتھ، اللہ تعالیٰ یہ بھی وعدہ فرماتے ہیں: `وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًۭا تَمْشُونَ بِهِۦ` (اور تمہارے لیے ایک ایسا نور بنائے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے)۔ یہ نور کیا ہے؟ ابن عباس اور مجاہد جیسے مفسرین کے مطابق، یہ نور ہدایت، رہنمائی، یا خود قرآن ہے۔ یہ وہ روحانی روشنی ہے جو انسان کے دل کو منور کرتی ہے، اسے زندگی کے تاریک راستوں میں بصیرت عطا کرتی ہے، تاکہ وہ صحیح اور غلط کے درمیان فرق کر سکے۔ یہ نور اسے دنیا میں سیدھے راستے پر چلنے اور آخرت میں پل صراط پر آسانی سے گزرنے میں مدد دے گا۔ سید قطب اسے ایک ربانی تحفہ قرار دیتے ہیں جو دلوں کو نرم کرتا ہے اور حقیقت کو پردوں کے پیچھے سے دیکھنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ مزید برآں، اللہ تعالیٰ `وَيَغْفِرْ لَكُمْ` (اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا) کا وعدہ فرما رہے ہیں، کیونکہ انسان ہونے کے ناطے غلطی کا امکان ہمیشہ رہتا ہے۔

فضلِ الٰہی کی وسعت

یہ آیت اللہ تعالیٰ کے اوصاف `غفور رحيم` (بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا) کو نمایاں کرتی ہے۔ یہ نہ صرف اہل کتاب کو، بلکہ ہر اس شخص کو ایک کشادہ دلانہ دعوت دیتی ہے جو اپنے ایمان کو کامل کرنا چاہتا ہے۔ یہ آیت دکھاتی ہے کہ اللہ کا فضل کسی ایک گروہ یا دور تک محدود نہیں، بلکہ وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اس کا فضل بے پناہ ہے۔ یہ ایک پیغام ہے کہ اللہ کی رحمت کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، اور حقیقی ایمان اور تقویٰ اپنانے والے کے لیے ہمیشہ انعام، ہدایت اور مغفرت کا وعدہ موجود ہے۔

مآخذ: al-Baghawi (Maalim al-Tanzil), Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), al-Razi (Mafatih al-Ghayb), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Ibn Kathir

ذاتی آئینہ

یہ آیت (سورہ الحدید، آیت ۲۸) براہ راست ان لوگوں کو مخاطب کرتی ہے جن کے دلوں میں ایمان کی رمق موجود ہے۔ "یَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟" یعنی "اے ایمان والو"، یہ ایک خاص پکار ہے۔ کئی مفسرین، جیسے ابن الجوزی، علامہ اسرار احمد اور المفردات اللغوية، اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ دراصل اہلِ کتاب (یہودی اور عیسائی) سے خطاب ہے جو اپنے سابقہ انبیاء پر ایمان رکھتے تھے، انہیں اب رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ البتہ، علامہ اسرار احمد اور تذکرالقرآن کے مطابق، یہ خطاب ان مسلمانوں کے لیے بھی ہے جو پہلے سے ایمان لا چکے ہیں تاکہ وہ اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اس کی گہرائیوں میں اتریں۔

تقویٰ اور مکمل ایمان

آیت کا پہلا حکم ہے: "ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَءَامِنُوا۟ بِرَسُولِهِۦ" یعنی "اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔" یہ محض زبانی اقرار نہیں بلکہ دل کی سچائی اور عمل کا تقاضا ہے۔ سید قطب فرماتے ہیں کہ یہ ایمان کے حق کو ادا کرنے، اور اپنے اندر ایمان کے سچے اثرات پیدا کرنے کی دعوت ہے۔ علامہ اسرار احمد اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ موجودہ مسلمانوں کے لیے یہ حضور ﷺ کی "اُسوہ حسنہ" یعنی بہترین نمونہ کی پیروی میں توازن قائم رکھنے کا سبق ہے۔ زندگی کے ہر پہلو میں نبی اکرم ﷺ کے طریقے کو اپنانا، دنیا ترک کر کے رہبانیت اختیار کرنے کے بجائے ایک متوازن زندگی گزارنا، اور اپنی تمام توانائیاں دین کے غلبہ کے لیے وقف کرنا، یہی سچے ایمان کا تقاضا ہے۔

رحمت کے دوہرے حصے کا وعدہ

اس فرمانبرداری کا انعام ہے: "يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِۦ" یعنی "وہ تمہیں اپنی رحمت کے دو حصے عطا فرمائے گا۔" یہ 'دو حصے' خاص طور پر اہلِ کتاب کے لیے بہت اہم ہیں، ایک ان کے سابقہ نبی پر ایمان لانے پر اور دوسرا رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے پر۔ یہ اللہ کی وسیع رحمت کا اظہار ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ اللہ کا فضل کسی خاص نسل یا گروہ تک محدود نہیں ہے۔ مسلمانوں کے لیے بھی یہ اللہ کی عظیم عطا ہے جو ان کے ایمان اور اطاعت کے صلے میں انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں حاصل ہو گی۔ یہ کسی بھی گروہ کی طرف سے فضلِ الٰہی پر اجارہ داری کے تصور کو رد کرتا ہے۔

نورِ ہدایت اور مغفرت

اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے: "وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًۭا تَمْشُونَ بِهِۦ وَيَغْفِرْ لَكُمْ" یعنی "اور تمہیں ایک ایسا نور عطا فرمائے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔" یہ نور دنیا میں ہدایت اور بصیرت کا ذریعہ ہے، جو ہمیں زندگی کے پیچیدہ راستوں میں سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔ علامہ اسرار احمد کے مطابق، یہ نور ایمان بالرسول ﷺ اور اسوہ رسول ﷺ کی پیروی سے حاصل ہوتا ہے، خاص طور پر دینِ حق کے قیام اور عدل و انصاف کے نظام کو قائم کرنے کی جدوجہد میں یہ نور ہماری رہنمائی کرتا ہے، گمراہی اور بدعات سے بچاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انسانی کمزوریوں کے پیشِ نظر، اللہ تعالیٰ نے گناہوں کی مغفرت کا وعدہ بھی فرمایا ہے، جو توبہ کرنے والے کے لیے ہمیشہ امید کا دروازہ کھلا رکھتا ہے۔ "وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ" (اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے) یہ آیت کا اختتام انسانی دلوں میں اللہ کی مغفرت اور رحمت کی گہری امید پیدا کرتا ہے۔ یہ آیت ہمیں اپنی ذات، معاشرتی تعلقات اور امت کی ذمہ داریوں کو نبی اکرم ﷺ کے اسوہ حسنہ اور منہج کے آئینے میں پرکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

مآخذ: Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Israr Ahmad (Bayan ul Quran), Tazkirul Quran, al-Munir (Wahba al-Zuhayli)

حکمت

معانی AI آپ کو سورہ الحدید کی آیت نمبر 28 پر گہرے تدبر کے لیے خوش آمدید کہتا ہے۔ یہ آیت دلوں کو چھو لینے والی حکمت سے بھرپور ہے، جو ہمیں اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مضبوط کرنے کا راستہ دکھاتی ہے۔

ہدایت کی پکار

اس آیت میں اللہ تعالیٰ پکارتے ہیں: يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَءَامِنُوا۟ بِرَسُولِهِۦ (اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ)۔ اگرچہ یہ آیت خاص طور پر اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کو مخاطب کرتی ہے جنہوں نے پہلے کے انبیاء پر ایمان لایا تھا اور اب انہیں حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ اللہ کے آخری نبی، محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں، لیکن اس میں ہمارے لیے ایک عمومی اور ابدی سبق بھی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایمان اور تقویٰ (یعنی اللہ کا خوف رکھ کر اس کے احکامات پر عمل کرنا اور گناہوں سے بچنا) ہی وہ بنیاد ہیں جن پر ہماری پوری زندگی استوار ہونی چاہیے۔ یہ ایک ایسی پکار ہے جو ہر اس شخص کو جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے، اللہ کے سامنے عاجزی اختیار کرنے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کو مکمل طور پر قبول کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

اجر و انعام کی فراوانی

اللہ تعالیٰ اس پکار پر عمل کرنے والوں کے لیے بہت بڑا وعدہ فرماتے ہیں: يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِۦ (وہ تمہیں اپنی رحمت کے دو حصے عطا فرمائے گا)۔ یہاں 'کِفْلَيْنِ' کا مطلب دو گنا یا بڑا حصہ ہے۔ مفسرین نے اس کی کئی تشریحات کی ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ سابقہ انبیاء پر ایمان اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا اجر ہے، جبکہ دیگر اسے ایمان کے ایک حصے اور تقویٰ کے دوسرے حصے کا اجر قرار دیتے ہیں۔ امام السعدی فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب ایک کے بعد ایک بار بار اجر کا عطا کیا جانا بھی ہو سکتا ہے، یعنی اللہ کی رحمت کی بہتات۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں ہمارے ایمان اور جدوجہد کا اجر کبھی کم نہیں ہوتا، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اسے کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ یہ اللہ کی عظیم فیاضی اور قدردانی کی نشانی ہے۔

روشنی اور بخشش

اس کے بعد اللہ تعالیٰ مزید فرماتے ہیں: وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًۭا تَمْشُونَ بِهِۦ وَيَغْفِرْ لَكُمْ (اور تمہیں ایک نور عطا کرے گا جس کے ذریعے تم چلو گے اور تمہارے گناہ بخش دے گا)۔ یہ 'نور' محض جسمانی روشنی نہیں، بلکہ دل اور بصیرت کی روشنی ہے۔ یہ وہ ہدایت ہے جو ہمیں زندگی کے اندھیروں میں سیدھا راستہ دکھاتی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے قرآن کی روشنی قرار دیا ہے، جبکہ بعض مفسرین اسے قیامت کے دن پل صراط پر ملنے والا نور بھی کہتے ہیں۔ یہ ہمیں دنیا میں صحیح اور غلط کی پہچان، اور آخرت میں نجات کی راہ دکھاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی خطاؤں کو معاف کرنے کا وعدہ فرماتے ہیں، وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ (اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے)۔ یہ ایک بہت بڑا اطمینان ہے کہ ہماری کوتاہیوں کے باوجود، اگر ہم توبہ اور ایمان کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کریں تو وہ ہمیں معاف فرما دیتا ہے۔

ہمارے لیے عملی سبق

یہ آیت ہمارے لیے کئی گہرے سبق سمیٹے ہوئے ہے۔ سب سے پہلے، یہ ہمیں اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ یہ محض دعووں کا نہیں، بلکہ تقویٰ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل پیروی کا مطالبہ ہے۔ دوسرا، یہ ہمیں اللہ کی وسیع رحمت اور فضل کی یاد دلاتی ہے۔ ہمیں کبھی بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ وہ ہماری چھوٹی سی نیکی کا بھی بہت بڑا اجر دیتا ہے۔ تیسرا، یہ نور، یعنی ہدایت، علم اور بصیرت کی قدر کرنے پر زور دیتی ہے۔ ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قدم پر حق اور سچائی کی روشنی عطا کرے تاکہ ہم گمراہی سے بچ سکیں۔ آخر میں، یہ آیت ہمیں توبہ اور استغفار کی طرف مائل کرتی ہے، یہ جانتے ہوئے کہ ہمارا رب غفور (بخشنے والا) اور رحیم (نہایت رحم کرنے والا) ہے۔ اس سے ہمیں اپنے دلوں میں تبدیلی لانے، گناہوں سے بچنے اور نیک اعمال کی طرف راغب ہونے کی تحریک ملتی ہے۔

مآخذ: al-Qurtubi (al-Jami li-Ahkam), Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), al-Saadi (Taysir al-Karim), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)

وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے

یہ آیت Maani کے 8 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔

قرآن کے تمام موضوعات دیکھیں

اس آیت پر غور کریں

Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔

Maani کے ساتھ اس آیت پر غور کریں