سورۃ محمد، آیت 33
سُورَةُ مُحَمَّدٍ · مدنی · آیت 33 / 38
۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوٓا۟ أَعْمَٰلَكُمْ
اردو ترجمہ
مومنو! خدا کا ارشاد مانو اور پیغمبر کی فرمانبرداری کرو اور اپنے عملوں کو ضائع نہ ہونے دو
اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔
معنی اور غور و فکر
قرآنی دنیا
`Maani AI` آپ کو قرآن کے گہرے معانی پر غور کرنے میں خوش آمدید کہتا ہے۔ آئیے سورہ محمد کی آیت 33 پر دل کی پوری موجودگی کے ساتھ غور کریں: `يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول ولا تبطلوا أعمالكم`
اہل ایمان کو خطاب
یہ آیت ان لوگوں کو براہ راست مخاطب کرتی ہے جنہوں نے ایمان لایا، یعنی `يا أيها الذين آمنوا` (اے ایمان والو). اللہ تعالیٰ اس آیت میں خود خطاب فرما رہے ہیں، جو ان ایمان والوں کو ایک اہم ہدایت دے رہے ہیں۔ اس آیت کا لب و لہجہ ایک حکم کا ہے، جو اطاعت اور اپنے اعمال کی حفاظت کی ترغیب دیتا ہے۔ اس وقت کے مدینہ کے مسلم معاشرے میں، جہاں ایک طرف اندرونی منافقین اور بیرونی دشمنوں سے مقابلہ تھا، وہیں اہل ایمان کو اپنے اعمال میں مضبوطی اور اخلاص کی ضرورت تھی۔
اطاعت کا حکم
اللہ تعالیٰ سب سے پہلے حکم دیتے ہیں: `أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ` (اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو). یہ اللہ اور اس کے رسول دونوں کے احکامات اور نواہی کی مکمل پیروی کرنے کا مطالبہ ہے۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ یہ دراصل عمل کی دعوت ہے جو علم کے بعد آتی ہے، گویا اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ "تم نے حق کو جان لیا، تو اب اچھے کام کرو۔" سید قطب اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ نزول کے وقت یہ ایک ایسا تقاضا تھا جو بعض مسلمانوں کے لیے مشکل ہو سکتا تھا، کیونکہ انہیں قوی دشمن کے مقابلے میں بڑی قربانیاں دینی پڑ رہی تھیں اور انہیں اپنے تجارتی، خاندانی اور قبائلی تعلقات کو بھی کاٹنا پڑتا تھا۔
اعمال کی حفاظت
آیت کا اگلا حصہ ہے: `وَلَا تُبْطِلُوٓا۟ أَعْمَٰلَكُمْ` (اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو). یہ ایک شدید تنبیہ تھی جس نے صحابہ کرام کو گہرا متاثر کیا۔ امام ابن کثیر اور سید قطب دونوں حضرت ابو العالیہ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم کے بیانات نقل کرتے ہیں کہ صحابہ کرام کا پہلے خیال تھا کہ `لا إله إلا الله` کہنے کے بعد کوئی گناہ نقصان نہیں دے گا، جس طرح شرک کے ساتھ کوئی عمل فائدہ نہیں دیتا۔ لیکن اس آیت کے نزول کے بعد انہیں کبیرہ گناہوں کے اپنے اعمال کو باطل کرنے کا خوف لاحق ہو گیا۔
مفسرین نے اعمال کو باطل کرنے کے کئی طریقے بیان کیے ہیں:
* کفر اور شرک: `ابن کثیر` اور `رازی` وضاحت کرتے ہیں کہ ارتداد یا شرک تمام اعمال کو برباد کر دیتا ہے، جیسا کہ قرآن کی دوسری آیات میں بھی مذکور ہے۔ `معارف القرآن` میں بھی یہی بات بیان کی گئی ہے۔
* منافقت اور شک: امام `بغوی` عطاء اور کلبی کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ منافقت، شک، ریاکاری (`riya`) اور نام و نمود (`sum'ah`) بھی اعمال کو باطل کر سکتے ہیں۔
* احسان جتلانا: امام `رازی` اور `معارف القرآن` سورہ البقرہ سے مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ صدقہ خیرات کر کے احسان جتلانا (`mann`) یا ایذا دینا بھی اعمال کو ضائع کر دیتا ہے۔
* بڑے گناہ: حضرت حسن بصری کے نزدیک بڑے گناہوں کا ارتکاب بھی اعمال کو بے اثر کر سکتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر اخلاص کے منافی عمل ہیں جو نیکیوں کی قبولیت کے لیے ضروری ہیں۔
اس آیت کا مقصد ایمان والوں کے دلوں میں ایک ایسی بیداری پیدا کرنا ہے کہ وہ اپنے اعمال کو معمولی نہ سمجھیں اور نہ ہی انہیں ضائع ہونے دیں، بلکہ انہیں اخلاص اور اطاعت کے ساتھ جاری رکھیں۔ یہ رہنمائی صرف پچھلی نسلوں کے لیے نہیں بلکہ آج بھی ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ ہمارے اعمال کی حفاظت ہماری ایمانی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔
مآخذ: al-Baghawi (Maalim al-Tanzil), al-Razi (Mafatih al-Ghayb), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), Ibn Kathir
ذاتی آئینہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سورہ محمد کی آیت 33 میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں:
۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوٓا۟ أَعْمَٰلَكُمْ
(اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے اعمال کو باطل نہ کرو۔)
یہ آیت ان لوگوں کو براہ راست حکم دے رہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا چکے ہیں اور ان کے احکام پر عمل پیرا ہیں۔ اس کا لہجہ حکم پر مبنی اور انتباہی ہے، جو اطاعت اور اپنے نیک اعمال کی حفاظت کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔
اطاعت کا دوہرا تقاضا
آیت کا آغاز `یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا` (اے ایمان والو) سے ہوتا ہے، جو مومنین کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی کامل اطاعت کا حکم دیتی ہے۔ یہ اطاعت ہر حکم اور ہر ممانعت میں ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر اسرار احمد اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایمان کا اولین تقاضا یہی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا جس وقت جو حکم ہو، اس کی تعمیل کی جائے۔ یہ محض آسان احکامات کی پیروی نہیں، بلکہ ان احکامات کی بھی تعمیل ہے جن کے لیے اپنے نفس کو کچلنا اور ذاتی مفاد کو قربان کرنا پڑتا ہے، جیسا کہ تذکر القرآن میں بیان کیا گیا ہے۔
اعمال کے ضیاع کا خطرہ
آیت کا دوسرا حصہ `وَلَا تُبْطِلُوْٓا اَعْمَالَکُمْ` (اور اپنے اعمال ضائع نہ کر بیٹھنا) ایک سخت تنبیہ ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں آتا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد وہ اس بات سے بہت ڈرنے لگے تھے کہ کہیں ان کے گناہ ان کے نیک اعمال کو باطل نہ کر دیں۔ السید قطب اور علامہ وحبہ الزحیلی کے مطابق، اعمال کا باطل ہونا کفر، بڑے گناہوں (کبائر)، ریاکاری (دوسروں کو دکھانے کے لیے عمل کرنا)، شہرت طلبی، یا کسی پر احسان جتا کر اسے تکلیف پہنچانے (من و اذیٰ) سے ہو سکتا ہے۔
ذاتی جھلک: یہ آیت ایک مومن کے دل میں گہرا اضطراب پیدا کرتی ہے۔ یہ ہمیں خود پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے کہ کیا ہمارے دل کی حالت ایسی ہے کہ ہم اللہ اور رسول ﷺ کے ہر حکم پر، چاہے وہ کتنا ہی مشکل ہو، بخوشی سر تسلیم خم کرنے کو تیار ہیں؟ کیا ہمارے تعلقات (کاروباری، قبائلی، خاندانی) ہمیں اللہ کی اطاعت سے روک تو نہیں رہے؟ سید قطب کے مطابق، اس وقت بھی کچھ لوگ تھے جن کے لیے مکمل اطاعت یا بعض قربانیاں بھاری لگتی تھیں۔ یہ ایک ذاتی امتحان ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔
اجتماعی اور معاشرتی پہلو: اسرار احمد اس آیت کو قتال (جنگ) جیسے "نئے اور مشکل مرحلے" سے جوڑتے ہیں، جہاں مزید قربانیوں کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اگر ایسے وقت میں مسلمان پیچھے ہٹ جائیں تو ان کے تمام گزشتہ اعمال ضائع ہو سکتے ہیں۔ تذکر القرآن اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ بعض کمزور مسلمان حق کا ساتھ اس شرط پر دیتے ہیں کہ انہیں وقت کے بڑوں (طاقتور شخصیات) کی ناراضگی مول نہ لینی پڑے۔ جب انہیں لگتا ہے کہ حق کا ساتھ دینا ان بڑوں کو ناراض کرے گا، تو وہ ان کی طرف جھک جاتے ہیں، جو اعمال کے ضیاع کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ ہمارے ارد گرد کے سماجی اور سیاسی رویوں کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایمان کی عملی آزمائش ہوتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اجتماعی طور پر بھی ہمیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں ثابت قدم رہنا چاہیے، خواہ اس کے لیے کیسی ہی قربانیاں دینی پڑیں۔
یہ آیت درحقیقت ایک روحانی تشخیص ہے، جو ہمیں اپنے ایمان، اطاعت اور اعمال کی حفاظت کے لیے مسلسل چوکنا رہنے کا درس دیتی ہے۔ یہ ہمیں خوف، امید اور عمل کا توازن سکھاتی ہے۔
مآخذ: Israr Ahmad (Bayan ul Quran), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Tazkirul Quran, Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)
روابط
تفسیر سورہ محمد (47) آیت 33: اعمال کی حفاظت
یہ آیت مومنوں کو اللہ کے کلام کا سیدھا اور نہایت اہم حکم دیتی ہے۔ یہ محض ایک عقلی حکم نہیں بلکہ دل سے قبول کرنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی دعوت ہے۔
مخاطب کون ہے؟
اللہ تعالیٰ براہ راست ان لوگوں کو مخاطب فرما رہا ہے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول پر سچے دل سے ایمان لایا اور اس کی شریعت پر عمل کیا۔ لہٰذا، یہ حکم خالصتاً اہل ایمان کے لیے ہے: "يا أيها الذين آمنوا" (اے ایمان والو!).
حکم کیا ہے؟
آیت میں دو واضح احکامات اور ایک تنبیہ ہے:
1. "أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ" (اللہ کی اطاعت کرو): یعنی اللہ کے تمام اوامر اور نواہی کو دل و جان سے قبول کرو۔
2. "وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ" (اور رسول کی اطاعت کرو): یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات اور تعلیمات کی پیروی کرو، کیونکہ ان کی اطاعت درحقیقت اللہ ہی کی اطاعت ہے۔
3. "وَلَا تُبْطِلُوٓا۟ أَعْمَٰلَكُمْ" (اور اپنے اعمال کو باطل نہ کرو): یعنی اپنے نیک کاموں کا ثواب کفر، منافقت یا گناہوں کے ذریعے ضائع نہ کرو۔
آیت کا سیاق و سباق (Contextual Connection)
یہ آیت، جیسا کہ امام البقاعی (al-Biqa'i) فرماتے ہیں، سورہ کے پچھلے مضامین کا ایک نتیجہ اور خلاصہ ہے۔ سورہ محمد کا آغاز کفار کے ذکر سے ہوتا ہے، پھر مومنوں کا ذکر آتا ہے، اور اس کا ایک بڑا حصہ منافقین کے بارے میں ہے، جنہیں اسلام اور مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا اندرونی خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
al-Sabuni بیان کرتے ہیں کہ اس آیت سے پہلے ان منافقین کا ذکر آیا ہے جنہوں نے ایمان کے بعد کفر اختیار کیا اور اللہ کی راہ سے روکا، اور جن کے اعمال کو اللہ تعالیٰ نے باطل کر دیا۔ اس لیے، "وَلَا تُبْطِلُوٓا۟ أَعْمَٰلَكُمْ" کا حکم دراصل مومنوں کو اس بات سے خبردار کر رہا ہے کہ وہ ان غلطیوں سے بچیں جن کی وجہ سے ان لوگوں کے اعمال ضائع ہوئے۔ یعنی کفر، نفاق، ریاکاری (showing off)، اور عجب (self-admiration) وہ بڑی وجوہات ہیں جو نیکیوں کو مٹا سکتی ہیں۔
امام البقاعی مزید وضاحت کرتے ہیں کہ پچھلے تمام حصے مخلص لوگوں کو ترغیب دینے اور متزلزل و باطل کرنے والوں کو توبہ کرنے کی دعوت دینے کے لیے تھے، اور یہ آیت اسی اخلاص اور اطاعت کی دعوت کا ثمر ہے۔ یہ حکم اعمال کو ظاہری طور پر بھی اور باطنی طور پر بھی درست رکھنے کی تاکید کرتا ہے، تاکہ وہ اخلاص سے خالی نہ ہوں۔
اعمال کو باطل کرنے والی چیزیں
التنطاوی (al-Wasit, Tantawi) فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کا خیال تھا کہ `لا إله إلا الله` کے ساتھ کوئی گناہ نقصان نہیں دیتا، لیکن اس آیت کے نازل ہونے کے بعد وہ فکر مند ہوئے کہ کہیں گناہ اعمال کو باطل نہ کر دیں۔ پھر آیت 4:48 (`إن الله لا يغفر أن يشرك به`) کے نزول سے انہیں مزید وضاحت ملی کہ شرک ہی سب سے بڑا عمل باطل کرنے والا ہے۔ لیکن عام معاصی، خاص طور پر نفاق، ریا، اور عجب بھی اعمال کی نفی کا سبب بن سکتے ہیں۔
al-Shinqiti (الشنقیطی) نے اس آیت کو قرآن کی ان متعدد آیات سے جوڑا ہے جو اطاعت اور تدبر کی اہمیت پر زور دیتی ہیں، جیسا کہ سورہ نساء کی آیت 4:82 (`أفلا يتدبرون القرآن`) میں ذکر ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ پیغام قرآن میں ایک مستقل موضوع ہے۔
اس آیت کا پیغام یہ ہے کہ ایمان صرف زبانی اقرار نہیں، بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی سچی اطاعت ہے جو اعمال میں نظر آئے، اور دل کو نفاق، ریاکاری اور بڑے گناہوں سے پاک رکھ کر اپنے اعمال کی حفاظت کی جائے۔ یہ دراصل ایک مومن کو منافقین کے انجام سے بچنے اور اپنے نیک اعمال کو اللہ کی بارگاہ میں قبولیت کے لائق بنانے کی عملی ہدایت ہے۔
مآخذ: al-Wasit (Tantawi), al-Biqa'i (Nazm al-Durar), al-Shinqiti (Adwa al-Bayan), al-Sabuni (Safwat al-Tafasir)
حکمت
اطاعت کی اہمیت
یہ آیت، ۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوٓا۟ أَعْمَٰلَكُمْ (اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو باطل نہ کرو)، ہم مومنوں کو براہ راست پکار رہی ہے۔ یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے ایک واضح حکم ہے، جس میں ہماری دنیوی اور اخروی کامیابی کا راز پنہاں ہے۔ یہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکامات اور نواہی کی مکمل اطاعت کا درس دیتی ہے، جو ہر مسلمان کی فلاح کی بنیاد ہے۔ یہ اطاعت صرف ظاہری نہیں بلکہ اخلاص اور سچی پیروی کے ساتھ ہونی چاہیے، جیسا کہ امام السعدی نے وضاحت کی ہے۔ اللہ کی اطاعت میں ہی ہمارے معاملات کی درستگی اور دینی و دنیوی سعادت ہے۔
اعمال کو باطل ہونے سے بچائیں
آیت کا دوسرا حصہ "وَلَا تُبْطِلُوٓا۟ أَعْمَٰلَكُمْ" (`wa lā tubṭilū aʿmālakum`) ایک گہری تنبیہ ہے۔ 'اعمال کو باطل کرنا' کا مطلب ہے اپنی نیکیاں اور ان کا اجر ضائع کر دینا یا بے فائدہ بنا دینا۔ مفسرین نے اس کے کئی اہم پہلو بیان کیے ہیں جن کا ہمیں دھیان رکھنا چاہیے۔
* کفر اور شرک: سب سے بڑھ کر، کفر اور شرک نیک اعمال کو مکمل طور پر ختم کر دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو کسی بھی نیکی کو اللہ کے ہاں قبولیت کے لائق نہیں رہنے دیتا، جیسا کہ المعارف القرآن اور المنیر نے بیان کیا ہے۔ اگر کوئی ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کر لے، تو اس کے تمام نیک اعمال باطل ہو جاتے ہیں۔
* بڑے گناہ: بعض علماء نے فرمایا کہ بڑے گناہ بھی اعمال کی تاثیر کو کم کر سکتے ہیں یا ان کے ثواب کو ضائع کر سکتے ہیں۔ جیسے حسن بصری اور امام زہری نے اعمال کے باطل ہونے کی ایک وجہ گناہ کبیرہ کو قرار دیا۔ ابوالعالیہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پہلے یہ سمجھتے تھے کہ 'لا الہ الا اللہ' کہنے کے بعد کوئی گناہ نقصان نہیں دے گا، لیکن اس آیت کے نزول کے بعد وہ بڑے گناہوں سے اپنے اعمال کے ضائع ہو جانے کا خوف کھانے لگے۔ اگرچہ اہل السنۃ کے نزدیک کفر و شرک کے علاوہ کوئی گناہ کسی ایماندار کے نیک اعمال کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتا، لیکن اس سے اعمال کی برکات کم ہو سکتی ہیں یا مخصوص اعمال کی قبولیت پر اثر پڑ سکتا ہے۔
* ریا کاری اور دکھاوا: ابن جریج نے کہا ہے کہ دکھاوا اور لوگوں میں نام و نمود کی خواہش بھی اعمال کو باطل کر دیتی ہے۔ جب کوئی نیکی صرف اللہ کی رضا کے لیے نہ ہو بلکہ لوگوں کو دکھانے یا ان سے تعریف بٹورنے کے لیے کی جائے، تو اس کا اجر ضائع ہو جاتا ہے۔
* احسان جتلانا اور تکلیف دینا: اسی طرح، کسی کو صدقہ دے کر یا کوئی بھلائی کر کے اس پر احسان جتلانا یا اسے کسی بھی طرح سے تکلیف دینا بھی اس نیک عمل کے ثواب کو زائل کر دیتا ہے، جیسا کہ امام مقاتل اور دیگر علماء نے سورۃ البقرۃ کی آیت 264 کے حوالے سے بتایا ہے۔
* نفل عبادات کو ادھورا چھوڑنا: علماء کے ایک گروہ، جن میں امام ابو حنیفہ اور امام مالک شامل ہیں، اس آیت سے یہ اصول اخذ کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص نفل عبادت (جیسے نفل نماز یا روزہ) شروع کر دے تو اسے مکمل کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ اسے بلاوجہ ادھورا چھوڑنا بھی اعمال کو باطل کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔
عملی سبق
یہ آیت ہمیں زندگی میں ایک بہت بڑا عملی سبق دیتی ہے۔ ہمیں نہ صرف نیک اعمال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے بلکہ ان اعمال کی حفاظت اور بقا کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے۔ اپنے ہر عمل کو اخلاص کے ساتھ انجام دیں اور ایسی باتوں سے بچیں جو ان نیکیوں کے ثواب کو ضائع کر سکتی ہیں۔ یہ آیت ہمیں اپنے دل کا محاسبہ کرنے، ہر نیکی سے پہلے اور بعد میں اپنی نیتوں کو جانچنے، اور ہر قسم کے شرک، ریاکاری، اور بڑے گناہوں سے پرہیز کرنے کی ترغیب دیتی ہے، تاکہ ہماری محنت رائیگاں نہ ہو۔ اپنے اعمال کی قبولیت اور برکت کے لیے اللہ سے دعا کرتے رہنا چاہیے اور غلطیوں پر توبہ و استغفار کرنا چاہیے تاکہ ہمارے اعمال محفوظ رہیں۔
مآخذ: al-Qurtubi (al-Jami li-Ahkam), al-Saadi (Taysir al-Karim), Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)
وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے
یہ آیت Maani کے 6 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔
اس آیت پر غور کریں
Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔