سورۃ محمد، آیت 14

سُورَةُ مُحَمَّدٍ · مدنی · آیت 14 / 38

أَفَمَن كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّهِۦ كَمَن زُيِّنَ لَهُۥ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ وَٱتَّبَعُوٓا۟ أَهْوَآءَهُم

اردو ترجمہ

بھلا جو شخص اپنے پروردگار (کی مہربانی) سے کھلے رستے پر (چل رہا) ہو وہ ان کی طرح (ہوسکتا) ہے جن کے اعمال بد انہیں اچھے کرکے دکھائی جائیں اور جو اپنی خواہشوں کی پیروی کریں

اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔

معنی اور غور و فکر

الفاظ کا انتخاب

یہ آیت دو بالکل مختلف گروہوں کی موازنہ کر کے ہمیں اپنے اعمال اور ان کی بنیاد پر گہرا غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایک سوالیہ انداز میں بات کا آغاز کرتے ہیں کہ کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل (clear proof) پر قائم ہو، اس شخص کے جیسا ہو سکتا ہے جس کے برے اعمال اسے خوشنما بنا کر دکھائے گئے ہوں اور جس نے اپنی خواہشات کی پیروی کی ہو؟

لفظی وضاحت

آیت کا آغاز `أَفَمَن` سے ہوتا ہے جہاں `أ` (الف) سوال کے لیے ہے جو یہاں دراصل انکار کے معنوں میں ہے، یعنی ہرگز نہیں۔ یہ سوال پوچھ کر اللہ تعالیٰ درحقیقت اس بات کو مسترد کر رہے ہیں کہ یہ دو گروہ کبھی ایک جیسے ہو سکتے ہیں۔ `ف` (فا) پچھلے کلام سے ربط پیدا کرتا ہے۔

پہلے گروہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: `مَن كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّهِۦ` (وہ جو اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہو)۔ یہاں `عَلَىٰ` (علیٰ) کا لفظ بہت معنی خیز ہے۔ یہ محض جاننے کے بجائے کسی چیز پر مضبوطی سے قائم ہونے اور اس پر مکمل اعتماد رکھنے کا مفہوم دیتا ہے، جیسے کوئی شخص کسی ٹھوس بنیاد پر کھڑا ہو۔ `بَيِّنَةٍۢ` (بَینَہ) سے مراد واضح اور پختہ دلیل یا برہان ہے۔ امام زمخشری اسے معجزاتی قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام معجزات سے تعبیر کرتے ہیں۔ مزید برآں، `مِّن رَّبِّهِۦ` (اپنے رب کی طرف سے) کی اضافت اس دلیل کی عظمت اور صداقت کو اور بھی بڑھا دیتی ہے۔ امام ابن عاشور فرماتے ہیں کہ یہ اس گروہ کی اللہ سے قربت اور ہدایت کی طرف رہنمائی کو ظاہر کرتا ہے۔ گویا یہ دلیل صرف ایک منطقی حجت نہیں، بلکہ اللہ کی جانب سے عطا کردہ ہدایت اور روشن برہان ہے۔

دوسرے گروہ کے بارے میں فرمایا: `كَمَن زُيِّنَ لَهُۥ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ وَٱتَّبَعُوٓا۟ أَهْوَآءَهُم` (اس کے جیسا جسے اس کے برے اعمال خوشنما بنا کر دکھائے گئے اور انہوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی)۔ یہاں `زُيِّنَ` (زُیِّنَ) فعل مجہول (passive voice) استعمال ہوا ہے، یعنی یہ نہیں بتایا گیا کہ کس نے ان کے برے اعمال کو خوشنما بنایا۔ امام ابن عاشور وضاحت کرتے ہیں کہ اس میں وہ تمام عناصر شامل ہیں جو برائی کو اچھا دکھاتے ہیں، جیسے کفر کے رہنما، یا خود ان کے اپنے فاسد خیالات اور نفسانی خواہشات۔ یہ انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ سوچے کہ اس کی اپنی برائیوں کو کون یا کیا خوبصورت بنا کر پیش کر رہا ہے۔

لفظی التفات اور اس کا اثر

آیت میں ایک دلچسپ لفظی التفات (pronoun shift) بھی نظر آتا ہے۔ پہلے `لَهُۥ` (اسے، واحد) استعمال ہوا پھر `وَٱتَّبَعُوٓا۟ أَهْوَآءَهُم` (انہوں نے پیروی کی، جمع)۔ امام رازی اس کی حکمت بیان کرتے ہیں کہ برے عمل کو خوشنما دکھانے والا ایک ہوسکتا ہے، لیکن جب خواہشات کی پیروی کی بات آتی ہے تو ہر فرد اپنی الگ خواہشات کی پیروی کرتا ہے، لہذا جمع کا صیغہ زیادہ مناسب ہے۔ `أَهْوَآءَهُم` (اَہواءَھُم) `ھویٰ` کی جمع ہے جس کا مطلب ہے نفسانی خواہشات۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ دوسرے گروہ کی گمراہی کسی دلیل یا سچائی کی بنیاد پر نہیں بلکہ محض ان کی اپنی بے لگام خواہشات کی پیروی کا نتیجہ ہے۔

گہرا سبق

یہ آیت ہمیں ایک بہت اہم قلبی درس دیتی ہے کہ ہماری زندگی کی بنیاد کیا ہے؟ کیا ہم اپنے رب کی روشن دلیل، یعنی قرآن و سنت، پر مضبوطی سے قائم ہیں؟ یا ہم ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں شیطان یا ان کا اپنا نفس ان کے برے اعمال کو اچھا بنا کر دکھاتا ہے اور وہ اپنی خواہشات کے پیچھے چلتے ہیں؟ یہ فرق صرف نظریاتی نہیں بلکہ عملی ہے اور ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی اسی فرق پر منحصر ہے۔

مآخذ: al-Zamakhshari (al-Kashshaf), Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir), al-Razi (Mafatih al-Ghayb), al-Jalalayn, al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi)

قرآنی دنیا

سورة محمد کی چودہویں آیت ہمیں انسانوں کے دو بالکل مختلف راستوں کی تصویر دکھاتی ہے، اور ہمیں گہرے غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ یہ آیت خاص طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابتدائی مسلمانوں کے لیے بہت اہمیت رکھتی تھی، کیونکہ اس کا نزول ہجرت کے سفر کے دوران مکہ اور مدینہ کے درمیان ہوا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب رسول اللہ ﷺ اپنے وطن سے نکلنے پر مجبور ہوئے تھے، اور یہ آیت ان کے لیے تسلی اور اطمینان کا باعث بنی۔

خطاب کن سے ہے؟

یہ آیت دو واضح گروہوں سے مخاطب ہے۔ ایک وہ لوگ جو `على بينة من ربه` یعنی اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل اور یقین پر ہیں. مفسر بغوی رحمہ اللہ کے مطابق، اس سے مراد نبی اکرم ﷺ اور مؤمنین ہیں۔ دوسرا گروہ وہ ہے `كمن زين له سوء عمله واتبعوا أهواءهم` یعنی وہ لوگ جن کے لیے ان کے برے اعمال خوشنما بنا دیے گئے ہیں اور جو اپنی خواہشات کے پیچھے چل رہے ہیں۔ بغوی رحمہ اللہ نے اس سے مراد ابو جہل اور مشرکین کو لیا ہے۔ یہ درحقیقت دونوں فریقوں کے درمیان ایک واضح موازنہ ہے جو ان کے بنیادی عقائد اور طرز عمل کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

نزول کا سیاق و سباق

سید قطب رحمہ اللہ اس آیت کے نزول کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے ہجرت کر رہے تھے۔ یہ آپ کے لیے ایک بہت مشکل وقت تھا، اپنے پیارے شہر کو چھوڑنا اور ایسے لوگوں کے ظلم کا سامنا کرنا جنہوں نے آپ کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا۔ اس آیت نے آپ ﷺ کو تسلی دی کہ اگرچہ وہ لوگ (مکہ کے مشرکین) اس وقت ظاہری طور پر طاقتور نظر آتے ہیں، جنہوں نے مؤمنین کو تشدد کے ذریعے نکال دیا، لیکن حقیقت میں وہ کمزور ہیں۔ ان کا راستہ اندھیرے اور گمراہی پر مبنی ہے۔ دوسری طرف، مؤمنین کا راستہ اللہ کی واضح ہدایت اور نور پر قائم ہے۔ امام رازی رحمہ اللہ بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ آیت نبی اکرم ﷺ کی کامیابی اور کافروں کی ہلاکت کو یقینی بناتی ہے، اور یہ بتاتی ہے کہ مؤمنین کا انجام اچھا ہوگا اور کافروں کا انجام برا۔

دو دنیاؤں کا فرق

یہ آیت ہمیں دو متضاد دنیاؤں میں لے جاتی ہے۔ ایک دنیا وہ ہے جہاں انسان `بینہ` یعنی بصیرت اور یقین کے ساتھ اللہ کے دین پر گامزن ہے۔ یہ بصیرت اللہ کی کتاب میں نازل ہونے والی ہدایت اور انسان کی فطرت سلیمہ (`فطرة مستقيمة`) سے حاصل ہوتی ہے، جیسا کہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے وضاحت کی ہے۔ یہ وہ شخص ہے جو حق کو جانتا ہے، اس کی گہرائیوں میں اترتا ہے اور حق کے سرچشمے سے جڑا رہتا ہے۔ اسے کسی قسم کا شک یا گمراہی لاحق نہیں ہوتی۔

دوسری دنیا اس کے برعکس ہے، جہاں انسان کے لیے اس کے برے اعمال کو خوشنما بنا دیا جاتا ہے۔ شیطان اسے یہ باور کراتا ہے کہ اس کے غلط کام صحیح ہیں، اور وہ اپنی خواہشات (`أهواءهم`) کا غلام بن جاتا ہے۔ ایسے شخص کے پاس کوئی اصول، کوئی ضابطہ اور کوئی روشنی نہیں ہوتی جو اسے حق و باطل میں تمیز سکھا سکے۔ وہ محض اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ امام رازی رحمہ اللہ نے یہ بھی بتایا کہ آیت میں پہلے `زين له` (اس کے لیے خوشنما کیا گیا) واحد کا صیغہ استعمال ہوا، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تزیین ہر ایک کے لیے ایک جیسی ہو سکتی ہے، لیکن `واتبعوا أهواءهم` (اور وہ اپنی خواہشات کے پیچھے چلتے ہیں) جمع کا صیغہ ہے، کیونکہ ہر شخص اپنی ذاتی خواہشات کی پیروی کرتا ہے۔

اس آیت کا جوہر یہ ہے کہ یہ ایک گہرا سوال اٹھاتی ہے کہ کیا ان دونوں راستوں پر چلنے والے لوگ کبھی برابر ہو سکتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ اس سوال کے ذریعے یہ واضح کرتے ہیں کہ ان دونوں گروہوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے، اور ان کے انجام بھی مختلف ہوں گے۔ یہ مؤمنین کے لیے ایک حوصلہ افزائی تھی کہ وہ اپنے راستے پر ثابت قدم رہیں، کیونکہ ان کا راستہ اللہ کی طرف سے واضح دلیل پر مبنی ہے۔

مآخذ: al-Baghawi (Maalim al-Tanzil), Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), al-Razi (Mafatih al-Ghayb), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Ibn Kathir

ذاتی آئینہ

سورة محمد کی چودھویں آیت (47:14) ہمیں انسانوں کے دو بنیادی طور پر مختلف راستوں کے بارے میں سوچنے کی دعوت دیتی ہے، اور یہ سوال کرتی ہے کہ کیا یہ دونوں راستے کبھی برابر ہو سکتے ہیں۔ یہ آیت ایک گہرا روحانی موازنہ پیش کرتی ہے جسے ہم اپنی زندگیوں، تعلقات اور معاشرتی رویوں میں جھانکنے کے لیے ایک آئینے کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔

آیت کا مفہوم

اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتے ہیں: `أَفَمَن كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّهِۦ كَمَن زُيِّنَ لَهُۥ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ وَٱتَّبَعُوٓا۟ أَهْوَآءَهُم` (تو بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہے، وہ اس شخص جیسا ہو جائے گا جس کے برے اعمال اس کے لیے خوشنما بنا دیے گئے ہیں اور انہوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی ہے؟)۔

یہ آیت دو گروہوں کا ذکر کرتی ہے:
1. وہ جو اپنے رب کی طرف سے بینہ پر ہیں: `بَيِّنَةٍۢ` (بَیِّنَة) کا مطلب ہے ایک واضح دلیل، روشن برہان، یا گہری بصیرت۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی فطرت نیک ہے، جو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر قائم ہیں، اور اللہ کی وحدانیت کا علم رکھتے ہیں۔ وہ حق کو جانتے ہیں اور اس کے سرچشمے تک پہنچے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ علامہ سید قطب (Sayyid Qutb) فرماتے ہیں، وہ کسی دھوکے یا گمراہی میں نہیں ہیں۔
2. وہ جن کے لیے ان کے برے اعمال خوشنما بنا دیے گئے ہیں اور انہوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی ہے: یہ وہ لوگ ہیں جن کے غلط کام، جیسے اللہ کے ساتھ شرک یا دیگر گناہ، انہیں اچھے لگنے لگتے ہیں۔ یہ اپنے نفس کی غلامی اور اپنی نفسانی خواہشات (`ahwa` یعنی خواہشات) کی پیروی میں زندگی گزارتے ہیں۔ ان کے پاس حق و باطل میں تمیز کرنے کے لیے کوئی اصول یا روشنی نہیں ہوتی۔ امام اسرار احمد کے مطابق، ایسے لوگوں کو وہی کچھ نظر آتا ہے جو ان کی خواہشات کا آئینہ دکھاتا ہے، اور یہ آئینہ کالے کرتوتوں کو بھی خوشنما بنا دیتا ہے۔

آیت کا rhetorical (یعنی زور دار سوالیہ) انداز اس بات پر زور دیتا ہے کہ یہ دونوں گروہ کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔

اپنے اندر جھانکنا

یہ آیت ہمارے لیے ایک گہرا ذاتی (`nafs`) محاسبہ ہے۔ کیا ہم حقیقت میں "بینہ" پر قائم ہیں؟ کیا ہماری زندگی کے فیصلے، ہمارے اخلاق اور ہمارے اعمال اللہ کی واضح رہنمائی پر مبنی ہیں؟ کیا ہمارے دل اللہ کی طرف سے نازل شدہ حق پر مطمئن ہیں؟ یا ہم کسی ایسی چیز کی پیروی کر رہے ہیں جو ہماری خواہشات کو پورا کرتی ہے، چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو؟
تزکرۃ القرآن کے مطابق، "بینہ" پر کھڑا ہونا اپنی زندگی کو حقیقت کی بنیاد پر استوار کرنا ہے۔ اگر ہم خواہشات کی پیروی کرتے ہیں، تو ہم حقیقت سے انحراف کرتے ہیں اور خدا کی دنیا میں خدا کی مرضی کے خلاف اپنی دنیا بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ایک روحانی تشخیص ہے کہ ہم کس رستے پر ہیں، ہدایت پر یا گمراہی میں۔

معاشرتی عکاسی

"عالمی آئینہ" (Worldly Mirror) کے عدسے سے دیکھیں تو یہ آیت معاشرتی اور اجتماعی (`ummah`) سطح پر بھی ایک بصیرت فراہم کرتی ہے۔ آج کی دنیا میں بھی، ایسے معاشرے اور گروہ موجود ہیں جو واضح الہیٰ اصولوں، انصاف اور اخلاقیات پر اپنی بنیاد رکھتے ہیں۔ ان کے فیصلے حق کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس، ایسے معاشرے بھی ہیں جو اپنی اجتماعی خواہشات، فیشن یا دنیاوی مفادات کی پیروی میں بگاڑ کا شکار ہوتے ہیں، اور انہیں اپنے غلط افعال اور پالیسیاں بھی خوبصورت لگتی ہیں۔ امام اسرار احمد نے فرعون کی مثال دی جو اہل مصر کی تہذیب و روایات کو مثالی سمجھتا تھا، حالانکہ وہ گمراہی پر تھی۔ یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بظاہر دنیا میں ہر گروہ کو یکساں مواقع ملتے نظر آ سکتے ہیں، لیکن حقیقت میں ان کے اعمال اور ان کا انجام یکساں نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں کامیابی صرف ان کے لیے ہے جو بینہ پر ہیں۔

یہ آیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے فیصلے، اپنے تعلقات، اور اپنی معاشرتی بنیادوں کو غور سے دیکھیں: کیا وہ اللہ کی روشن دلیل پر قائم ہیں، یا ہماری اپنی خواہشات کی اندھی پیروی کا نتیجہ ہیں؟

Source: Israr Ahmad (Bayan ul Quran), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Tazkirul Quran, Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)

مآخذ: Israr Ahmad (Bayan ul Quran), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Tazkirul Quran, Ibn al-Jawzi (Zad al-Masir), al-Munir (Wahba al-Zuhayli)

اس آیت پر غور کریں

Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔

Maani کے ساتھ اس آیت پر غور کریں