سورۃ النور، آیت 34
سُورَةُ النُّورِ · مدنی · آیت 34 / 64
وَلَقَدْ أَنزَلْنَآ إِلَيْكُمْ ءَايَٰتٍۢ مُّبَيِّنَٰتٍۢ وَمَثَلًۭا مِّنَ ٱلَّذِينَ خَلَوْا۟ مِن قَبْلِكُمْ وَمَوْعِظَةًۭ لِّلْمُتَّقِينَ
اردو ترجمہ
اور ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں نازل کی ہیں اور جو لوگ تم سے پہلے گزر چکے ہیں ان کی خبریں اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت
اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔
معنی اور غور و فکر
الفاظ کا انتخاب
سورۃ النور کی یہ آیت 34 ہمیں اللہ کے کلام کے عظیم مقاصد اور اس کی خاص خوبیوں کی گہرائی میں اترنے کی دعوت دیتی ہے۔ یہ ان اہم احکامات اور نصیحتوں کے بعد آئی ہے جو اس سورۃ میں بیان کی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ خود ہمیں بتا رہا ہے کہ اس نے ہم پر کیا نازل کیا ہے، اور کن الفاظ کے ساتھ اس نے یہ بات کہی ہے۔
اللہ کا پختہ کلام
آیت کا آغاز `وَلَقَدْ أَنزَلْنَآ` سے ہوتا ہے۔ اس میں `ل` (لام) اور `قد` (قد) کا استعمال کلام میں ایک خاص زور اور یقین پیدا کرتا ہے۔ یہ عربی گرامر میں قسم کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور اللہ کے کلام میں یہ اظہار کہ یہ بات کسی شک و شبہ کے بغیر پکی اور حتمی ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ قسم کھا کر فرما رہا ہے کہ یہ آیات یقیناً تم پر نازل کی گئی ہیں۔ جیسا کہ ابن عاشور (Ibn Ashur) نے وضاحت کی ہے، یہ اہمیت اور تاکید کے لیے ہے۔
روشن کرنے والی آیات
پھر اللہ تعالیٰ ان نازل کردہ چیزوں میں سے پہلی چیز کا ذکر فرماتا ہے: `ءَايَٰتٍۢ مُّبَيِّنَٰتٍۢ` (واضح آیات یا کھول کر بیان کرنے والی آیات)۔ یہاں `مُّبَيِّنَٰتٍۢ` لفظ دو طرح سے پڑھا گیا ہے۔ ایک قراءت کے مطابق یہ `مُبَيَّنَاتٍ` ہے جس کا مطلب ہے "جنہیں اللہ نے واضح کر دیا"۔ دوسری قراءت کے مطابق یہ `مُبَيِّنَاتٍ` ہے جس کا مطلب ہے "جو خود چیزوں کو واضح کر دیتی ہیں"۔ امام رازی (al-Razi) اور ابن عاشور (Ibn Ashur) دونوں نے بیان کیا ہے کہ یہ دونوں معانی لازم و ملزوم ہیں، یعنی یہ آیات خود بھی واضح ہیں اور دوسرے امور کو بھی کھول کر بیان کرتی ہیں۔ یہ اس طرح ہے جیسے ایک روشن چراغ خود بھی روشن ہوتا ہے اور اپنے ارد گرد کی چیزوں کو بھی روشن کر دیتا ہے۔ یہ آیات اللہ کے احکامات اور حدود کو پوری صراحت کے ساتھ بیان کرتی ہیں۔
گزرے لوگوں کی مثالیں
اس کے بعد `وَمَثَلًۭا مِّنَ ٱلَّذِينَ خَلَوْا۟ مِن قَبْلِكُمْ` آتا ہے، یعنی "اور ان لوگوں کی مثالیں جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں"۔ `مثلاً` کا مطلب صرف "مثال" نہیں بلکہ یہ ایک سبق آموز قصہ یا ایک ایسی عجیب بات بھی ہو سکتی ہے جو کسی کی حالت کو واضح کرے، جیسا کہ امام زمخشری (al-Zamakhshari) اور ابن عاشور (Ibn Ashur) نے ذکر کیا ہے۔ یہ پچھلی امتوں کے واقعات اور سوانح ہیں، خواہ وہ قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں ہوں یا فرد واحد کی آزمائشیں، جیسے یوسف علیہ السلام یا مریم علیہا السلام کا قصہ، اور اسی سورۃ کے تناظر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائے گئے تہمت کا واقعہ بھی اس میں شامل ہے۔ لفظ `مِنَ` (سے) یہاں ابتداء کے لیے ہے، یعنی یہ مثالیں ان گزرے ہوئے لوگوں کے احوال سے اخذ کی گئی ہیں۔ ابن عاشور اس بات پر بھی روشنی ڈالتے ہیں کہ یہاں ایک مضاف محذوف ہے، یعنی "ان لوگوں کی *امثال* میں سے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں"، جس سے معنی میں مزید وسعت آتی ہے۔
پرہیزگاروں کے لیے نصیحت
آخر میں `وَمَوْعِظَةًۭ لِّلْمُتَّقِينَ` (اور متقین کے لیے نصیحت) ہے۔ `موعظہ` وہ کلام یا حالت ہے جس سے انسان اپنی غلطیوں کی پہچان کر کے ان سے بچنے کا سبق حاصل کرتا ہے۔ امام رازی (al-Razi) نے وضاحت کی ہے کہ اگرچہ یہ نصیحت ہر انسان کے لیے ہے، مگر اسے خاص طور پر `لِّلْمُتَّقِينَ` (پرہیزگاروں کے لیے) کہا گیا ہے کیونکہ فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جو اللہ کا ڈر رکھنے والے ہوں، جیسے قرآن مجید بھی `ہُدًى لِّلْمُتَّقِينَ` ہے۔ پرہیزگار وہ لوگ ہیں جو اللہ کے احکامات کی پاسداری کرتے ہیں اور اس کی نافرمانی سے بچتے ہیں۔ یہ آیات انہیں گناہوں سے بچنے اور صحیح راستہ اختیار کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔
غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کو تین صفات سے بیان کیا ہے: وہ واضح ہے، اس میں سابقہ قوموں کی عبرت آموز مثالیں ہیں، اور وہ پرہیزگاروں کے لیے نصیحت ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ قرآن صرف خشک احکامات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل دستور حیات ہے جو ہمیں ہر پہلو سے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
مآخذ: al-Zamakhshari (al-Kashshaf), al-Razi (Mafatih al-Ghayb), Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir), al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi), al-Jalalayn
وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے
یہ آیت Maani کے 1 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔
اس آیت پر غور کریں
Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔