سورۃ مریم، آیت 24
سُورَةُ مَرۡيَمَ · مکی · آیت 24 / 98
فَنَادَىٰهَا مِن تَحْتِهَآ أَلَّا تَحْزَنِى قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّۭا
اردو ترجمہ
اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے فرشتے نے ان کو آواز دی کہ غمناک نہ ہو تمہارے پروردگار نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے
اردو ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری۔
معنی اور غور و فکر
الفاظ کا انتخاب
مریم (علیہا السلام) کے لیے یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب وہ اکیلی تھیں، انتہائی درد اور بے بسی کی حالت میں ایک بچے کو جنم دے چکی تھیں۔ وہ سوچ رہی تھیں کہ کاش وہ اس لمحے سے پہلے مر جاتیں اور بالکل بھلا دی جاتیں۔ اسی گہرے غم اور خوف کے عالم میں، ایک آواز ان کی تسلی کے لیے آئی۔
تسلی بخش آواز
آیت کا آغاز `فَنَادَاهَا مِن تَحْتِهَآ` (`fanādāhā min taḥtihā`) الفاظ سے ہوتا ہے، یعنی "پس اس کو ایک آواز آئی اس کے نیچے سے۔" یہ ایک حیرت انگیز لمحہ ہے کہ جب کوئی بالکل تنہا اور لاچار محسوس کر رہا ہو، تو اسے فوراً ایک تسلی بخش آواز سنائی دے۔ علماء نے اس بارے میں بحث کی ہے کہ یہ آواز کس کی تھی: کچھ کہتے ہیں کہ یہ فرشتے جبرائیل (علیہ السلام) کی تھی، جیسا کہ الجلالین نے ذکر کیا ہے۔ الرازی اور ابن عاشور جیسے دیگر علماء اس بات پر مائل ہیں کہ یہ آواز نوزائیدہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی تھی، کیونکہ وہ اسی وقت مریم (علیہا السلام) کے نیچے موجود تھے۔ یہ اس بچے کے لیے ایک ابتدائی معجزہ تھا جو ابھی پیدا ہوا تھا۔ اس لفظی انتخاب سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مریم (علیہا السلام) کو فوراً اور نہایت ذاتی طور پر تسلی پہنچائی۔
غم دور کرنے کا حکم
آواز نے مریم (علیہا السلام) سے کہا: `أَلَّا تَحْزَنِي` (`allā taḥzanī`)، یعنی "غم نہ کرو!" یہ صرف ایک مشورہ نہیں، بلکہ غم کو دور کرنے کا ایک براہ راست، محبت بھرا حکم تھا۔ اس کے بعد فوراً ہی تسلی کی وجہ بیان کی گئی: `قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا` (`qad ja'ala rabbuki taḥtaki sariyyā`)، "یقیناً تمہارے رب نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے۔" یہاں `قَدْ` کا استعمال اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ یہ اللہ کا ایک یقینی اور فوری عمل ہے۔ `رَبُّكِ` (تمہارا رب) کا لفظ اللہ تعالیٰ اور مریم (علیہا السلام) کے درمیان ایک خاص، ذاتی تعلق کی نشاندہی کرتا ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اپنے بندے کی خصوصی دیکھ بھال کر رہا ہے۔
"سَرِيًّا" کا مفہوم
لفظ `سَرِيًّا` کے بارے میں علماء میں دو رائے پائی جاتی ہیں۔ الجمخشری اور الرازی سمیت اکثر علماء اسے "پانی کا چشمہ" یا "چھوٹی نہر" قرار دیتے ہیں، اس بات کی تائید نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں `سَرِيًّا` کو "جدول" یعنی نہر قرار دیا گیا۔ یہ تشریح اس کے بعد کی آیات سے بھی مطابقت رکھتی ہے جہاں مریم (علیہا السلام) کو "کھانے اور پینے" کا حکم دیا گیا ہے۔ الرازی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ پانی معجزانہ طور پر اسی وقت ظاہر ہوا تھا جو مریم (علیہا السلام) کے لیے ایک کرامت تھی۔ ایک دوسری رائے یہ بھی ہے کہ `سَرِيًّا` سے مراد "شریف اور عظیم ہستی" ہے، یعنی خود عیسیٰ (علیہ السلام)، جو اپنی عظمت کے سبب ایک `سَرِيًّا` تھے۔ تاہم، سیاق و سباق اور اگلے احکامات کو دیکھتے ہوئے، پانی کے چشمے کا مفہوم زیادہ مضبوط اور عملی ہے۔ یہ معجزانہ چشمہ مریم (علیہا السلام) کے لیے جسمانی راحت اور ساتھ ہی اللہ کی قدرت کا ایک واضح نشان تھا کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔
مآخذ: al-Zamakhshari (al-Kashshaf), al-Razi (Mafatih al-Ghayb), Ibn Ashur (al-Tahrir wa al-Tanwir), al-Jalalayn, al-Jadwal fi I'rab al-Quran (Mahmud Safi)
قرآنی دنیا
قلب کی گہرائیوں میں اتر کر، عاجزی اور احترام کے ساتھ اس آیت پر غور کرتے ہیں جو سیدہ مریم (علیہا السلام) کی آزمائش کے دوران اللہ کی بے پناہ رحمت اور مدد کو بیان کرتی ہے۔
پریشانی میں پکار
سیدہ مریم (علیہا السلام) شدید تکلیف اور اضطراب کی حالت میں ایک سنسان مقام پر اپنے نوزائیدہ بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ موجود تھیں۔ اسی لمحے، جب وہ اپنی جان سے اکتا چکی تھیں، انہیں پکارا گیا: فَنَادَىٰهَا مِن تَحْتِهَآ أَلَّا تَحْزَنِى قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّۭا (پھر اسے اس کے نیچے سے پکارا گیا کہ غم نہ کر، یقیناً تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے)۔ یہ پکار ایک غیر متوقع تسلی اور امید کا پیغام تھی۔
پکارنے والا کون تھا؟
اس پکارنے والے کے بارے میں مفسرین کے دو بڑے اقوال ہیں۔ ایک گروہ، جس میں ابن عباس، قتادہ اور السدی جیسے جلیل القدر صحابہ و تابعین شامل ہیں، فرماتے ہیں کہ یہ پکار فرشتہ جبرائیل (علیہ السلام) کی تھی۔ وہ مریم (علیہا السلام) کو تسلی دینے آئے تھے۔ جبکہ دوسرا گروہ، جس میں مجاہد، حسن بصری اور سعید بن جبیر شامل ہیں، اور جسے امام الطبری اور امام الرازی جیسے ائمہ نے ترجیح دی ہے، یہ کہتا ہے کہ یہ پکار خود نوزائیدہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی تھی۔ امام الطبری کا استدلال ہے کہ قرآن میں عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر زیادہ قریب ہے (جیسا کہ پچھلی آیات میں آیا ہے: فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهِ مَكَانًا قَصِيًّا) اور اس کے بعد لوگوں کی طرف عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اشارہ کرنے کا حکم بھی اس بات کی تائید کرتا ہے کہ وہ اس وقت بول رہے تھے۔ یہ ایک معجزہ تھا، جو اس بچے کے غیر معمولی مقام کا آغاز تھا۔
`سَرِيًّۭا` کی معجزاتی حقیقت
آیت میں ذکر کردہ `سَرِيًّۭا` (سَرِيًّا) سے مراد ایک چھوٹی سی نہر یا چشمہ ہے۔ مفسرین کی اکثریت (جیسے امام الرازی، مفتی شفیع اور ابن کثیر) کے مطابق، یہ ایک جاری پانی کا چشمہ تھا۔ سید قطب نے اسے ایک معجزاتی چشمہ قرار دیا جو اسی لمحے زمین سے پھوٹ پڑا۔ یہ اللہ کی قدرت کا ایک عظیم نشان تھا کہ جب مریم (علیہا السلام) بھوک اور پیاس سے نڈھال تھیں اور انہیں کسی کی مدد کی امید نہ تھی، اللہ نے ان کے لیے فوری طور پر پانی کا انتظام کر دیا۔ یہ دنیا کی تخلیق اور اس میں اللہ کی قدرت کا ایک شاندار مظہر ہے، کہ وہ اپنے بندوں کی ضرورت کے وقت کیسے بے مثال طریقے سے مدد فرماتا ہے۔
ہمارے لیے سبق
سیدہ مریم (علیہا السلام) کی یہ کہانی ہمیں "ماضی کی قوموں کی دنیا" کے آئینے میں دکھاتی ہے کہ اللہ تعالٰی اپنے مخلص بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ جب دنیا کے تمام دروازے بند ہو جائیں، جب تنہائی، دکھ اور خوف انسان کو گھیر لے، تو اللہ تعالٰی غیب سے مدد اور تسلی کے اسباب پیدا فرما دیتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم بھی اپنی زندگی کے مشکل ترین لمحات میں اللہ کی قدرت اور رحمت پر کامل یقین رکھیں۔ اس کی پکار، چاہے وہ غیب سے ہو یا ہماری سوچ سے پرے کسی ذریعے سے، ہمیشہ ہمارے لیے رہنمائی اور سکون لے کر آتی ہے۔ ہمیں بس اللہ پر توکل کرنا اور اس کے معجزانہ انتظام پر بھروسہ رکھنا ہے۔
مآخذ: Ma'arif al-Quran (Mufti Shafi), al-Baghawi (Maalim al-Tanzil), al-Tabari (Jami al-Bayan), al-Razi (Mafatih al-Ghayb), Sayyid Qutb (Fi Zilal al-Quran), Ibn Kathir
روابط
یہ آیت حضرت مریم علیہا السلام کی شدید پریشانی کے وقت، جب وہ دردِ زہ اور تنہائی میں گھری ہوئی تھیں، اللہ تعالیٰ کی جانب سے سکون اور مدد کا پیغام ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ انہیں نیچے سے آواز دی گئی کہ غمگین نہ ہوں، اللہ نے آپ کے نیچے ایک ندی جاری کر دی ہے۔
آیت کا پس منظر اور نداء کرنے والا
یہ آیت حضرت مریم کی اُس شدید ذہنی حالت کے فوراً بعد آتی ہے جب انہوں نے دردِ زہ کی شدت میں تنہائی اور لوگوں کے ممکنہ ردِ عمل کے خوف سے کہا تھا: `قَالَتْ يَا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَٰذَا وَكُنتُ نَسْيًا مَّنسِيًّا` (کاش میں اس سے پہلے ہی مر چکی ہوتی اور مجھے بھلا دیا گیا ہوتا)۔ اس حالت میں انہیں تسلی دی جاتی ہے۔
`فَنَادَاهَا مِن تَحْتِهَآ` (تو اسے اس کے نیچے سے آواز دی گئی) کے حوالے سے علماء کے درمیان دو رائے ہیں کہ یہ آواز کس نے دی تھی۔ کچھ مفسرین، جیسے کہ ابن عباس اور قتادہ، فرماتے ہیں کہ یہ آواز حضرت جبریل علیہ السلام نے دی تھی، جو ان کی مدد کے لیے بھیجے گئے تھے۔
تاہم، امام ابن جریر طبری اور الشنقیطی جیسے دیگر مفسرین کی رائے زیادہ قوی نظر آتی ہے کہ یہ آواز حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی والدہ کو دی تھی، جو اس وقت ان کے نیچے (پیدائش کے مقام پر) تھے۔ الشنقیطی اپنی اس رائے کی تائید میں دو اہم قرآنی رشتوں (connections) کو بیان کرتے ہیں:
1. ضمیر کا تعلق: آیت میں `فَحَمَلَتْهُ فَانتَبَذَتْ بِهِ` کے بعد `فَنَادَاهَا` آنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں ضمیر قریب ترین مذکور ذات (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) کی طرف لوٹتا ہے۔
2. مستقبل کی طرف اشارہ: سب سے اہم تعلق یہ ہے کہ جب حضرت مریم اپنے بچے کو لے کر اپنی قوم کے پاس گئیں اور لوگوں نے ان پر تہمت لگائی تو انہوں نے بچے کی طرف `فَأَشَارَتْ إِلَيْهِ` (اس بچے کی طرف اشارہ کیا)۔ یہ اشارہ اسی وقت معقول ہو سکتا ہے جب حضرت مریم کو پہلے سے معلوم ہو کہ یہ بچہ (عیسیٰ علیہ السلام) بول سکتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے ہی پیدائش کے فوراً بعد اپنی والدہ کو تسلی دی تھی، اور یہ سورہ آل عمران کی آیت `وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا` (وہ گہوارے میں اور بڑی عمر میں لوگوں سے بات کرے گا) کے ساتھ ایک مضبوط قرآنی مطابقت (coherence) بھی پیدا کرتا ہے۔
"سریّ" سے کیا مراد ہے؟
آیت کا دوسرا حصہ ہے: `قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّۭا` (بے شک تیرے رب نے تیرے نیچے ایک ندی جاری کر دی ہے)۔ لفظ `سَرِيًّۭا` (`sariyyan`) کے معنی پر بھی علماء میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
1. پانی کی ندی: زیادہ تر مفسرین، بشمول ابن جریر، طنطاوی، اور الشنقیطی، کی رائے ہے کہ `سَرِيًّۭا` سے مراد پانی کا ایک چھوٹا چشمہ یا ندی (`جدول ماء`) ہے۔ یہ رائے اس لیے قوی ہے کیونکہ اس کے فوراً بعد کی آیات میں `فَكُلِي وَاشْرَبِي` (پس کھا اور پی) کا حکم آتا ہے جو پانی (شراب) کے ساتھ بہترین مطابقت رکھتا ہے۔ الشنقیطی اس کی مزید تائید سورہ المؤمنون کی آیت `وَآوَيْنَاهُمَا إِلَىٰ رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ` (اور ہم نے ان دونوں کو ایک بلند جگہ پر پناہ دی جو ٹھہرنے کے لائق اور جاری پانی والی تھی) سے کرتے ہیں، جہاں `مَعِينٍ` (جاری پانی) کا ذکر `سَرِيًّۭا` کے معنی کی تصدیق کرتا ہے۔
2. شریف انسان (عیسیٰ): بعض دیگر مفسرین نے `سَرِيًّۭا` سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو لیا ہے، یعنی ایک شریف اور معزز شخصیت۔ تاہم، پانی کے چشمے والی تفسیر، بعد کی آیات سے گہرے ربط کی وجہ سے زیادہ راجح ہے۔
درس و عبرت کے رشتے
یہ آیت اللہ تعالیٰ کی بے پناہ رحمت اور قدرت کا شاندار مظاہرہ ہے۔ حضرت مریم کی شدید ترین آزمائش اور تنہائی کے وقت، اللہ نے انہیں نہ صرف ایک غیبی آواز سے تسلی دی بلکہ فوری طور پر جسمانی ضروریات (پانی اور بعد میں کھجور) کا بھی انتظام فرمایا۔ یہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ جب انسان بے بس اور تنہا محسوس کرتا ہے، تو اللہ کی مدد اس کی توقع سے بھی بڑھ کر پہنچتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر مشکل میں اللہ کی طرف رجوع کریں، کیونکہ وہی سب سے بہترین مددگار ہے۔ اس واقعے کا پورے سورۃ مریم کے بنیادی پیغام سے گہرا تعلق ہے، جو انبیاء علیہم السلام کی زندگیوں میں اللہ کی غیر معمولی مدد اور معجزات کو اجاگر کرتا ہے۔
مآخذ: al-Wasit (Tantawi), al-Biqa'i (Nazm al-Durar), al-Shinqiti (Adwa al-Bayan), al-Sabuni (Safwat al-Tafasir)
وہ موضوعات جن میں یہ آیت زیرِ بحث ہے
یہ آیت Maani کے 6 موضوعاتی مطالعہ گائیڈز میں زیرِ بحث ہے (گائیڈز انگریزی میں ہیں)۔
اس آیت پر غور کریں
Maani پر اس آیت پر پانچ زاویوں سے غور کریں: الفاظ کا انتخاب، سیاق و سباق، آپ کی زندگی کے لیے اس کا مطلب، قرآن کی دوسری آیات سے تعلق اور اس کے اسباق، کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں۔